صفحہِ اول

بدھ, ستمبر 30, 2015

" راجہ گدھ"

راجہ گدھ از بانو قدسیہ
بانو قدسیہ 
تاریخَ پیدائش ۔۔۔28 نومبر 1928 
تاریخ،وفات۔۔۔4فروری2017
راجہ گدھ ۔۔۔سالِ اشاعت ۔۔۔1981
صفحہ 79۔۔۔
 دیکھو!محبت چھلاوہ ہے۔ ۔ ۔ اس کی اصل حقیقت بڑی مشکل سے سمجھ میں آتی ہے کچھ لوگ جو آپ سےاظہار محبت کرتے ہیں۔اتصال جسم کے خواہاں ہوتے ہیں۔کچھ آپ کی روح کے لیے تڑپتے ہیں کسی کسی کے جذبات پر آپ خود حاوی ہو جانا چاہتے ہیں ۔ کچھ کو سمجھ سوچ ادراک کی سمتوں پر چھا جانے کا شوق ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ محبت چھلاوہ ہے لاکھ روپ بدلتی ہے۔ اسی لیے لاکھ چاہو ایک آدمی آپ کی تمام ضرورتیں پوری کر دے یہ ممکن نہیں ۔ ۔ ۔ اور بالفرض کوئی آپ کی ہر سمت ہر جہت کے خلا کو پورا بھی کر دے تو اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ آپ اس کی ہر ضرورت کو ہر جگہ ہر موسم اور ہر عہد میں پورا کرسکیں گے۔ ۔ ۔انسان جامد نہیں ہےبڑھنے والا ہےاوپر دائیں بائیں ۔ ۔ ۔اس کی ضروریات کوتم پابند نہیں کر سکتے۔۔۔
۔102۔۔۔
 پہلا بوسہ،پہلا تحفہ۔۔۔پہلی مرتبہ اقرارِمحبت میں گرمیوں کی اوّلین بارش جیسی کیفیت ہوتی ہے سارے میں مٹی کی سوندھی سوندھی خوشبو پھیل جاتی ہے۔
۔135۔۔۔
 جسموں کے اتصال سے ایک نیا جسم ایک نئی روح جنم لے سکتی ہے لیکن ایک روح دوسری روح سے نہیں مل سکتی۔
۔172۔۔۔
شادی کا خوشی سے اور محبت کا اختیار سے کوئی تعلق نہیں،حقوق وفرائض  کا وارفتگی سے کیا ناطہ۔
۔302۔۔۔
 دولت اورمحبت کی ایک سی سرشت ہے۔ دولت کبھی انجانے میں چھپر پھاڑ کر ملتی ہے کبھی وراثت کا روپ دھار کر ایسے ڈھب سے ملتی ہے کہ چھوٹی انگلی تک ہلائی نہیں ہوتی اورآدمی مالامال ہو جاتا ہے پھر اکلوتے لاڈلے کی طرح دولت اجاڑنے برباد کرنے میں مزا آتا ہے۔ کبھی پائی پائی جوڑتے رہنے پر بھی پورا روپیہ نہیں ہوتا ۔ کبھی محبت اور دولت ملتی رہتی ہے لیکن سیری کی کیفیت پیدا نہیں ہوتی ۔ چادر پوری نہیں پڑتی تن پر۔ کبھی محبت رشوت کے روپے کی طرح ڈھکی چھپی ملتی ہے ۔لوگوں کو پتہ چل جائے تو بڑی تھڑی تھڑی ہوتی ہے کبھی کاسے میں پڑنے والی اکنی دونی کی خاطر ساری عمر تیرا بھلا ہو کہنا پڑتا ہے۔
اِن سگی بہنوں سے تو جس قدر ناطہ کم ہو آرام ہے۔
۔325۔۔۔
 بیوی اور پی اے سے کسی کا کوئی رشتہ نہیں ہوتا۔کوئی اچھا پی اے ہوتا ہے کوئی نالائق،کسی کو شارٹ ہینڈ آتی ہے،کوئی نوٹس لینے میں تیز ہوتا ہے۔ہر آفیسر پی اے کے ساتھ بندھا ہوتا ہے ہر شوہر بیوی کے ساتھ ۔۔۔پی اے اور بیوی کی صفات ہوتی ہیں۔۔۔خدمات ہوتی ہیں لیکن اُن کے ساتھ کوئی رشتہ نہیں ہوتا،ایک اچھی بیوی ثابت ہوتی ہے دوسری بُری۔اچھی بیوی کھانا پکاتی ہے،برتن مانجھتی ہے،وقت پڑنے پر پاؤں دباتی ہے ،چُپ رہتی ہے لیکن اُس کے ساتھ کبھی اُس بیوی سے زیادہ ناطہ نہیں ہوتا جو گھر کے خرچے سے زیور بناتی ہے ،فلمیں دیکھتی ہے،سسرال والوں سے لڑتی ہے۔نوکر ملازم خدمت گار کے ساتھ تعلق پیدا ہو سکتا ہے لیکن پی اے کے ساتھ کوئی رشتہ نہیں ہوتا۔بیوی بھی اِسی ضمن میں آتی ہے۔
۔325۔۔
سچ بولنا کوئی کمال نہیں ہے سچ سننا بڑا کمال ہے۔سچ بولنے والوں  کی قوت ہمیشہ سچ سننے والوں سے ملتی ہے۔
۔464۔۔۔
 انسان کی سرشت کو یا تو خدا سمجھتا ہےیا ابلیس۔۔۔ انسان تو ابھی خود اپنی سرشت کو سمجھ نہیں پایا۔۔۔ تُو جانتا ہے کہ انسان کا خمیر نیکی سے اُٹھا ہے ۔چور،اُچکا ڈاکو بدمعاش ساری عمر بدی کمائے،ایک توبہ کے وضو سے اُس کی بدی دُھل سکتی ہے۔۔بدی اُس کے آئینے میں فقط ابلیس کے عکس کی طرح رہتی ہے۔عکس ڈالنے والا نہ ہو تو آئینہ پاک رہتا ہے۔
۔464۔۔۔
 اِن کی دیوانگی کا اِن کی سرشت سے کوئی علاقہ نہیں۔۔۔جنگل والوں کا وجود بھی ایک ہوتا ہے اور ان کی سرشت بھی ایک۔ لیکن انسان کو خالق نے اس طور بنایا ہے کہ اُس کا وجود تو ایک ہے لیکن اس کی روح سائیکی،سرشت،عقل ،قلب جانئیے کیا کیا کچھ کئی رنگ کے ہیں۔ وہ کسی کے ساتھ شیر ہے تو کسی کے ساتھ بکری،کسی کے ساتھ سانپ بن کر رہتا ہے تو کسی کے ساتھ کینچوے سے بھی بدتر ہے۔بدی اور نیکی روزِ ازل سے اُس کے اندر دو پانیوں کی طرح رہتی ہے ساتھ ساتھ ملی جُلی علیحدٰہ علیحدٰہ جیسے دل کے تیسرے خانے میں صاف اور گندہ لہو ساتھ ساتھ چلتا ہے ۔وہ تو ہمیشہ ڈھلتا ہے ہمیشہ بدلتا ہے کہیں قیام نہیں کہیں قرار نہیں ۔وہ ایک زندگی میں ایک وجود میں ایک عمر میں لاتعداد روحیں ،انگنت تجربات اور بےحساب نشوونما کا حامل ہوتا ہے اس لیے افراد مرتے ہیں انسان مسلسل رہتا ہے۔ 
..... 
 جانے کیا بات ہے لیکن ہر شخص اپنے محبوب کی انگلی پکڑ کر اسے اپنے ماضی کی سیر ضرور کروانا چاہتا ہے۔جو کواڑ مدتوں سے بند ہوتے ہیں' ان پر دستک دے کر سوئے ہوئے مکینوں سے اپنا محبوب ملانا چاہتا ہے۔بچپن کی دوپہریں' شامیں اور جواں راتوں کی ساری فلم اسے دکھانے کی بڑی آرزو ہوتی ہے۔
 جسم بے نقاب کرنا تو ایک آسان سا فعل ہےاصل شناخت تو اپنے ماضی کی برہنگی سے ہی پیدا ہو سکتی ہے۔

"گھنگرو"

آوازوں کے ہجوم میں برسوں سے تنہا چلتی وہ ایک گونگی عورت تھی جو راستوں میں بھٹکتی ضرور تھی پر منزل کی نشان دہی کرتی دور بجنے والی گھنٹیوں کی آواز سے غافل نہ تھی۔وہ جذبوں کو لفظوں کے موتیوں میں پروتی ،تجربات ِزندگی کے لمس کی خوشبو بکھیرتی ایک عام سی عورت تھی ۔۔۔جس کےصبح وشام ایک ہی محور کے گرد طواف کرتے گزرتے تھے۔سوچ کی نغمگی اور خیال کی لَے اُس کے وجود کی تہوں میں چھپے اسرار تھے جن کی دریافت روح کا بوجھ بن گئی،وہ اُس کا اظہار چاہنے لگی۔یہ چاہ اور چاہے جانے کی خواہش بھی انسان کی عجیب کمزوری ہے جو گلاب کی پتی کی طرح محسوس تو ہوتی ہے لیکن کانٹے جیسی چبھن بن کر روح میں پیوست ہو جاتی ہے۔اپنے رنگ اور خوشبو کی پہچان کی  چاہ گھر کی چاردیواری میں قطعی بےوقعت اور مہمل ٹھہرتی ہے کہ وہاں ذہن سے زیادہ جسم کی کارکردگی کی قیمت لگتی ہے۔خواہش اظہار نے گھر سے باہر جھانکنے پر مجبور کیا تو پتہ چلا کہ گھر سے باہر قدم رکھنے والی عورت کے لیے دُنیا صرف "بازار"ہے، ہر طرف تماش بین ہی تماش بین۔جہاں عورت کو اونچا مقام دینے کے دھوکے میں بالاخانے پر بٹھا دیا جاتا ہے۔۔۔اُسے بھکاری جان کر ہوس اور بھوک کی خیرات دی جاتی ہے۔جہاں عقل سوتی اور راتیں جاگتی ہیں اور دن کی روشنی میں وجود کا ایکسرے کرتی تماش بینوں کی ٹٹولتی نظریں عورت کا صرف ایک ہی روپ دیکھتی ہیں۔عورت چاہتے ہوئے بھی انہیں دھتکار نہیں سکتی کہ جسے اپنے آپ کی سمجھ نہ ہو وہ کسی دوسرے کو کیسے جان سکتا ہے۔
عورت سب محسوس کرتی ہےکسی بارونق پلیٹ فارم پر یا سڑک پر اجنبی چہروں کے درمیان ہی نہیں بلکہ رشتوں کے مضبوط حصاروں کے درمیان رہ کر بھیاپنے اوپر  بہت کچھ سہتی ہے ۔خود سے وابستہ لوگوں کی خاطر چُپ رہنا اُس کی مجبوری ہے تو ہمیشہننگے پاؤں  تنہا چلنا اس کی قسمت اور آبلہ پائی اُس کا ظرف۔جانے کیوں دُنیا کے اس بازار میں آنے والی ہرعورت کو ایک ہی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔۔۔ اپنے گھر کی چار دیواری سے باہر نظر آنے والی ہرعورت محض " جنس" ہے۔۔۔ قابلِ فروخت کا لیبل جس پر دور سے دکھائی دیتا ہے،قریب آنے پر عمر، رنگ، نسل ، زمان ومکان کے مطابق اُس کے کردارکا تعین کیا جاتا ہے۔اپنی 'حیثیت"کے مطابق بولی لگائی  جاتی ہے،اپنا مرتبہ جتلایا جاتا ہے۔قیمت زیادہ دکھنے پر بھاؤ تاؤ ہوتا ہےتو کبھی بےعزت بھی کیا جاتا ہے۔دُنیا کی اس ڈھلوان گزرگاہ میں جذبوں سے لے کر رویوں تک ہر چیز برائے فروخت ہے۔سامان فروش جگہ جگہ صدائیں لگاتے ہیں اور سب بکتا ہے۔کیاعزت کیسی غیرت سے نظریں چراتے ہوئے بناوٹ کا غازہ لگا کر ضرورت کے گھنگرو انسان کو بےسمت نچائے جاتے ہیں۔
بجا کہ اپنے آپ کو نگاہ کے ہر زاویے سے منوانا عورت کی فطری خواہش ہے۔ لیکن ہرعورت کا اپنا زاویہ نگاہ ہے۔۔۔اُس کا ذاتی حق ہے کہ وہ کون سا رُخ دُنیا کے سامنے پیش کرے۔ اپنی کس صلاحیت کی قیمت لگائے یہ خالص اس کا فیصلہ ہونا چاہیے۔ اس میں دخل اندازی کا اختیار  اس کے اپنوں کو ہے اور نہ ہی پرایوں کو۔
عورت چاہے گھر کے کسی خاموش کونے میں پڑی ہو یا کسی چیختے چلاتے بازار میں چلتی ہو اپنے آپ پر یقین کے لیے اس کے پاس اپنے خوابوں کا ساتھ دنیا کے ہر ساتھ سے بڑھ کر ہے۔یہ خواب ہی ہیں جو نہ صرف عورت اور مرد کے رویوں کا فرق نمایاں کرتے ہیں بلکہ خوابوں کی بُنت ہرعورت کے کردار کی وضاحت بھی کرتی ہے۔رشتوں اور تعلقات کے مکمل لباس کے ساتھ عورت خواہ کتنا ہی مضبوط ہونے کا دعویٰ کرے اپنے پرائے کا تضاد اُسے اندر سے بہت کمزور اور خوفزدہ کر دیتا ہے۔ستم یہ کہ جب یہی تماش بین گھر میں داخل ہوتے ہیں تو اُن کی غیرت عورت کا صرف ایک مقام جانتی ہے۔۔۔اُس نامکمل وجود کو سجدے کرتی ہےجس کی آواز اس کے اپنے کانوں سے باہر سنائی نہ دے۔مرد چاہتے ہوئے بھی عورت کےبارے میں اپنے مخصوص انداز فکر سے جان نہیں چھڑا پاتا۔ عزت واحترام اورعقیدت ومحبت کے جذبات بھی عورت کے افعال وکردار پر شکوک وشبہات کے پردے ڈالے رہتے ہیں۔مرد کی اس دُنیا میں عورت کو کہیں بھی پناہ نہیں ۔ نہ صرف باہر بلکہ اس کے اپنے وجود میں بھی بےیقینی کچھ اس طور پنجے گاڑتی ہے کہ دُنیا فتح کر کے بھی اسکندرِاعظم نہیں بن پاتی اوردلوں کو مسخر کر کے بھی اِس کے دل کی دُنیا ان چھوئی رہتی ہے۔یہی قرار وبےقراری حاصلِ زندگی ہے کہ قدم روکتا ہے تو چلتے رہنے پر اُکساتا بھی ہے۔
جس طرح اپنے  وجود،اپنے ناز و ادا کی قیمت لگاتی عورت خواہ کتنی ہی دلکش کیوں نہ دکھائی دے۔ دیکھنے والے اُس کی اصل کبھی نہیں بھلا پاتے۔اسی طرح لفظوں کی دُنیا میں اپنا آپ تلاش کرتی عام  عورت بھی خود نمائی اورخود ستائی کی ماری سمجھی جاتی ہے۔کبھی اس کی تحریر کو "بیہیوئیر کنڑاسٹ " کا نام دیا جاتا ہے,کبھی نقالی تو کبھی مایوسی اور ڈپریشن کی ماری عورت کی بچگانہ سوچ ۔ ہر ایک کا تجزیہ اپنے عقلی معیار کے مطابق درست ہو سکتا ہے اورہمیں کسی کی سوچ بدلنے کا حق ہے اور نہ ہی اختیار۔اصل بات جانے بغیر کسی قسم کا غصہ اور جلد بازی ہمیں بہت سی غلط فہمیوں اور دوسروں کے متعلق بدظنی کا شکار بھی کر سکتا ہے۔زندگی کا ایک بنیادی اصول اگرسیکھ لیا جائے تو ہر اُلجھن ہر پریشانی سے کسی حد تک نجات مل سکتی ہے۔۔" جیو اورجینے دو"کا فلسفہ زندگی کے ہر موڑ پر بہت سی گرہیں کھولتا جاتا ہے۔ہمیں نہ صرف اپنے بارے میں بلکہ کسی کے بارے میں بھی کبھی کوئی حتمی رائے یا تجزیہ دینے کا حق حاصل نہیں اور نہ ہی ایسا کرنا چاہیے۔ جیسے دوسروں کے رویے اور کردار سے ہرگھڑی ہمیں نیا سبق ملتا ہے اسی طرح اپنی ذات کے بھید  ہم پر عیاں ہوتے ہیں۔
حرفِ آخر
عورت کی پہچان صرف ایک مرد کی آنکھ ہی کر سکتی ہے تو اکثروبیشتر مرد کے ہاتھوں  استحصال  کی بنیاد ایک عورت ہی رکھتی ہے۔مرد صرف ایک کٹھ پُتلی ہے کبھی بےلگام نفس کے ہاتھوں تو کبھی بےخبر لمحوں کے تعاقب میں ناچتا چلا جاتا ہے۔

سوموار, ستمبر 28, 2015

" ہری مرچیں "

ہری مرچیں ۔۔۔۔ جو کبھی پھیکی ہوتی ہیں تو کبھی تیکھی ۔۔۔
٭ہری مرچ وہی ہے جو چودہ طبق روشن کر دے۔
۔۔۔۔۔
٭سیلفی سیلفی ہوتی ہے اس کا "ایلفی" سے کوئی تعلق نہیں لیکن جانے کیوں کبھی بہت ساری سیلفیاں دیکھ کر ایلفی یاد آ جاتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔
٭ لفٹ دینے سے کبھی نہ ہچکچاؤ۔شاید اگلے موڑ پر آپ کواس کی ضرورت پڑ جائے۔لیکن لفٹ کے ساتھ اپنی عقل تو نہ دو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
٭عورتیں بہت ڈھیٹ ہوتی ہیں،مرنے پر آئیں تو نظر کے تیر سے بھی شکار ہو جاتی ہیں۔زندہ رہنےکی خواہش پال لیں تو "ممی" کی صورت حنوط ہو جاتی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔
٭شوہر سیاسی حکمرانوں سے کم نہیں، مانتے سب ہیں لیکن کرتے اپنی من مانی ہی ہیں۔
۔۔۔۔۔
٭بچے اگر بڑے ہو جائیں تو بڑوں کو بچہ بننا ہی پڑتا ہےکہ ایک "میان میں دو تلواریں نہیں رہ سکتیں"۔
۔۔۔۔۔
٭زندگی دھوپ چھاؤں کا نام ہے کبھی ہم کسی کی ذمہ داری اٹھاتے ہیں تو کبھی خود بڑی بھاری ذمہ داری بن جاتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔ 
٭آخری عمر میں خبر بننے سے بہتر ہے پیدل چلا جائے۔۔۔مزے کا مزہ اور بونس کی عمر الگ۔
۔۔۔۔۔
٭اخبار۔۔۔۔۔روز آنے والی ایک ایسی چیز جو آج کے دور میں خرید کر پڑھنا سب سے بڑی بےوقوفی ۔پھر ورق ورق چاٹنے کا وقت نکالنا ایک سعی لاحاصل اور پڑھنے کے بعد ردی کے ڈھیر میں اضافہ سب سے بڑا دردسر ہے۔لیکن ان سب خساروں کے باوجود اس کی اہمیت سے انکار قطعی نہیں۔۔۔وہ خاموش دوست جو دنیا سے باخبر رکھتا ہے۔نیٹ کا ایک تحفہ روز کا اخبار بھی۔صرف ایک نہیں جتنے چاہو اور وہ بھی مفت میں۔
۔۔۔۔۔
٭ قربانی کا گوشت اور شادی پر سلامی اپنی نہیں دوسرے کی حیثیت دیکھ کر دی جاتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔
٭ غریب کا پیٹ سدا کا خالی کنواں ہے ڈالنے کی رفتار کیسی ہی کیوں نہ ہو خالی پن کا احساس ہمیشہ کمتری کا شکار رکھتا ہے۔ جبکہ بھرا پیٹ وہ اندھا کنواں ہے جس میں ڈالنے کی رفتار کتنی تیز ہوتی ہے اُتنی ہی تیزی سے سب غائب ہو کر اور کی صدا لگاتا ہے۔بھرے پیٹ اور خالی پیٹ میں فرق صرف سوچ کا ہے کبھی بھرا پیٹ طمانیت کے تشکر سے چھلکا پڑتا ہے تو کبھی خالی پیٹ اپنی موج،اپنے حال میں مست جیتا چلا جاتا ہے۔
۔۔۔۔۔ 
٭کھوکھلی دیوار آخری دھکے سے گرتی ہے اُس کی طاقت سے نہیں۔ بالکل ایسے جیسے چارپائی ٹوٹے تو بعد میں بیٹھنے والا اپنے آپ کو قصوروار سمجھتے ہوئے حیران وپریشان کھڑے کا کھڑا رہ جاتا ہے۔ اور قصورواربنا استحقاق اور اپنی غلطی مانے بےخبری کے مزے لوٹتے ہیں۔
۔۔۔۔۔
٭کسی نے کہا ۔۔۔دنیا کے مشکل ترین کاموں میں ایک کام کسی ایسے انسان کو نظرانداز کرنا ہے جو سوچ میں رچ سا گیا ہو۔
لیکن ایک کام اس سے بھی زیادہ مشکل اور اذیت ناک ہے۔۔ ایسے انسان کو نظرانداز کرنا جس کے گوڈے گٹوں میں آپ "رچ بس" چکے ہوں اور وہ آپ کے لیے وقت کے کسی پل پل دوپل ملا محض ہوا کا ایک مہربان جھونکا ہو اور کچھ بھی تو نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔
٭ٹرین کے"سفر" اور"سگنل"کا رومانس سچے پیار کی طرح کا تھا ملتا جاتا اور بدلے میں کچھ نہ مانگتا اور موبائل کا سفر انگریزی کا "سفر" ہے بھگتّتے جاؤ جیب خالی کرتے جاؤ۔۔۔ہاتھ پھر بھی کچھ نہیں آتا اور "سگنل"کا انتظار بھی رہتا ہے۔ہم بڑے ہو کر بھی بڑے کیوں نہیں ہوتے؟ شاید اس لیے کہ زندگی کے پلیٹ فارم پر رونق لگی ہوئی ہے۔
۔۔۔۔
٭کسی  کے ساتھ محض ایک ڈیٹ پر جانا کبھی ہمیشہ کے لیے خسارے اورپچھتاوے کا سبب بھی بن جایا کرتا ہے اگر آگے چل کر وہ ڈیٹ نئی زندگی کی نوید دیتی ایک مستند ڈیٹ میں تبدیل نہ ہو۔
۔۔۔۔۔
٭محبت بغیرعزت کے اورعقیدت بغیر دلیل کے بنا تڑکے والی دال کی طرح ہے جس سے پیٹ تو بھرا جا سکتا ہے لیکن اُس  حقیقی لذت کبھی حاصل نہیں کی جاسکتی۔
۔۔۔۔۔۔ 
٭آؤٹ کلاس۔۔۔۔ ایک وہ کلاس ہے جو جمعے کے روز بھی بڑے دھڑلے سے بغیر دوپٹہ "مارننگ شو" کرتی ہے اور سب کان لپیٹ کر انتہائی خضوع وخشوع سے سنتے دیکھتے ہیں۔اور ایک وہ کلاس جو اپنے گھر کے باورچی خانے میں سخت گرمی میں روٹی بناتے ہوئے سر سےدوپٹہ نہیں اُتار سکتی اور پھر بھی کسی گنتی میں نہیں ۔۔۔۔"جیو جوائنٹ فیملی"۔
۔۔۔۔۔
٭ہر عورت ایک "وقتی" سمجھوتہ کرتی ہے اور وہ شادی کہلاتا ہے۔۔۔۔۔۔ یہ اور بات کہ یہ وقتی کل وقتی بن جاتا ہے۔ 
۔۔۔۔
٭مرد صحرا کی طرح ہے۔۔۔بارش ہوئی تو بارآور ہو گیا نہ ہوئی تو ویران بیابان۔عورت زمین ہےکہ بارش ہو یا نہ ہو اُس نے 
اپنے حصے کا کام کرتے جانا ہے۔
۔۔۔۔
٭مرد چکنی مچھلی کی طرح ہے، ذرا نظر بچی پھسل گیا اور گہرے پانیوں میں جانے کو بےقرار۔اس کے ساتھ کے لیے اس کی مرضی کے پانیوں میں اترنا پڑتا ہے چاہے خواہش ہو کہ نہ ہو۔
۔۔۔۔۔
٭سارا قصور بیوی کا ہی ہوتا ہے وہ اتنی جگہ کیوں چھوڑتی ہے کہ کوئی درمیان میں آ سکے۔مسئلہ یہ ہے کہ سب خوش فہمی میں رہتی ہیں۔۔۔پانے کی خوش فہمی میں ۔
۔۔۔۔
٭چڑیا گھر سے۔۔۔۔کسی نے کہا کہ کچھ مرد بندر کی طرح ہوتے ہیں اپنی غرض سےغرض رکھنے والے اور کچھ شیر کی طرح  بظاہر بےپروا لیکن وقت پڑنے پرڈھال بن جانے والے۔میں نے محسوس کیا کہ کچھ عورتیں بھی تو بندریا کی طرح ہوتی ہیں۔۔۔۔فرضی محبت کی ڈگڈگی پر ناچ ناچ کر بےحال ہونے والی اور مزدوری کی پھر بھی گارنٹی نہیں۔
اور کچھ شیرنی جیسی۔۔"بھوک"کو مانتی اور سمجھتی تو ہیں لیکن اپنی انا کی بھوک کو سرد نہیں پڑنے دیتیں۔اصل عورت وہی ہے جو ان دو سے جدا اپنا راستہ آپ اختیار کرے کیونکہ وہ انسان ہے حیوان نہیں۔
۔۔۔۔۔
٭کہیں پڑھا۔۔۔ بیوی نذر نیاز کی دیگ کی طرح ہے۔۔۔۔جس میں چاہتے ہوئے بھی نقص نہیں نکالا جا سکتا۔بس عقیدت کے ساتھ چپ چاپ کھانا پڑتی ہے۔
میرا خیال ۔۔۔۔ بیوی واقعی نذر نیاز کی دیگ ہی تو ہے لیکن اس"دیگ" کو "چڑھانے"والے بھی وہی ہیں جو نقص نکالتے ہیں۔ جیسا منہ ویسا تھپڑ کے مصداق بازاری چٹخارے دار کھانوں کے مزے اڑانے کے بعد حلوائی کی دکان پر دادا جی کی فاتحہ کی دیگ میں بچی کچی خواہشیں ڈالتے ہیں۔۔ تو پھر"سواد" کیسے آئے؟ پیٹ بھرنے پر شکر ہی کر لیں تو بہت ہے۔
حرفِ آخر
آپ بیتی ہو یا جگ بیتی۔۔۔بلاگ لکھنے کا یہی توفائدہ ہے کہ بنا "مصالحے یا تڑکے کے اور بغیر کسی احسان یا خرچےکے۔۔۔ آسانی سے چھپ جاتی ہے اور" انڈے ٹماٹروں"کے مزے سے لے کر پھیکے شلغم تک سب باآسانی ہضم بھی ہو جاتے ہیں۔

جمعرات, ستمبر 17, 2015

" خاکہ ۔۔۔۔مستنصرحسین تارڑ از عرفان جاوید "




دروازے: کاہن، مستنصر حسین تارڑ
از عرفان جاوید
قسط (1)۔
جس کے کاندھے کا سہارا لے کر منٹو لکشمی مینشن کی سیڑھیاں چڑھ جاتا۔۔۔ منٹو یہ جانے بغیر مر چکا ہے کہ وہ اپنے وقت کا سب سے بڑا افسانہ نگار اور اس ملک کا اہم اور بڑا ناول نگار اور سفرنامہ نگار ٹھہرے گا۔
   جنگ میگزین 28 جون 2015
 
 
 
 
 

کاہن ۔۔۔ مستنصر حسین تارڑ
از عرفان جاوید
قسط (2)
جس کی ذات سے مقامات کا ناسٹلجیا یوں اُبھرتا ہے جیسے اندھے کنوئیں میں دی گئی صدا اُس کی دیواروں سے سر ٹکراتی گونجتی باہر کو اُبل  آتی ہے۔
 ۔




http://e.jang.com.pk/06-28-2015/lahore/mag16.asp
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔







    


http://magazine.jang.com.pk/detail_article.asp?id=28176
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کاہن ۔۔۔ مستنصر حسین تارڑ
از عرفان جاوید
قسط (3)۔
جو پہاڑوں سے متنوع رنگا رنگ  کہانیوں کی گھٹریاں باندھ لاتا ہے... پہاڑوں سے مجھے اب بھی بلاوے آتے ہیں،پہاڑ مجھے بلاتے ہیں،ان میں ایک مقناطیسی کشش ہے،جو مجھے اپنی جانب کھینچتی ہے۔
http://magazine.jang.com.pk/detail_article.asp?id=28270 
۔۔۔۔۔۔۔۔
کاہن ۔۔۔ مستنصر حسین تارڑ
از عرفان جاوید
 قسط (4) ۔۔آخری قسط
 جو ہر رنگ کے آدم سے ملتا  ہر منظر دیکھتا اور پھر سارا خزانہ کاغذ پر الٹ دیتا ہے...انسان کو ایک مرتبہ زندگی ملتی ہے بند کمروں میں کیوں گزار دے۔
http://e.jang.com.pk/07-26-2015/lahore/mag12.asp

سوموار, ستمبر 14, 2015

"کرنیں (7)"

جب زندگی ہاتھ سے سرکنے لگے پھر قارون کا خزانہ بھی بےمعنی ہوجاتا ہے۔
۔۔۔۔۔
٭زندگی سے زندگی میں ملنے کی صرف ایک شرط ہے کہ زندگی باقی رہے۔
۔۔۔۔۔ 
٭اس سے اچھی بات ہو ہی نہیں سکتی کہ مور ناچتے ہوئے اپنے پیروں کو نہ بھولے۔
 ۔۔۔۔۔۔۔ 
 ٭خیال تخیل کے سمندر میں لہروں کی مانند ہوتا ہے۔جو لہر ایک بار آ کر چلی جائے وہ دوبارہ کبھی نہیں ملتی۔
۔۔۔۔۔
٭اور اور کی چاہ انسان کو حال میں کبھی خوش نہیں رہنے دیتی۔
۔۔۔۔۔۔
٭ جسم کی بھوک بولنے پر مجبور کرتی ہےتو روح کی پیاس سوچنے پر اُکساتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔
٭کانچ کے گھروں میں رہنے والوں کی عافیت پتھر سے بھی زیادہ سخت ہونے میں ہے۔
۔۔۔۔۔ 
٭یہی زندگی ہے اسی میں ہم نے کچھ پانا بھی ہے اور کھونے سے بچنا بھی ہے۔
۔۔۔۔۔
٭محبت روح کی زبان ہے جسے جسم لکھتا تو ہے لیکن سمجھتا نہیں۔
۔۔۔۔۔
٭حیا آنکھ میں ہوتی ہے لیکن جسم کی بولی اس کو بیان کرتی ہے۔
۔۔۔۔۔
٭لفظ ہمارے اندر کی کہانی کہتے ہیں تو کبھی دنیا کی وسعت کی ترجمانی کرتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔
 ٭کہانیاں صرف وہی نہیں ہوتیں جو"کہی"جاتی ہیں بلکہ اصل کہانی ہی وہی ہے جو ان کہی ان چھوئی رہ جاتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔
 ٭کچھ باتوں کو ان کہا نہیں رہنا چاہیے۔جو بات وقت پر نہ کہی جائے وہ بےفائدہ بے نتیجہ رہتی ہے۔
۔۔۔۔۔
 ٭دوستی اور خلوص بیان کی جانے والی داستان نہیں بلکہ محسوس کرنے والی اور جذب ہو جانے والی ان کہی کہانی ہے۔ وہ کہانی جو نہ سمجھی جا سکتی ہے اور نہ سمجھائی جا سکتی ہے۔
 ۔۔۔۔۔۔ 
٭ لفظ وہی دل میں اترتا ہے جو ہمارے حسبِ حال ہو۔
۔۔۔۔۔
٭لفظ  کے رشتے اگرچہ رسمی تعلقات کی طرح "دو اور لو" یا "سنواور سناؤ"کے ضابطوں کے محتاج نہیں ہوتےلیکن لفظ کے رشتوں کی پائیداری اور خوبصورتی اسی میں ہے کہ وہ کبھی بھی لفظ کی حدود سے باہر نہ نکلیں۔جیسے ہی اپنی فطرت اور جبلت کے زیرِاثر لفظ سے شخصیت کی جانب سفر شروع ہوتا ہے انسان کشش کا بنیادی مرکزِثقل کھو دیتا ہے۔ 
۔۔۔۔۔۔ 
 ٭عزت دل میں ہوتی ہے اکثرالفاظ سے زیادہ رویے اس کا اظہار کرتے ہیں۔کبھی بلا سوچے سمجھے اچانک بولے جانے والے لفظ سب راز کھول دیتے ہیں تو کبھی ہمارے رویے اصلیت پر پردہ ڈالے رہتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔
 ٭ادب وہی ہے جو ہمیں زندگی کے ہر رنگ سے نہ صرف روشناس کرائے بلکہ زندگی برتنے کا قرینہ بھی سکھائے۔
۔۔۔۔۔۔
٭خواب زندگی کی علامت ہیں اور رنگ بینائی کا ثبوت۔
 ۔۔۔۔۔ 
٭تنہائی رب کی بہترین نعمتوں میں سے ایک ہے اگر اس کے ساتھ  مثبت سوچ کی روانی بھی نصیب ہو جائے۔
۔۔۔۔۔۔
٭ہمیں کیا معلوم ہماری دعا ہمارے حق میں بہتر بھی ہے یا نہیں۔
 ۔۔۔۔۔ 
٭رب کی عطا کو عقل کی کسوٹی سے پرکھنے کی شعوری کوشش سے گریز کرو۔
 ۔۔۔۔ 
 ٭زندگی دھوپ چھاؤں کا نام ہے کبھی ہم کسی کی ذمہ داری اٹھاتے ہیں تو کبھی خود بڑی بھاری ذمہ داری بن جاتے ہیں۔
۔۔۔۔۔
 ٭ اہم سفر کرتے رہنا ہے۔ چلتے رہے تو کہیں پہنچ ہی جائیں گے نہ بھی پہنچےاپنے اندر سے بہت کچھ سیکھ لیں گے۔
۔۔۔۔۔۔ 
 ٭نقش قدم پر چلنا انسان ہونے کی دلیل ہے تو اپنی ذات کی بےثباتی اور کائنات کے سربستہ رازوں پر تفکر باعثِ نجات اور باعث ِسکون بھی ہے۔ 
۔۔۔۔۔۔ 
 ٭خالی ڈھول کی طرح بجنے والے بےشک جتنا بھی مجمع اکٹھا کر لیں لیکن اُن کے اندر کا خلا ان کے قریب جانے والے پہچان لیتے ہیں۔
۔۔۔۔۔
*عادت ڈالی نہیں جاتی۔۔۔عادت پڑ جاتی ہے۔
۔۔۔۔
٭عمر چاہیے تو اپنے ساتھ جیو۔زندگی چاہیے تو ساتھی کو اپنا کر جیو۔
۔۔۔۔۔
٭بارش اور رات انسانوں کو سمجھنے کی کوشش میں کبھی بہت خطرناک بھی ثابت  ہوتے ہیں۔ بارش میں کچے رنگ اور رات میں انسان کا اصل چہرہ دکھائی دیتا ہے۔بہت کم کوئی بارش اور رات کے امتحان میں پورا اتر سکا صرف وہی جنہیں اپنے رنگوں پر یقین ہوتا ہے اور چہرے پر اعتماد۔
۔۔۔۔۔۔۔
 ٭بڑی باتیں انسان کے کردار کا تعین کرتی ہیں تو چھوٹی چھوٹی باتیں اقدار کی نشاندہی۔انسان کا کردار محض اُس کا نفس ہی نہیں بلکہ اُس کے مکمل وجود کی بُنت کا نام ہے۔ یہ انسان کا وہ لباس ہے ظاہری آنکھ جسے دیکھ کر معاشرے میں اُس کا مقام جانچتی ہے۔لباس حق ہے کہ اس کے بغیر کوئی وجود وجود ہی نہیں لیکن یہ بھی حق ہے کہ محض لباس کی تراش خراش دیکھ کرحتمی فیصلہ سنا دینا سب سے بڑا فریب ہے جو صرف اور صرف دیکھنے والی آنکھ کی کجی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔ 
 ٭کچھ لوگ زندہ ہوتے ہوئے بھی مر جاتے ہیں اور کچھ مر کر زندہ ہوتے ہیں اور کچھ اس ایک مختصر سی زندگی میں ہی اتنے سفر طے کر لیتے ہیں کہ زندگی اُن کے پاؤں سے لپٹی چلی جاتی ہے اور راستوں کی دھول مقدر کا ستارہ بن کر جگمگانے لگتی ہے۔

سوموار, ستمبر 07, 2015

"وبالوالدینِ احساناً"


سورہ النحل(16)۔آیت 70۔۔ترجمہ۔
۔"اللہ نے تمہیں پیدا کیا پھر وہ تمہیں وفات دیتا ہے۔ اور تم میں سے کسی کو ناقص ترین عمر کی طرف پھیر دیا جاتا ہے کہ جاننے کے بعد بےعلم ہو جاتے ہیں۔ بیشک اللہ خوب جاننے والا بڑی قدرت والا ہے"۔ 
ایک جائز تعلق کے توسط سے عورت اور مرد جب ماں باپ کے منصب پر فائز ہوتے ہیں تو آنے والا بچہ جسمانی،جذباتی اور معاشرتی ہر لحاظ سے اُن کے رحم وکرم پر ہوتا ہے۔وہ اُن کی آنکھوں سے دُنیا دیکھتا ہے۔۔۔اُن کے لمس سے زندگی کی حرارت محسوس کرتا ہے۔۔۔اُن کے رویوں کی چاشنی سے معاشرے کے تلخ وشیریں حقائق کو سمجھتا ہےتو ان کی زندگی کہانی سے اپنے حالات ومسائل کا تانا بانا بنتا ہے۔
بڑھتی عمر کے ساتھ ماں باپ کتنے کمزور کیوں نہ ہو جائیں یا کتابِ مقدس کے الفاظ میں"ارذلِ عمر"کو ہی کیوں نہ پہنچ جائیں، جب انسان"علم رکھنے کے باوجود لاعلم ہو جاتا ہے"۔اُن کا وجود بجائے سہارا دینے کے خزاں رسیدہ پتے کی طرح لرزنے ہی کیوں نہ لگ جائے۔اُن کی موجودگی کا غیرمرئی احساس قضاوقدر کے سامنےایک ڈھال کی صورت ہمیشہ ساتھ رہتا ہے۔ یہ ڈھال اُن کی زندگی میں اُن کے سامنے کبھی نہیں دکھتی بلکہ اکثر تو اپنے حصے کا کام ختم کرنے کے بعد اُن کا وجود محض ایک ذمہ داری یا معاشرتی دباؤ کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ اُن کے رہنما اٗصول ہماری تیزرفتار زندگی کا ساتھ دینے سے قاصر نظر آتے ہیں تو اُن کے ہزار بار سُنے قصوں کی بازگشت سے ہم جان چھڑاتے ہیں۔ ہر چیز حق ہے۔ ہر خیال بھی اللہ کی طرف سے ہی آتا ہے۔خالقِ کائنات نے کچھ بھی بےمقصد پیدا نہیں کیا۔ناحق صرف یہ ہے کہ ہم اُسے سمجھنےسے قاصر رہتے ہیں اِسی لیے برتنے میں غلطی کر جاتے ہیں بسااوقات یہی غلطی ماں باپ اور اولاد کے بیچ وسیع خلیج حائل کر دیتی ہے۔جہاں ماں باپ خوساختہ ناقدری کا شکار ہو جاتے ہیں وہیں اولاد بھی اپنی دُنیا آپ دریافت کرنے کے زعم میں ایک بےغرض قطب نما کھو دیتی ہے۔
سورۂ بنی اسرائیل (17) آیت23۔۔وبالوالدینِ احساناً۔۔۔ترجمہ۔۔"اور والدین کے ساتھ احسان کرو"۔
اِس آیت ِقُرآنی میں والدین اوراولاد کےباہمی تعلق اُن کے حقوق وفرائض،والدین کی توقعات،اولاد کی ذمہ داریاں غرض کہ ہر مسئلے کا حل اور ہراُلجھن کا واضح جواب موجود ہے۔
احسان دو طرح کا ہوتا ہے ایک وہ جو کسی بھلائی کا بدلہ اُتارنے کے لیے کیا جائے اور ایک احسان یہ ہے کہ صلے کی توقع رکھتے ہوئے بھلائی کی جائے۔احسان دونوں معنوں میں دیکھا جائے تو ایک پسندیدہ عمل ہر گز نہیں ہمیں تو ایسی نیکی کا حُکم دیا گیا ہے کہ دوسرے ہاتھ کو خبر نہ ہو۔
قرآن پاک میں اولاد کی پیدائش اور پرورش کے دوران پیش آنے والی تکالیف تفصیل سے بیان کر کے والدین کے ساتھ احسان کرنے کا حُکم دیا گیا ہے۔ یہ وہ احسان ہے جس کے صلے کا تقاضا اللہ کی طرف سے ہے۔ اولاد کا ماں باپ پر احسان کرنا فرض ہے کیونکہ ماں باپ کے اولاد پر احسانات بتلائے گئے ہیں۔غور کرنے کا مقام یہ ہے کہ قرآن پاک میں کہیں بھی والدین کو یہ حُکم نہیں دیا گیا۔والدین کو اولاد پر اپنی بھلائی کا احسان جِتانے کی قطعی اجازت نہیں بلکہ دیکھاجائے تو گُناہ ہے کہ جو کام اللہ نے 
اپنے ذمے لیا ماں باپ اس میں اپنا حصہ ڈالنے کی کوشش کریں۔
ماں باپ کو اولاد کے ساتھ نیکی اور بھلائی کی تلقین ہے۔اُن کو اپنے حصے کا کام کرنا ہے۔اولاد سے توقع رکھناصرف اپنے آپ کودُکھ دینے والی بات ہے۔اولاد کو اچھے طریقے سے پال پوس کر بڑا کرنے،معاشی اور معاشرتی لحاظ سے اپنے وسائل میں رہتے ہوئے  اُن کی تعلیم وتربیت کرنے۔زندگی میں سر اُٹھا کر چلنے اور اپنے آپ پر بھروسہ کرکے عطا کرنے والا ہاتھ پانے تک ماں باپ کی ذمہ داری بالکل ایسے ہی ہے جس طرح آزاد پرندے تنکا تنکا جمع کر کے گھونسلہ بناتے ہیں۔۔۔محبتوں کے ثمر کو بےمہر فضاؤں کی دست بُرد سے بچانے کی تگ ودو کرتے ہیں۔۔۔مجبور وبےکس کمزور جانوں کو خوراک سے تقویت دیتے ہیں۔۔۔اِن کو آسمان کی وسعتوں میں جینا سکھاتے ہیں۔ پھر ایک مقررہ وقت کے بعد اپنے اپنے آسمان پر پرواز کرجاتے ہیں۔
انسان چاہے تو اپنے آس پاس بکھرے مظاہرِ فطرت سے بہت کچھ سیکھ سکتا ہےاورذہنی وجسمانی آزادی کا سبق پرندوں سے بہتر کہیں سے نہیں سیکھا جا سکتا۔ لیکن مخلوق اور اشرف المخلوق کے درمیاں فرق سمجھنا ہی بنیادی نکتہ ہے۔ یہی آج کا المیہ ہےوالدین خود ترسی کا شکار ہیں کہ اولاد ہمارا خیال نہیں رکھتی۔انہیں اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ احسان کا حُکم صرف اولاد کو ہے والدین کو نہیں۔اولاد کی پرورش ہر قسم کی غرض سے بالاتر ہو کر کریں گے تو خود بھی ہمیشہ سُکھی رہیں گے اور اولاد بھی جذباتی بلیک میلنگ سے آزاد ہو کر اپنی مرضی سے سیدھے راستے کا انتخاب کرے گی۔اجر تو صرف اور صرف اللہ کے ذمے ہے۔دیکھا جائے تواجر دُنیا میں ہی مل گیا ہے کہ اولاد کی پیدائش اورپرورش ایک انسانی رویہ ہےاس میں والدین کی مرضی کا کوئی عمل دخل نہیں۔۔۔اللہ کی طرف سے ایک ذمہ داری جسےچاہتے یا نہ چاہتے ہوئے ہرحال میں سر انجام دینا   پڑتا ہےاللہ نے اس ذمہ داری کو اپنےفضل سے اتنا بڑا رُتبہ دیا کہ قُرآن پاک میں شرک سے بچنے کے بعددوسرا حکم ماں باپ کےساتھ بھلائی کا ہے۔ 
ماں اور باپ دو ایسے رشتے جو موجود ہوتے ہوئے نہیں دکھتے اورجب ہمیشہ کے لیے بچھڑ جاتے ہیں پھر دکھائی دیتے ہیں۔
 ماں باپ کے جانے کے بعد سب مفاد کے رشتے رہ جاتے ہیں ۔ہم جتنا اپنی توجہ کا پانی ڈالتے ہیں اتنا ہی پھل کھاتے ہیں ذرا نظر چونکی  توقع کے کانٹے نکل آتے ہیں اور ہمیں اندر سے لہولہان کر دیتے ہیں۔
ہمارے ماں باپ۔۔۔ بڑے بہن بھائی اس اجنبی اور بےمہر دُنیا میں ایک دیوار کی طرح ہوتے ہیں۔ دیوار۔۔۔جس کی قدر اور اہمیت سے ہم شہروں میں رہنے والے واقف نہیں ۔بےشک زمین انسان کی پہلی ضرورت ہے۔جس پر قدم رکھ کر وہ کاروبار زندگی کا آغاز کرتا ہے۔لیکن دیوار کی اہمیت وضرورت صحرا کے مکینوں اور سمندروں کے باسیوں سے بڑھ کر کوئی نہیں جان سکتا۔پہاڑوں میں بسنے والے زمین کے اندر ہی اندر اُتر کر کسی کھوہ کسی غار میں پناہ تلاش کر لیتے ہیں تو اونچے نیچے راستوں پر درختوں کا ساتھ کسی حد تک دیوار کی طلب سے بےنیاز کر دیتا ہے۔
دیوار چاہے کچی مٹی کی لپائی سے بنی ہو یا اینٹ پتھر سے جوڑ کر مضبوط کی جائے۔۔۔ہماری اپنی اوقات اور حیثیت کے مطابق ہی ہوا کرتی ہے۔ ہمارے قد سے بڑی یہ دیوار وقت کے سورج کی گھٹتی بڑھتی تپش میں سایہ فراہم کرتی ہے توبرہنہ پا سفرِزندگی طے کرتے ہوئے ذرا دیر کو "ڈھو" لگا کر بیٹھنے کا آسرا بھی ہے۔ یہ لمحے بھر کا ساتھ دُنیا کے اس دشتِ لا انتہا میں کسی نعمتِ مترقبہ سے کم نہیں۔ لیکن ہم میں سے بہت کم اس طور اس کی اہمیت کو محسوس کرتے ہیں۔ ورنہ یہ دیوار ہمیں اپنے ہر کام میں رُکاوٹ دکھائی دیتی ہے۔ اینٹوں سے بنی دیوار کی طرح بےحس!جس سے سر تو ٹکرایا جا سکتا ہے لیکن اس میں سے اپنا راستہ نہیں نکالا جا سکتا۔ یہی ہماری سوچ کی خرابی ہے۔ دیوار اپنا راستہ آپ تلاش کرنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ اس دیوار میں جانے کتنے خزانے دفن ہوتے ہیں جو وقت کے لامحدود فریم میں ہمارے لیے چُنے جاتے ہیں۔اور ہم اپنی زندگی کے محدود وقت میں ہی اِن کے حصول کی ہوس رکھتے ہیں۔ ہم ناسمجھی اور کم عقلی کی زبان سے چاٹ چاٹ کر اس دیوار کو کھوکھلا کرنے کی اذیت میں گرفتار رہتے ہیں۔ یوں کبھی سکون نہیں پاتے۔
ایک پل کو ٹھہر کر سوچ لیں کہ اس دیوار کے پار کیا ہے؟۔۔۔۔یہ دیوار اجل کی  گہری کھائی کے کنارے پر دھرے ٹمٹماتے چراغ کی مانند ہے جو فنا کے جھونکے سے کسی پل بھی بُجھ سکتا ہے۔ ستم اس دیوار کا ہٹنا یا چراغ کا بجھنا نہیں۔۔۔ہماری محرومی بھی نہیں۔ بلکہ اصل کہانی یہ ہےکہ پھر ہمیں اس کی جگہ لے کر خود دیوار بنا دیا جاتا ہے یا بننا ہمارا مقدر ہے۔ وہ دیوار جس سے ہم ہمیشہ حالت جنگ میں رہے یہ جانے بنا کہ اس کی موجودگی ہمارے لیے اس میدانِ کارزار میں ذرا سی مزید مہلت کی خوش فہمی کا باعث تو تھی۔ ہاں خوش فہمی۔ ہم عقل مند تو یہ سوچتے ہیں کہ روانگی کی اس قطار میں بےشک ہمارے بڑے آگے کھڑ ے ہیں لیکن موت کا فرشتہ اس قطار کو نہیں دیکھتا اور جیسا اسے کہہ دیا گیا وہ کسی کو کب درمیان سے اٹھا لے جائے ہم نہیں جانتے لیکن اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ ہمارے اس فہم کی خوش فہمی ہمارے لیے زندگی پر اعتماد کے حوالے سے امید کے چراغ تو روشن رکھتی ہے لیکن رشتوں کے ہونے پر یقین بھی کسی حد تک ختم کر دیتی ہے۔

رشتے ناطوں کو سنوارتے سنوارتے انسان جسمانی اور ذہنی طور پر خود کو کتنا ہی آزاد کیوں نہ محسوس کرے لیکن اخلاقی اور جذباتی طور پر وہ کبھی آزاد نہیں ہو سکتا اور اسی قید وبند کے دائرے میں اپنی شناخت برقرار رکھنے ہوئے زندگی سمجھنا اصل امتحان اور کامیابی ہے۔
یکم اگست، 2011