صفحہِ اول

جمعرات, جون 25, 2015

"روح وجسم "

سورہ السجدۂ(32)آیت 7 تا 9۔ترجمہ۔
۔7)"جس نے ہر چیز کو بہت اچھی طرح پیدا کیا اور انسان کی پیدائش کو مٹی سے شروع کیا۔ 8) پھر اس کی نسل خلاصے سے حقیر پانی سے پیدا کی ۔9) پھر اُس کو درست کیا پھر اس میں روح پھونکی اور تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنائے تم بہت کم شکر کرتے ہو"۔ 
جسم کی حقیقت روح ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ پہلے جسم تخلیق کیا گیا ۔۔۔اسے مکمل کیا گیا پھر اس میں روح 'نور' کی مثل داخل کی گئی۔ ایک روشنی جس نے جسم کے ہر گوشے ہر صلاحیت اور ہر عمل کو بےنقاب کیا۔ روح جسمِ انسانی کی تکمیل کا حسن ہے تو جسم کی خوبی اور احساس روح کی کاملیت کی گواہی بھی ہے۔
جسم اور روح ایک دوسرے کے بغیر کچھ بھی نہیں روح کے بغیر جسم بےکار،بےحقیقت ہےاورجسم کے بغیر روح فقط سفر ہے۔روح جسم سے پرواز کرے تو ہی بلندی پاتی ہے۔
روح ہمیشہ سے حالتِ سفر میں ہے کبھی آسمان سے زمین پر توکبھی زمین سے آسمان پر۔روح کی فطرت میں ہےتلاش۔۔۔اپنے بچھڑے حصے کو کھوجنا ۔۔۔مکمل ہونا۔ 
نافرمانی روح سے سرزد ہوتی ہے اوراس کا خمیازہ جسم کو بھگتنا پڑتا ہے۔جسم محض آلہ کار ہےفرماں بردارخادم،اایک تابعدار
سواری۔۔۔بےضرر،بےحس،بےسمت مادے کی ایک جامد کیفیت۔یہ روح کا شعلہ جوالہ ہے جوعرش سے فرش پر لانے کا مجرمِ اول ہے تو فرش سے عرش تک کی منازل کا محرم راز بھی ہے۔
روح سفاکی کی انتہا کو پہنچ کر اپنی مرضی کے مطابق جسم کو تہس نہس کر کے یوں صفائی سے دامن بچا جاتی ہے کہ جسم خاک ہونے سے خاک میں مل کر بھی اس اسرار سے واقف نہیں ہو پاتا۔
روح کی پاکیزگی کی انتہا جاننا چاہتے ہو تو روح جسم کو ترغیبات کی دلدل اور دنیا کے بدبودار کیچڑ سے یوں بچا کر نکالتی ہے کہ احساس کے وضو کی شدت سے جسم خود مینارۂ نور بن جاتا ہے۔اندھیری طوفانی راتوں میں روشنی کا وہ جلتا بجھتا دیا جو نہ صرف بھٹکے ہوؤں کو راہ دکھاتا ہے بلکہ خود اپنی جگہ پر بھی قائم رہتا ہے۔
روح کی غلاظت جسم میں بڑی کامیابی سے منہ چھپا کر اس کا ظاہر آراستہ پیراستہ کرتی ہے تو روح کی لطافت جسم میں جذب ہو کر اُس کے کونوں کھدروں میں جنم لینے والے مکڑی کے جالے کو بھی برداشت نہیں کر پاتی۔بظاہر جسم کتنا ہی مکمل اور پاک کیوں نہ دکھائی دے روح کبھی مطمئن نہیں ہوتی،کبھی تسکین نہیں پاتی۔اس کی بےچینی جسم کو بھی چین نہیں لینے دیتی۔خوب سے خوب تر کی تلاش اور پاک ہو کر منزل سے قربت کی تمنا ہر خواہش پر حاوی ہو جاتی ہے۔ جبکہ روح کی مکاری جسم کو ہر خوف سے آزاد کر دیتی ہے۔۔۔اس کے اعمال آراستہ کرکے دکھاتی ہے۔۔۔انا اور طاقت کے حصار میں جکڑ کر اپنی کائنات کا خدا بنا کر خود کو سجدے بھی کرواتی ہے۔
روح اور جسم کی اس آنکھ مچولی میں بنیادی اور اہم کردار"لباس" کا ہے۔ لباس۔۔۔کپڑے کا وہ ٹکڑا جو آنکھوں پر پٹی باندھتا ہے تو ندامت کے لمحات میں اپنے جسم کی برہنگی پر توبہ کا طلب گار بھی بناتا ہے۔ہم سوچتے سمجھتے اور مانتے بھی ہیں کہ جسم کو لباس کی ضرورت ہے۔ لیکن !غورکیا جائے تو جسم سے بڑھ کر روح کی پہچان اُس کی طلب لباس ہے ورنہ جسم تو آزاد پیدا ہوا ہر ضرورت ہر احساس ہر رشتے سے بےنیاز اور اپنے کھرے کھوٹے کے فرق سے انجان۔ اور اسی حال میں اس کو مٹی میں مل جانا ہے۔ لباس جسم کی جبلی ضرورت اور فطری تقاضا ہے یا پھر موسموں کی دست برد سے رہائی کی ایک آخری کوشش۔ یہی وجہ ہے کہ جو لباس کی اصل سے آشنا ہو گئے۔۔۔اُن کا جنون انہیں اس دُنیا کا مکین نہیں رہنے دیتا اور وہ ہر قید سے آزاد کسی اور راہ کے مسافر ہو جاتے ہیں۔

اہم یہ ہے کہ جسم اور روح ایک دوسرے کے لیے لازم وملزوم ہوتے ہوئے بھی دو الگ جہانوں کے مسافر ہیں اور اِن کی 
ضروریات ایک دوسرے سے یکسر مختلف ۔انسان ساری عمر اپنی ضرورت اور خواہش کے لاحاصل سفر کے دائرے میں گزار دیتا ہے۔ دن کا سفر اگر جسم کی ضروریات کے گرد گھومتا ہے تو رات کا سفر روح کی آسودگی کی خواہش میں کٹتا ہے۔
سوچ سفر کی پرواز جسم سے ہم آہنگ نہ ہو تو انسان اپنے ہی مدار کا باغی ہوجاتا ہے۔لیکن اگر جسم اور روح ایک ہی سمت میں سفر کرتے رہیں تو بھی دائروں کا یہ سفر محض سفر ہی رہتا ہے۔
بنیادی نکتہ جسم اور روح کا اپنے اپنےمحورمیں گردش کرتے رہنے کے باوجود ایک دوسرے کی طلب کو سمجھنا اور اس کے مطابق سمجھوتہ کرنا ہے۔فضا میں ڈولتے جہاز سے چھلانگ کتنا ہی جئرات مندانہ اور اعلیٰ مہارت کا مظہر کیوں نہ ہو۔اصل کامیابی بخیریت زمین پر واپسی سے مشروط ہے۔زندگی کے پیراشوٹ میں مضبوطی سے بندھی ڈوریاں اگر سلامتی کی ضامن ہیں تو اُن کا وقت پر نہ کھلنا ناقابلِ تلافی شکست وریخت کا باعث بھی ہوا کرتا ہے۔

تشنگی اور تنہائی روح کی طاقت ہے تو جسم کی کمزوری بھی ہے۔۔۔جسم کی طلب ساتھ ہے اور روح کی تنہائی ۔انسان جیسے جیسے جسم کی کمزوری سمجھتا ہے اس پر قابو پانا چاہتا ہے۔ وہ "ساتھ" سے فرار کے لیے تگ ودو شروع کرتا ہے۔ گیان دھیان کے سفر میں بڑے کشت کے بعد جسمانی جبلتوں پر قابو پا کر آخری مرحلہ "سانس" کے ساتھ پر فتح حاصل کرنا ہے۔ انسانی جسم کا اپنے آپ کو تسخیر کرنے اور روح کی برتری کا نشہ ختم کرنے کا یہ آخری مرحلہ ہے۔ آج تک کوئی بھی انسان سانس کی قید سے جھٹکارا پانے میں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہوا اور نہ ہی شاید کبھی ہو سکے۔ سانس انسانی جسم کی بقا کے لیے پہلی اور آخری کمزوری ہمیشہ سے ہے اور رہے گی۔
۔"ساتھ" کی یہ اذیت کبھی انسانوں سے دور کرتی ہے تو کبھی قریبی رشتوں میں کھوجنا پڑتی ہے۔۔۔کبھی کسی رشتے سے محرومی وجہ لگتی ہے توکبھی ان رشتوں سے ملنے والے دکھ جوازبن جاتے ہیں ۔ کبھی اپنی طلب سے خائف ہو کر انسان اپنی ذات کے خول میں محصور ہوجاتا ہے تو کبھی اس کسک کو رنگ برنگ پیرہن میں چھپا کر دُنیاکے سامنے پیش کر دیتا ہے۔ کھوج کا یہ سفر مثبت راہ کی طرف چل نکلے توآرٹ اور کرافٹ سے لے کر ادب اور فلسفے تک دُنیا کو مسحور کر دیتا ہے۔ ذہانت اور عمل کا ملاپ ہو جائے تو فلاحِ انسانیت کی طرف گامزن ہو جاتا ہے اور رہتی دنیا تک اپنے نقشِ قدم چھوڑ جاتا ہے۔لیکن ان سب کے باوجود اس طوفان کو وقتی طور پر تو سُلایا جا سکتا ہے لیکن روکا نہیں جا سکتا۔ بہت کم کوئی اس آسیب سے نکلنے میں کامیاب ہوا ہے۔ تصوف کی راہ پر چلنے والے اس رمز سے بخوبی آشنا ہیں۔ انسانوں کے درمیان رہ کر اُن میں سے نکلنا پڑتا ہے اور اس سے بھی پہلے اپنے اندر کے انسان سے بات کرنا سب سے اہم ہے۔جبکہ عام طور پر ہم بات تو کیا اپنی ذات کے اندر سے اُٹھنے والی معمولی سی سرگوشی کو بھی درخوداعتنا نہیں سمجھتے کہ ایک بڑے اور اعلیٰ مقصد کے سامنے یہ محض نفس اور نفسانی خواہشات کا غلبہ دکھتا ہے۔جسم کہانی آنکھ سے دیکھی جاسکتی ہے تو روح کہانی صرف اہلِ دل ہی دل سے پڑھ سکتے ہیں۔دنیا میں رہنا اس کوسمجھنا اس میں اپنی جگہ بنانا پہلا سبق ہے۔پہلے زندگی پڑھو خاص طور پر اپنی زندگی ۔ہم دنیا کے قابل بن سکیں گے تو ہی کائنات کے راز جاننے کے قابل ہوں گے ۔
روح کی خوراک تنہائی ہے۔ اس کے خمیر میں صرف اور صرف تنہائی کا عنصر ہے۔ انسانی آنکھ یہ سفر لمحۂ اول سے شکمِ مادر تک دیکھتی ہے جب روح کا دائرہ کار جسم کی قید میں محدود رہتا ہے۔ روح اپنے کام اپنی ذمہ داری تن دہی سے نباہتی ہے لیکن اپنی خوراک کے لیے بےچین رہتی ہے۔روح کی خلش جسم سمجھنے سے قاصر رہتا ہے لیکن روح نہ چاہتے ہوئے بھی جسم کی ضروریات پوری کرنے کے لیے آخری حد تک اس کے ساتھ چلتی ہے۔جسم کی تشنگی عذاب بنتی ہےتو روح کی تشنگی باعثِ نجات بن جاتی ہے‬۔حاصلِ کلام یہ ٹھہرا  کہ جسم حقیقت ہے اس سے فرار نہیں۔جب تک جسم کو نہ جانیں روح تک رسائی ممکن نہیں۔۔۔روح سچائی ہے اس سے آنکھ بند نہیں کی جا سکتی۔
روح کو مان لو جاننے کی سعی نہ کرنا۔ جسم کو جان لو ماننے کی غلطی نہ کر بیٹھنا"۔"

منگل, جون 16, 2015

"کردار سے دائرہ کار تک"

 معاشرہ فرد سے بنتا ہے،مرد اورعورت معاشرے کے بنیادی جزو ہیں۔معاشرتی ،معاشی،اخلاقی اورمذہبی زنجیروں سے قطع نظر
۔۔۔ دنیا کا ہرانسان خواہ مرد ہو یا عورت اپنے افعال وکردار میں آزاد پیدا ہوتا ہے۔ ساری زندگی اِن زنجیروں کی جھنکار اسے اُس کی اوقات یاد دلاتی رہتی ہے۔۔یہ قید طاقت بھی ہے جو درحقیقت اُس کی سیماب صفت فطرت کے لیے آب حیات کا کام کرتی ہے۔انسان اپنی طبعی عمر پوری کر کےاس فانی دنیا کی ہر قید وبند سے ہمیشہ کے لیے آزاد ہو جاتا ہےآگے کی جزاوسزا ایک الگ کائنات کی کہانی ہے۔
مرد کا دائرہ کار اُس کے کردار کا تعین کرتا ہےجبکہ گھر میں عورت کا کردار اُس کے دائرہ کار کی راہ متعین کرتا ہے۔
گھر اور معاشرے میں عورت کے کردار کے حوالے سے مرد اور عورت دونوں اپنے طور پر ہمیشہ سے اُلجھن کا شکار رہے ہیں۔ایک"تہذیب یافتہ"معاشرے کا حصہ ہوتے ہوئے ہم سب جانتے ہیں سمجھتے ہیں لیکن نہ چاہتے ہوئے بھی حقائق کو اپنے خیال پر فوقیت دینا پڑتی ہے۔اگر مرد اپنی ذاتی زندگی میں کم ازکم خیال کی حد تک عورت کی اہمیت اور ضرورت محسوس کر لے اورعورت حقیقت کی آنکھ سے دیکھ کر اپنا اصل مقام پہچان لے۔۔۔ توجہاں مثبت طرزفکر مرد کی گھریلو زندگی پرسکون بنا دیتا ہے۔۔۔ وہیں اپنے اصل مقام کی پہچان اور اس سے دیانت داری عورت کے لیے فکر وخیال کی نئی دنیاؤں کے راستے کھول سکتی ہے۔ہمارے معاشرے میں عورت کی سوچ اور فکر کی تازگی کے لیے سازگار ماحول کا ہونا خواب وخیال کی بات ہے۔۔ ہر وہ عورت جو ایک بنے بنائے راستے پر نہ چلنا چاہے اورخود سے وابستہ رشتوں کو ساتھ رکھتے ہوئے بھی صرف اپنی ذات کے لیے ایک نئے راستے کی چاہ کرے ۔اس کے لیے یہ سفر عشق کے سفر کی طرح پہاڑ میں سے دودھ کی نہر نکالنے کے مترادف ہے۔ عورت وہ چراغ ہے جس کی روشنی جانتے ہوئے،مانتے ہوئے بھی سب اُس سے خائف رہتے ہیں۔
عورت کا اصل مقام صرف اس کا گھر ہے۔وہ گوشۂ عافیت خواہ جہاں اس کی سوچ کی عزت دو کوڑی کی بھی نہ ہو۔۔۔ اس کے ذہن کو نہیں اس کے جسم کو اہمیت دی جاتی ہے۔۔۔اس کی انفرادی حیثیت نہیں بلکہ اس سے جڑے رشتوں کی وجہ سے اس کو پہچانا جاتا ہے،عورت جتنا جلد یہ بات سمجھ جائے اتنا جلد سمجھوتہ کرنے میں آسانی رہتی ہےلیکن یہ وہ پھانس ہے جو اکثر بہت چبھن دیتی ہے۔معاشرے کے پسے ہوئے طبقات کی کمزور اور ان پڑھ عورت کے مسائل سے پرے وہ عورت جو ڈگری یافتہ ہی کیوں نہ ہو اور معاشرے میں ایک مقام بھی رکھتی ہو اپنے گھر والوں کے حوالے سے ناقدری کی سوچ کبھی نہ کبھی اس کو ڈنگ ضرور مارتی ہے۔کچھ کے لیے یہ زہر زندگی بخش ثابت ہوتا ہے اور وہ اسے کہیں  اندر جذب کر کے،سر جھٹک  کر آگے بڑھ جاتی ہیں۔
"پاکستانی عورت"
٭ فاطمہ جناح (31 جولائی1893ء... ، 9جولائی1967ء)۔
٭ بانو قدسیہ ( 28 نومبر1928ء۔۔4فروری2017)۔
٭ بلقیس ایدھی (14 اگست1947)۔
عبدالستار ایدھی(28فروری 1928۔۔8جولائی 2016)۔










ہمارے معاشرے میں عورت  کے افعال اور کردارکی نمائندگی کرتی خواتین کے حوالے سےبات کی جائےتو سب سے پہلےمحترمہ
فاطمہ جناح، پھر بانو قدسیہ اور اس کے بعد بلقیس ایدھی صاحبہ اپنی ذات کی نفی کر کے، اپنے آپ کی قربانی دے کر اپنی زندگی میں آنے والے مرد کی خاطر اپنا احساس قربان کر دینے کی روشن مثال ہیں۔
یہ  خواتین عام پاکستانی عورت کے لیے انسانی رشتوں،جذبات اور احساسات کی بُنت کے لحاظ سے یوں قابلِ تقلید ہیں کہ  ان کی زندگی کا ایک ایک گوشہ سب کے سامنے کھلی کتاب کی طرح ہے کہیں بھی کوئی چوردروازہ یا خفیہ خانہ ڈھونڈے سے نہیں ملتا اور اس لیے بھی کہ انہوں نےزندگی کا سفر" صفر" سے شروع کیا۔یہ ان کا ظاہر ہے جسے ان کا بڑے سے بڑا مخالف بھی جھٹلا نہیں سکتا لیکن ان کے اندر کی کہانی ان کا بڑے سے بڑا راز دان بھی نہیں جان سکا یا جان سکتا ہے سوائے اس کے جو انہوں نے ضبط کی آخری منزلوں سے گزرتے ہوئے اپنی خودکلامی میں کہہ دیا اوریہی خواتین اپنے افعال وکردار سے ہمارےمعاشرے میں مرد کی حاکمیت اور اُس کی سوچ کی ترجمانی بھی کرتی ہیں۔
فاطمہ جناح کا ان کے بھائی کے بعد ہم نے جو حال کیا وہ تاریخ میں رقم ہے۔"مادر ملت" کا لقب دے کر گویا ہم نے اگلے پچھلے سارے قرض چکا دئیے۔اب کون 'مادر' اور'ملت' کی گہرائی میں جا کر گڑھے مردے اُکھاڑے کہ"اور بھی غم میں زمانے میں ۔۔۔"محترمہ فاطمہ جناح نے اپنی زندگی کے انیس سال(1929۔۔۔1948 )بھائی کے ساتھ گزارے اور اتنے ہی سال(1948۔۔1967)اُن کی وفات کے بعد زندہ رہیں۔اپنےعظیم بھائی کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیےمحترمہ فاطمہ جناح نے جناب قائدِاعظم کی زندگی کے احوال پر"میرا بھائی" کے عنوان سے ایک کتاب لکھی۔
اس سے کچھ عرصہ پہلے1954 میں نیوزی لینڈ کے ناول نگار ہیکٹر بولیتھو کی کتاب"جناح کریٹر آف پاکستان" کے نام سے منظرِعام پر آئی۔عام خیال یہ ہے کہ اس کتاب میں موجود ناکافی معلومات اور کئی ایک جگہوں پر واقعات اور حالات کے بارے میں پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کے ازالے کے لیے محترمہ فاطمہ جناح نے بھائی کے ساتھ اپنی قربت کا حق ادا کرنے کے لیے قلم اُٹھایا۔
ادب اور فنونِ لطیفہ سے تعلق رکھنے والی  خواتین   کی نجی زندگی کے بارے میں کتاب آشنا  بہت کچھ جانتے ہیںبانوقدسیہ،پروین شاکر،کشور ناہید(بری عورت کی کتھا)شبنم شکیل (شاعرہ)،ادا جعفری،نیلم احمد بشیر(لکھاری اور  بشرٰی انصاری کی بڑی بہن)،خود بشرٰی انصاری اور ایک طویل فہرست ہے جن سے مطالعہ کرنے والے بخوبی واقف ہوں گے۔ان سب میں عورت کے جذبات اور کردار کی حقیقی ترجمانی اور اپنی ذات کی نفی کر کے بھی اپنی ذاتی حیثیت منوانے کی بنا پر بانوقدسیہ زندگی کے ہر میدان میں  مثال کے حوالے سے  سرفہرست ہیں۔
بانوقدسیہ نے چپ کا لبادہ اوڑھ کراپنا خون جگر لفظ کی صورت معاشرے کے حوالے کیا اور تعظیم و تکریم کی دیوی کا روپ اپنا لیا۔ اُن کے جیون ساتھی محترم لکھاری اشفاق احمد کا بڑا پن تھا کہ انہوں نے وقتاً فوقتاً اپنی تحاریر میں بانوقدسیہ کی ذات کی رنگا رنگی اوراُن کی تحاریر کا برملا اعتراف کیا۔بانو قدسیہ نےجناب اشفاق احمد کے وصال 7ستمبر 2004 کے بعد اپنی آنے والی کتاب"راہ رواں"میں سلیقےاور قرینے سے کہہ کر دل کا بوجھ کسی حد تک محسوس کرنے والے اذہان کے حوالے کیا اور اپنی زندگی کے ہر راز،ہر سمجھوتے اور ہر احساس سے پردہ  بھی اُٹھا دیا۔بظاہر وہ  چاند سورج کی جوڑی  تھی،ایک آئیڈیل ملاپ۔۔۔زمانے سے ٹکرا جانے والی محبت کی داستان۔۔۔ایک ساتھی کے ہمیشہ کے لیے جدا ہونے تک "کامیاب"شادی شدہ زندگی لیکن اصل راز سے پردہ محترمہ بانو قدسیہ نے اپنی کتاب راہ رواں میں خود ہی اُٹھا دیا۔ وہ رام کہانی جس کے بارے میں ڈھکے چھپے انداز سے ممتازمفتی بھی کہتے رہے، یہ اور بات کہ اس سلیقے اور سادگی سے بانو قدسیہ نے اپنی پسپائی کو بیان کیا کہ پڑھنے والا کہیں بھی اسے خود ترسی نہیں سمجھتا۔۔۔ بانو قدسیہ نے اپنے مقام کو پہچان کر اس کے اندر رہتے ہوئے اپنا نام نہ صرف ادب کی دنیا میں منوایا بلکہ ایک بہترین ساتھی  اور مشفق ماں کی روشن  مثال ہیں۔ 
بلقیس ایدھی"مادرِ پاکستان" کا اعزاز حاصل کر کےلاکھوں خواتین کے سرکی ردا بن کربھی اپنے گھر کے مرد کے لیے وہی جھاڑیں کھانے والی عام سی اُجڈ عورت ہے۔سلام ہے اس پر کہ اپنی سادگی میں کہہ تو بہت کچھ دیتی ہے لیکن ہے وہی مشرقی وفا شعار بیوی۔اپنے سرکے تاج کی سلامتی کے لیے آنسو بہانے والی اور اس کی رضا میں راضی رہنے والی۔ اور!'سرتاج' وہی اوروں کے لیے مسیحا ،اوربیوی کے لیے سخت گیر آقا۔ 
واہ رے قدرت!  مرد کے کتنے روپ ہیں اور عورت کے اس سے بھی بڑھ کر لیکن گھر کے اندرعورت کا ایک ہی روپ ہے۔اور کامیاب عورت وہی ہے جو اس روپ کو دل وجان سے اپنا لے۔۔۔ چاہے اس کی چبھن رات کی تنہائی میں گہری نیند سے جگا کر کروٹیں بدلنے پرمجبورکر دے یا پھر دنیا فتح کر کے بھی ایک مرد کے سامنے سجدہ ریز ہونےاور ناقدری کے دکھ کو سات پردوں میں چھپانے کا حوصلہ عطا کرے۔

عورت کی دوسری انتہا،ایک اور رُخ یہ ہے کہ  بظاہر ترقی وکامرانی کی بلندیاں ہی کیوں نہ چھوتی نظر آئیں،کچھ آگہی کے اس  زہر کے اثر سے  زہر آلود ہو جاتی ہیں پھر نہ صرف خود کو تباہ کر بیٹھتی ہیں بلکہ ایک خاندان اس کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔اس بارے میں ہم تقریباً ہر روز کہیں نہ کہیں دیکھتے اورپڑھتے رہے ہیں۔اندر کی بات نہ جانتے ہوئے بھی گھر بچانے میں عورت کا کردار مرد سے زیادہ اہم ہےاور زیادہ ذمہ داری عورت پر ہی عائد ہوتی ہے۔۔ ہر دو رویے دیکھنے والی آنکھ بخوبی سمجھ سکتی ہے۔
میرا بھائی۔۔۔۔ ڈاؤن لوڈ کا لنک۔۔
https://drive.google.com/file/d/0B-sMEpE4Er5IZWJuQ3p3eDVMN2c/view




سوموار, جون 15, 2015

" کیوں نام ہم اُس کا بتلائیں ۔۔۔ابنِ انشاء"

ابنِ انشاء۔۔
اصل نام ۔۔ شیر محمد خان
 تاریخ پیدائش 15 جون 1927 بمقام  تھلہ گاؤں نزد پھلور ضلع جالندھر
تاریخ وفات 11 جنوری 1978  بمقام لندن
   ابن انشاء کے لفظ ۔۔۔میری محبت 
    پہلی محبت۔۔۔ پہلا پیار ہمیشہ ہمارا ہوتا ہے۔ ہمیشہ ساتھ رہتا ہے بس ہم اسے اپناتے ہوئے ہچکچاتے ہیں۔پہلی  محبت کبھی ساتھ نہیں چھوڑتی ہم خود ہی اُس کے راستے سے ہٹ جاتے ہیں۔۔۔کبھی جان بوجھ کر اپنی نادانی جان کر۔۔۔کبھی انجانے میں دوسری محبتوں میں فراموش کر کے ہم اُس پہلے ساتھ کو  بُھلا بیٹھتے ہیں۔ پر وہ روح کی طرح ہمارے وجود میں جانے کب حلول کر جاتا ہے ہم نہیں جان سکتے ۔وہ ایک سائے کی طرح ہمارے ساتھ چلتا ہے اور روشنی کی شام اُترتے ہی خاموشی سے اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔
عمر کے بڑھتے ماہ وسال ہمیں کتنا ہی بڑا اور معتبرکیوں نہ کر دیں پہلی محبت ایک چھوٹے بچے کی طرح کلکاریاں مارتی  ہمارے اندر سانس لیتی ہے۔ وقت کی گھٹن  میں  گردآلود ہوتے ہوئے جب ذرا دیر کو کھلی ہوا میں سانس لینے کو جی چاہے تو یہ محبت نہ جانے کس طرح  کہاں سے ایک بچھڑی محبوبہ کی طرح یوں دیوانہ وار اپنی آغوش میں لیتی ہےکہ پھر کچھ دکھائی نہیں دیتا۔۔۔ ہجر کی تپش نہ وصال کا انتظار۔ یاد رہتا ہے تو صرف یہ کہ محبوب وہی ہے جو صدیوں بعد بھی ملے تو اتنا تروتازہ۔۔۔ اتنا  ان چھوا اور اتنا اپنا لگے  کہ گلہ شکوہ  سب بےمعنی ہو جائے۔۔راز کی بات ہے کہ پہلی محبت ہمارا پرتو  ہوتی ہے اور ہم  اسےاپنے آپ سے ہی چھپاتے ہیں۔
اپنے آپ کی پہچان ہو جائے تو ملنے والی محبتوں کی سمجھ بھی آجاتی ہے۔ پہلی محبت ہماری روح کی خوبصورتی ہے۔۔۔ہمارے اندر کا اندر۔جس کا ہماری خارجی زندگی سے بظاہرکوئی ربط نہیں دکھتا۔محبت انسان کی وہ کہانی ہے جواگر زندگی کی روشن اور بھرپور صبحوں کو نکھارتی ہے تو تنہائی اور کرب کی اداس شاموں میں ہر عارضی ساتھ سے بےنیاز بھی کر دیتی ہے۔
محبت  توحید ہے اور کچھ بھی نہیں۔ محبت خواہ خالق سے ہو یا اس کی خلق سے۔انسان سے ہو یا اس کے لفظ سے،"محبت  ایک ہے" اس کے بعد انسان جتنی بھی محبتیں کرتا ہے وہ پہلی محبت کا عکس ہوتی ہیں۔ ایک کھوج کی سی کیفیت محسوس ہوتی ہے جس میں انسان  اس اولین لمس کی چاہ  کرتا ہے۔بظاہر یہ بےوفائی یا سطحی پن کی بےقراری دکھتی ہے لیکن محبتوں کا سفر ہی انسان کو پہلی محبت پر یقین عطا کرتا ہے۔۔۔ وہ پہلی محبت جو روح  میں اتر جاتی ہے تو اپنی روح کی سچائی بیان کرتی ہے،یہ محبت محبوب کی خوبی ہی نہیں بلکہ چاہنے والے کی اپنی ذات کا آئینہ بھی ہوتی ہے۔ آنکھ کا وہ منظر جو قربت کی انتہا میں ہماری آنکھ کے پردے پر ثبت ہو جاتا ہےاور یہ منظر عمر کے ہر موسم میں نہ صرف ساتھ رہتا ہے بلکہ اس کا ساتھ ہر موسم کی سختی سہنے کا ہنر عطا کرتا ہے۔
محبت ایک لامحدود جذبے کا نام ہے۔ محبت کو اگر صرف اپنے جیسے انسان سے مشروط کر دیا جائے تو  محبت کے ساتھ اس سے بڑی ناانصافی اور کوئی نہیں ۔ انسان سے محبت صرف محبت کا جذبہ بانٹنے کی  خواہش  ہے اور کچھ بھی نہیں ۔انسان سے محبت  کی ایک وجہ اُس کا جواب دینا ہے کہ  رنگوں خوشبوؤں   اور لفظوں سے محبت کے بعد ہمیں ان کی طرف سے وہ جواب نہیں ملتا جس کی چاہ ہماری جبلت  کا حصہ ہے۔ہمارے قریب آنے والے ۔۔ہماری سوچ کے در پر دستک دینے والے زیادہ تر لوگ نہ ہماری محبت ہوتے ہیں اور نہ ہم اُن کی۔بلکہ اکثراوقات عمر اور رُتبے کے اعتبار سے بھی ہم سے میل نہیں کھاتے۔لیکن محبت کا حوالہ جب آتا ہے تو سب دوریاں نزدیکیوں میں بدل جاتی  ہیں۔۔۔محبت کے اسرارورموز کھلتے ہیں۔۔۔ کبھی اُن سے مل کر اپنی محبتوں پر یقین مستحکم ہوتا ہے۔تو کبھی اُن کے فلٹر سے گذر کر اپنی سنہری محبت محض ریت ہی ریت دِکھتی ہے۔کبھی وہ ہمیں محبت کرنا سکھاتے ہیں تو کبھی محبت بانٹنا۔۔۔کبھی محبوب کی دلداری کے رمز سے آشنا کرتے ہیں تو کبھی محبوب کے منصب پر فائز کرتے ہیں۔ زندگی جینے کی خواہش رکھتے ہو تو اپنے  ہر رنگ کو اپنانے کا حوصلہ بھی رکھو۔
۔۔۔۔۔۔۔
  شعری مجموعے. ابنِ انشاء۔۔
  ٭چاند نگر ۔۔۔ 1955 
 پیش لفظ ۔۔۔یہ اس زندگی کے خاکے ہیں جو میں نے اٹھائیس برس میں بسر کی ہے گرجا کا گھڑیال جو دو بجاتا ہے گاڑی کی سیٹی جو گونج اٹھتی ہے ریل کی پلیا بھی کہ مضافات میں نظر آتی ہے اور چاند۔۔۔آبادیوں اور ویرانوں کا چاند ۔۔۔یہ سب ماضی کی کھونٹیاں ہیں جن پر میں نے یادوں کے پیراہن لٹکا رکھے ہیں اب آپ میرا ساتھ چھو ڑ کر اس چاند نگر کی سیر کیجئے اور میں نے اسے تلانجلی دے کر کسی نئے سفر پر نکلوں گا۔ ایڈگرایلن پوکی ایک نظم ہے ال ڈے راڈو۔۔۔یعنی شہرِتمنا۔۔۔اگر تمہیں اس شہرجادو کی تلاش ہے تو چاند کی پہاڑیوں کے ادھر سایوں کی وادیء طویل میں قدم بڑھائے گھوڑا دوڑاتے آگے سے آگے بڑھتے جاؤ۔ شاعر کو بھی ذہنی طور پر سندباد جہازی یا یولیسس  ہونا چاہیے یعنی اُس کے سامنے ایک نہ ایک ال ڈے راڈو ۔ایک  نہ ایک چاند نگر کا ہونا ضروری ہے۔ سنا ہے اگر جادو کے موہوم شہروں کی طلب میں جولاں رہنے والے دیوانے نہ ہوتے تو یہ زندگی بڑی ہی سپاٹ اور بےرنگ ہوتی۔ لیکن نہ مجھے اپنا حُسن کا ال ڈےراڈو ملا ہے نہ زندگی کا شہرِ تمنا۔۔۔ میری منزل چاند کی پہاڑیوں کے ادھر سایوں کی وادی طویل میں ہے اس سے واپسی ہوئی تو جو کچھ دامن میں ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔ کلیاں ،کانٹے، یا غبار، وہ پیش کروں گا۔۔
 ٭اس بستی کے اِک کوچے میں۔۔۔1976
 پیش لفظ ۔۔۔ایک طرف اسباب دنیا کی فراوانی ہے غلے کے گودام بھرے ہیں دودھ کی نہریں بہہ رہی ہیں دوسری طرف حبشہ اور چڈاریٹڑ کی جھلسی ہوئی ویرانی میں انسان اناج کے ایک دانے کے لئے جانوروں کا سوکھا گوبر کرید رہا ہے اور ہزاروں لاکھوں لوگ تپتے تانبے کے آسمان تلے ایڑیاں رگڑتے دم توڑ رہے ہیں‘۔ شاعر اور ادیب کا ضمیر عالم کی آواز کہلاتا ہے، اپنی ذات کے خول میں دم سادھے بیٹھا ہے احتجاج کی منحنی صدا بھی نہیں۔ ایسے میں ذاتی جوگ بجوگ کی دھوپ چھاؤں کا یہ مرقع پیش کرتے ہوئے ہم کیسے خوش ہو سکتے ہیں یہ ہمارے پچھلے بیس سال کا نامۂ اعمال ہے اب پڑھنے والا بھی حکم صادر کرے۔۔
٭دلِ وحشی۔۔۔ کتاب بعد از وفات شائع ہوئی۔
 اس کے بارے میں جناب سردار محمود اور  محمود ریاض نے  یوں اظہارِخیال کیا ۔۔" ان کے کاغذات میں سے ایک بیاض بھی ملی تھی جس کا عنوان دل وحشی تھا۔ شاید انہوں نے اپنے تیسرے مجموعہ کلام کا عنوان سوچا تھا سو اب یہ مجموعہ اسی نام سے شائع کیا جا رہا ہے اس مجموعہ کلام میں جو غزلیں ،نظمیں،شائع کی جا رہی ہیں وہ انشا جی کی بیاض میں لکھی ہوئی ہیں ہو سکتا ہے ان کا ارادہ نظر ثانی کرنے کا ہو لیکن زندگی نے مہلت نہ دی ہمیں یہ جس حالت میں ملی ہیں اسی صورت میں شائع کر دی ہیں۔ بہت سی نظمیں۔ غزلیں،نامکمل ہیں ممکن ہے خام صورت میں ہوں۔ کچھ کے صرف ایک دو شعر ہی کہے گئے ہیں۔۔۔۔۔ یہ اشعار جو ہمیں ملے ہیں انشا جی نے مختلف ادوار میں کہے ہیں۔ اس لیے ہو سکتا ہے کہ قاری کو اس میں پہلے دور کی تازگی محسوس ہو۔ رہی رومانویت اور پرانے موسموں کی خوشبو جو چاند نگر کا خاصا ہیں اور کہیں اس پختگی کا احساس ہو جو اس بستی کے ایک کوچے میں پائی جاتی ہے لیکن مجموعی طور پر آپ کو اس میں انشا جی کا تیسرا رنگ نظر آئے گا اس میں انہوں نے اپنے جوگ بجوگ کی دھوپ چھاؤں کا مرقع ہی نہیں انسانی زندگی کی دھوپ چھاؤں کا مرقع بھی پیش کیا ہے۔
اس مجموعے میں اگر آپ کو کوئی خامی یا کمزوری نظر آئے تو اسے صرف ہم سے منسوب کیجئے گا انشا جی سے نہیں کہ اگر زندگی وفا کرتی تو نہ جانے کس صورت میں آپ کے ہاتھوں میں پہنچتا
۔  سردار محمود ۔۔۔۔محمود ریاض
۔۔۔۔۔۔
۔"دلِ وحشی" سے انتخاب۔۔۔۔میری ڈائری سے میرے بلاگ تک۔۔
 "کیوں نام ہم اُس کا بتلائیں" 
تم اس لڑکی کو دیکھتے ہو
تم اس لڑکی کو جانتے ہو
وہ اجلی گوری ؟ نہیں نہیں
وہ مست چکوری نہیں نہیں
وہ جس کا کرتا نیلا ہے ٘؟
وہ جس کا آنچل پیلا ہے ؟
وہ جس کی آنکھ پہ چشمہ ہے
وہ جس کے ماتھے ٹیکا ہے

ان سب سے الگ ان سب سے پرے
وہ گھاس پہ نیچے بیلوں کے
کیا گول مٹول سا چہرہ ہے
جو ہر دم ہنستا رہتا ہے
کچھ چتون ہیں البیلے سے
کچھ اس کے نین نشیلے سے
اس وقت مگر سوچوں میں مگن
وہ سانولی صورت کی ناگن
کیا بے خبرانہ بیٹھی ہے
یہ گیت اسی کا درپن ہے
یہ گیت ہمارا جیون ہے
ہم اس ناگن کے گھائل تھے
جب شعر ہماری سنتی تھی
خاموش دوپٹا چنتی تھی
جب وحشت اسے ستاتی تھی
کیا ہرنی سی بن جاتی تھی
یہ جتنے بستی والے تھے
اس چنچل کے متوالے تھے
اس گھر میں کتنے سالوں کی
تھی بیٹھک چاہنے والوں کی
گو پیار کی گنگا بہتی تھی
وہ نار ہی ہم سے کہتی تھی
یہ لوگ تو محض سہارے ہیں
انشا جی ہم تو تمہارے ہیں
اب اور کسی کی چاہت کا
کرتی ہے بہانا ۔۔۔ بیٹھی ہے
ہم نے بھی کہا دل نے بھی کہا
دیکھو یہ زمانہ ٹھیک نہیں
یوں پیار بڑھانا ٹھیک نہیں
نا دل مانا، نا ہم مانے
انجام تو سب دنیا والے جانے
جو ہم سے ہماری وحشت کا
سنتی ہے فسانہ بیٹھی ہے
ہم جس کے لئے پردیس پھریں
جوگی کا بدل کر بھیس پھریں
چاہت کے نرالے گیت لکھیں
جی موہنے والے گیت لکھیں
اس شہر کے ایک گھروندے میں
اس بستی کے اک کونے میں.
کیا بے خبرا نہ بیٹھی ہے
اس درد کو اب چپ چاپ سہو
انشا جی کہو تو اس سے کہو
جو چتون کی شکنوں میں لیے
آنکھوں میں لیے،ہونٹوں میں لیے
خوشبو کا زمانہ بیٹھی ہے
لوگ آپ ہی آپ سمجھ جائیں
کیوں نام ہم اس کا بتلائیں
ہم جس کے لیے پردیس پھرے
چاہت کے نرالے گیت لکھے
جی موہنے والے گیت لکھے
جو سب کے لیے دامن میں بھرے
خوشیوں کا خزانہ بیٹھی ہے
جو خار بھی ہے اور خوشبو بھی
جو درد بھی ہے اور دارو بھی
لوگ آپ ہی آپ سمجھ جائیں
کیوں نام ہم اس کا بتلائیں
وہ کل بھی ملنے آئی تھی
وہ آج بھی ملنے آئی ہے
جو اپنی نہیں پرائی ہے
۔۔۔۔۔۔
برسوں پہلے لکھے۔۔۔ مٹتے حرف ۔۔۔۔ میری ڈائری سے ۔۔۔۔

٭ابنِ انشاءاور عشقِ انشاء ۔۔
اوکھے لوگ از ممتاز مفتی
جلتا بُجھتا ۔۔صفحہ  35 ۔۔36 
احمد بشیر کا کہنا ہے کہ انشا نے بڑی سوچ بچار سے عشق لگایا تھا۔ ایسی محبوبہ کا چناؤ کیا جو پہلے ہی کسی اور کی ہوچکی تھی۔شادی شدہ تھی، بچوں والی تھی۔ جس کے دل میں انشا کے لئے جذبہ ہمدردی پیدا ہونے کا کوئی امکان نہیں تھا۔جس سے ملنے کے تمام راستے مسدود ہو چکے تھے۔ اپنے عشق کو پورے طور پر محفوظ کر لینے کے بعد اس نے عشق کے ساز پر بیراگ کا نغمہ چھیڑ دیا۔مواقع تو ملے مگر انشا نے کبھی محبوبہ سے بات نہ کی۔ ہمت نہ پڑی۔ اکژ اپنے دوستوں سے کہا کرتا۔۔۔ " یار اْسے کہہ کہ مجھ سے بات کرے "اس کے انداز میں بڑی منت اور عاجزی ہوتی پھر عاشق کا جلال جاگتا۔۔۔۔ کہتا۔۔۔ " دیکھ اس سے اپنی بات نہ چھیڑنا۔۔ باتوں باتوں میں برُا نہ منا لے۔ ۔"محبوبہ تیز طرار تھی۔ دنیا دار تھی۔ پہلے تو تمسخر اڑاتی رہی۔ پھر انشا کی دیوانگی کو کام میں لانے کا منصوبہ باندھا۔ اس دلچسپ مشغلے میں میاں بھی شریک ہوگیا۔ انشا کو فرمائشیں موصول ہونے لگیں۔ اس پر انشا پھولے نہ سماتا۔دوستوں نے اسے بار بار سمجھایا کہ انشا وہ تجھے بنا رہی ہے۔انشا جواب میں کہتا کتنی خوشی کی بات ہے کہ بنا تو رہی ہے۔ یہ بھی تو ایک تعلق ہے۔ تم مجھے اس تعلق سے محروم کیوں کر رہے ہو۔ایک روز جب وہ فرمائش پوری کرنے کے لئے شاپنگ کرنے گیا تو اتفاق سے میں بھی ساتھ تھا۔میں نے انشا کی منتیں کیں کہ انشا جی اتنی قیمتی چیز مت خریدو۔ تمہاری ساری تنخواہ لگ جائے گی۔انشا بولا۔ " مفتی جی ، تمہیں پتہ نہیں کہ اس نے مجھے کیا کیا دیا ہے۔ اس نے مجھے شاعر بنا دیا۔ شہرت دی۔۔ زندگی دی۔انشا کی آنکھوں میں آنسو چھلک رہے تھے۔ - See more at: http://dunya.com.pk/index.php/special-feature/2013-10-12/6442#.VXbTCPls7Dc
احمد بشیر کا کہنا ہے کہ انشا نے بڑی سوچ بچار سے عشق لگایا تھا۔ ایسی محبوبہ کا چناؤ کیا جو پہلے ہی کسی اور کی ہوچکی تھی۔شادی شدہ تھی، بچوں والی تھی۔ جس کے دل میں انشا کے لئے جذبہ ہمدردی پیدا ہونے کا کوئی امکان نہیں تھا۔جس سے ملنے کے تمام راستے مسدود ہو چکے تھے۔ اپنے عشق کو پورے طور پر محفوظ کر لینے کے بعد اس نے عشق کے ساز پر بیراگ کا نغمہ چھیڑ دیا۔مواقع تو ملے مگر انشا نے کبھی محبوبہ سے بات نہ کی۔ ہمت نہ پڑی۔ اکژ اپنے دوستوں سے کہا کرتا۔۔۔ " یار اْسے کہہ کہ مجھ سے بات کرے "اس کے انداز میں بڑی منت اور عاجزی ہوتی پھر عاشق کا جلال جاگتا۔۔۔۔ کہتا۔۔۔ " دیکھ اس سے اپنی بات نہ چھیڑنا۔۔ باتوں باتوں میں برُا نہ منا لے۔ ۔"محبوبہ تیز طرار تھی۔ دنیا دار تھی۔ پہلے تو تمسخر اڑاتی رہی۔ پھر انشا کی دیوانگی کو کام میں لانے کا منصوبہ باندھا۔ اس دلچسپ مشغلے میں میاں بھی شریک ہوگیا۔ انشا کو فرمائشیں موصول ہونے لگیں۔ اس پر انشا پھولے نہ سماتا۔دوستوں نے اسے بار بار سمجھایا کہ انشا وہ تجھے بنا رہی ہے۔انشا جواب میں کہتا کتنی خوشی کی بات ہے کہ بنا تو رہی ہے۔ یہ بھی تو ایک تعلق ہے۔ تم مجھے اس تعلق سے محروم کیوں کر رہے ہو۔ایک روز جب وہ فرمائش پوری کرنے کے لئے شاپنگ کرنے گیا تو اتفاق سے میں بھی ساتھ تھا۔میں نے انشا کی منتیں کیں کہ انشا جی اتنی قیمتی چیز مت خریدو۔ تمہاری ساری تنخواہ لگ جائے گی۔انشا بولا۔ " مفتی جی ، تمہیں پتہ نہیں کہ اس نے مجھے کیا کیا دیا ہے۔ اس نے مجھے شاعر بنا دیا۔ شہرت دی۔۔ زندگی دی۔انشا کی آنکھوں میں آنسو چھلک رہے تھے۔ - See more at: http://dunya.com.pk/index.php/special-feature/2013-10-12/6442#.VXbTCPls7Dc
احمد بشیر کا کہنا ہے کہ انشا نے بڑی سوچ بچار سے عشق لگایا تھا۔ ایسی محبوبہ کا چناؤ کیا جو پہلے ہی کسی اور کی ہوچکی تھی۔شادی شدہ تھی، بچوں والی تھی۔ جس کے دل میں انشا کے لئے جذبہ ہمدردی پیدا ہونے کا کوئی امکان نہیں تھا۔جس سے ملنے کے تمام راستے مسدود ہو چکے تھے۔ اپنے عشق کو پورے طور پر محفوظ کر لینے کے بعد اس نے عشق کے ساز پر بیراگ کا نغمہ چھیڑ دیا۔مواقع تو ملے مگر انشا نے کبھی محبوبہ سے بات نہ کی۔ ہمت نہ پڑی۔ اکژ اپنے دوستوں سے کہا کرتا۔۔۔ " یار اْسے کہہ کہ مجھ سے بات کرے "اس کے انداز میں بڑی منت اور عاجزی ہوتی پھر عاشق کا جلال جاگتا۔۔۔۔ کہتا۔۔۔ " دیکھ اس سے اپنی بات نہ چھیڑنا۔۔ باتوں باتوں میں برُا نہ منا لے۔ ۔"محبوبہ تیز طرار تھی۔ دنیا دار تھی۔ پہلے تو تمسخر اڑاتی رہی۔ پھر انشا کی دیوانگی کو کام میں لانے کا منصوبہ باندھا۔ اس دلچسپ مشغلے میں میاں بھی شریک ہوگیا۔ انشا کو فرمائشیں موصول ہونے لگیں۔ اس پر انشا پھولے نہ سماتا۔دوستوں نے اسے بار بار سمجھایا کہ انشا وہ تجھے بنا رہی ہے۔انشا جواب میں کہتا کتنی خوشی کی بات ہے کہ بنا تو رہی ہے۔ یہ بھی تو ایک تعلق ہے۔ تم مجھے اس تعلق سے محروم کیوں کر رہے ہو۔ایک روز جب وہ فرمائش پوری کرنے کے لئے شاپنگ کرنے گیا تو اتفاق سے میں بھی ساتھ تھا۔میں نے انشا کی منتیں کیں کہ انشا جی اتنی قیمتی چیز مت خریدو۔ تمہاری ساری تنخواہ لگ جائے گی۔انشا بولا۔ " مفتی جی ، تمہیں پتہ نہیں کہ اس نے مجھے کیا کیا دیا ہے۔ اس نے مجھے شاعر بنا دیا۔ شہرت دی۔۔ زندگی دی۔انشا کی آنکھوں میں آنسو چھلک رہے تھے۔ - See more at: http://dunya.com.pk/index.php/special-feature/2013-10-12/6442#.VXbTCPls7Dc
 انشاء کی شخصیت کی طرح اُس کا عشق بھی منفرد تھا.........احمد بشیر کا کہنا ہے کہ انشاء نے بڑی سوچ بچار سے عشق لگایا تھا۔ ایسی محبوبہ کا چناؤ کیا جو پہلے سے ہی کسی اور کی ہوچکی تھی۔شادی شدہ تھی، بچوں والی تھی۔ جس کے دل میں انشا کے لئے جذبہ ہمدردی پیدا ہونے کا کوئی امکان نہ تھا۔جس سے ملنے کے تمام راستے مسدود تھے۔ اپنے عشق کو پورے طور پر محفوظ کر لینے کے بعد اس نے عشق کے ساز پر بیراگ کا نغمہ چھیڑ دیا۔موقعے تو ملے مگر انشا نے کبھی محبوبہ سے بات نہ کی۔ ہمت نہ پڑی۔ اکژ اپنے دوستوں سے کہا کرتا۔۔۔ " یار اْسے کہو کہ مجھ سے بات کرے "اس کے انداز میں بڑی منت اورعاجزی ہوتی پھر عاشق کا جلال جاگتا۔۔۔۔ کہتا۔۔۔ " دیکھ اس سے اپنی بات نہ چھیڑنا۔۔ باتوں باتوں میں برُا نہ منا لے۔۔"محبوبہ تیز طرار تھی۔ دنیا دار تھی۔ پہلے تو تمسخر اڑاتی رہی۔ پھر انشا کی دیوانگی کو کام میں لانے کا منصوبہ باندھا۔ اس دلچسپ مشغلے میں میاں بھی شریک ہوگیا۔ انشا کو فرمائشیں موصول ہونے لگیں۔ اس پر انشا پھولےنہ سماتا۔
دوستوں نے اسے بارہا سمجھایا کہ انشا وہ تجھے بنا رہی ہے۔انشا جواب میں کہتا کتنی خوشی کی بات ہے کہ بنا تو رہی ہے۔ یہ بھی تو ایک تعلق ہے۔ تم مجھے اس تعلق سے محروم کیوں کر رہے ہو۔ایک روز جب وہ فرمائش پوری کرنے کے لئے شاپنگ کرنے گیا تو اتفاق سے میں بھی ساتھ تھا۔میں نےانشا کی منتیں کیں کہ انشا جی اتنی قیمتی چیزنہ خریدو۔ تمہاری ساری تنخواہ لگ جائے گی۔انشا بولا۔ "مفتی جی،تمہیں پتہ نہیں کہ اس نے مجھے کیا کیا دیا ہے۔ اس نے مجھے شاعر بنا دیا۔ شہرت دی۔۔ زندگی دی۔انشا کی آنکھوں میں آنسو چھلک رہے تھے۔
۔۔۔۔
٭ابنِ انشاءاورقدرت اللہ شہاب۔۔۔۔
( شہاب نامہ ﺍﺯ ﻗﺪﺭﺕ ﺍﻟﻠﮧ ﺷﮩﺎﺏ )
صفحہ 1 تا 5۔۔۔ 
"ﺍﺑﻦ ﺍﻧﺸﺎﺀ ﮐﯽ ﻭﻓﺎﺕ ﺳﮯ ﺩﻭ ﮈﮬﺎئی ﺳﺎﻝ ﻗﺒﻞ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﻣﻠﻨﮯ ﻟﻨﺪﻥ ﮔﯿﺎ ﺟﮩﺎﮞ ﻭﮦ ﻋﻼﺝ ﮐﯽ ﻏﺮﺽ ﺳﮯ ﻣﻘﯿﻢ ﺗﮭﺎ۔ﯾﮧ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺁﺧﺮﯼ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﺗﮭﯽ۔ﺍﯾﮏ ﺭﻭﺯ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺍﺑنِ ﺍﻧﺸﺎﺀ ﻧﮯ ﮐﺴﯽ ﻗﺪﺭ ﻣﺰﺍﺣﯿﮧ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﺟﺎئزہ ﻟﯿﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺳﻨﺠﯿﺪﮦ ﮨﻮ ﮐﺮ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﮐﺴﯽ ﺗﺮﺗﯿﺐ ﺳﮯ ﺍﺳﮯ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺩﻧﯿﺎﻭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﻞ ﺟﺎئے ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﻭﮦ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﮔﺰﺍﺭﻧﺎ ﭼﺎﮨﮯ ﮔﺎ۔ﺍﺱ ﮐﯽ تشنئہ ﺗﮑﻤﯿﻞ ﺗﻤﻨﺎؤﮞ،ﺁﺭﺯﻭؤﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﻣﻨﮕﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻔﺼﯿﻞ ﺍﺗﻨﯽ ﻃﻮﯾﻞ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺍﺳﮯ ﺳﻨﺎﺗﮯ ﺳﻨﺎﺗﮯ ﺁﺩﮬﯽ ﺭﺍﺕ ﺑﯿﺖ گئی۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺱ ﻧﮯ مجھ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻧﺼﯿﺐ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﺑﺴﺮ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﻮ ﮔﮯ؟ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﺨﺘﺼﺮﺍ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﺑﮩﺖ ﺳﯽ ﮐﺞ ﻓﮩﻤﯿﻮﮞ، ﮐﻤﺰﻭﺭﯾﻮﮞ،ﺧﻄﺎ ﮐﺎﺭﯾﻮﮞ ﺍﻭﺭﻏﻔﻠﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﺻﻼﺡ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﮭﯽ ﻣﺠﻤﻮﻋﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﻭﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﮔﺰﺍﺭﻧﺎ ﭼﺎﮨﻮﮞ ﮔﺎ ﺟﯿﺴﮯ ﮐﮧ ﻣﻮﺟوﺩﮦ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮔﺰﺍﺭ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ۔"
۔۔۔۔۔۔
٭ابن انشاء-شاعر ترا، انشاء ترا۔۔۔۔از راشد اشرف
انشاء جی کی قبر پر کتبہ نہیں ہے۔
کچھ عرصہ قبل شام مغرب کے وقت مشفق خواجہ صاحب کی لائبریری کا قصد تھا اور وہاں حآضری سے قبل خیال آیا کہ انشاءجی کو سلام کرلیا جائے۔ دو برس پیشتر آج ٹی وی کے ایک رپورٹر جن کو ہم جناب ابن صفی کی قبر پر لے گئے تھے، قریب سے گزرتے وقت ہاتھ کے اشارے سے کہا تھا"یہ انشاء جی کی قبر ہے"۔
جس طرف وہ ہاتھ کا اشارہ کرتا تھا وہ قبرستان کا داخلی رستہ تھا، گاڑی چشم زدن میں اس کے سامنے سے گزر گئی تھی۔ اس روز نہ صرف انشاء جی کی بے نام ونشان قبر ملی بلکہ وہاں اطمینان سے فاتحہ پڑھنے کا موقع بھی نصیب ہوا۔
کراچی کے دوڑتے بھاگتے بے رحم ٹریفک سے بےنیاز، لب سڑک ہمارا پسندیدہ شاعر محوِاستراحت ہے، ایک پختہ احاطے میں خاندان کی پانچ قبریں--- کتبہ نہ ہونے کی وجہ سے عام لوگ بےخبر - ہاں مگر ایک پھول بیچنے والا باخبر نکلا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
٭خطوط  ابنِ انشاء۔۔۔
ابنِ انشا اور خلیل الرحمٰن اعظمی
 http://www.urdulibrary.org/books/36-ibn-e-insha-aur-khalil-ur-rehman-aazmi
 اہم حوالہ جات۔
شیر محمد، ابنِ انشاء
(سالگرہ کے حوالے سے خاص مضمون)
ڈاکٹر ریاض احمد ریاض
http://nlpd.gov.pk/uakhbareurdu/junejuly2013/jun,%20jul_3.html

 





جمعرات, جون 04, 2015

"خدائے سخن"

 سر سری تم جہان سے گزرے
ورنہ ہرجاں جہان دیگر تھا
۔۔۔
پتہ  پتہ    بوٹا  بوٹا     حال    ہمارا   جانے   ہے
جانےنہ جانےگل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے
میر تقی میر
 پیدائش۔۔1722ء ۔۔۔آگرہ
وفات۔۔۔۔21ستمبر 1810ء۔۔ لکھنؤ 
 "خدائے سخن"
میر تقی میر کی  شاعری کے فنی اور ادبی محاسن پر بہت کچھ کہا جا چکا ہے۔ تحقیق اور جستجو کا یہ سفر آج بھی جاری ہے۔ میر تقی میر اپنے کلام کے بارے میں کیا کہتے تھے اور  ان کے ہم عصر اور بعد میں آنے والے اہلِ سخن کے دل پر میرتقی میر کی شاعری نے کیا تاثر چھوڑا۔۔۔اُس کی ایک جھلک ۔۔۔
  میر تقی میر۔۔ اپنی نظر میں ۔۔
ریختہ خو ب ہی کہتا ہے جو انصاف کریں
چاہیے اہل ِ سخن میر کو استاد کریں
۔۔۔
ریختہ رتبے کو پہنچایا ہوا ا س کا ہے
معتقد کون نہیں میر کی استادی کا
۔۔۔۔
گر دیکھو تم طرز ِ کلام اس کی نظر کر
اے اہل ِ سخن میر کو استاد کرو گے
۔۔۔
پڑھتے پھریں گے گلیوں میں ان ریختوں کو لوگ
مدت رہیں گی یاد یہ باتیں ہمار یاں
۔۔۔۔
باتیں ہماری یاد رہیں پھر باتیں نہ ایسی سنیے گا
کہتے کسی کو سنیے گا تو دیر تلک سر دُھنیے گا
۔۔۔
پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ
افسوس تم کو میر سے صحبت نہیں رہی۔
۔۔۔۔۔۔۔
سہل ہے میر کا سمجھنا کیا
ہر سخن اس کا اک مقام سے ہے
۔۔۔۔۔
مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں
۔۔۔۔۔
جانے کا نہیں شور سخن کا میرے ہر گز
تا حشر جہاں میں میرا دیوان رہے گا
۔۔۔۔
مجھ کو شاعر نہ کہو میر کہ صاحب ہم نے
درد و غم کتنے کیے جمع تو دیوان کیا
۔۔۔۔۔
ہر ورق ہر صفحہ میں ایک شعر شورانگیز ہے
عر صہٴ محشر ہے عرصہ میرے بھی دیوان کا
۔۔۔۔
جہاں سے دیکھیئے ایک شعر شور انگیز نکلے ہے
قیامت کا سا ہنگامہ ہے ہر جا میرے دیواں میں
۔۔۔۔
جی میں آتا ہے کچھ اور بھی موزوں کیجئے
درد دل ایک غزل میں تو سنایا نہ گیا
۔۔۔۔۔۔
گفتگو ناقصوں سے ہے ورنہ
میر جی بھی کمال رکھتے ہیں 
۔۔۔
سارے عالم پر ہوں میں چھایا ہوا
مستند ہے میرا فرمایا ہوا  
دوسرے شعراء اور اہلِ سخن کی نظر میں
( مرزا رفیع سودا۔۔1713۔۔1781 )
سودا تو اس زمین میں غزل در غزل لکھ
ہونا ہے تم کو میر سے استاد کی طرح
۔۔۔۔
(شیخ غلام ہمدانی مصحفی( 1750۔۔1824
اے مصحفیؔ تو اور کہاں شعر کا دعوےٰ
پھبتا ہے یہ اندازِ سخن میرؔ کے منہ پر
۔۔۔۔ 
 (امام بخش ناسخ۔۔1776۔۔1838)
ناسخ نے میر تقی میر کی تاریخ وفات یوں کہی
" واویلا مردشۂِ شاعراں "۔۔
۔۔۔۔
شبہ ناسخؔ نہیں کچھ میرؔ کی استادی میں
آپ بے بہرہ ہے جو معتقدِ میرؔ نہیں
۔۔۔۔
(۔(محمد ابراہیم ذوق ۔1789۔۔1854
 نہ ہوا پر نہ ہوا  میر کا انداز نصیب
ذوق یاروں نے بہت زور غزل  میں مارا
۔۔۔  
مرزا اسداللہ خان غالب (1797۔۔1869) ۔
ریختے کے تم ہی استاد نہیں ہو غالب
کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا
۔۔۔۔
میرؔ کے شعر کا احوال کہوں کیا غالبؔ
جس کا دیوان کم از گلشن کشمیر نہیں
۔۔۔۔
غالب اپنا یہ عقیدہ ہے بقول ناسخ
آب بے بہرہ ہے جو معتقد میر نہیں 
۔۔۔۔۔
نواب مصطفٰی خان شیفتہ 1806۔۔1896
نرالی سب سے ہے اپنی روش اے شیفتہؔ لیکن
کبھی دل میں ہو ائے شیوہ ہائے میرؔ پھرتی ہے
۔۔۔۔
امیر مینائی 1828۔۔1900
سوداؔ و میرؔ دونوں ہی استاد ہیں امیرؔ
لیکن ہے فرق آہ میں اور واہ واہ میں
۔۔۔۔۔۔
مرزا داغؔ دہلوی 1831۔۔1905
میرؔ کا رنگ برتنا نہیں آساں اے داغؔ
اپنے دیواں سے ملا دیکھیے دیواں ان کا
۔۔۔۔۔۔۔
میر مہدی مجروح 1833۔۔1903
یوں تو ہیں مجروحؔ شاعر سب فصیح
میرؔ کی پر خوش بیانی اور ہے
۔۔۔۔
جلال لکھنوی 1834۔۔۔1909
کہنے کو جلال آپ بھی کہتے ہیں وہی طرز
لیکن سخنِ میر تقی میرؔ کی کیا بات ہے
۔۔۔۔۔۔
مولانا الطاف حسین حالیؔ:1837۔۔1904
حالیؔ سخن میں شیفتہؔ سے مستفید ہے
غالبؔ کا معتقد ہے، مقلد ہے میرؔ کا
۔۔۔۔
اسمٰعیل میرٹھی 1844۔۔۔1917
یہ سچ ہے کہ سوداؔ بھی تھا استاد زمانہ
مِیری تو مگر میرؔ ہی تھا شعر کے فن میں
۔۔۔۔
اکبرؔ الہ آبادی1846۔۔۔1921
میں ہوں کیا چیز جو اس طرز پہ جاؤں اکبرؔ
ناسخؔ و ذوقؔ بھی جب چل نہ سکے میرؔ کے ساتھ
 ۔۔۔۔
 (حسرت موہانی 1875 ۔۔۔1951)
گذرے ہیں بہت استاد، مگر رنگ اثر میں
بے مثل ہے حسرتؔ سخن میرؔ ابھی تک
۔۔۔۔۔
شعر میرے بھی ہیں پردرد،ولیکن حسرت
میر کا سا شیوہ گفتار کہاں سے لاؤں
۔۔۔
 ابنِ انشاء۔۔ شیر محمد خان  (1927۔۔1978)۔
اب قربت و صحبت یار کہاں
لب و عارض وزلف وکنار کہاں
اب اپنا بھی میر سا عالم ہے
ٹُک دیکھ لیا جی شاد کیا
اک بات کہیں گے انشاء جی
تمہیں ریختہ کہتے عمر ہوئی
تم ایک جہان کا علم پڑھے
کوئی میرسا شعر کہا تم نے
دل پہ جو بیتے سہہ لیتے ہیں اپنی زباں میں‌ کہہ لیتے ہیں
انشاء جی ہم لوگ کہاں اور میر کا رنگ کلام کہاں
اللہ کرے میر کا جنت میں مکاں ہو
مرحوم نے ہر بات ہماری ہی بیاں کی
۔۔۔۔۔۔
احمد فرازؔ 1931۔۔2008
فرازؔ شہرِ غزل میں قدم سلوک سے رکھنا
کہ اِس میں میرؔ سا، غالبؔ سا خوش نوا بھی ہے
۔۔۔۔۔۔
 بابائے اردو "مولوی عبدالحق  (1870۔۔۔16 اگست 1961 )" کہتے ہیں ۔۔
” اُن کا ہر شعر ایک آنسو ہے اور ہر مصرع خون کی ایک بوند ہے"۔
” انہوں نے سوز کے ساتھ جو نغمہ چھیڑا ہے اس کی مثال دنیائے اردو میں نہیں
ملتی۔


میر تقی میر اور ناصر کاظمی ( 8 دسمبر 1925۔۔۔ 2 مارچ 1972 )۔
۔ناصر کاظمی نے میر کے کلام کا ایک انتخاب کیا تھاجو 2001ء میں'' انتخاب میر'' کے نام شائع ہوا۔ ناصر نے میر کی غزلوں کے مقطعات کو اکثر شامل انتخاب کیا ہے اور بعض اوقات تو پوری غزل میں سے صرف مقطع ہی شامل  ہے۔انتخاب میر'' میں ایسا کوئی شعر موجود نہیں جو مطلع یا مقطع نہ ہو اور اس میں میر نے اپنا تخلص استعمال کیا ہو۔میر نے بعض اوقات مقطع کی بجائے مطلع میں ہی اپنے تخلص کا استعمال کیا ہے۔
میر تقی میر اور اُن کی قبر۔۔۔۔
   دوسو برس سے زائد عرصہ ہونے کے باوجود میر تقی میر کے لفظ  آج بھی اپنی بھرپور تازگی کے ساتھ سانس لیتے ہیں جبکہ اُن کے فانی جسم کی طرح اُن کی قبر کا نام ونشان بھی امتدادِ زمانہ کے ہاتھوں مٹ چکا۔ سیرحاصل تفصیل  جناب ڈاکٹر غلام شبیر رانا (جھنگ) کی اس تحریر میں  ۔۔
میر تقی میر :نہ کہیں مزار ہوتا
(Dr. Ghulam Shabbir Rana, Jhanghttps://www.facebook.com/hamarajhang1/posts/441702239228436
    
  دیگر حوالہ جات۔۔
http://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D9%8A%D8%B1_%D8%AA%D9%82%DB%8C_%D9%8%DB%8C%D8%B1
۔۔۔۔۔
  https://groups.google.com/forum/m/#!msg/bazmeqalam/FnHLXILa4eQ/mzIQmrkk6rMJ
۔۔۔۔۔
http://mbilal-azam.blogspot.com/2012/11/blog-post_10.html
۔۔۔۔۔۔
http://www.urduhamasr.dk/dannews/index.php?mod=article&cat=Articles&article=687
۔۔۔۔
https://ahmedalikaif.wordpress.com/

منگل, جون 02, 2015

" گور کی گود"

انسان خواہ عمر کے کسی حصے میں ہو زندہ رہنے کی چاہ کبھی کم نہیں ہوتی۔عمر بڑھنے کے ساتھ جسمانی کارکردگی مدہم پڑنے لگتی ہے لیکن زندگی کی خواہش اول روز کی طرح ویسے ہی شور مچاتی ہے۔انسانی فطرت ہے کہ وہ واپسی کے سفر کو حق جان کر بھی زندہ رہنا چاہتا ہے۔۔۔اسی لیے اولاد کا خواہش مند ہوتا ہے جو کم ازکم اس کی نام لیوا ہو۔اس خواہش کا اگر سائنسی لحاظ سے جائزہ لیا جائے تو پیدا ہونے والا بچہ ماں باپ کے وجود کا حصہ۔۔۔اُن کے جینز کا شراکت دار ہوتا ہے۔سو انسان کی یہ خواہش لاشعوری طور پر اپنے جینز کی منتقلی اور بقا کی ہے۔ اس میں بھی بیٹے اور بیٹی میں فرق روا رکھا جاتا ہے۔یہی معاشرے کا المیہ ہے کہ وراثت چاہے مال ودولت کی شکل میں ہو یا علم وآگہی کی صورت بیٹے کی ضرورت اور خلش ہمیشہ آڑے آتی ہے۔معاشرے کی اس عمومی سوچ سے سمجھوتہ کرنا یا اس کے برعکس سوچنا بڑے دل گردے اور ہمت کا کام ہے۔۔۔ بہت کم ہی کوئی اس معیار پر پورا اترتا ہے۔بیٹے کے نہ ہونے کی کسک کا ایک عام انداز یہ بھی ہے کہ کوئی بازو نہیں اور جنازے کو کاندھا دینے والا بھی کوئی نہیں۔ زندگی اسی ناآسودگی اور بےاعتباری میں گزر جاتی ہے اورباقی صرف وقت رہ جاتا ہے جو بتاتا ہے کہ کس کو کیا ملتا ہے؟ اور کون رہتا ہے؟ لیکن اس وقت سمجھنے والا جا چکا ہوتا ہے۔ہمارا ایمان ہے کہ جانے والے کا ربط نہ صرف دُنیا کی ہر چیز سے ختم ہو جاتا ہے بلکہ وہ مرنے کے بعد دُنیا میں اپنے آخری مقام کے دنیاوی جسمانی احساس سے بھی بےپروا ہو جاتا ہے اور اُس کی اصل کیفیت صرف اللہ جانتا ہے۔
مذہبی معاشرتی اور روحانی حوالوں سے قبروں کی تزئین وآرائش کے جواز  پر ہر مکتبۂ فکر کے اختلافات اور تاویلات ہیں۔ خصوصاً عورتوں کا قبرستان جانا بھی دینی طور پر مستحن نہیں سمجھا جاتا۔ لیکن جن گھروں میں بیٹے نہ ہوں وہاں بیٹیوں کو بہت سے ایسے کام کرنا پڑتے ہیں جو عام حالات میں صرف مردوں کے لیے ہی مخصوص سمجھے جاتے ہیں۔
 انسان کے جانے کے بعد پیچھے رہ جانے والے اُس کے پیارے رشتے۔۔۔ جن کے آرام وسکون کی خاطر وہ سرد راتوں اور تپتی دوپہروں میں چکی کی مشقت کرتا رہا۔۔۔اُس کے دُنیا میں آخری مقام کے بارے میں بہت حساس ہو جاتے ہیں۔ یہ بھی سچ ہے کہ شروع کے چند روز اس طرف دھیان زیادہ رہتا ہے۔رفتہ رفتہ محض عید،شب برات یا زیادہ سے زیادہ سال بہ سال برسی کے مواقع پر رسمی طور پر حاضری دی جاتی ہے۔ بہرحال جو بھی ہو بچھڑنے کے شروع کے ایام میں قبر سے ایک عجیب سی اُنسیت ہو جاتی ہے جیسے کہ جانے والا ہمیں محسوس کر رہا ہو اور ہم بھی اس سے دل کی بات کہہ سکیں۔ کسی نے کیا بات کہہ دی کہ" جب کوئی اپنا چلا جائے پھر قبرستان سے ڈر نہیں لگتا"۔ لیکن یہ چاہت اور اُنسیت بھی ہر جانے والے کے نصیب میں نہیں کچھ توساری زندگی بےنام ونشان رہتے ہیں اور مرنے کے بعد بھی کبھی کوئی اُن کی قبر پر فاتحہ خوانی کے لیے نہیں آتا۔ اس بات سے انکار نہیں کہ زندگی میں چاہے بےمول ہی کیوں نہ بکتا رہا ہو ۔۔بعد مرنے کےمٹی کے انسان کی اصل قیمت چند گز زمین میں ملنے والی مٹی کی قربت ہے۔ یہ 'قربت' بھی بڑے نصیب کی بات ہے جس کو نصیب ہو جائے ورنہ ہوا،پانی اور آگ ایسے عناصر ہیں جو مٹی یوں کھا جاتے ہیں کہ نام ونشان کا احساس تو کیا ثبوت بھی کم ہی چھوڑتے ہیں۔ بےزمینی اور لامکانی کے دُکھ سے بھی بڑھ کر اگر کوئی دکھ ہے تو ایک جیتے جاگتے انسان کا لمحوں میں دنیا سے"غائب" ہوجانا ہے۔ آگے کی منزلوں اور سفر کا حساب کتاب تو وہ جانے لیکن اُس کے ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں اس کے اپنے ہمیشہ شک ویقین کی سولی پر لٹکتے رہتے ہیں۔ وہ بدقسمت تو دعاؤں کے حصار سے بھی نکل جاتا ہے کہ نہ تو زندگی کی سلامتی کی دعا کی جا سکتی ہے اور نہ ہی مغفرت کی دعا۔اگر زندہ ہوگا تو نہ جانے کس حال میں اور اگر دنیا سے جا چکا ہے تو نہ جانے کس کسمپرسی کی حالت میں گیا۔ 
حرفِ آخر
 گھر زندہ انسانوں کا مسکن ہے اورقبرستان مردہ جسموں کا۔ لیکن گھر میں رہنے کا سلیقہ قبرستان سے بہتر کہیں سے نہیں سیکھا جا سکتا جہاں سب اپنی اپنی قبر میں اپنے اپنے حساب کتاب کے عالم ِبرزخ میں تنہا ہوتے ہیں اور کسی کو کسی سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔احساس کی اگربتیاں اورعقیدت کی پتیاں کوئی انجان بھی بکھیر دے تو اپنے الاؤ بُھلا کر چاہ کی پھوار میں سوندھی مٹی کی مہک ہر سو پھیل جاتی ہے۔