اتوار, مئی 24, 2015

" کائناتِ احسن "

    دانہ دانہ دانائی۔۔۔۔محمد احسن
 پہلی کتاب۔۔۔پہلا لفظ ۔۔۔پہلے جملے اور پہلا خیال ۔۔۔
صفحہ  19۔۔۔۔ 
ایک بات۔۔۔سمجھنے والی بات۔۔۔سمجھ میں  تو آ جاتی ہے مگر لازمی نہیں کہ دل میں بھی اُتر جائے۔ دل کی بات۔۔۔ دل میں تو اُتر جاتی ہے مگر لازمی نہیں کہ سمجھ میں بھی آ جائے ۔
دانہ دانہ دانائی  میں درج مصنف نوٹ سےاقتباس ۔۔۔
جس طرح ایک چھوٹا سا دانہ اپنے اندر ایک پرشکوہ شجر کا مستقبل رکھتا ہے.. بلکہ پورے گلستان کا مستقبل رکھتا ہے.. اور اگر یوں کہا جائے کہ ایک دانے سے پورے سیارہْ زمین پر جنگلات کا نظام قائم کیا جا سکتا ہے تو غلط نہ ہو گا. ایسے ہی ہر خیال اپنے اندر دانائی کا مستقبل رکھتا ہے.. جو پنہاں رہتا ہے..مگر کیفیت طاری ہو جانے سے وہ خیال اپنا راز اُگل دیتا ہے.. علم وحکمت غرضیکہ دانائی کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے.. اور پھر دانائی کہاں تک لے کر جا سکتی ہے؟ خدا جہاں تک چاہے.. اور جب خدا کی چاہت شامل ہو جائے تو بعض دفعہ وہ خود بھی بندے سے پوچھ لیتا ہے کہ.. بتا تیری رضا کیا ہے؟
دانہ دانہ دانائی... ایسے ہی خیالات و کیفیات کا مجموعہ ہے۔.

اِس کتاب کا کوئی موضوع نہیں... اور یہی اِس کا موضوع ہے. اِس کتاب میں عنوانات کو کسی بھی طرح اقسام میں ترتیب نہیں دیا گیا.. یہی اِس کی ترتیب ہے. جِس طرح غیر منقسم خیالات کا آنا جانا یا تانا بانا.. مختلف متنوع کیفیات کا طاری ہو جانا.. زندگی ہے.. اِسی طرح یہ کتاب ہے.. لہذا زندگی کی علامت ہے. جیسے جیسے اور جہاں جہاں مجھے دانے ملتے گئے، میں اُنہیں چُنتا گیا.. سنبھالتا گیا.. کبھی گھر میں تو کبھی سفر میں.. کبھی بازار میں تو کبھی قبرستان میں.. کبھی شادی میں تو کبھی مرگ میں.. اور کبھی شادئ مرگ میں.. کبھی دوستوں کے درمیاں تو کبھی تنہائئ سحر میں.. اور کبھی خوابوں میں۔
اِک ذخیرہ بن گیا۔
                                          
 محمد احسن۔۔۔
تاریخ،پیدائش۔۔۔24 مئی 1979
بمقام۔۔۔راولپنڈی
 کتاب تعارف۔۔
٭1)دانہ دانہ دانائی۔201
٭2)انگلستان کے سو رنگ۔۔2013
احوالِ سفر۔۔2004 تا 2008
2013٭3)دیوسائی میں ایک رات۔۔
 سفر کیا ۔۔جون 2013
٭4)نیوٹن۔۔۔ایک پُراسرار سائنسدان
  (مترجم واضافہ:محمد احسن)
 ۔۔اشاعت ۔4دسمبر 2014
٭5)چولستان میں ایک رات
سفرنامہ۔۔پنجاب،چولستان
سفر کیا۔۔۔۔ اپریل 2015
۔۔۔۔۔۔۔
انتسابِ کُتب ۔۔۔
٭1) دانہ دانہ دانائی ۔۔
ربِ ذوالجلال کے نام
کائنات جس کا خیال ہے ۔۔۔۔
اور وہ جو منبۂ خیال ہے ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔
٭2)انگلستان کے سو رنگ
امی جان کےنام
جنہوں نے مجھے آپے سے باہر کر کے
اِک کائنات میں دھکیل دیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔
٭3)دیوسائی میں ایک رات۔۔۔
میرے بابا
چیف میرین اِنجینئر محمد انور کے نام
اور اُن سمندروں کے نام
جن میں اُنہوں نے اپنی پوری زندگی گزار دی
 ۔۔۔۔
 ٭4)چولستان میں ایک رات
"اِک کائنات کے نام.. اِک کائنات کی جانب سے

سفرِ دشت….. سفرِ رُوح…..سفرِ کائنات
صحرا…فنائے لیلیٰ قَیس کی شبِ فراق کی علامت ہیں… یہ پیاسے بھی ہوتے ہیں… سراب بھی دکھاتے ہیں… اور سیراب بھی کر جاتے ہیں…خوبصورت چہرہ ہو، دریا ہو یا کسی شہر و بیابان کا حْسن، دونوں آوارہ گرد بناتے ہیں،محبوب کا ہر رْخ محبوب ہی ہوتا ہے…اور محبوب کا سایہ.. اور محبوب کی خوشبو جو کسی اورسے آ رہی ہو…
صحرا کشش رکھتے ہیں…ان کی راتیں سرد ہوتی ہیں.. چاندنی راتوں میں ریت کے ذرات چمکتے ہیں… اور اندھیری راتوں میں اِک کائنات مائل بہ وصل ہوتی ہے اور بے حجاب کائنات کیا ہوتی ہے؟
خدا نے پیغمبری عطا کرنے سے پہلے شہزاہ مصر موسیٰ کو صحرائے سِینا میں دھکیل دیا تھا… پھر اُن سے کوہ پیمائی بھی کروائی.. تب جلوہ طور نصیب ہوا…غارِ حرا کی کہانی بھی مختلف نہیں…وہ بھی ایک بندہ صحرائی و کوہستانی کی داستان ہے۔ کچھ تو ایسا ہے، بیابانوں میں جو شہروں میں نارمل زندگی بسر کرنے والوں کے وہم و گمان میں بھی نہیں…
بظاہر صحرا نارمل زندگی کے لیے خطرناک ثابت ہوتے ہیں مگر صحراوئں میں زندگی بہت پراسرار طریقوں سے موجود رہتی ہے۔صحرا کی رات مسافرِ شَب پر کیسی بِیتتی ہے؟ واصف علی واصف کہتے ہیںکہ’’شب بیدار صرف رات میں بیدار رہنا جانتا ہے، باقی کام رات خود کرتی ہے۔‘‘  اور اگر یہ رات صحرائے چولستان میں گزاری گئی ہو تو…؟ قصہ مختصر، یہ داستانِ لیلیٰ مجنوں ہے۔
کوہ نوَردوں کی ایک ٹِیم شمال کے کوہستانوں کی بجائے جہلم و راوی و چناب کے پار جنوب کے اِک صحرا میں جا پہنچتی ہے… صحرائی بستیوں کی خاک چھانتی ہے… اپنی خاک کو پہچاننے کی کوشش کرتی ہے… اَن دیکھی سمتوں میں جذب ہوتی ہے… اور تب ’’چولستان میں ایک رات‘‘ تخلیق ہوتی ہے۔یہ سفرنامہ اِسی کی رومانوی داستان ہے۔

٭5) نیوٹن… ایک پراسرار سائنسدان
(مترجم واضافہ: محمد احسن)
 ”آئزک نیوٹن… ایک پراسرار سائنسدان“
یہ کتاب اصل میں نیوٹن کی ظاہری اور پوشیدہ زندگی کے بارے میں لکھی گئی ایک مستند انگریزی کتاب کا اردو ترجمہ ہے جسے میں نے اپنے رنگ میں لکھا ہے۔ میں نے بہت سوچ سمجھ کر نیوٹن پر کام شروع کیا۔ جو احباب میری دوسری کتب کے انداز اور رموز سے آگاہ ہیں، وہ نیوٹن کی شخصیت کو بھی اُسی کھوج میں مبتلا پائیں گے جس کھوج میں ناچیز عرصہ دراز سے مبتلا ہے۔ نیوٹن معمولی انسان ہرگز نہیں، وہ دنیا بھر میں سب سے مشہور سائنسدان ہے اور اُس کی ریاضی اب بھی دنیائے سائنس پر راج کرتی ہے۔ آئن سٹائن نے نیوٹن کو اپنا مہا گرو مانا۔ نیوٹن نے اپنی تنہائیوں میں وہ کچھ پا لیا جسے تقریباً نروان ہی سمجھنا چاہیے… اب وہ کیا تھا، کتاب پڑھ کر اندازا ہو گا…محمد احسن۔۔ 4 دسمبر 2014
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
   میرا احساس محمد احسن کی تحریر پڑھتے ہوئے ۔۔۔۔
کائناتِ رب العالمین کا ایک بےوقعت ذرّہ ہونے کے باوجود انسان کو اشرف المخلوق کا شرف عطا کیا گیا۔اس شرف کی پہچان ہر انسان کا نصیب نہیں اور جسے اس پہچان کا علم عطا ہو جائے وہ اسے عیاں کرنے کا مجاز نہیں ۔
عام انسان کے لیے اپنی پہچان اور اپنے اصل کی تلاش کے سفر پر نکلنا شرفِ انسانیت کی راہ کا پہلا قدم ہے۔ وہ سفر جس کے پہلے قدم پہلی منزل کی روشنی  روز روشن کی طرح سب کو دکھانے کی نہ صرف اجازت اور تاکید ہے بلکہ  اپنی اہلیت اور دائرۂ کار کے اندر رہتے ہوئے فرض بھی ہے۔۔۔ایسا فرض روح کی زکوٰاۃ کی  مثل  ہے تو کسی کی پیاس جانے بنا۔۔۔ فخروتکبر سے دور رہتے ہوئے سیراب کرنے کا قرض بھی ہے۔جو اگر وقت پر ادا نہ کیا جائے تو بہتا چشمہ ٹھہرے پانی کی ایسی بدبودار دلدل میں بدل جاتا ہے جس پر دکھائی دینے والے کنول رنگ سرابِ نظر کے سوا کچھ  بھی نہیں۔ 
تلاش کے سفر میں قدم قدم پر راہ بر ملتے ہیں۔۔۔انسان اپنے جیسے انسان کی قربت سے سکون پاتا ہے اور اس کے لفظ سے روشنی حاصل کرتا ہے۔ہر بار یوں لگتا ہے کہ بس اب اس سے آگےاور کچھ نہیں۔۔۔کوئی نہیں ۔ لیکن ہوتا یوں ہے کہ پانے کے بعد تشنگی مزید بڑھ جاتی ہے۔ بقول  غالب
چلتا ہوں تھوڑی دُور ہر اک تیز رَو کے ساتھ
پہچانتا نہیں ہُوں ابھی راہ بر کو مَیں
برسوں انسانی فطرت کے کچے پکے رنگوں میں بھٹکتے۔۔۔دن اور رات کے اسراروں سے اُلجھتے۔۔۔روحانیت اور تصوف کی بھول بھلیوں میں بقدر ظرف دانائی کے موتی چنتے ہوئے اچانک ایک نام ایک کردار نے اپنی طرف متوجہ کیا۔ تینتیس سال کی عمر میں اپنے احساسات اور تجرباتِ زندگی کو کتابی شکل میں محفوظ کرنے والے محمد احسن کی سال 2013  کے اواخر میں ایک ساتھ تین کتابیں شائع ہوئیں ۔۔۔
۔"انگستان کے سو رنگ،دیوسائی میں ایک رات اور دانہ دانہ دانائی "۔
 ان میں سے ایک کتاب "انگلستان کے سو رنگ"کا پہلا ایڈیشن 2012 میں"کائنات" کےعنوان سے شائع ہوا۔چارسو صفحات کی اس کتاب میں تقریباً نو برس پہلے کی یاداشتیں اور بیش قیمت احساسات وجذبات رقم ہیں۔۔۔فاضل مصنف کے مطابق چالیس دن کی قلیل مدت میں  لکھی اور اسی برس چھپ گئی۔
  
       ۔"دانہ دانہ دانائی،انگلستان کے سو رنگ اور دیوسائی  میں ایک رات"۔
   یہ کتب اپریل کے آخری دنوں میں ایک انمول دوست کی طرف سے اُس کے سب سے قیمتی تحفے کی صورت ملیں اور روح سرشار کر گئیں۔ایک ماہ کی قلیل مدت میں فاضل مصنف کی زندگی کے تقریباً  تیس برسوں کی کتھا کو نہ صرف پڑھنے بلکہ سمجھنے کی سعی کرنا اور پھر اس پر اپنی رائے کا اظہار کرنا ہرگز قابلِ فخر نہیں بلکہ جلدبازی اور خودپرستی کی غمازی بھی کرتا ہے۔لیکن محبتیں چاہے جسم پر اُتریں یا روح کی تشنگی مٹائیں اُن کو محسوس کرنے میں دیر نہیں کرنا چاہیے۔ہماری چاہتیں تازہ پھول کی طرح ہوتی ہیں بےخبری  کی تپش سے پل میں مرجھا بھی جاتی ہیں۔ یہ بھی حق ہے کہ زندگی میں سچی خوشی اور حقیقی علم وہی ہے جو ہمیں بغیر کسی شعوری جدوجہد کے اچانک اور بہت قریب سے حاصل ہوجائے اور یوں لگے جیسے وہ منظر وہ رنگ خاص ہماری ہی نظر کے لیے صرف ہمارے سامنے اُترتے ہیں ۔پھر اُن مناظر کو جتنی چابکدستی سے حسب استطاعت ذہن میں محفوظ کرلو۔۔۔دل میں رقم کر لو ۔۔۔ایک کلک سے عکس  میں سمو لو اور یا لفظ کی صورت  سفید کاغذ میں جذب کر دو وہ منظر وہ نظارہ  ہمیشہ کے لیے ہمارے ساتھ  اسی جگہ ٹھہر جاتا ہے۔۔
محمد احسن کی تحریر پڑھتےہوئے قاری سوچ سفر کے کئی مرحلوں سے گزرتا ہے اور ہر پڑاؤ  یقین کا انوکھا رنگ  ثبت کر کے پڑھنے والے کو شکرگزاری کے احساس سے مالامال کردیتا ہے۔
 محمد احسن کی  تحریر کی اہم بات لفظ کی روانی،خیال کی سچائی اور اپنا پن ہے۔۔۔اس کا "ماحول" یا اس کا "اورا" ہے۔ ایک بار قاری اس کے دائرے میں آ جائے تو خود بخود حقیقت کے ساتھ ساتھ  مصنف کے تخیل کی دُنیا میں بھی سفر کرنے لگتا ہے۔جناب کی تحریر کی ایک خوبی اس کا تنوع ہے۔"انگلستان"اور"دیوسائی"۔کتابوں کے نام میں مقام  کے نام  کی وجہ سے کتاب کا مکمل تعارف ہوتے ہوئے بھی ان میں ہر ذوق اور ہرعمر کے پڑھنے والے  کی  دلچسبی برقرار رہتی ہے۔  یہ کتابیں اس کے علمی معیار پر آ کر باتیں کرتی ہیں۔ جو جس نظر سے دیکھتا ہے کتاب اسی انگ میں اس پر اپنے بھید کھولتی ہے۔
کچھ زبان وبیان کے بارے میں ۔۔۔
٭سائنسی تھیوریز اورعلم الفلکیات کو اردو زبان میں اس خوبی اور مہارت سےڈھالا کہ اردو کی معمولی سوجھ بوجھ رکھنے والا  پڑھتے ہوئے اپنے آپ کو کچھ کچھ مفکر  سمجھنے لگتا ہے اورعزتِ نفس کا ایک انوکھا احساس جنم لیتا ہے۔
وہیں ان سائنسی نظریات کا انتہائی آسان اردو پیرائے میں بیان قاری کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیتا ہے۔ دوسری طرف روحانیت اور تصوف کے  پیچیدہ معاملات کو اتنی عاجزی اور انکساری سے بیان کرتے ہیں کہ ذہن پر پڑے ہوئے تشکیک کے پردے بہت حد تک ہٹتے محسوس ہوتے ہیں ۔
 یہ کتب بظاہر سفر داستان ہیں۔۔ وہ سفر جن کا معاشی مسائل میں گھرا انسان صرف خواب ہی دیکھ سکتا ہےلیکن صاحبِ سفر نے محنت اور دیانت کے زاد راہ کو ساتھ رکھتے ہوئے عام انسان کے خواب کو حقیقت کی راہ دکھائی ہے۔
٭جناب مستنصر حسین تارڑ سے جابجا عقیدت کے اظہار کے باوجود فاضل مصنف کاا اپنا رنگ اتنا مکمل ۔۔۔ گہرا۔۔۔ خوبصورت اور منفرد ہے کہ کہیں سے بھی پڑھنے والے کو کسی اور کے طرز تحریر کی جھلک نہیں ملتی ۔ 

تفسیرِ دوستاں
 محمد احسن کی تحریر کو "تفسیرِ دوستاں" کہا جائے تو بےجا نہ ہو گا۔ 
اللہ سے دوستی ۔۔۔کائنات سے دوستی۔۔۔علم وآگہی سے دوستی۔۔۔فطرت سے دوستی۔۔۔ قدرت سے دوستی۔۔۔ معاشرے کی اقدار سے دوستی۔۔۔ وطن کی مٹی سے دوستی ۔۔۔ وطن کی مٹی کی مانوس مہک سے دوستی ۔۔۔ کسی قسم کے تعصب سے پاک اجنبی انسان اور اس کے شرف سے بےغرض دوستی ۔۔ اپنے پیارے اور قریبی رشتوں سے دوستی۔۔۔ اپنے اندر کے انسان سے دوستی۔۔۔ فکر وعمل کے باہمی ملاپ سے دوستی۔۔۔ ذہن ودل کے گداز سے دوستی۔۔۔روح وجسم کی پکار سے دوستی۔اپنے اندر اُٹھنے والے طوفانوں اور اُن کے اسباب سے دوستی۔ اپنی خامیوں کوتاہیوں کا برملا اظہار کرتے ہوئے اُن کو اپنائے رکھنے کی ہٹ دھرم انسانی فطرت سے دوستی۔ غرض کہ دوستی کا یہ سفر اولین صفحات سے شروع ہو کر آخری صفحے  آخری لفظ تک قاری کو مسمرائز کیے رکھتا ہے۔
 !حرفِ آخر
 جناب محمد احسن کی ذہانت اورعلم کی گہرائی لاکھ قابل ستائش سہی لیکن اُن کو اپنے ماحول اور والدین کی طرف سے جذباتی اور مالی تعاون حاصل نہ ہوتا تو شاید روٹی روزی کا چکر اُنہیں دن کی روشنی میں تارے دکھا دیتا۔اور یہی ہمارے قابل ذہنوں کا شکوہ بھی ہے۔اس تلخ اور ناقدانہ سوچ سے مثبت پہلو یہ دکھائی دیا کہ زندگی میں اگر اصل اہمیت سکون کی ہے تو اس سے بھی بڑھ کر اہم سکون کی پہچان ہے۔انسان ساری زندگی رزقِ حلال کے لیے جدوجہد کرتا ہے۔۔عمر کے قیمتی برس اپنے اہل وعیال کے لیے قربان کرتا ہے ۔پھر اس کی خواہش ہوتی ہے کہ اُس کے بچے بھی اسی مرحلے سے گزریں ۔۔۔سیلف میڈ بنیں تا کہ انہیں  اپنے ہاتھ سے محنت کرنے کا شعور بیدار ہو اور یہی دیکھا گیا ہے کہ سونے کا چمچہ لے کر پیدا  ہونے والے ماں باپ  کی مشقت کی کمائی بےحسی کی حد تک لٹاتے ہیں۔ لیکن یہ کوئی  پتھر پر لکیر کلیہ نہیں ۔ برسوں سمندروں کے سفر پر مٹی کی خوشبو سے دور رہنے والے  چیف میرین انجنئیر  محمد انور نے سکون حاصل کرنے کا عجیب گُر دریافت کیا۔ انہوں نے اپنے اکلوتے بیٹے "محمد احسن" کےسکون میں اپنا سکون ضم کر دیا ۔اعتماد کی یہ  مثال نوجوان نسل کے لیے مشعل راہ ہے تو اُن کے والدین کے لیے بھی سوچ  کے در کھولتی ہے۔ اہم بات ہے تو صرف تربیت اور ماحول کی جو ہم اپنے بچوں کو دیتے ہیں، ہم والدین کا المیہ  یے کہ ہم بچپن میں اُن کی وہ سب جائز نا جائزخواہشیں پوری  کرنا چاہتے ہیں جو ہماری اپنی ناآسودہ حسرتیں ہوتی ہیں۔ اور پھر جب وہ بڑے ہو جاتے ہیں  تو اُن کی زندگی کے بڑے فیصلوں پر اپنے اختیار کو ایک قیمت کی طرح وصول کرتے ہیں۔ یوں ایک "جنریشن گیپ" پیدا ہو جاتا ہے ۔۔۔نہ بچے سکھی رہتے ہیں اور نہ ہی  ماں باپ۔اور زیادہ خسارہ  ماں باپ کے حصے میں آتا ہے کہ  ساری عمر کی محنت کے بعد اپنے گھر میں  بیٹھ کر بھی سکون کا سانس لینا نصیب نہیں ہوتا۔
محمد احسن کی زندگی کے 36 برس کا سفر مکمل ہونے پر۔
اللہ سے دعا ہے کہ ذہنی اور جسمانی صحت ،سکون اور ایمان والی زندگی کے ساتھ  محمد احسن کوعلم ِنافع پانے اور بےغرض بانٹنے کی توقیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
 نورین تبسم  
چوبیس مئی 2015
اسلام آباد   
آخری  جملے۔۔۔
 ٭انگلستان کے سو رنگ۔۔۔ صفحہ 400۔۔
یہ سب پروٹوکول کی باتیں ہیں۔۔۔۔
آدابِ شاہی ۔۔۔۔اور بعض دفعہ۔۔۔آدابِ شہنشاہی۔۔
 ٭دانہ دانہ دانائی۔۔۔ صفحہ 104۔۔
 ختم شد
کتاب ہو یا زندگی ۔۔۔"ختم شد" تو ناگزیر ہے۔۔۔
 مگرکتاب ہو یا زندگی۔۔۔ اِک نئے نقطۂ نظر سے اِک نیا آغاز ہوتا ہے۔  
۔۔۔۔۔۔۔
  انگلستان  کے سو ر نگ۔۔ 
صفحہ181

صفحہ۔236۔۔282 

308
 .

 محمد احسن کے انگریزی زبان میں لکھے گئےفزکس اور فلکیات پر تحقیقی مقالات اور مضامین جن میں سے کچھ انگلستان کے اخبار میں شائع ہوتے رہے۔۔
۔https://subspaceresearch.wordpress.com/tag/ahsan/
 Subspace Research is a mark of ‘one man show’ who is physicist, astronomer, graphic designer,  mystic, and a musician all in one. In the core, these areas of art and science stem from One parent omnipresent knowledge base. Navigate through the pages for the articles.
والدہ محمد احسن۔۔۔ "بی بی صدیقہ زبیدہ بانو رحمتہ اللہ علیہ "
 اضافہ وضروری ترمیم ۔۔۔۔ محمد احسن 
امی جی (والدہ  محمد احسن ) پر ایکسپریس نیوز میگزین  میں اشاعت شدہ آرٹیکل.۔۔ بتاریخ 20فروری 2011
کالم نگار:- ڈاکٹر ابو اعجاز رستم
سلسلہ:- پراسرار بندے
 ۔۔۔۔۔۔۔
محمد احسن ۔۔۔
٭ فیس بک پروفائل  مسافرِشب
٭  فیس بک پیج۔۔
Kainat-by Muhammad Ahsan
ٹویٹر ۔۔۔
https://twitter.com/ahsan119

منگل, مئی 19, 2015

"شکوہ جواب شکوہ"

نہ جانے کس کے لفظ  نہ جانے کس کے نام"۔"
تم اکثر بھول جاتی ہو
کہ اپنے درمیاں جاناں
سمندر ہیں زمانے کے
اناؤں کی دیواریں ہیں
انہیں کیسے مٹائیں گے
کبھی سوچا بھی ہے تو نے؟
کبھی سمجھا بھی ہے تو نے؟
کہ دنیا کی یہی رسمیں
محبت کرنے والوں کو
کبھی ملنے نہیں دیتیں
دلوں میں آرزوؤں کے
کنول کھلنے نہیں دیتیں
زخم خوردہ امنگوں کو
کبھی سلنے نہیں دیتیں
تم اکثر بھول جاتی ہو
کہ ان پابند راہوں سے
نہ میں باغی نہ تو باغی
زمانےکے رویوں سے
گزرتے پل کے پہیئوں سے
نہ میں باغی نہ تو باغی
تم اکثر بھول جاتی ہو
جنوں کے جوگ ہوتے ہیں
ہزاروں روگ ہوتے ہیں
بکھرتے شادیانوں میں
سسکتے سوگ ہوتے ہیں
وہ آتے وقت کے لمحے
کئی خدشات میں لپٹے
کہ جب مجبوریاں اپنی
انہی رسموں میں بہہ جائیں
اور ہم تنہا ہی رہ جائیں
تم اکثر بھول جاتی ہو
کہ پھر ماضی کے یہ لمحے
تمہیں جب یاد آئیں گے
تو تم سر کو جھٹک دو گی
حسیں سا بچپنا کہہ کر
میرے وجدان میں اکثر
وہ لمحے آتے رہتے ہیں
مجھے آتے ہوئے کل کا
سماں دکھلا تے رہتے ہیں
تمہارے ساتھ ہو کر بھی
تیری آنکھوں میں کھو کر بھی
میں اکثر یاد رکھتا ہوں
تم اکثر بھول جاتی ہو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 "میرا اظہار"
سنو
اے شکوہ کناں
تمہارے لفظ کھو جاتے ہیں
تمہاری ذات گم ہو جاتی ہے
میں
اگر اُن کو کھوجنا چاہوں
اگر اُس کو سمیٹنا چاہوں
تم دور جاتے ہو
پاس آنے نہیں دیتے
اپنانے نہیں دیتے
اس لیے
میں جان بوجھ کر
اکثر بھول جاتی ہوں
مگر
یہ یاد رکھتی ہوں
کہ تم بھی یاد رکھتے ہو
ایک بات  اور بھی سن لو
جتنا دور جاتی ہوں
اتنا قریب آتی ہوں
تمہارے قرب کی خواہش
اگر
ایک فریب لاحاصل ہے
تو اس سے بھاگنا
میری عقل کا سودا ہے
اور یہ سودا میں کرتی رہتی ہوں
اور تمہیں کیوں بتاؤں
کہ اکثر
خسارے میں ہی رہتی ہوں

اتوار, مئی 10, 2015

"دوسراجنم"

عقائدومذاہب کے فلسفے سے قطع نظر دُنیا کا ہر انسان دل میں ضرور  اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ انسان صرف ایک بار ہی جنم لیتا ہے اور پھر ایک بار ہی کبھی واپس نہ آنے کے لیے مر بھی جاتا ہے۔اس آنے جانے میں گر اُس کی مرضی کا کوئی دخل نہیں تو  درمیانی مدت پر بھی اس کا بس نہیں چلتا۔مرد ہو یا عورت سب بلا تخصیص اس فارمولے پر پورا اُترتے ہیں لیکن عورت جب ماں بنتی ہے تووہ ایک طرح سے اس کا نیا جنم ہی ہے۔دُنیا میں آنے والا بچہ اگر اپنی نئی زندگی کا آغاز کرتا ہے تو ماں کا روپ عورت کی ایک نئی شناخت ہے اس کے دوسرے حوالے سب کہیں پیچھے رہ جاتے ہیں۔بعد کی بات ہے کہ وہ اپنے آپ کو کہاں تک اس رشتے کا اہل ثابت کرتی ہےیا فرار کی راہیں تلاش کرتی ہے۔وہ رشتہ جو اس کے وجود کا اٹوٹ انگ ہےاس سے فرار کا فریب تو کھایا جا سکتا ہے جبکہ حقیقت میں ایسا ممکن نہیں۔
ماں بننے کے عمل کے دوران نہ صرف اس کے جسمانی خدوخال یکسر بدل جاتے ہیں بلکہ نومولود کی طرح اُس کے ذہن کی سلیٹ بھی بالکل کوری ہوتی ہے۔پچھلے تمام نقش،سارا علم وفضل بلکہ تمام تر جہالت بھی کن فیکون" کے فیصلے کے بعد پلک جھپکتے غائب ہو جاتی ہے۔یہ نئے جنم کی کھلی کہانی اتنی پوشیدہ اتنی پُراسرار ہوتی ہے کہ دیکھنے والے تو دور کی بات عورت کو خود بھی اس کا ادراک نہیں ہو پاتا۔ایک کٹر بنیاد پرست کی طرح وہ اپنے ایک ہی جنم کے عقیدے سے پیچھے نہیں ہٹتی۔ ظاہری نشانیوں سے کچھ کچھ اُلجھتے ہوئے اور شرمندگی اور خفت کے احساس کوچھپاتے ہوئے وہ آخری حد تک اپنے پہلے جنم کو فوقیت دینا چاہتی ہے۔شاید بچے کے اس کے جسم سے الگ ہو کر سانس لینے کے بعد واقعی عورت کی روح پہلے والے وجود میں واپس آجاتی ہے۔عجیب بات ہے کہ بچہ مکمل شناخت ہو کر بھی اپنے حصے کے رزق کے لیے اس کی طرف دیکھتا ہے اور وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اسے دینے کی پابند ہو جاتی ہے کہ دُنیا کے پاک اور شفاف ترین رزق کی یہ سرسراہٹ اُسے کسی کل چین نہیں لینے دیتی۔
خالقِ کائنات کے ودیعت کردہ وصف کے بعد عورت ماں بن کر بچے کو اپنی آغوش میں لیتی ہے تو اُس کا ایک نیا رنگ سامنے آتاہے۔۔۔وہ روپ جس سے وہ خود بھی ناواقف ہوتی ہے۔ماں دنیا کے کسی حصے میں ہو، اس رشتے کے تقدس سے کتنی ہی دُور کیوں نہ ہو،چاہے وہ خود بھی اس جذبے کو نہ پہچانتی ہو، شعوری طور پراس سے انکار بھی کرتی ہو لیکن مامتا کا جذبہ سانجھا ضرور ہوتا ہے۔
ماں اور بچے کا بھی عجیب تعلق ہے۔ بچے کی پہلی سانس کی ڈور ماں کے لمس سے جُڑی ہےتو بچہ ہر ہر سانس میں ماں کو دیکھتا ہے اس کی دنیا ماں سے شروع ہو کر ماں پر ہی ختم ہوتی ہے۔ جیسے جیسے بچہ بڑا ہوتا جاتا ہے دنیا اس کے سامنے پر پھیلانے لگتی ہے اور ماں کا وجود ڈھلتے سائے کی مانند دور ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہ نہیں کہ ماں اسے چھوڑ کر چلی جاتی ہے بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ ماں کا وجود ایک غیرمرئی پیکر میں ڈھل جاتا ہے۔۔۔ایک ایسا پرزہ جو ماہ وسال کی مشین میں آراستہ کر دیا گیا اور اب ایک خودکار نظام کے تحت اپنا کام جاری رکھتا ہے۔ چاہے کوئی مخالفت میں وزنی دلائل ہی کیوں نہ دے لیکن یہ اٹل حقیقت ہے کہ بچہ جیسے ہی گود سے اترتا ہے دنیا کی رنگینی اور ہماہمی اسے آگے سے آگے سفر پر مجبور کر دیتی ہے، یوں جیسے کہ اس کے پاؤں میں پہیے لگ جاتے ہیں،ایک بےچینی اس کی روح میں گھر کر لیتی ہے اور وہ تلاش کے سفر پر نکل جاتا ہے۔دوسری طرف ماں جس کی زندگی کے سب رنگ اس نقش کو تصویر کرنے کی نذر ہو جاتے ہیں اور سچ تو یہی ہے کہ دنیا کی کسی قسم کی ترغیب اور آرائش اس کے وجود سے وہ نشان نہیں مٹا سکتی۔عام انسان کی طرح ماں بھی رفعتوں کےان دیکھے آسمان چھونے کی خواہشوں میں اپنے مدار سے نکلنے کی لاحاصل جستجو کا شکار ہوجاتی ہے۔۔۔ اپنی ذات کی پہچان کے لیے دنیا سے اپنا حصہ لینے کے لیے بہت دوڑبھاگ کرتی ہے۔یہ بھی سچ ہے کہ وہ اس تعلق سے دامن چھڑا بھی لے اور عزت وترقی کے بامِ عروج کو چھو بھی جائے پراس کے دل کی دنیا وہیں ٹھہر جاتی ہے جہاں اس ساتھ سے راہِ فرار اختیار کی تھی۔انتہائی نادان ہے وہ عورت جو اپنے اس روپ کو نہیں پہچانتی اور شش وپنج کی کیفیت اُسے زندگی کے ہر رشتے پر اعتبار واعتماد سے محروم رکھتی ہے۔
حرفِ آخر
ماں عورت کے وجود پر  تقدیر کے ان منٹ قلم سے ثبت  ہونے والی ایسی مہر ہے جس  سےاس محدود فانی عمر میں  بری الذمہ ہوا جا سکتا ہے اور نہ ہی ابدی لامحدود زندگی میں  کنارہ کشی ممکن ہے۔ اللہ ہم سب کو علم وعقل کے ساتھ بروقت عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

جمعہ, مئی 08, 2015

" حماقت "

" حماقت "
اس دن دردکی شدت سے بےحال ہوتے ہوئے بھی خود پہ بہت ہنسی آئی۔۔۔۔
 ہاں ایک دن ایسا تھا کہ وہ لمحہ یاد آتا ہے تو مسکراہٹ آ جاتی ہے ۔۔۔لیکن!!! اس لمحے اگر وہ درد کی شدت سے بہت بری طرح بےچین تھی کہ ایسی تکلیف ایسی چبھن پہلے کبھی نہ ہوئی تھی تو دوسری طرف اُس کے بچے اُس کی "ناسمجھی" پر ہنس ہنس کر بےحال ہوئے جا رہے تھے۔۔۔
ہوا یوں۔۔۔۔ بلکہ ایسا اکثر ہی ہوتا ہے کوئی نئی بات نہیں کہ کھڑکی کی جالی پر بھڑ آجاتی ہے اور اگر گرل بھی ہو تو اسے راستہ نہیں ملتا۔ جانے کب سے اُس کی عجیب سی عادت تھی کہ بھڑ کو کبھی مارتی نہ تھی بلکہ کسی کپڑے سے پکڑ کرنیچے والے چھوٹے سے سوراخ سے باہر کر دیتی اور وہ ایک دم پُھر کر کے اُڑ جاتی۔
اس روز بھی کچھ ایسا ہی منظر تھا بس اندازے کی غلطی ہو گئی اور اُس کی انگلی ڈائریکٹ بھڑ کے ڈنگ کو چھو گئی ۔لیکن بھڑ نے غلطی نہیں دکھائی اور اپنا کام کر گئی۔ بس پھر کیا تھا شدید قسم کا درد تھا اور بچوں کے استہزائی قہقہے۔۔۔۔لیکن اُسے پھر بھی اپنی بےوقوفی پر کوئی شرمندگی نہ تھی۔۔۔ اس ایذا دینے والی بھڑ کو نہ مارنے کی بےوقوفی۔لیکن یہ کہنے کی نہیں محسوس کرنے کی بات تھی۔ندامت تھی تو اپنے اندازے کی غلطی پر۔ خیر جس نے درد دیا تھا۔۔۔ اس کا احساس دیا تھا اس نے وقت بھی دے دیا اور جلد ہی سوئی چبھنے جیسے درد کا احساس کم ہوتے ہوتے ختم ہو گیا ۔۔
اہم بات یہ ہے کہ اس کے بعد بھی بھڑیں اسی طرح جالیوں پر آتی رہتی ہیں اور وہ کسی کی پروا کیے بغیراسی طرح کپڑے سے پکڑ باہر نکال دیتی ہے۔۔۔ جب اُڑ جاتی ہیں تو عجیب سی خوشی ہوتی ہے۔۔۔۔جانتی بھی ہے کہ جب موقع ملا وہ اپنی خصلت نہیں بدلیں گی ۔۔تو پھر ہم اپنی عادت کیوں بدلیں جسے دوسروں کی نظر حماقت جانے یا ایک بار چوٹ کھا کر دوبارہ اسی جگہ سے ٹھوکر کھانے کی خود اذیتی اور خواہ مخواہ کی ڈھٹائی۔۔۔
حرف آخر
اپنی اس "حماقت" نے یہ سبق دیا کہ اپنے آپ کو دوسروں کی ظاہری نگاہ سے ضرور دیکھو۔ لیکن عمل اپنے دل کی آواز پر کرو نہ کے اپنے علم کی بنیاد پر کہ علم کی بنیاد پر عمل کرنے کا یقین اکثر انا اور تکبر کی طرف لے جاتا ہے۔ انسان کو اس کے دل سے سچی گواہی اور کہیں سے نہیں ملتی ۔ دل کی سچائی کے لیے صرف ایک شرط کہ اس پر رب تعالیٰ کی طرف سے مہر نہ لگی ہوئی ہو۔اللہ سب اہل دل کو اس کا اہل بنائے رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

بدھ, مئی 06, 2015

کرنیں (2)۔۔۔۔محبت"

محبت روشنی ہے۔۔۔ اس کی تعریف بس یہی کہ روشنی کو کسی اور روشنی کی ضرورت نہیں ہوتی بقول شاعر ۔۔ آپ اپنا تعارف ہوا بہار کی ہے۔لیکن جو روشنی اپنے وجود کو روشن نہ کر سکے وہ روشنی نہیں روشنی کا دھوکا یا محض سرابِ نظر ہی ہوا کرتی ہے۔
٭"کیا ہے محبت" ؟ اس کا جواب ہر ایک اپنی سمجھ کے مطابق دے گا اور ہر ایک کا جواب درست بھی ہو گا...۔کہ محبت ہر ایک پر اپنے انداز سے اترتی ہے... کوئی دے کر پا لیتا ہے اور کوئی پا کر بانٹ دیتا ہے۔ محبت صرف لین دین ہے۔۔کبھی انسان سے انسان کے درمیان ۔۔۔کبھی مخلوق اور خالق کے درمیان تو کبھی خالق سے مخلوق کے درمیان۔ اپنے خالق سے محبت کرو۔۔ وہ مخلوق کو تمہارے سامنے جھکا دے گا۔
٭محبت کی نہیں جاتی بس ہو جاتی ہے لیکن اس محبت کو سدا اپنے پاس اپنے ساتھ رکھنے کا ظرف کسی کسی کے پاس ہوتا ہے۔ ہم میں سے بہت سے تو محبت محبوب پر ایک احسان کے طور پر کرتے ہیں اور ویسی ہی گرم جوشی کی بےمعنی توقع بھی پال لیتے ہیں۔یہ جانے بغیر کہ دنیا کا کوئی بھی انسان محبت کا جواب دینے کا اہل نہیں.محبوب کا یہی تحفہ بہت کافی ہونا چاہیے کہ اس نے ہمیں دنیا کے اس سب سے سچے احساس کی مہک سے سرشار کیا جو ہر جذبے کی بنیاد ہے۔ 
٭محبت جسم وروح کے تال میل سے جڑا ایسا نغمہ ہے جو بسااوقات محبوب کی سمجھ میں بھی نہیں آتا۔ مُحب اپنی مستی میں اپنی دُنیا آپ تلاشتا ہے اور جیسا کہ وارث شاہ نے کہا کہ"رانجھا رانجھا کردی نی میں آپے رانجھا ہوئی"۔ جسم کی محبت کے لیے ہزاروں تاویلات۔۔۔نفسیاتی تجزیے اور انسانی فطرت اور جبلت کے مستند دلائل دئیے جا سکتے ہیں لیکن روح کی روح سےاُنسیت ہر دلیل ہر تاویل اور ہر تجزیہ رد کر دیتی ہے۔بس اپنے من اپنی تنہائی میں اسے محسوس کرتی ہے۔لیکن یہ تنہائی جسم کی ناآسودگی کی طرح مایوسی پیدا نہیں کرتی بلکہ اپنی کائنات ِمحبت میں بلا شرکت غیرے ملکیت کا تفاخر پیدا کرتی ہے۔ محبوب کی ضرورت اور اس کے جواب سے آزاد کرتا محبت کا یہ جذبہ دُنیا میں انسان کو انسان کی طرف سے ملنے والا سب سے خوبصورت اور قیمتی تحفہ ہے۔۔۔جس کی روشنی اسے اپنی ذات کے حصار سے نکال کر کل عالم میں نمایاں کر دیتی ہے۔تنہائی سزا ضرور ہے پر صرف ان کے لیے جو اپنی ذات کے حصار میں قید ہو جائیں ۔انسان کو اللہ نے سوچ جیسی نعمت عطا کی ہے اس سے وہ ہر قید سے نجات پا سکتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اندر کی قید باہر کی آزادی پا کر بھی ختم نہیں ہوتی۔ یاد رکھو زندگی کی اصل خوشی تنہائی سے ہی نصیب ہوتی ہے۔ 
٭"محبتوں کےرشتوں کے نام نہیں... مقام ہوتے ہیں"اور ۔محبت کی اس خوشبو کا بھی کوئی نام نہیں ہوتا بس مقام ہوتا ہے۔۔۔کہیں دل میں ۔لیکن جس خوشبو کو ہم بےدھڑک سب کے سامنے کہہ سکیں۔ اس کو نام دے کر ہم اس کی تکریم کرنے کی ایک معمولی سی کوشش ضرور کر سکتے ہیں۔ بےمحابا محبت کے ساتھ بےغرض عزت محبت کی اصل حقیقت ہے۔۔۔عزت کی لذت صرف جسمانی احساس سے ہی مکمل ہوتی ہے چاہے وہ غارِحرا کی انجان تنہائی کی بات ہو یا سفر معراج کی نا قابل یقین ساعت ۔
٭محبت فرض نہیں بلکہ قرض بھی نہیں۔ محبتیں قرض کی صورت ملتی تو ہیں لیکن ہر کوئی اپنے ظرف کے مطابق انہیں ادا 
کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
٭ ایک دفعہ اعتراف محبت" آپ کو ایک طویل پل صراط پر چلنے سے نجات دے دیتا ہے۔ کوئی ہمارا ہوتا ہے یا نہیں ہوتا 
اس کا فیصلہ ایک گھڑی میں ہو جاتا ہے اور ہم میں اپنا اصل پانے دیکھنے کی کتنی تاب ہے یہ بھی لمحوں میں طے ہو جاتا ہے۔ 
٭پیار کبھی اُلجھن نہیں بنتا بلکہ اُلجھے رشتے سنوار دیتا ہےشرط صرف ایک کہ اس کا سرا تلاش کر لو۔۔۔جو چیزتمہاری ہے وہ کسی اور کے کام کی بھی تو نہیں اب یہ تمہاری مرضی ہے اُسے جہاں چاہے رکھو۔۔۔" دل کے معبد میں یا زندگی کی اُلجھنوں کے سٹور میں"۔
٭تعلق آئینہ ہوتے ہیں جو ہمیں ہمارا اصل چہرہ دکھاتے ہیں اسی لیے ہم انہیں چھپا کر رکھتے ہیں کہ کہیں کسی اور کو یہ چہرہ نظر نہ آ جائے۔۔
٭محبت کی معراج اور اس کا خراج صرف آنکھ کا آنسو دے سکتا ہے۔ آنکھ کا وہ آنسو۔۔۔۔۔جو نہ صرف خالق کی قربت کا ثبوت ہے بلکہ اس کے بندے سے محبت کی چمک آنکھ میں آنسو کی نمی بن کر تیرنے لگتی ہے۔ آنسو اگر خالق سے وصال کی خواہش کا نام ہے تو اس کے بندے سے لمحہ بھر کا احساس مکمل زندگی کا ادھورا پن دے جاتا ہے۔
٭محبتیں چاہے جسم کی ہوں یا روح کی یا پھر علم کی اُن کو محسوس کرنے میں دیر نہیں کرنا چاہیے۔ یہ تتلی کی طرح ہوتی ہیں۔ پل میں اپنی چھپ دکھلا کر ہمیشہ کے لیے غائب ہو جاتی ہیں۔
٭محبت کبھی نہیں مرتی ۔ محبت کی خوش فہمی مر جاتی ہے۔ محبت ہر قسم کی توقع سے پاک ہوتی ہے ورنہ وہ محبت نہیں 
ضرورت یا ہوس ہے۔۔۔۔جو ہمیشہ دکھ دیتی ہے۔۔
٭محبت کبھی بانٹنے کی کوششبھی نہ کرنا یہ وہ خزانہ ہے جو یکساں طور پر سب کو ملے تو سَیری کی کیفیت پیدا ہوتی ہے ور نہ اگر کسی ایک پر ہی سارا لٹا دیا تو کوئی اس قابل نہیں ہوتا کہ اسے سہار سکے ۔اوربانٹے والا یوں تشنہ رہ جاتا ہے کہ دریاؤں کا پانی بھی اس کی پیاس نہیں بجھا سکتا ۔
٭ہر شے کا تضاد اس کا ساتھی ہے جو اس کی زندگی اور بقا کا ضامن بھی ہے۔ جیسےنفرت محبت۔۔۔یہ عجیب جڑواں بہنیں 
ہیں۔۔۔احساس کی ایک ہی کوکھ سے جنم لیتی ہیں۔۔۔ایک جیسا چہرہ رکھتی ہیں اور ہم ساری زندگی ان کی پہچان کی آنکھ مچولی کھیلتے رہتے ہیں۔ اللہ کے کرم سے آنکھ پر بندھی پٹی سرک جائے تو ان کے چہرے سے زیادہ اپنی نادانی شرمسار کر دیتی ہے۔ آنکھ کی نمی پل میں سب بھید کھول دیتی ہے۔اور محبت جیت جاتی ہے۔
٭انسان اپنی ذات اپنا وجود کبھی بھی کسی ایک کے ساتھ مکمل طور پر نہیں بانٹ نہیں سکتا ہاں اپنی صفات سب کے ساتھ بانٹی جا سکتی ہیں۔ اور رب کی ذات بلا شرکت غیرے سب اپنے پاس ۔۔۔اپنے ساتھ محسوس کرتے ہیں جبکہ وہ قادرِ مطلق اپنی صفات میں سے جس کو چاہے جو صفت عطا کردے۔
٭کہا جاتا ہے کہ رفاقت اور محبت کسی بھی کیسے بھی لمحے کو عذاب یا "گلاب" بنا دینے پر مکمل قادر ہے ۔۔۔۔درحقیقت یہ صرف سرابِ نظر ہے اور سب سے بہترین رفاقت اپنی ذات کی وسعت اور تنہائی ہے جس سے گھبرا کر ہم چھوٹی چھوٹی 
دنیاؤں میں چاہتیں اور رفاقتیں کھوجتے چلے جاتے ہیں۔ 
 ٭محبت انسان کا سنگھار ہے۔۔۔ماتھے کا وہ جھومر ہے جس کی چمک دیکھنے والی آنکھ کو مسحور کرتی ہے۔لیکن محبت کی عزت صاحبِ محبت پر فرض ہے۔ سونے چاندی کے زیور کی طرح جس نے اس محبت کو زمانے کی تو کیا اپنی نظر سے بھی بچا کر بھاری صندوقوں یا نامعلوم کوڈ والے لاکروں میں چھپا دیا وہ ہمیشہ ناآسودہ رہا۔جس نے اس محبت کو بانٹ دیا۔اس کی چمک مرتے دم تک روشنی بن کر دمکتی رہی۔محبت  کا زیور مال ومتاع کی صورت ہو یا علم کی مثل ہر حال میں دوسروں کے حوالے کر کے جانا پڑتا ہے۔ اپنی مرضی سے اپنی خوشی سے اپنی زندگی میں سب دے دو تو نہ صرف دوسروں کی آنکھ میں آسودگی کی چمک دیکھ لو گے بلکہ ایک بھاری بوجھ کے سرکنے سے راحت بھی محسوس کرو گے۔
!حرف آخر
اللہ ہم سب کو اپنی اپنی محبتوں کی پہچان عنایت کرے تاکہ ہم ابدی محبت کی خوشبو پانے کے قابل ہو سکیں۔
سال کے کسی بھی روز چاہے وہ ہمارا جنم دن ہو یا کوئی اور خوشی کا دن۔۔۔۔ یا پھر تنہائی اور مایوسی کی تپتی دوپہر۔ ہمیں ذرا دیر ٹھہر کر محبت کی خوشبو ضرور محسوس کرنا چاہیے۔نہ صرف اپنے آس پاس۔۔۔۔ بلکہ اپنے اندر بھی۔ وہ خوشبو جو غم روزگار یا گردش زمانہ کے دوران ہم سے دور ہوتی چلی جاتی ہےاور سخت جان بنا کر ہمیں بےحس کردیتی ہے۔

اتوار, مئی 03, 2015

"تضاد"

انسان کی زندگی گہرے تضادات کا مجموعہ ہے۔ عالم ارواح میں تخلیقِ وجود ِانسانی سے لے کر دُنیا میں اُس کی آخری جھلک تک
 سوچنے والوں،غور کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہی نشانیاں ثبوت ہی ثبوت ہر طرف بکھرے پڑے ہیں ۔
انسان کے دوسرے انسانوں کے ساتھ جسم کے تضادات۔۔۔رویوں کے تضاد۔۔۔عمل کے تضاد۔۔۔سوچ کا تضاد۔۔۔ رشتوں کے تضاد۔۔۔تعلق کے تضاد۔۔جذبات کے مدوجزر۔۔۔احساسات کے نشیب وفراز سے ہٹ کر انسان کا ظاہروباطن بھی یکساں نہیں۔انسان کا ظاہر اس کے باطن کا عکاس ضرور ہوتا ہے لیکن اس کے باطن کی شہادت کبھی نہیں دے سکتا۔ہمارا ظاہر اور باطن کبھی یکساں نہیں ہوتا۔ ظاہر کے کئی روپ۔۔۔بےشمار چہرے اورگرہ درگرہ رشتے ہوتے ہیں۔ ہر رشتے کا الگ مقام اور ہر روپ کا نیا انداز ظاہر کا خاصہ ہے تو ہر چہرہ وقت اور ماحول کے مطابق اپنانا "زندگی"اور "زندہ" رہنے کی اشد ضرورت بھی ہے۔انسان کے ظاہر کی مثال دل کی طرح ہے جس میں صاف اور گندا خون ساتھ ساتھ لیکن جدا جدا خانوں میں رواں رہتے ہیں۔ان کے باہم مل کر کام کرنے سے ہی دل کی گاڑی چلتی ہے۔ کسی پر کسی کی ذرا سی رمق بھی نہیں پڑتی۔اگر کبھی ایسا ہونے لگے تو بہت سی خرابیاں نمودار ہوجاتی ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ ہمارے ظاہر کا یہ بہروپ زندگی کمائی ہے تو باطن اس پارہ صفت کی بےقراری سے عاجز اور تنہائی کا شکار ہونے لگتا ہے۔اس سارے عمل میں باطن کو اس کا جائز مقام نہیں مل پاتا۔اپنی پہچان کے لیے باطن کبھی ایک چہرے میں اپنے آپ کو تلاش کرتا ہے تو کبھی کسی ایک رشتے میں محصور ہوکر پناہ کا طالب ہوتا ہے۔ہمارا ظاہر اگر موسمی لباس کی طرح حالات کے مطابق رنگ بدلتا ہے تو باطن جینز میں موجود" ڈی این اے" کا وہ کوڈ ہے جس میں"لبیک" سے لے کر شیطان کے بہکاوے تک کے پیغامات محفوظ ہیں۔ باطن کی مثبت اور منفی جہت ہمیشہ سے ہمارے وجود کا حصہ ہے۔کبھی مثبت رو منفی ظاہر کے سامنے چھپ جاتی ہے تو کبھی منفی جہت کوکامیابی سے کیموفلاج کر کے ظاہر آنکھیں چندھیا بھی دیتا ہے۔جو شخص کہتا ہے کہ اُس کا ظاہروباطن ایک ہے وہ دُنیا کا سب سے بڑا منافق ہے۔پاک صاف ظاہر باطن فرشتوں کے سوا کسی کا ممکن نہیں جن کی وجۂ تخلیق ہماری محدود سوچ کی بناء پر صرف عبادت ہےاور مکمل طور پر شیطانیت کی تُہمت تو ابلیس پر بھی نہیں لگائی جاسکتی کہ نافرمانی سے پہلے وہ اللہ کے خاص مقربین میں سے تھااور نافرمانی کے بعد بھی اس کے خالق نے اسے مہلت عطا کی۔
غیب کے ان رازوں سے ہٹ کر کہ ان پر زیادہ تحقیق سے بھی منع فرمایا گیا ہے،ہم اپنی عقل کے محدود دائرے میں رہتے ہوئے سمجھنے کی اہلیت بھی نہیں رکھتے،اگر ہم اپنی زندگی ۔۔ اپنے آس پاس مظاہرِقدرت سے اس تضاد کا ثبوت چاہیں توایک عام انسان کے لیے چاند سے بہتر مثال اور کوئی نہیں۔
سوچنے کی معمولی صلاحیت رکھنے والا چاند اور اُس کی روشنی سے واقف ہے ۔وہ چاندنی جو گھٹتی بڑھتی ہے تو اتنا احساس نہیں ہوتا لیکن جب مہینے کے آخری دنوں میں تاریک کالی رات ہر طرف سناٹے اُتار دیتی ہے تو پھرچاند کی چاندنی "نظر" آتی ہے،اس کی غیرموجودگی کا پتہ چلتا ہے۔چاند ہم سب کے لیے ٹھنڈی میٹھی روشنی کا استعارہ ہے جیسے سورج کے ساتھ دوزخ کی گرمی اور قیامت کا تصور آتا ہے(قیامت کے روز سورج سوا نیزے پر ہوگا)تو چاندنی راتوں کی رومانویت کی داستانیں سانسیں اتھل پتھل کر دیتی ہیں۔قصہ مختصر ہمارےنزدیک سورج آگ برساتا ہے اور چاندنی شبنم نچھاور کرتی ہے۔جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ سورج زندگی ہے،ہماری کائنات کا محور ہے۔سورج ہے تو سب کچھ ہے نہ ہو تو سب ختم۔۔ کیا پڑھا لکھا کیا جاہل ہر شخص  اپنی زندگی میںسورج کے کردار سے بخوبی آگاہ ہے اور اس کی برتری تسلیم کرتا ہے۔ ہم ایشیائی ممالک میں رہنے والوں کے لیے تو سورج کا نکلنا اورہماری زمین کے لیے زندگی بخش ہونا معمول کی بات ہے۔ سورج کی اصل قدروقیمت یورپ اور دُنیا کے دوردراز خطوں میں رہنے والے جانتے ہیں جہاں سال کے چھ ماہ سورج نہیں نکلتا اور جہاں سورج کی شعائیں برہنہ جسم پر لینا زندگی کی سب سے بڑی لذت تصور کی جاتی ہے۔اس "سن باتھ" کی خاطر اپنے اصل رنگ کو "ٹین" کرنا خوبصورتی کا وہ معیار ہے جس کا ہم اہل ِمشرق اپنے بارے میں تصور بھی نہیں کر سکتے۔سورج کی کرنوں سے دوری موسم تو بدلتی ہے لیکن دھندلے دن اور برستی بارشیں مزاج بھی بدل دیتی ہیں۔ انسان کو رب نے صلاحیت دی ہے کہ وہ اپنے آپ کو  ماحول کے مطابق بخوبی  ڈھال کرسمجھوتے بھی کر لیتا ہے۔۔دُنیا کی آسائشیں اور ترقی کی چکاچوند گر وجود روشن کرتی ہے تو دھند اور بارشیں بھی لفظ کے دوستوں سے دوستی کر لیتی ہیں اور یوں ادب کے شاہکار سامنے آتے ہیں۔ چاند کی چاندنی لفظ کے ساحروں کے سامنے رقص کرتی ہے اور وہ اس کو دامنِ دل میں جذب کرکے جگ میں نمایاں کر دیتے ہیں۔۔
سورج اور چاند کے ظاہری اسراروں سے قطع نظر بات چاند کے تضاد کی ہے۔ چاند کی چاندنی اگر ضرب المثل ہے توتحقیق کرنے والوں نے اِس کی اصلیت کا پردہ بھی چاک کر دیا۔ سائنس دانوں کی رو سے چاند کی اپنی کوئی روشنی نہیں وہ سورج کی روشنی منعکس کر کے آسمانِ دُنیا پر نچھاور کرتا ہے۔چاند پر قدم رکھنے کا "دعوٰی"کرنے والوں کے مطابق چاند ایک بےآب وگیاہ سرزمین ہے جہاں نہ سانس کے لیے آکسیجن ہے نہ زندگی کی بقا کے لیے پانی اور نہ ہی قدم رکھنے کو کششِ ثقل جیسی کوئی کشش موجود ہے۔یعنی چاند کی قربت زندگی کے لیے بےفیض ٹھہری۔ یہ تو آج کے دور آج کے انسان کی تحقیق وجستجو کا حاصل ہے جس پر ہمیں یقین رکھنا پڑتا ہے۔لیکن چاند کے حوالے سے ایک واقعہ بحیثیت مسلمان ہمارا ایمان ہے۔ وہ ایمان جس کی تصدیق چودہ سو سال بعد آنے والےغیرمسلم اپنی تحقیق سے کرتے ہیں ۔"شق القمر"ہجرت سے چند سال پہلے کا معجزہ نبویﷺ ہے۔ قران پاک کی (54) سورۂ قمر کی پہلی آیت میں شق القمر کا بیان ہے اور اگلی ہی آیت میں اس پر شک کرنے والوں کو جواب بھی دیا گیا ہے۔
آیت (1) ،آیت (2) ترجمہ۔۔۔
قیامت آ پہنچی اور چاند شق ہو گیا ۔اور اگر (کافر) کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں یہ ایک ہمیشہ کا جادو 
ہے۔  
حرفِ آخر
بات انسان کے تضاد  سے شروع ہوئی تھی اور حقائقِ قدرت سورج چاند کی مثالوں تک جا پہنچی۔انسان کی فطرت یا کمزوری ہے کہ وہ بسااوقات آنکھوں دیکھی حقیقت پر یقین نہیں کرتا جب تک دلیل سے بات نہ کی جائے۔سب سے بڑھ کر ربِ کائنات کا حکم بھی یہی ہے کہ "غور کرو"۔بےشک ماننے کا حکم پہلے ہے لیکن یہ بھی کہا گیا کہ ایسے اندھے بھی ہیں جو دیکھتے ہیں۔۔۔ایسے بہرے بھی ہیں جو سنتے ہیں۔ یہ انسان کا بہت بڑا خسارا ہے کہ دیکھ کر بھی نہ دیکھے۔۔۔ سُن کر بھی نہ سُنےاور چھو کر بھی کچھ محسوس نہ کرے۔۔۔انسان بذات خود کائنات ہے۔اپنے آپ کو پہچانیں گے تو کائنات کے سربستہ راز کھلتے چلے جائیں گے۔

"ہم سے پہلے"

۔"ہم سے پہلے"۔۔۔کالم جاویدچودھری۔۔۔جمعرات‬‮ 72 جولائی‬‮  بھارت کے کسی صحافی نے اٹل بہاری واجپائی سے جنرل پرویز مشرف کے بارے میں ...