صفحہِ اول

جمعہ, فروری 27, 2015

"خلوت جلوت "

وہ اپنی جلوت میں مکمل تھا۔ دین دار،دُنیا دار۔۔۔ پُرباش،یارباش۔۔۔ تمام خواہشات سے مطمئن،ہرجذبے سےآسودہ خاطر۔۔۔ دُنیا اس کےقدموں کی خاک تھی۔۔۔ لیکن !!! ایک دُنیا اس کے اندر کی بھی تھی۔ یہ دُنیا بھی مکمل تھی ہر لحاظ سے۔۔۔ہر اعتبار سے۔۔۔اس کے باوجود اندر کی دُنیا کے اندر ایک ایسی جگہ تھی جہاں وہ تنہا تھا۔۔۔یہ اُس کی خلوت تھی۔۔۔ جس میں صرف وہ تھا اور اُس کی روح کا ہمسفر۔ درِکائنات کو چھونے والے اس سفر میں وہ اپنے"خود ساختہ" ہمسفر کے قرب کا متمنی تھا۔۔۔وہ قرب جس میں کوئی دوئی نہ ہو۔۔۔ہمسفر پراپنی نگاہ کے لمس کے علاوہ کسی اور کے عکس کا شائبہ بھی اُس کے لیے ناقابلِ برداشت تھا۔
دوسری طرف وقت کی نامہربان ساعتوں میں پل دو پل کو ہوا کے نرم جھونکے کی طرح چھو جانے والا مجازی ساتھ جس کی جلوت کا رواں رواں اُسے پکارتا تھا۔اُس کی صُبحیں اُس کی شامیں۔۔۔اس کا سونا اس کا جاگنا۔۔۔اس کا دین اس کاا یمان۔۔۔ اس کے رشتے اس کے تعلق۔۔۔اس کی بھوک اس کی پیاس ۔۔اس کی خوشی اس کے غم۔۔۔اس کے آنسو اس کی ہنسی۔۔۔ اس کی سوچ اس کے لفظ ۔۔۔اس کی عقل اس کا فہم ہر طرف بس "تو ہی تو" تھا۔ اس کی "میں" فنا کی طرف گامزن تھی۔ نگاہ کا ہر منظر اس کے تصور سے جڑا تھا۔یہ عشق تھا نہ عقیدت بلکہ اس سے آگے شاید جنوں وبےخودی کی پہلی منزل۔۔۔۔ یا پھر آگہی کی انتہاؤں کو چھوتی۔۔۔اُس سے دست وگریباں ہوتی تلاش کی آخری سیڑھی تھی۔ جب محبوب کا لمس بھی درد دیتا تھا۔۔۔۔اور یہی ہوتا رہا جب محبوب تارتار جسم اور چھلنی روح پر مرہم رکھتا تو ذرا دیر کو مدہوشی کی کیفیت طاری ہو جاتی ۔۔۔پھر خمار اُترتے ہی ٹیس اور زیادہ محسوس ہوتی۔
پیاسی مٹی کی مانند ۔۔۔جس کی روح پر محبتوں کی رم جھم لمحوں میں جذب ہو جائے اور وہ پہلے سے بھی زیادہ بکھر بکھر جائے۔ یوں جیسے جلتے بدن پر پانی کا قطرہ تسکین کی بجائے نارسائی کا کرب مزید بڑھا دے۔ جلوت میں ساتھ نبھاتے آشنا چہرے اجنبی دکھتے جو دیکھ کر بھی نہ جانتے تھے اور جان کر بھی نہ سمجھتے تھے۔ قریب تھا کہ بند آنکھوں سے وہ اس آسیبی خلا میں کہیں کھو جائے یکدم اس کی خلوت میں آگہی اورعلم وعرفان کی گھنٹیاں بجنے لگتیں۔۔۔ آنکھ کھلتی۔ اپنا آپ نظر آتا۔ بےلباسی کی حد کو پہنچ کراپنا لباس دکھائی دیتا تو کچھ سکون کا احساس ہوتا۔۔۔اپنا آپ ٹٹولتی۔۔۔ بچا کچا مال ومتاع سمیٹتی اور رب کا شکر ادا کرتی کہ اس کی توفیق سے سب لٹا کر بھی ذات کا بھرم قائم تھا۔۔۔رشتوں کا تقدس برقرار تھا اور سب سے بڑھ کر اپنے خالق پر یقین پہلے سے زیادہ مضبوط تھا کہ وہ دیتا ہے تو بےحساب دیتا چلا جاتا ہے اور جب توبہ کا در بند کر دے تو پھر کسی معافی کی گنجائش نہیں بچتی ۔
اُن کی خلوت جلوت کا یکساں نہ ہونا اگراُن کے بیچ باہم تضاد تھا تو یہی اُن کے مابین اصل کشش بھی تھا۔ وہ اپنے اپنے دائروں میں گردش کرتے ایسے ذرات تھے کہ جتنی تیزی سے قریب آتے اُتنی ہی قوت سے دوربھی ہوتے۔ یہ عذاب تھا تو یہی باعثِ نجات بھی تھا جو ایک دوسرے کے مدار میں داخل ہونے سے روکتا تھا۔
تقدیر کے پھیر میں اگر اُن کی خلوت اور جلوت ایک ہی رخ پر مل جاتی یا وہ ایک دوسرے کی جلوت اور خلوت کو آپس میں بدل لیتے تو شاید ایک بڑے دائرے میں شامل ہو کر لمحاتی قرار توپا لیتے لیکن اُن کے اپنے دائروں کے مکین تقدیر کے بلیک ہول میں بھٹکتے رہ جاتے۔
!آخری بات
یہ محض افسانہ ہی نہیں حقیقتِ انساں بھی ہے۔۔۔ شرکِ دُنیا کی داستان بھی ہے۔۔ مجازی سے حقیقی کے سفر کی منازل کہانی بھی ہے۔اورعورت مرد کے ازلی تعلق کا تسلسل بھی ہے۔۔۔ کبھی مرد اپنی ذات میں اتنا مکمل اتنا آسودہ دکھتا ہے کہ کسی مدہم سی کسک،موہوم سی خلش کا شائبہ تک نہیں ہوتا۔اسی طرح عورت جو دیکھنے میں موم۔۔۔برتنے میں کانچ۔۔۔پڑھنے میں کھلی کتاب اور سمجھنے میں لاحاصل تحریر کی مانند نظر آتی ہے۔۔۔اُس کا عزم اور حوصلہ اتنا مضبوط بھی ہوتا ہے کہ اپنا آپ فنا کر کے وہ اپنا یقین بچا لیتی ہے۔

"انتساب۔۔۔ مستنصرحسین تارڑ"

نکلے تری تلاش میں
۔۔۔نیم لفٹین مبشر کے نام
 اندلس میں اجنبی
۔۔۔کیپٹن پائلٹ ساجد نذیر  شہید کے نام

خانہ بدوش
۔۔۔۔اباجی کے لیے جو میری پہچان ہیں
(چوہدری رحمت خان تارڑ)
ہنزہ داستان
۔۔۔۔امی جان کے لیے
 کےٹو کہانی
 ۔۔۔امی جی ابا جی
آپ کے جانے کے بعد
میری کمر پر کوئی تھپکی نہیں دیتا۔
مجھے کوئی بےوجہ دعائیں نہیں دیتا۔
پیار کا پہلا شہر
میمونہ کے نام

پرندے
۔۔۔۔سلجوق،سُمیر اور قرہ العین مستنصر کے نام
 راکھ
۔۔۔۔سُمیر تارڑ کے نام
دیوسائی
۔۔۔۔لاڈو بیٹی عینی کے نام
 پُتلی پیکنگ کی
۔۔۔۔عینی اور بلال کے نام
برفیلی بلندیاں
۔۔۔سلجوق اور رابعہ کے نام
سُنہری اُلو کا شہر
۔۔۔۔اپنےنواسےنوفل اور پوتی مشال کے نام
گزارا نہیں ہوتا
۔۔۔برادرِعزیز نیاز احمد کے لیے
جپسی
۔۔۔۔۔اعجاز  احمد کے نام
 چترال داستان
۔۔۔اعجاز احمد کے لیے
شمشال بےمثال
۔۔۔۔ پیارے افضال احمد کے نام
اےغزالِ شب
۔۔۔۔۔نیاز احمد کے نام
ہزاروں ہیں شکوے
۔۔۔شفیق الرحمٰن کے نام
یاک سرائے
۔۔۔احمد داؤد کے نام
سفر شمال کے
۔۔۔پسّو کے ماسڑ حقیقت کے نام
سنو لیک
۔۔۔۔۔تلمیذ حقانی کے نام
 الاسکا ہائی وے۔۔
۔۔۔۔ چنار کے ایک خزاں رسیدہ پتے کے نام۔۔
کُونج کے نام جو میری سفری رفیق تھی۔۔
اور یار ِ بےمثال تلمیذ حقانی کے نام
نیپال نگری
۔۔۔۔گندھارا کے مہاتمابدھ کے نام
  نانگا پربت
منہ ول کعبہ شریف


فاختہ

بہاؤ






2014لاہور سے یارقند تک ۔۔
پکھیرو۔

ماسکو کی سفید راتیں
 
قربتِ مرگ میں محبت
خس وخاشاک زمانے











امریکہ کے سو رنگ ( اگست 2015)۔
آسٹریلیا آوارگی(اگست2015)۔
راکاپوشی نگر(اگست2015)۔


منگل, فروری 24, 2015

"سوال کی موت"



صرف ایک بات کا خیال کیا جائے تو آپ کی اینگزائیٹی ختم ہو سکتی ہے۔وہ یہ ہے۔
زندگی میں کبھی خدا بننے کی کوشش نہ کرنا اور نہ کبھی رسول بننے کی۔
جو چاہا وہ ہوجائے،وہ خدا ہوتا ہے جو مانگا وہ مل جائے وہ رسول ہوتا ہے۔

 کتاب سوال کی موت  پڑھنے کے بعد میرا احساس ۔۔۔
 سال 2014 کے آخری مہینے میں بغیر کسی خاص چاہ یا کوشش کے اچانک ملی اور پھر بقول شاعر۔۔
۔۔"چراغوں میں روشنی نہ رہی "۔ 
سوال کے جتنے بھی چراغ وجود کے ویران قبرستان میں ٹمٹمانے کی لاحاصل سعی کرتے تھے۔۔۔۔ ورق ورق پلٹنے پر یوں سامنے آتے گئے کہ لگا جیسے کسی نے وہ چوری پکڑ لی ہو جس کو دل کے سب سے اندھے گوشے میں اپنی نظر سے بھی بچا کر چھپایا گیا ہو۔
یہ کتاب کیا ہے ایک آئینہ ہے۔۔۔۔جس میں دیکھتے ہوئے ڈر لگتا ہے تو چھوڑنے کو بھی جی نہیں چاہتا۔۔۔ اگر اندر کا اندر دکھتا ہے تو ایک ایسا ساتھ بھی محسوس ہوتا ہے جو بن کہے۔۔۔ بنا جھگڑا کیے سوچ سفر کے ہر موسم میں روح کی پرواز کا رازداں ہے۔
 اس کتاب میں کل  48 افسانے ہیں ۔ جودرج ذیل لنک پر کلک کر کے  پڑھے جا  سکتے ہیں۔ اس لنک میں  شروع کے نو افسانے موجود  نہیں جن میں کتاب کے نام 'سوال کی موت' والا ایک بہت اہم افسانہ بھی شامل ہے۔
 شروع کے نو افسانوں کے نام ۔۔۔
٭ 1) ظرف۔۔۔
٭ 2)ہجرت کا سکندر
٭3) کتاریس
٭5) علیم وخبیر
٭6) دوست
٭7) جنازگاہ
٭8)سوال کی موت
٭9)دائرہ
 آخر میں جناب طارق بلوچ صحرائی کے الفاظ میں دعا ۔۔۔
اللہ ہم سب کو لاحاصل محبتوں کا ظرف عطا فرمائے۔آمین

"کیمیا گر"


ناول: ایلکیمِسٹ
مصنف: پالو کولہو
زبان: 60 سے زائد تراجم
مضمون: محمد احسن ۔تحریر 27جنوری2015
صاحب ِ تحریر نےیہ کتاب پڑھی۔۔۔ 25جنوری 2015
الکیمسٹ مجھے تب پڑھنے کا اتفاق ہوا جب میں اپنی چاروں کتب پبلش کروا چکا تھا… اور کچھ کرنے کو نہ تھا۔ تب میں نے اِسے
 پڑھا۔ الکیمسٹ حالانکہ ایک ایسے غیرمسلم کا ناول ہے جو غیرمسلم ہوتے ہوئے بھی بہت کچھ ڈسکور کر گیا۔ اِس کتاب کو پڑھنے   کے لیے باقاعدہ اشارات ملتے ہیں… مَیں متاثر ضرور ہوتا ہوں مگر تب جب کائنات اشارات دینا شروع کر دے الله علم کی پیاس رکھنے والے کا ضرور مناسب انتظام کرتا ہے۔۔"
میں یہ مضمون فِیڈ بیک کے طور پر نہیں لکھ رہا کیونکہ نہ تو میں کیمیاگر ہوں، نہ ساحر ہوں… مگر کچھ کیمیاگروں کو جانتا ضرور ہوں۔ بس یوں سمجھیں کہ ہسٹریائی انداز میں اپنے آپ سے مخاطب ہوں، خودگویائی پر مجبور ہوں۔
یہ ایک ناول ہے جو لفظ کی جادوگری سے تعلق رکھتا ہے… اور مَیں ہیری پورٹر کی طرح لفظ کی جادونگری کا ایک طفلِ مکتب ہوں… بس اسی مناسبت سے کچھ نہ کچھ کہنے کی خواہش رکھتا ہوں۔
میری چوتھی کتاب ”آئزک نیوٹن“ پڑھ چکنے والے بخوبی جان چکے ہوں گے کہ نیوٹن کو دنیا ریاضی دان اور طبیعات دان کے طور پر جانتی ہے، وہ بنیادی طور پر ایک زبردست کیمیاگر تھا مگر اُس نے کبھی کسی کو بتایا نہیں ورنہ تختہ دار پر ٹانگ دیا جاتا، اُس زمانے کا یہی رواج تھا۔ نیوٹن نے کائنات کو سمجھنے کے لیے ریاضی کی ایک مخصوص قِسم ایجاد کی جسے دنیا ”کیلکولس“ کہتی ہے۔ سائنسی تاریخ کے مطابق کیلکولس نیوٹن نے نہیں، یورپ کے ایک اور ریاضی دان لیبنیز نے ایجاد کی تھی۔ نیوٹن نے اصل میں کیلکولس کی ہمشکل ریاضی ”فلکس ژیون“ ایجاد کی تھی۔ نیوٹن اور لیبنیز دونوں عرصہ دراز تک پریشان رہے کہ دونوں میں سے کسی نے ایک دوسرے کو نہ تو نقل کیا تھا اور نہ ہی ایک دوسرے سے ملے تھے، نہ ایک دوسرے کو جانتے تھے، پھر یہ کیسے ممکن ہوا کہ دو انجان افراد مختلف سرزمینوں میں رہتے ہوئے ایک ہی چیز ایجاد کر لیں۔ بہرحال، یہ عقدہ ابھی صدیوں بعد کھلنا تھا مگر کیلولس نیوٹن کے نام ہوئی جو فلک ژیون ہی تھی۔
اِسی طرح ریڈیو کی ایجاد کے پیچھے بھی اِسی طرز کی کہانی ہے کہ مغرب میں مارکونی نامی اٹالیئن طبیعات دان نے ریڈیو ایجاد کیا جبکہ اُس وقت ایک ہندوستانی باشندہ جگدیش چندرہ بوس ہندوستان میں رہ کر ریڈیو ایجاد کر چکا تھا۔ چونکہ وہ ہندوستانی تھا، اِس لیے ظاہر ہے ایجاد کا سہرہ مغرب کے سر ہی پہنایا گیا۔
سوال یہ ہے کہ ایک ہی ایجاد دو مختلف علاقوں میں کیسے ہو جاتی ہے؟ بہرحال، اِس کا جواب آسان نہیں، مگر موجود ضرور ہے۔
ایک ہی ایجاد دو مختلف غیرمتعلقہ جگہوں پر معرضِ وجود میں آ جاتی ہے، یہ کائناتی شعور کا چکر ہےجو ہرجانداروبےجان میں بیک وقت موجود ہے۔
کائنات بہت وسیع معنی رکھتی ہے. 96.7% عالمِ غیب ہے اور 3.3% ظاہر. لہذا جو کچھ بھی ہے.. جتنی بھی جہتیں ہیں.. سب کائنات ہے۔
ہر انسان نے لاشعوری طور پر کسی دوسرے انسان کی میگنیٹک فیلڈ میں کچھ وقت گزارنا ہوتا ہے تاکہ بلندیوں کی کچھ انرجیز یا تو لے سکے یا دے سکے… سب لاشعوری طور پر سرانجام پاتا ہے۔
……… علم کائنات ہر کسی پر اِسی لیے آشکار نہیں۔ بڑا بوجھ ہوتا ہے۔ الله اتنا مہربان ہے کہ بندوں پر علم کا بوجھ بھی نہیں ڈالنا چاہتا جب تک کسی کو اِس قابل نہ کرے۔ جب علم اور تخیل اپنی معراج پر پہنچ کر گھٹنے ٹیک دیں تو تب کائناتِ حیرت طاری ہوتی ھے.. تو پھر حیرت سے آگے اور کونسا مقام ہو گا؟ ہاں، مقامِ عشق اُس کے بعد آتا ہے اور پھر فنا. "اب کسی کا کسی سے ملنا... ایک کائناتی منصوبہ بندی ہے.. کیسے؟ یہی اس کتاب کا موضوع ہے۔
میں نے پالو کا صرف الکیمسٹ ناول پڑھا ہے۔ میں الف لیلیٰ داستان بھی پڑھ چکا ہوں۔ عرب معاشرہ دکھانے کے لیے تھوڑی بہت مماثلت ضرور پیدا کی ہو گی… یہی ناول کی تعریف ہے کہ کسی علاقے کی تاریخ اور لوک داستانوں کو بموقع استعمال کیا جائے۔ سفرنامہ میں ایسی کوئی گنجائش نہیں ہوتی، جہاں تاریخ یا لوک داستان کا تذکرہ کرنا ہو، سیدھا سیدھا بتانا ہوتا ہے کہ یہ بات فلاں کتاب میں درج ہے۔ تارڑ صاحب کا ناول ”خس و خاشاک زمانے“ حضرت فرید الدین عطار کے ناول ”منطق الطیر“ کے کچھ حصے رکھتا ہے۔
یہ اوپر کی گئی کچھ باتیں محض تمہید ہیں۔بات یہ کہنا چاہتا ہوں کہ مَیں اپنی کتاب کائنات (داستانِ کائنات، انگلستان میں سو رنگ) میں کچھ برس قبل انفرادی و کائناتی شعور پر بات کر چکا ہوں جو کہ ہوبہو الکیمِسٹ ناول میں ”روحِ کائنات“ اور ”زبانِ کائنات“ہے اور اِسی تناظر میں ایک فرد کی حیثیت پر کہانی تخلیق کی گئی ہے۔ ایسے لگا کہ میں اپنے ہی خیالات کو ذرا تخیلاتی انداز میں اپنے کسی معتبر معلم کی زبانی سُن رہا ہوں۔اور یہ معتبر معلم پالو کولہو برازیل سے تعلق رکھتے ہیں۔ دنیا میں سب سے زیادہ ترجمہ کیے جانے والے مشہور ترین ناول نگار بننے سے پہلے آپ موسیقار بھی رہے، جہاں گرد بھی رہے اور کئی برِاعظمی مسافتوں کے گلزار و صحرا پیادہ پا سفر کیا… پھر ہِپی (بھٹکے ہوئے درویش کہہ لیجیے) بن کر لمبے لمبے بال بھی رکھے، نیپال اور دیگر غریب ممالک کی سڑکوں پر سوتے، اور خوب خوب سُوٹے لگاتے۔ بعد میں اِنہوں نے کئی ناولز لکھے جن میں الکیمِسٹ کو دوام حاصل ہوا۔
مجھے امید ہے کہ احباب کو یہ ناول ضرور پسند آئے گا… اِسی وجہ سے میرا سفرنامہ ”انگلستان میں سو رنگ“ بھی سمجھ آ جائے گا۔ وہ سوال کہ ایک ہی ایجاد دو مختلف علاقوں میں کیسے ہو جاتی ہے؟ اِس کا جواب ”کائنات“ اور ”ایلکیمِسٹ“ دونوں میں موجود ہے… اور دونوں کی یہی کہانی ہے… اور یہ صِرف چند مثالیں ہیں، یہ کائنات مثالوں سے بھری پڑی ہے۔
اگر آپ اِس ناول کو پی ڈی ایف میں پڑھنا چاہیں تو لنک مندرجہ ذیل ہے۔
https://drive.google.com/file/d/0B5nw1ai4SYYSa3Fhbll5dUlnU1E/view?usp=sharing‎
۔"الکیمسٹ" اردو میں پڑھنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں ۔  ۔
http://aiourdubooks.net/alchemist-novel-paulo-coelho-urdu-pdf/
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  جناب محمد احسن کی اس پوسٹ پر میرا احساس ۔۔۔۔اور جناب محمد احسن کے جواب
فروری 15 ۔۔2015
کیمیاگر۔۔۔۔ پڑھنے کے بعد میرا بےساختہ اظہار۔۔۔
وہ سوال کہ "ایک ہی ایجاد دو مختلف علاقوں میں کیسے ہو جاتی ہے؟ اِس کا جواب ”کائنات“ اور ”ایلکیمِسٹ“ دونوں میں موجود ہے… اور دونوں کی یہی کہانی ہے… اور یہ صِرف چند مثالیں ہیں، یہ کائنات مثالوں سے بھری پڑی ہے"۔۔۔۔۔ 
سوال جواب کی یہ کہانی ہزار مثالوں سے بھی سمجھا دی جائے لیکن صرف "صاحب حال " ہی اس کا اصل مفہوم جان سکتا
ہے۔یہاں میں صرف جناب پروفیسراحمد رفیق اختر کا ایک جملہ لکھنا چاہوں گی کہ اُس پانچ حرفی جملے میں ہر سوال کا جواب اور ہرالجھن کی تشفی موجود ہے۔۔۔۔۔ " علم کی انتہا حیرت نہیں"۔۔۔
علم کی انتہا حیرت نہیں۔ لیکن اپنی ذات کا علم ضرور ہمیں ورطۂ حیرت میں ڈال دیتا ہے۔
محمد احسن۔۔۔
حیرت.. جب علم اور تخیل اپنی معراج پر پہنچ کر گھٹنے ٹیک دیں تو تب کائناتِ حیرت طاری ہوتی ھے.. تو پھر حیرت سے آگے اور کونسا مقام ہو گا؟ ہاں، مقامِ عشق اُس کے بعد آتا ہے اور پھر فنا. آپ کے خیال میں علم کی انتہا کس کیفیت پر ختم ہوتی ہے؟
میں ۔۔۔۔
میرا خیال!!! صرف میری خودکلامی یا سرگوشی کہہ لیں جو صرف میرے کان ہی سن سکتے ہیں یا محسوس کر سکتے ہیں ۔ پھر بھی آپ نے پوچھا تو کہے دیتی ہوں ۔میرے نزدیک علم کی انتہا ۔۔۔۔ حق الیقین کی وہ کیفیت ہے جو دنیا میں آنکھ بند ہونے کے آخری لمحے آنکھ پر وارد ہوتی ہے۔ کہ اس لمحے اندر کی آنکھ کھل جاتی ہے۔اس کیفیت کا بیان پاک کتاب اور احادیث رسول ﷺ سے تو ثابت ہے لیکن فانی انسان۔۔۔۔ جو اس کیفیت کا امین ہے۔ وہ اظہار کی قدرت کھو دیتا ہے۔
محمد احسن۔۔۔
حق الیقین تو فنا کی کیفیت ہے... زبردست
میں ۔۔۔
ہمارا اپنا دل اور دماغ اس کو کس حد تک تسلیم کرتا ہے۔ ہماری مقدس کتاب کا موضوع انسان ہے اور انسان کے پڑھنے کے لیے اس میں صرف ایک پیغام ہے ۔۔۔ "غور کرو"۔
اللہ آپ کی عمر میں برکت عطا کرے اور نہ صرف اپنے لیے بلکہ انسانیت کے لیے بھی علم کے حوالے سے ایسے رازوں سے پردہ اٹھا سکیں جن کا جاننا ہمارے لیے باعث نجات اور ہمارا مقصد تخلیق بھی ہے۔

جمعہ, فروری 20, 2015

"سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں "

سنا ہے لوگ اُسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
 تو اس کے شہر میں‌ کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سے
 سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے درد کی گاہک ہے چشمِ ناز اس کی
 سو ہم بھی اس کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کو بھی ہے شعروشاعری سے شغف
 تو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں
 یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے
 ستارے بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں
 سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے حشر ہیں‌ اس کی غزال سی آنکھیں
 سنا ہے اس کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں‌ کاکلیں اس کی
 سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کی سیاہ چشمگی قیامت ہے
 سو اس کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے جب سے حمائل ہیں اس کی گردن میں
 مزاج اور ہی لعل و گوہر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کے بدن کی تراش ایسی ہے
 کہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں
 سو ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے آئینہ تمثال ہے جبیں اس کی
 جو سادہ دل ہیں‌ اسے بن سنور کے دیکھتے ہیں
سنا ہے چشمِ تصور سے دشتِ امکاں میں
 پلنگ زاویے اس کی کمر کے دیکھتے ہیں
وہ سرو قد ہے مگر بے گل مراد نہیں
 کہ اس شجر پہ شگوفے ثمر کے دیکھتے ہیں
بس اک نگاہ سے لوٹا ہے قافلہ دل کا
 سو رہ روان تمنا بھی ڈر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کے شبستاں سے متُّصل ہے بہشت
 مکیں‌ اُدھر کے بھی جلوے اِدھر کے دیکھتے ہیں
کسے نصیب کہ بے پیرہن اسے دیکھے
 کبھی کبھی در و دیوار گھر کے دیکھتے ہیں
رکے تو گردشیں اس کا طواف کرتی ہیں
 چلے تو اس کو زمانے ٹھہر کے دیکھتے ہیں
کہانیاں ہی سہی ، سب مبالغے ہی سہی
 اگریہ  خواب ہے تعبیر کر کے دیکھتے ہیں
اب اس کے شہر میں‌ٹھہریں کہ کوچ کر جائیں
 فراز آؤ ستارے سفر کے دیکھتے ہیں‌

منگل, فروری 17, 2015

"توازن"

مالک کی تخلیق کردہ کائنات سے لے کر آنکھوں پر آشکار ہوتی ہماری دُنیا تک ہر چیز کی بنیاد توازن ہے۔
توازن یعنی برابری ۔۔۔اعتدال۔۔۔ مادے کی صفتِ اول جس کے بغیر کوئی وجود اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتا۔
سوچ کی محدود پرواز سے اس لامحدود خاصیت کا احاطہ کائنات کے ہر ذرے میں کیا جا سکتا ہے۔ توازن ہماری زندگی کی وہ آکسیجن ہے جو کیمیائی آکسیجن کی طرح بےرنگ، بےبو اوربےذائقہ ہے توغیر مرئی بھی۔۔۔ ہمارے وجود کے ہر گوشے میں اس کا احساس ضرور ہے لیکن ہمیں اس کا ادراک نہیں ہوتا جب تک کہ اس میں بال برابر بھی کمی نہ آجائے۔
توازن دُنیا کا وہ سب سے نازک پیمانہ ہے جس میں کسی طرف ذرا سا بھی جھکاؤ سارے سسٹم کو زیر زبر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ توازن ترازو کے دو پلڑوں کے برابر ہونے کا نام ہے۔ ایک میں وزن کم ہو گیا تو دوسرے میں لازمی بڑھ جائے گا۔۔۔یہ جھکاؤ بظاہر کتنا ہی زندگی بخش کیوں نہ دکھتا ہو لیکن ایک پورے نظام کو تباہ کرنے کے لیے کافی ہے۔
کائنات کا سسٹم رب نے اپنے اختیار میں رکھا ہے اور انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ دے کر عقل وشعور سے آراستہ کر کے کسی حد تک توازن کا عمل اُس کے حوالے ہے۔یہ اعزاز ہے اور امتحان بھی کہ انسان کہاں تک اپنے آپ کو اس کا اہل ثابت کرتا ہے۔
انسان کے اختیار کی بہت سے جہت ہیں ۔ جسمانی توازن ذہنی توازن کے تابع ہے ۔ ذہنی توازن درست ہو تو جسمانی توازن کی کمی بیشی کو سنبھال لیتا ہے۔ لیکن مکمل جسمانی توازن ذہنی توازن کے معمولی سی بھی فرق سے ڈگمگا جاتا ہے۔ زندگی کے ابتدائی پانچ عشرے انسان کی ذہنی اورجسمانی صلاحیت کی فتح کے ہوتے ہیں۔ اس کے بعد اس کی بقا کا توازن جسمانی صحت کی طرف چلا جاتا ہے۔پچاس سال کی عمر تک انسان اپنی قوتِ ارادی کے عروج پر ہوتا ہے ذہنی طور پر صحت مند ہو تو جسمانی صحت بھی شاندار رہتی ہے۔۔۔ زندگی کے مسائل کا بڑی بےجگری سے سامنا کرتا ہے۔ جسمانی عوارض میں مبتلا بھی ہو جائے تو مثبت سوچ توانائی دیتی ہے۔جسمانی اورذہنی توازن سے ہٹ کراحساسات اور رویوں میں توازن بھی اتنی ہی اہمیت رکھتا ہے۔ یوں تو عمر کے کسی بھی مرحلے میں رویوں میں اعتدال کی اہمیت سے انکار نہیں لیکن اس توازن کی سب سے زیادہ ضرورت اوائل عمر سے ادھیڑ عمر تک ہے۔یہی انسان کے دنیاوی اور ابدی سکون کا پیمانہ بھی ہے۔
اپنی ذات کی پہچان کے حوالے سے انسان اکثر حدِ اعتدال کو عبور کر جاتا ہے۔ احساس برتری اوراحساسِ کمتری جیسے رویے شخصیت کا توازن برباد کر دیتے ہیں۔ جب ان کا قریب سے جائزہ لیا جائے تو کہانی کچھ اورہوتی ہے۔ برتری کے نشے میں رہنے والے بہت بونے ملتے ہیں یا یوں کہہ لیں ڈھول کی طرح پرشور اوراندر سے خالی۔ جبکہ کمتری کی کھائی میں گرنے والے اپنی پہچان سے ناآشنا۔۔۔اندھیروں کو ہی زندگی کا حاصل جان کر زندگی کی بند گلی میں سر ٹکراتے رہتےہیں۔ نہیں جانتے کہ بند گلی میں کسی درز سے تازہ ہوا کا جھونکا بھی منتظر ہے۔ انسان وہی ہے جو صرف ایک بات جان لے کہ وہ کچھ بھی نہیں جانتا۔

بدھ, فروری 11, 2015

" ماں کی باتیں"


 پچیس برس کا سفرِزندگی  مکمل ہونے پر۔۔۔ماں کا احساس بیٹے کے نام۔۔۔۔  
 کچھ باتیں یاد رکھنے کے لیے۔۔۔۔
 ضرورت۔۔۔۔۔
پیسہ ہر ضرورت پوری کر سکتا ہے لیکن پیسے کو کبھی ضرورت نہ بننے دو۔ پیسہ اگر ضرورت بن جائے تو یہ وہ ضرورت ہے جو کبھی   بھی پوری نہیں پڑتی۔ پیسے کی عزت  کرو اس سے محبت نہ کرو۔
کتاب۔۔۔۔۔
 انسان کی زندگی ایک کتاب کی مانند ہےکسی بھی ادھوری کتاب کے مطالعے سے نتائج اخذ کرنے کی کوشش اُلجھا کر رکھ دیتی ہے۔ہمارے آس پاس بسنے والے انسان اور مقدر کے رشتے ہمیں ہر گھڑی کوئی نہ کوئی نیا سبق دیتے ہیں۔ہر سبق پر دھیان دو اور اُس کی اہمیت کو تسلیم کرو۔ خاموشی سے ہر رنگ کو بس دیکھتے جاؤ محسوس کرو۔ مکمل تصویر اسی وقت سامنے آتی ہے جب کسی کی کتاب ِزندگی بند ہو جائے۔
ہمارے ماں باپ اپنی زندگی میں کبھی ہمارے رول ماڈل نہیں ہوتے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ہم آج جو بھی ہیں جیسے بھی ہیں۔۔۔اِن ہی کی بدولت ہیں۔۔۔ہمارے جذبات واحساسات کی بنیادوں میں اِن کا ہی رنگ ہوتا ہے۔بعد میں ماحول ۔وقت اور انسان کی  اپنی انفرادی صلاحیت جو رب کی طرف سے ہر انسان  کے لیے خاص ہے اس کے بل پر شخصیت  کا اصل حسن اورکردار کی بلندی وپائیداری واضح ہوتی ہے۔ زندگی کے پہلے قدم پر جو رشتے ہمارے ہمراہ ہوتے ہیں اور ہمارا ہر بڑھتا قدم اِن کی آنکھوں میں جُگنو بن کر چمکتا ہے،جب وہ بچھڑ جاتے ہیں تو ہماری زندگی کی صبح سے اُن کی زندگی کی شام تک کی روشنی ہمارے لیے آنے والی زندگی کا سب سے اہم سبق ضرور ہوتی ہے۔ اُن کی بند کتاب زندگی ہمارے لیے اپنی زندگی سنوارنے سمجھنے کا بہترین موقع ضرور دیتی ہے۔ اُن کی حیات میں بےشک اس بات کی چنداں اہمیت نہیں ہوتی اور دے بھی نہیں سکتے کہ ہمارے اور اُن کی سوچ  کے بیچ ایک نسل کا فرق ہوتا ہے۔ لیکن ان کے جانے کے بعد اگر ہم اُن کو یک لخت فراموش کر دیں ۔۔۔خواب سمجھ کر بھول جائیں تو آنے والی زندگی میں ہمارا وجود ترقی اور کامیابی کے آسمانوں  کو تو چھو سکتا ہےلیکن اپنے اندر کا خالی پن ایک مکمل خاندان کے ہوتے ہوئے بھی  ہمیشہ کی تنہائی کا اسیر بنا  دیتا ہے۔
انسان۔۔۔۔
انسان کے ساتھ اور اُس کی ہماری زندگی میں اہمیت سے انکار نہیں۔لیکن اپنے شرف  اور وقار کو ملحوظ رکھتے ہوئے ہر فیصلہ کرنا چاہیے۔ عزت ہر رشتے ہر احساس میں اولیت رکھتی ہے اور  محبت جیسا قیمتی اور انمول تحفہ  بھی اگر عزت کے غلاف میں لپٹا ہوا نہ ہو تو  بہت جلد اپنی قدروقیمت  کھو دیتا ہے۔
 چراغ ۔۔۔۔
 چراغ تلے ہمیشہ اندھیرا ہوتا ہے۔لیکن ! چراغ اُن ہاتھوں کو ضرور رستہ دکھاتا ہے جو اُسے تھامے رہتے ہیں۔۔۔ نہ صرف اس کی زندگی بلکہ اپنے لیے راہ کی روشنی  کی خاطر۔ یاد رکھو زندگی میں "ناقدر شناسی" سے بڑی جہالت اور سوچا جائے تو اس سے بڑا گناہ اور کوئی نہیں کہ یہ شکر سے دور کرتا ہے اور شکر سے دوری "شرک" ہے۔جس کو "گناہ عظیم" کہا گیا ہے۔
 کرکٹ۔۔۔۔
 زندگی ایک کھیل ہی تو ہے۔۔۔اسے ٹیسٹ کرکٹ کی طرح کھیلو لیکن ون ڈے اور ٹی ٹوینٹی کی کے لیے بھی وقت ضرور نکالو۔لگی بندھی رفتاراور ناپ تول کر اپنے "شاٹ" کھیلنے سے شاید زندگی کی پچ پر ٹھہرنے کا بہت سا وقت تو مل جاتا ہے اور نام بھی ہوتا ہے۔پر اس طرح نہ صرف دیکھنے والی نظریں اُکتا جاتی ہیں بلکہ انسان کے اپنے اندر بھی تھکاوٹ گھر کر لیتی ہے۔ جب بھی موقع ملے کوئی چونکا دینے والا شاٹ ضرور کھیلو۔۔۔اس سے اپنے اندر کا جمود ٹوٹتا ہے۔یاد رکھو پہلا شاٹ کھیلنے میں کبھی جلدی نہ کرو ،دوسرے کو پہل کا موقع  دینا بظاہر تو پسپائی دکھتا ہے لیکن آنے والا وقت بہتر فیصلہ کرتا ہے۔ جلدبازی کبھی بھی نہیں۔پہلے شاٹ کا جواب دے کر بھی دفاعی حکمتِ عملی  سے پیچھے نہ ہٹنا۔ یہ نظر کا دھوکا بھی ہوسکتا ہے۔ بال ہمیشہ دوسرے کے کورٹ میں رہنے دینا بہت سے غلط فیصلوں اور بدگمانیوں سے بچا لیتا ہے۔ 
پطرس بخاری کا کہنا  ہے۔۔۔ کام کے وقت ڈٹ کر کام کرو تا کہ کام کے بعد ڈٹ کر بےقاعدگی کر سکو۔
 موت۔۔۔۔۔۔
  زندگی کی سب سے بڑی حقیقت  موت ہے۔ یہ  سامنے کا وہ منظر  ہے جو کبھی  دکھائی نہیں دیتا جب تک  ہم پر وارد نہ ہو ۔۔۔ یا ہماراچاہنے والا اس سفر پر روانہ نہ ہو۔ ماں باپ انسان کو دُنیا کا ہر سبق پڑھانے سمجھانے کی اہلیت رکھتے ہیں لیکن یہ سبق صرف وقت ہی سمجھاتا ہے۔ہم زندگی  میں بےشک اپنی مرضی سے اپنے فہم کے مطابق ہر سوچ ہر عمل کا اختیار رکھتے ہیں۔لیکن  اپنے ماں باپ کے آخری وقت اور ان کی جدائی  کے لمحات میں  اپنےبڑوں کے طرزِعمل کو  رول ماڈل  جان کر ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے۔ یہ نہ صرف ہمارے ماں باپ کی تربیت کا امتحان ہوتا ہے بلکہ  اس سے کہیں آگےاللہ سے ہمارے تعلق  کی اصل کہانی کہ ہم رب کے  فیصلے کو مانتے ہیں یا اپنی خواہش کو  خدا مان کر رب سے لڑتے جھگڑتے ہیں۔
زندگی۔۔۔۔۔
  زندگی زندہ رہنے کی خواہش کا نام ہے۔۔۔ اس خواہش کو زندہ رکھنا چاہتے ہو تو "شُکر" کو اپنی زندگی کا اُوڑھنا بچھونا بنائے رکھنا۔"شرک" سے ایسے بچو کہ ہر سانس میں اس سے پناہ مانگو۔ اگر اس پلِ  صراط پر چلنے میں ذراسی بھی کامیابی حاصل کر لی تو یاد رکھو صرف اپنی نظر میں دلی سکون والی " قابل ِ رشک" زندگی تمہارے سامنے ہو گی۔
۔۔۔۔۔
فروری 11۔۔۔2015
اس سے منسلک بلاگ۔۔۔۔پچیس برس کا قصہ

"پچیس برس کا قصہ"

سال کے تین سوپینسٹھ دنوں میں ایک دن ایسا ہے جو ہر انسان کی زندگی میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔۔۔اُس کا جنم دن۔۔۔
میرے بیٹے سال کے اس خاص دن کے خاص مرحلے میں جب تم پچیس کے ہندسے  کو عبور کرنے والے ہو تو تمہاری کہانی تمہارے لیے۔۔۔کچھ وہ جو تم نہیں جانتے۔۔۔۔کچھ وہ جو تم جانتے ہو اور کچھ وہ جو میں بھی نہیں جانتی لیکن ! پھر بھی کہہ دیتی ہوں۔
اگر آج اس لمحے ایک لفظ میں تمہیں بیان کرنا چاہوں تو وہ ہے "قناعت"۔
یہ مئی 1989 کی بات ہے جب تم اتنی خاموشی سے میرے وجود کا حصہ بنے کہ مجھے ذرا سا بھی گمان نہ ہوا۔ تمہارا بڑا بھائی اس وقت صرف چار ماہ کا ہی تو تھا ۔تم نے اُس کے حصےسے کچھ بھی نہ مانگا۔۔۔محبت۔۔۔توجہ اور نہ ہی ضرورت۔ وہ آج بھی ویسا ہی ہے جیسا پہلے تھا اپنی چیزوں پر اپنا حق جتانے والا۔ خیر بڑی مشکل سے رو دھو کر کچھ بیمار رہ کر چند ماہ بعد اس نے تمہیں مان ہی لیا۔محبتوں کی خوشبو ماں کے وجود کی مانوس مہک پر غالب آ گئی اور وہ بہت جلد اپنی دُنیا میں بڑا ہو گیا۔یہ بھی عجیب قانون قدرت ہے کہ جیسے ہی دوسرا بہن یا بھائی آتا ہے پہلا بچہ فوراً بڑا اور سمجھ دار ہو جاتا ہے لیکن اُس کے اندر سے اپنی جگہ چھن جانے کا لاشعوری احساس زندگی بھر پیچھا نہیں چھوڑتا۔ اسی دوران چھ جنوری کواُس کی پہلی سالگرہ بڑی دھوم دھام سے منائی گئی۔۔۔ تمہاری خوشبو سے مہکتا میرا عکس عجیب بہار دے رہا تھا۔ اتوارگیارہ فروری 1990 کو شام کے سات بجے تم  بنا کسی کو مشکل میں ڈالے یوں دُنیا میں آئے کہ ماں کو نہ سوئی چُبھنے جتنی تکلیف ہوئی اور نہ ہی کسی رفوگری کی ضرورت پڑی۔ ایک سال بڑے گول مٹول سے بھائی کی نسبت تم چھوٹے سے تھے بہت نازک۔ وہ اگر سب کی محبتوں کا مرکز تھا تو تمہیں صرف میری آنکھ ہی محسوس کرتی تھی۔ شاید اسی لیے وہ اس وقت سے ہی مجھ سے دور ہوتا چلا گیا اور میں اپنی تنہائی میں تمہارے ساتھ خوش اور مطمئن۔ زندگی کے یہ دن ایک خوبصورت خواب کی طرح گزر گئے۔ تم جب دو سال کے ہوئے تو بہن آ گئی اور تم نےپھر بھی کوئی شکایت نہ کی۔ اسی سال جب ہم پوسٹنگ پر کوئٹہ گئے تو وہ میری زندگی کے چند یادگاردن تھے۔پی ٹی وی اسٹیشن کے ساتھ منسلک ملازمین کی کالونی میں تم دونوں رات گئے تک کھیلتے رہتے۔تم ہمیشہ سے ہی مؤدب اور فرماں بردار تھے،ایک بار تو حد ہو گئی تم بڑے بھائی کے سلیپر اٹھائے گھر آئے کہ اس نے جوگرز منگوائےہیں۔ یاد رہے تم اس وقت ڈھائی سال کے تھے اور بڑا بھائی ساڑھے تین سال کا۔ اس جگہ کی ایک خاص یاد وہ منظر ابھی تک ذہن میں ٹھہرا ہوا ہے۔تم دروازے کو اندر سے بند کر کے "چیری "کی پلیٹ سامنے رکھے۔۔۔ ہمیں انجان نظروں سے دیکھتے ہوئے۔۔۔۔خوب کھائے جا رہے تھے۔۔۔ ہم کھڑکی سےجھانک کر کہتے تھے۔۔۔ بیٹا دروازہ کھولو۔ کافی دیر ہو گئی اور پریشانی ہونے لگی تو ہم نے چوکیدار کو بلوا لیا۔اب یاد نہیں کہ تم نے دروازہ کھولا یا ہم نے کسی طرح کھولا۔ وہاں ہمارا ایک کمرے کا چھوٹا سا فلیٹ تھا۔کام کے وقت میں تم تینوں بچوں کو کمرے میں بند کردیتی ۔ تم دونوں بھائی اپنی سات آٹھ ماہ کی بہن کی ٹانگیں پکڑ کر مزے سے اسے کمرے کے چکر دلاتے تھے۔ اگلے سال ہم واپس لوٹ آئے۔ بھائی کو اسکول داخل کرایا گیا۔ کمال یہ ہوا کہ اسےتوسب کچھ سکھایا جاتا لیکن تم خود بخود ہی سیکھ جاتے۔ مجھےآج تک یاد ہےکہ تم نے اردو کی گنتی پتہ نہیں کیسے سیکھ لی حالانکہ یہ تو نصاب میں بھی نہ تھی۔ تم اسکول بھی اتنے ہی آرام سے چلے گئے کوئی رونا نہیں ڈالا۔ جب تم پانچ سال کے ہوئے اس روز دن کےبارہ بجے ایک دم موسم کی خرابی کی وجہ سے اندھیرا ہو گیا اور تم اچانک اکیلے اسکول سے گھر آگئے۔میں نے اگلے روز کا اخبار سنبھال کر رکھ لیا کہ یہ اللہ کا بہت بڑا کرم تھا کہ تم بخیریت گھر پہنچ گئے۔اب تم سے پوچھا توتمہاری یاد میں بھی وہ منظر کچھ کچھ محفوظ تھا۔
گیارہ فروری 1995 کے اخبار کا عکس۔۔۔
اسکول میں ٹیچرز سے کبھی کوئی شکایت نہیں ملی۔ لیکن تم اکثر ضدیں کرتے تھے اور مجھے یاد ہے کہ جب ڈانٹ پڑتی تھی تو کہتے تھے "ممی پیار سے"۔ یہ لفظ میری زندگی میں آج یوں گردش کرتے ہیں کہ مجھ سے بھی کسی کی اونچی آواز برداشت نہیں ہوتی لیکن میں تو بہت بڑی ہوں نا۔ میں کبھی نہیں کہتی کہ پیار سے کہیں اور تم ابھی تک اتنے ہی چھوٹے ہو۔ کہتے تو کچھ نہیں بس خوفناک حد تک خاموش ہوجاتے ہو۔ اس معاملے میں تمہارا بڑا بھائی اور چھوٹی بہن بہت اچھے ہیں کہ اُنہیں جتنا مرضی ڈانٹ لو وہ بہت جلد نارمل ہو جاتے ہیں۔ "ڈھیٹ "ہونا بھی ایک بہت بڑی خوبی ہےبس انسان کو "بےحس"نہیں ہونا چاہیے۔
اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہےکہ میرے تینوں بچے بہت اعلیٰ تعلیم وتربیت  اور آداب واخلاق کے شاہکار تو نہیں لیکن ان کے اندر کہیں نہ کہیں ذرا سی انسانیت کی رمق باقی ہے۔ روشنی کی یہ کرن بےشک مجھے فیض نہ پہنچائے لیکن خود اُن کے اپنے لیے اور دوسروں کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے میری ذات اورمیری سوچ کا مجھ پر اعتماد بحال رکھتی ہے۔ اور! چمک کے لیے بس تھوڑی سی چنگاری ہی کافی ہوتی ہے۔ وقت اور حالات انسان کو خود ہی روشنی کا راستہ دکھا دیتے ہیں۔
 تمہارے حوالے سے زندگی کا ایک ڈراؤنا خواب وہ بھی ہے جسے یاد نہ بھی کرنا چاہوں لیکن وہ بیت چکا ہےاس لیے بھلایا نہیں جا سکتا۔ وہ وقت ۔۔۔جب تم نو ماہ کی عمر میں شدید قسم کے نمونیا کا شکار ہو گئے۔ ٹھیک ہونے کے بعد 6 سال کی عمر تک بخار اکثر بہت تیز ہوجاتا۔ ہمیشہ کی طرح اینٹی بایوٹک ادویہ مسئلے کا حل تھیں۔
(باقی پھر کبھی ۔۔۔بشرط ِزندگی)
ایک کمزور سی معذرت۔۔۔
میں گذشتہ چند برسوں سےبہت زیادہ خیال رکھنے والی ماں کا کردار بھولتی جا رہی ہوں اور پیارومحبت کے "اظہار" میں سرتاپا غرق روایتی ماں توشاید کبھی نہ بن سکی۔ لیکن اس بات پر مجھے افسوس بالکل نہیں۔ پہلی بات تو یہ اب تم سب بڑے ہوچکے ہو اور دوسری بات یہ کہ ماؤں کی بھی ایک شخصیت اور اپنی زندگی ہوتی ہے۔ اس شخصیت میں ہر رشتےاور ہر احساس کی اپنی جگہ اور اپنا مقام ہوتا ہے۔لیکن شاید ہم میں سے بہت کم اس رمز کو جان پاتے ہیں،اورجو پہچان بھی جائیں وہ اپنے اندر سے اُٹھنے والی آواز سے خوفزدہ ہو کر خودفراموشی کی دھند میں پناہ لے لیتے ہیں لیکن میری اس "بغاوت" کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ میرے بچے میرے سامنے ہی خودمختار ہو گئے۔یہی میری کامیابی ہے۔کوئی شک نہیں کہ تم تینوں اور تمہارے بابا کو مجھ سے بہت سی شکایتیں ہیں ۔ میرے مروجہ دستور سے ہٹ کر اس طرزِعمل میں بھی تمہارے لیے ایک مثبت سبق ہے۔۔۔ انسان کے اندر بہت سی صلاحیتیں پوشیدہ ہیں وہ اگر چاہے تواپنے سارے فرائض ادا کر کے بھی اپنی ذات کے لیے کچھ وقت نکال سکتا ہے۔ اور اور۔۔۔ابھی کچھ دیر پہلے کہا نا کہ "ڈھیٹ" ہونا بھی ایک خوبی ہے تو اس خوبی کا مجھے بہت دیر سے پتہ چلا۔
آج کی بات ۔۔۔۔
 صبح نمازفجر کے بعد جب قران پاک کھولا تو دل میں خیال آیا کہ اس میں سے کیا تحفہ دوں۔ یقین کرو اپنا معمول کا 24واں
 سپارہ پڑھتے وقت اس لمحےسورہ المومن کی یہ آیات میر ے سامنے تھیں۔ اور نہ صرف تمہارے لیے۔۔۔ بلکہ میرے لیے بھی ۔۔۔ یہ لفظ لکھنے اور کسی انسان کے پڑھنے سمجھنے سے بھی پہلےقبول کیے جانےکی مزدوری سمجھو۔۔۔۔۔
المومن(40)۔۔۔۔ پارہ(24)۔
آیات۔ 61 تا 70۔۔۔۔
ترجمہ۔۔۔
۔61۔۔۔ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی کہ اس میں آرام کرو اور دن کو روشن بنایا۔بےشک اللہ لوگوں پر فضل کرنے والا ہے لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے.۔
۔۔ 62۔۔۔۔یہی اللہ تمہارا پروردگار ہے جو ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اُس کے سوا کوئی معبود نہیں پھر تم کہاں بھٹک رہے ہو۔
۔63۔۔۔اس طرح وہ لوگ بھٹک رہے تھے جو اللہ کی آیتوں سے انکار کرتے تھے۔
۔۔64۔۔۔۔اللہ ہی تو ہے جس نے زمین کو تمہارے لیے ٹھہرنے کی جگہ اور آسمان  کو چھت بنایا اور تمہاری صورتیں بنائیں اور صورتیں بھی خوب بنائیں اور تمہیں پاکیزہ چیزیں کھانے کو دیں ،یہی تمہارا پروردگار ہے پس خدائے پروردگاِرعالم بہت بابرکت ہے۔
۔۔۔۔۔655۔۔۔وہ زندہ ہے جسے موت نہیں اُس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں تو اُس کی عبادت کو خالص کر کر اُسی کو پکارو۔ہر طرح کی تعریف اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔
۔66۔۔ ۔(اے محمد) ان سے کہہ دو  کہ مجھے اس بات کی ممانعت کی گئی ہے کہ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو اُن کی پرستش کروں (میں اُن کی کیونکر پرستش کروں) جبکہ میرے پاس میرے رب کی طرف سے کھلی دلیلیں آچکی ہیں اور مجھ کویہ حکم ہوا ہے کہ پروردگارِ عالم کا ہی تابع فرمان رہوں۔
۔۔67۔۔۔۔ وہی تو ہے جس نے تم کو  مٹی سے پیدا کیا پھر نطفہ بنا کر پھر لوتھڑا بنا کر پھر تم کو باہر نکالتا ہے کہ تم بچے(ہوتےہو) پھر تم اپنی جوانی کو پہنچتے ہو پھر بوڑھے ہو جاتے ہو اور کوئی تو تم میں سے پہلے ہی مر جاتا ہے اور تم (موت) کے وقتِ مقرر تک پہنچ جاتے ہو اور تاکہ تم سمجھو۔
۔۔688۔۔۔ وہی تو ہے جو جِلاتا اور مارتا ہے پھر جب کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو اُس سے کہہ دیتا ہے کہ ہو جا تو وہ ہو جاتا ہے۔
۔۔699۔۔کیا تم نے اُن لوگوں کو نہیں دیکھا جو اللہ کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں۔یہ کہاں بھٹک رہے ہیں۔
۔۔70۔۔ جن لوگوں نے کتاب (اللہ) کو اور جو کچھ ہم نے پیغمبروں کو  دے کر بھیجا اُس کو جھٹلایا ،وہ عنقریب معلوم کر لیں گے۔
ایک دعا ۔۔۔۔
 عمر کے اس سنگ میل پر پہنچتے ہوئے درازیءعمر کی دعا نہیں۔ اللہ سے یہی دعا ہے کہ اللہ نےجتنی بھی عمر تمہارے مقدر میں لکھی ہے وہ دلی سکون اور ایمان کی سلامتی سے ہر مشکل وقت کو عزم وحوصلے کے ساتھ برداشت کرتے ہوئے گزرے۔ اللہ تمہیں کسی انسان کا جسمانی، جذباتی،اور مالی طور پر محتاج نہ بنائے۔ ہمیشہ دینے والا ہاتھ عطا کرے اور عاجزی کی دولت سے مالامال کرے۔ ذہنی اور جسمانی صحت والی "زندگی" نصیب کرے۔ آمین
ایک ماں کی دعا جو چند روز پہلے ایک بلاگ پر پڑھی ۔آج تمہارے نام۔۔۔
 اے میرے پروردگار، تو گواہ ہوجا،میرے بیٹے نے آج میری عزت کی لاج رکھی ہے،میری آنکھیں ٹھنڈی ہیں اس کی وجہ سے،میں آج اسکو صرف دعا ہی دے سکتی ہوں....آج کے بعد اسکی عزت کا تو ہی محافظ ہے، میں زندہ رہوں یا نہ رہوں، تو نے اس کا خیال رکھنا ہے،اپنی مخلوق کے سامنے اسکو کبھی رسوا نہ کرنا بس میری اس دعا کو تو آج شرف قبولیت بخش دے۔آمین
ایک دعا محترم اشفاق احمد کی طرف سے۔۔۔۔
اللہ تمہیں زندگی  میں آسانی عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے۔ آمین
 آخر میں اللہ کی بارگاہ میں نہایت عاجزی سےعرض کرتی ہوں کہ اس نےاولاد کی صورت میں جوذمہ داری میرےسپرد کی،اسے میں نے ممکن حد تک دیانت داری سےنبھانے کی کوشش کی۔اللہ اس میں میری کمیوں،کوتاہیوں کو معاف کرے۔اور اپنے خاص فضل سے اس نعمت کوبہترین تحفے میں بدل دے۔ان کے دلوں کو نورِایمان سےمنور کرےاور  ہم سب کا ایمان پر خاتمہ کرے۔آمین یارب العالمین۔
میرا یہ احساس پڑھنےوالوں کو اللہ پاک اپنے گھروں کا سکون عطا فرمائے اور دین ودنیا کی نعمتوں سےسرفراز کرےآمین۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
٭اس سے منسلک بلاگ ۔۔۔فروری 11۔۔2015۔۔۔ماں کی باتیں ۔۔۔۔۔۔۔
٭میری کچھ پسندیدہ تصاویر
فروری 1990
1991 ۔۔15فروری
زیارت۔۔۔ بلوچستان
1992 جولائی
میری سب سے پیاری تصویر۔۔۔۔
دریائے کنہار۔۔۔۔بالا کوٹ
1996
چھتر پلین۔۔شنکیاری
1999
۔
ناران گلیشئیر
2006۔۔۔۔1996۔۔۔۔


 ...   کامسٹس2012
مری۔۔2014 

 محبت کی خوشبو۔۔۔

May Allah bless you always a glorious life full of Love , peace of mind, happiness forever, balance in every relation ,success in all aspects of life.

I love you.

We are so proud of the man you have become and the road you travel

 ~ When it comes to Sons 

You're a Classic!


2014 پنج پیر راکس









فروری 11،  2014

Happy birth day my dear

Many many happy returns of the day

From the core of my Heart

..... Wishing U the height of physical and mental strength to survive in the hurdles of life........

.... Praying for Peace and Stability of mind that leads to the path of Eternal success......

.... Demanding U to become more confident and polish your self- esteem.

.... Complaining U to be more Efficient, more Productive , more vigilant not only for yourself but for others too, that is the need of the hour.

B blessed always

NOOR...Mummy.

Feb 11, 2014

گیارہ فروری 2015،
TODAY
A Silver Lining  of my  Cloudy Life
گیارہ فروری 2015
پانچ بجے شام

بدھ, فروری 04, 2015

" غازی کی باتیں"

ڈاکٹرصاحب
تاریخ پیدائش.....15 دسمبر 1938
بمقام.... ضلع سہارن پور... ہندوستان
تاریخِ وفات...... 4 جنوری 2015۔۔۔بمطابق 12 ربیع الاول۔1436 ہجری
بمقام.... اسلام آباد.... پاکستان
 جائے مدفن....۔ایچ الیون قبرستان۔۔۔اسلام آباد

انسان چلا جاتا ہےبس اُس کی یاد رہ جاتی ہے۔۔۔۔
آواز گم ہوجاتی ہےسماعت پہ فقط چند دستکیں رہ جاتی ہیں۔۔۔
سانس لیتا لہجہ کھو جاتا ہے لیکن!بےجان لفظ رہ جاتے ہیں۔۔
وہ لفظ ۔۔۔۔جو اس کی زندگی کہانی کہتے ہیں۔۔۔
جو اس کے دل کی بات سنتے تھے۔۔۔
وہ خاموشی میں اس کے ساتھ گنگناتے تھے۔۔
وہ سارے لفظ زندہ رہتے ہیں۔
انہی لفظوں کے سہارے
ہم اس کو یاد کرتے ہیں ۔۔
ہم اس کو یاد کرتے ہیں۔
(نورین تبسم) 

ابو کی ڈائری سے۔۔۔۔
سورہ یونس آیت 107۔۔۔اگر اللہ تم کو کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا اس کو کوئی دور کرنے والا نہیں اگر تم سےبھلائی کرنا چاہے تو اس کے سوا اس کو کوئی روکنے والا نہیں۔وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے فائدہ پہنچاتا ہےاور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔
رسول کریمﷺ نے ارشاد فرمایا۔۔۔ چار عادتیں ایسی ہیں کہ جس شخص میں وہ چار عادتیں ہو جائیں تو وہ خالص منافق ہے۔ وہ چار عادتیں یہ ہیں۔۔ جب اسے کسی امانت کا امین بنایا جائے تو خیانت کرے۔۔۔جب بات کرے تو جھوٹ بولے۔۔۔جب عہد کرے تو اس کی خلاف ورزی کرے۔۔۔ اور جب کسی سے جھگڑا کرے تو بدزبانی کرے۔
۔۔۔۔۔۔۔
٭ زندگی کے صرف دو رُخ ہیں۔۔۔غم اور خوشی۔
٭ مر کر وہ جیتے ہیں جو جینے کے قابل ہوں۔
٭علم اور دولت کے پیچھے بھاگنے والوں کی ہوس سدا قائم رہتی ہے۔
٭بےوقوف آدمی ہمیشہ اُونچا بولتا ہے اور بہت بولتا ہے۔
٭زندگی ایک طویل اور اُکتا دینے والی کہانی ہے۔
٭سپنے ضرور دیکھو لیکن تعبیر کی خواہش نہ کرو۔
٭کانٹا چھوٹا ہو یا بڑا چُبھنے پر تکلیف ضرور دیتا ہے۔
٭غلطی مان لینا فراخ دلی کی نشانی ہے۔
٭ عقل مند وہ ہے جو وقت دیکھ کر بات کرے۔
٭ خیالات کی جنگ میں کتابیں ہتھیار کا کام کرتی ہیں۔
٭ رشتے اہم نہیں ہوتے۔اِن کو نبھانے کے طریقے اہم ہوتے ہیں۔
٭جوانی میں محنت سے جی چُرانا آئندہ زندگی میں سکون اور وقت سے محروم کر دیتا ہے۔
٭ جب دل ٹوٹ جاتا ہے تو زندگی ویران اور بےمقصد ہو جاتی ہے۔
 ٭بُرے وقت کبھی کسی انسان کے دروازے پر دستک نہ دو ،صرف اور صرف اللہ سے رجوع کرو۔
٭ خاموشی ہزار بلائیں ٹالتی ہے بلکہ وقار اور سلامتی کی بھی ضامن ہے۔
٭ خاموشی بہت زیادہ آسان کام ہے اور سب سے زیادہ نفع بخش عادت ہے۔
٭ جسے سلامتی کی ضرورت ہو اُسے خاموشی اختیار کر لینی چاہیے۔
٭ تھکاوٹ محنت سے بھی ہوتی ہے تو کاہلی سے بھی۔لیکن محنت کا تنیجہ  صحت اور دولت ہے اور کاہلی کا بیماری اور افلاس۔
٭معاملات کو عقل کی بجائے غصے سے حل کرنے والا نہ صرف اپنا نقصان کرتا ہے بلکہ دوسروں کو بھی اذیت میں مبتلا کر دیتا ہے۔
"اقوالِ غازی"
٭ اگر ہم اپنے حال کو پرکھتے رہیں تو دنیا وآخرت دونوں جگہ پھل پائیں۔
٭جہاں میں ایک کام دوسرے کام کے ذریعے سے پیدا ہوتا ہے۔
٭ آدمیت وانسانیت دولت کا نام نہیں۔بُت سونے کا بھی  ہو تب بھی آدمی وانسان نہیں بن سکتا۔
٭اگر بیماری ومصیبت سے چھٹکارا چاہتا ہے تو اپنے پیدا کرنے والے کو راضی کر۔
٭جو شخص ڈرتا ہے کہ کہیں مغلوب نہ ہو جائے اُس کی شکست یقینی ہے۔ 
٭ اس مقام ومرتبےتک پہنچنے کے پیچھے بےشمار قربانیاں،لامحدود مشقتیں اور طویل صبروبرداشت کا ان منٹ سلسلہ موجود ہے۔
 ٭ نوجوانی کی عمر۔۔۔ بیس سے تیس چالیس سال تک آپ کے پاس وقت اور طاقت تو ہوتے ہیں مگر دولت نہیں ہوتی۔
درمیانی عمر۔۔۔چالیس سے ساٹھ سال تک آپ کے پاس دولت اور طاقت  ہوتی ہے لیکن وقت نہیں ہوتا۔
 بڑھاپا۔۔۔ساٹھ سے پینسٹھ سال کے بعد وقت اور دولت تو ہوتے ہیں لیکن طاقت نہیں (1999)۔
٭ خواہش ۔۔۔تحمل۔۔۔علم۔۔۔ضمیر۔( کئی جگہ لکھا ملا)۔
٭ حسبنا اللہ ونعم الوکیل( اللہ تعالیٰ ہمارے لیے کافی ہے۔۔۔وہی بہتر مددگار ہے)۔
 ۔۔۔۔ 
٭ ایک اقتباس ۔۔۔"بادام کا درخت"۔جاوید چوہدری اتوار 23 فروری 20144 
 ۔۔۔۔ دنیا کا جو بھی رشتہ لالچ پر مبنی ہو گا اس کا اختتام تکلیف پر ہو گا‘آپ رشتوں میں سے لالچ نکال دو‘ بیٹے کوبیٹا رہنے دو؛ بیٹی کو بیٹی‘ ماں کو ماں‘ باپ کو باپ‘ بہن اور بھائی کو بھائی بہن اور دوست کو دوست رہنے دو‘ آپ کو کبھی تکلیف نہیں ہوگی‘ ہم جب بیٹے یا بیٹی کو انشورنس پالیسی بنانے کی کوشش کرتے ہیں یا والد صاحب کو تیل کا کنواں سمجھ بیٹھتے ہیں یا پھر دوستوں کو لاٹری ٹکٹ کی حیثیت دے دیتے ہیں تو ہماری توقعات کے جسم پر کانٹے نکل آتے ہیں اور یہ کانٹے ہمارے تن من کو زخمی کر دیتے ہیں‘ رشتے جب تک رشتوں کے خانوں میں رہتے ہیں یہ دھوکہ نہیں دیتے‘ یہ انسان کو زخمی نہیں کرتے‘ یہ جس دن خواہشوں اور توقعات کے جنگل میں جا گرتے ہیں‘ یہ اس دن ہمیں لہولہان کر دیتے ہیں‘ یہ یاد رکھو دنیا کی ہر آسائش اور ہر تکلیف اللہ کی طرف سے آتی ہے‘ دنیا کا کوئی شخص ہمیں نواز سکتا ہے اور نہ ہی ہماری تکلیف کا ازالہ کر سکتا ہے‘ ہمیں جو ملتا ہے اللہ کی طرف سے ملتا ہے‘ جو چھن جاتا ہے‘ اللہ کی رضا سے چھینا جاتا ہے‘ ہمارا چھینا ہوا کوئی واپس دلا سکتا ہے اور نہ ہی کوئی شخص اللہ کی مرضی کے بغیر ہم سے کوئی چیز چھین سکتا ہے اور دنیا کے کسی شخص میں اتنی مجال نہیں وہ ہمیں اللہ کی مرضی کے بغیر نواز سکے‘ جب دیتا بھی وہ ہے اور لیتا بھی وہ ہے تو پھر لوگوں سے توقعات وابستہ کرنے کی کیا ضرورت؟‘‘۔
۔۔۔۔۔۔ 
ایک درخواست پڑھنے والوں سے۔۔۔
ایک بار درورد شریفﷺ پڑھ کر اپنی دعاؤں میں ضرور یاد رکھیں ۔ شکریہ
فروری 4 ۔۔۔2015
 دس بجے رات