منگل, مئی 19, 2015

"شکوہ جواب شکوہ"

نہ جانے کس کے لفظ  نہ جانے کس کے نام"۔"
تم اکثر بھول جاتی ہو
کہ اپنے درمیاں جاناں
سمندر ہیں زمانے کے
اناؤں کی دیواریں ہیں
انہیں کیسے مٹائیں گے
کبھی سوچا بھی ہے تو نے؟
کبھی سمجھا بھی ہے تو نے؟
کہ دنیا کی یہی رسمیں
محبت کرنے والوں کو
کبھی ملنے نہیں دیتیں
دلوں میں آرزوؤں کے
کنول کھلنے نہیں دیتیں
زخم خوردہ امنگوں کو
کبھی سلنے نہیں دیتیں
تم اکثر بھول جاتی ہو
کہ ان پابند راہوں سے
نہ میں باغی نہ تو باغی
زمانےکے رویوں سے
گزرتے پل کے پہیئوں سے
نہ میں باغی نہ تو باغی
تم اکثر بھول جاتی ہو
جنوں کے جوگ ہوتے ہیں
ہزاروں روگ ہوتے ہیں
بکھرتے شادیانوں میں
سسکتے سوگ ہوتے ہیں
وہ آتے وقت کے لمحے
کئی خدشات میں لپٹے
کہ جب مجبوریاں اپنی
انہی رسموں میں بہہ جائیں
اور ہم تنہا ہی رہ جائیں
تم اکثر بھول جاتی ہو
کہ پھر ماضی کے یہ لمحے
تمہیں جب یاد آئیں گے
تو تم سر کو جھٹک دو گی
حسیں سا بچپنا کہہ کر
میرے وجدان میں اکثر
وہ لمحے آتے رہتے ہیں
مجھے آتے ہوئے کل کا
سماں دکھلا تے رہتے ہیں
تمہارے ساتھ ہو کر بھی
تیری آنکھوں میں کھو کر بھی
میں اکثر یاد رکھتا ہوں
تم اکثر بھول جاتی ہو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 "میرا اظہار"
سنو
اے شکوہ کناں
تمہارے لفظ کھو جاتے ہیں
تمہاری ذات گم ہو جاتی ہے
میں
اگر اُن کو کھوجنا چاہوں
اگر اُس کو سمیٹنا چاہوں
تم دور جاتے ہو
پاس آنے نہیں دیتے
اپنانے نہیں دیتے
اس لیے
میں جان بوجھ کر
اکثر بھول جاتی ہوں
مگر
یہ یاد رکھتی ہوں
کہ تم بھی یاد رکھتے ہو
ایک بات  اور بھی سن لو
جتنا دور جاتی ہوں
اتنا قریب آتی ہوں
تمہارے قرب کی خواہش
اگر
ایک فریب لاحاصل ہے
تو اس سے بھاگنا
میری عقل کا سودا ہے
اور یہ سودا میں کرتی رہتی ہوں
اور تمہیں کیوں بتاؤں
کہ اکثر
خسارے میں ہی رہتی ہوں

3 تبصرے:

  1. بہت خوبصورت ... شاندار .... ونڈرفل

    جواب دیںحذف کریں
  2. فریقین کا نقطہء نظر بغیر کسی کی طرف داری کیے بہت سلیقے سے، نہایت موزوں الفاظ کے ذریعے پیش کیا آپ نے. یہی ایک لکھاری کا خاصہ ہوتا ہے وہ جانب دار نہیں ہوتا. بہت اعلٰی.

    جواب دیںحذف کریں

"دلیل" اور"کارواں بنتا گیا"

تئیس جون 2017 بمطابق   ستائیس رمضان المبارک1438 ھ کو دلیل ویب سائیٹ کے قیام کو ایک برس مکمل ہوا۔ اس ایک   برس کے دوران "دلیل ویب س...