جمعہ, مارچ 13, 2015

" ادا جعفری"

ادا جعفری.... ایک عورت۔۔ ایک ماں ۔۔۔ اور ایک شاعرہ۔۔۔
۔22 اگست 1924ء....13 مارچ2015
میں ساز ڈھونڈتی رہی ۔۔۔ پہلا شعری مجموعہ 1950
شہر درد۔۔۔ دوسراشعری مجموعہ 1967۔۔۔آدم جی ایوارڈ1968
غزالاں تم تو واقف ہو ۔۔۔۔ شعری مجموعہ 1974
ساز سخن بہانہ ہے ۔۔۔ہائیکو شاعری کا مجموعہ 1982
حرف شناسائی۔۔۔ شعری مجموعہ
موسم موسم ۔۔۔کُلیات2002ء
جو رہی سو بےخبری رہی۔۔۔خود نوشت 1995۔۔۔۔
 شعر۔۔۔۔۔۔
تم پاس نہیں ہو تو _____ عجب حال ہے دل کا 
یوں جیسے میں کچھ رکھ کے کہیں بھول گئی ہوں
۔۔۔۔۔
ادا جعفری۔۔۔۔
میں نے مردوں کی عائد کردہ پابندیوں کو قبول نہیں کیا، بلکہ اُن پابندیوں کو قبول کیا جو میرے ذہن نے مجھ پہ عائد کی ہیں۔۔۔ میں سمجھتی ہوں کہ بات کو بین السطور کہنا زیادہ مناسب ہے کیونکہ رمز و کنایہ بھی تو شاعری کا حُسن ہے۔
۔۔۔۔۔
 بشکریہ ۔۔
ادا جعفری کا جہان شعر
               شاہدہ حسن
جمع و ترتیب: اعجاز عبید
   ماخذ: پاکستانی ادب کے معمار: ادا جعفری: شخصیت اور فن از شاہدہ حسن
ادا جعفری کا دوسرا شعری مجموعہ ” شہر درد” طویل عرصے کے فرق کے ساتھ یعنی پہلے شعری مجموعے کی اشاعت کے سترہ سال بعد1967ء میں شائع ہوا۔ اس مجموعے کی بیشتر نظمیں 1965ء سے 1967ء تک گویا دو ڈھائی سال کے عرصے میں کہی گئی ہیں۔ یہ عملی زندگی کے سفاک تقاضوں میں گم ہو جانے والی زود حس شاعرہ کے لیے اپنے باطنی وجود کی از سر نو دریافت کا مرحلہ تھا۔۔
 ادا جعفری لکھتی ہیں۔
 اس طویل خاموشی کی اصل وجہ میں خود بھی نہیں جانتی۔ یا شاید یہ وجہ ہو کہ ان دنوں مامتا کے جذبے سے پہلی بار متعارف ہوئی تھی، جھولی میں اتنے پھول تھے کہ نظر اٹھا کر کسی اور سمت دیکھنے کا ہوش ہی نہیں تھا۔ لیکن اجلے اجلے دھندلکوں کی طرح خود فراموشی کتنی ہی دل فریب کیوں نہ ہو، شکر ہے کہ دائمی نہیں ہوتی۔ اگرچہ یہ بہت طویل عرصہ تھا اور بڑی نامانوس مسافت تھی۔ دشت بے آب و گیاہ بھی اور خیاباں خیاباں گل و سمن بھی۔ اپنے بچوں اور اپنے گھر میں بہت خوش بھی رہی اور تمام وقت ایک احساس محرومی بھی دل میں چبھتا رہتا تھا۔ پھر میرا کھویا ہوا قلم مجھے واپس مل گیا اور بھرپور اجالوں کی تمنا ” شہر درد” تک لے آئی۔
غزل۔۔ شہر درد
ہونٹوں پہ کبھی اُن کے مِرا نام ہی آئے 
آئے تو سہی، برسر الزام ہی آئے ۔۔۔۔ 
۔۔۔۔۔۔
جناب ادیب سہیل رقم طراز ہیں۔۔
 اگر آپ ادا جعفری کی شاعری کا شروع سے آخر تک جائزہ لیں تو معلوم ہو گا کہ ان کی تمام تر شاعری ان کے اس شعر کے مصداق ایک حرف آرزو سے عبارت ہے۔
میں دشت زندگی میں کھلے سر نہیں رہی
اک حرف آرزو کی ردا مل گئی مجھے
اسی حرف آرزو نے ان کے شعروں میں جستجو، دروں بینی، ملائمت، نکتہ رسی اور حرارت داخل کر دی ہے۔ یہی شعر وسیع تناظر اختیار کر کے نظم “ساز سخن بہانہ ہے” بن گیا ہے اس نظم کا آخری حصہ ہے۔
میں بے قرار وخستہ تن
بس اک شرار عشق، میرا پیرہن
مرا نصیب ایک حرف آرزو
وہ ایک حرف آرزو
تمام عمر سو طرح لکھوں
آخری مجموعہ حرف شناسائی” میں شامل غزل کے چند اشعار
ہمیں خود سے بھی ملنا تھا، کسی ہم راز سے پہلے
کوئی آواز سننا تھی، کسی آواز سے پہلے
یہ جو بے ساختہ پن ہے یہی تو اصل راحت ہے
پروں کو دیکھنا واجب نہیں پرواز سے پہلے
 ابھی تو خواب چہرے سب دعا کی رہ گزر میں تھے
کہانی ختم کیسے ہو گئی آغاز سے پہلے
آج اپنے ابدی سفر پر روانہ ہو گئیں ۔اللہ اُن کی آخرت کی منزلیں آسان کرے۔ گناہوں کی  بخشش  عطا فرمائے۔۔ اور اُن کے ساتھ رحم کا کرم کا معاملہ فرمائے۔آمین

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

" اعجازِآیاتِ قرانی"

٭قرآن مجید کی  سورہ الحجر(15) کی آیت (9)  میں اللہ نے حفاظت قرآن کا وعدہ لیا ہے۔ آیت ترجمہ۔"ہم نے یہ نصیحت اُتاری ہے اور ہم ہی اس کے...