صفحہِ اول

اتوار, فروری 01, 2015

"مری زندگی تو فراق ہے "

"۔"مری زندگی تو فراق ہے

مری زندگی تو فراق ہے وہ ازل سے دل میں مکیں سہی
وہ نگاہِ شوق سے دُور ہیں،رگِ جاں سے لاکھ قریں سہی

ہمیں جان دینی ہے ایک دِن وہ کسی طرح، وہ کہیں سہی
ہمیں آپ کھینچیے دار پر جو نہیں کوئی، تو ہمِیں سہی

غمِ زندگی سے فرار کیا یہ سکون کیوں، یہ قرار کیا
غمِ زندگی بھی ہے زندگی، جو نہیں خوشی تو نہیں سہی

سرِطُور ہو، سرِحشر ہو، ہمیں اِنتظار قبول ہے
وہ کبھی ملیں،وہ کہیں ملیں،وہ کبھی سہی،وہ کہیں سہی

نہ ہو، اُن پہ جو مرا بس نہیں کہ یہ عاشقی ہے ہَوس نہیں
مَیں اُنہِیں کا تھا، مَیں اُنہِیں کا ہُوں، وہ مرے نہیں تو نہیں سہی

مجھے بیٹھنے کی جگہ ملے، مری آرزو کا بھَرم رہے
تری انجمن میں اگر نہیں، تری انجمن کے قریں سہی

ترے واسطے ہے یہ وقف سر، رہے تا ابد ترا سنگِ در
کوئی سجدہ ریز نہ ہو سکے تو نہ ہو، مری ہی جبیں سہی

مری زندگی کا نقیب ہے نہیں دُور، مجھ سے قریب ہے
مجھے اُس کا غم تو نصیب ہے وہ اگر نہیں، تو نہیں سہی

جو ہو فیصلہ وہ سُنائیے، اِسے حشر پر نہ اُٹھائیے
جو کریں گے آپ ستم وہاں، وہ ابھی سہی، وہ یہیں سہی

اُسے دیکھنے کی جو لَو لگی تو نصیؔر دیکھ ہی لیں گے ہم
وہ ہزار آنکھ سے دُور ہو، وہ ہزار پردہ نشیں سہی

پیر سید نصیر الدین نصیؔر گیلانی۔
پیمانِ شب۔
سنِ طباعت: نومبر 2011 ۔ صفحہ، 245-246
خوبصورت اندازِ بیاں
بشکریہ ۔  ۔قیصر محمود


1 تبصرہ :

  1. مجھے بہت پسند ہے یہ شاعری۔ بہت ہی خوبصورت۔ پیر کامل میں پڑھی تھی۔ ناول بھی شاندار اور اس میں لکھی یہ شاعری بھی۔

    جواب دیںحذف کریں