صفحہِ اول

جمعہ, فروری 27, 2015

"خلوت جلوت "

وہ اپنی جلوت میں مکمل تھا۔ دین دار،دُنیا دار۔۔۔ پُرباش،یارباش۔۔۔ تمام خواہشات سے مطمئن،ہرجذبے سےآسودہ خاطر۔۔۔ دُنیا اس کےقدموں کی خاک تھی۔۔۔ لیکن !!! ایک دُنیا اس کے اندر کی بھی تھی۔ یہ دُنیا بھی مکمل تھی ہر لحاظ سے۔۔۔ہر اعتبار سے۔۔۔اس کے باوجود اندر کی دُنیا کے اندر ایک ایسی جگہ تھی جہاں وہ تنہا تھا۔۔۔یہ اُس کی خلوت تھی۔۔۔ جس میں صرف وہ تھا اور اُس کی روح کا ہمسفر۔ درِکائنات کو چھونے والے اس سفر میں وہ اپنے"خود ساختہ" ہمسفر کے قرب کا متمنی تھا۔۔۔وہ قرب جس میں کوئی دوئی نہ ہو۔۔۔ہمسفر پراپنی نگاہ کے لمس کے علاوہ کسی اور کے عکس کا شائبہ بھی اُس کے لیے ناقابلِ برداشت تھا۔
دوسری طرف وقت کی نامہربان ساعتوں میں پل دو پل کو ہوا کے نرم جھونکے کی طرح چھو جانے والا مجازی ساتھ جس کی جلوت کا رواں رواں اُسے پکارتا تھا۔اُس کی صُبحیں اُس کی شامیں۔۔۔اس کا سونا اس کا جاگنا۔۔۔اس کا دین اس کاا یمان۔۔۔ اس کے رشتے اس کے تعلق۔۔۔اس کی بھوک اس کی پیاس ۔۔اس کی خوشی اس کے غم۔۔۔اس کے آنسو اس کی ہنسی۔۔۔ اس کی سوچ اس کے لفظ ۔۔۔اس کی عقل اس کا فہم ہر طرف بس "تو ہی تو" تھا۔ اس کی "میں" فنا کی طرف گامزن تھی۔ نگاہ کا ہر منظر اس کے تصور سے جڑا تھا۔یہ عشق تھا نہ عقیدت بلکہ اس سے آگے شاید جنوں وبےخودی کی پہلی منزل۔۔۔۔ یا پھر آگہی کی انتہاؤں کو چھوتی۔۔۔اُس سے دست وگریباں ہوتی تلاش کی آخری سیڑھی تھی۔ جب محبوب کا لمس بھی درد دیتا تھا۔۔۔۔اور یہی ہوتا رہا جب محبوب تارتار جسم اور چھلنی روح پر مرہم رکھتا تو ذرا دیر کو مدہوشی کی کیفیت طاری ہو جاتی ۔۔۔پھر خمار اُترتے ہی ٹیس اور زیادہ محسوس ہوتی۔
پیاسی مٹی کی مانند ۔۔۔جس کی روح پر محبتوں کی رم جھم لمحوں میں جذب ہو جائے اور وہ پہلے سے بھی زیادہ بکھر بکھر جائے۔ یوں جیسے جلتے بدن پر پانی کا قطرہ تسکین کی بجائے نارسائی کا کرب مزید بڑھا دے۔ جلوت میں ساتھ نبھاتے آشنا چہرے اجنبی دکھتے جو دیکھ کر بھی نہ جانتے تھے اور جان کر بھی نہ سمجھتے تھے۔ قریب تھا کہ بند آنکھوں سے وہ اس آسیبی خلا میں کہیں کھو جائے یکدم اس کی خلوت میں آگہی اورعلم وعرفان کی گھنٹیاں بجنے لگتیں۔۔۔ آنکھ کھلتی۔ اپنا آپ نظر آتا۔ بےلباسی کی حد کو پہنچ کراپنا لباس دکھائی دیتا تو کچھ سکون کا احساس ہوتا۔۔۔اپنا آپ ٹٹولتی۔۔۔ بچا کچا مال ومتاع سمیٹتی اور رب کا شکر ادا کرتی کہ اس کی توفیق سے سب لٹا کر بھی ذات کا بھرم قائم تھا۔۔۔رشتوں کا تقدس برقرار تھا اور سب سے بڑھ کر اپنے خالق پر یقین پہلے سے زیادہ مضبوط تھا کہ وہ دیتا ہے تو بےحساب دیتا چلا جاتا ہے اور جب توبہ کا در بند کر دے تو پھر کسی معافی کی گنجائش نہیں بچتی ۔
اُن کی خلوت جلوت کا یکساں نہ ہونا اگراُن کے بیچ باہم تضاد تھا تو یہی اُن کے مابین اصل کشش بھی تھا۔ وہ اپنے اپنے دائروں میں گردش کرتے ایسے ذرات تھے کہ جتنی تیزی سے قریب آتے اُتنی ہی قوت سے دوربھی ہوتے۔ یہ عذاب تھا تو یہی باعثِ نجات بھی تھا جو ایک دوسرے کے مدار میں داخل ہونے سے روکتا تھا۔
تقدیر کے پھیر میں اگر اُن کی خلوت اور جلوت ایک ہی رخ پر مل جاتی یا وہ ایک دوسرے کی جلوت اور خلوت کو آپس میں بدل لیتے تو شاید ایک بڑے دائرے میں شامل ہو کر لمحاتی قرار توپا لیتے لیکن اُن کے اپنے دائروں کے مکین تقدیر کے بلیک ہول میں بھٹکتے رہ جاتے۔
!آخری بات
یہ محض افسانہ ہی نہیں حقیقتِ انساں بھی ہے۔۔۔ شرکِ دُنیا کی داستان بھی ہے۔۔ مجازی سے حقیقی کے سفر کی منازل کہانی بھی ہے۔اورعورت مرد کے ازلی تعلق کا تسلسل بھی ہے۔۔۔ کبھی مرد اپنی ذات میں اتنا مکمل اتنا آسودہ دکھتا ہے کہ کسی مدہم سی کسک،موہوم سی خلش کا شائبہ تک نہیں ہوتا۔اسی طرح عورت جو دیکھنے میں موم۔۔۔برتنے میں کانچ۔۔۔پڑھنے میں کھلی کتاب اور سمجھنے میں لاحاصل تحریر کی مانند نظر آتی ہے۔۔۔اُس کا عزم اور حوصلہ اتنا مضبوط بھی ہوتا ہے کہ اپنا آپ فنا کر کے وہ اپنا یقین بچا لیتی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں :

ایک تبصرہ شائع کریں