صفحہِ اول

جمعہ, اگست 29, 2014

"زندگی تجھ کو برتنا نہیں آیا مجھ کو"

بجھنے سے پہلے بھڑکنا نہیں آیا مجھ کو
زندگی تجھ کو برتنا نہیں آیا مجھ کو
اُس نے تو ٹوٹ کے چاہا ہے مجھے
اُس کے قدموں سے لپٹنا نہیں آیا مجھ کو
اُس نے چھوا ہے مجھے خوشبو کی طرح
گلِ لالہ کی طرح سمٹنا نہیں آیا مجھ کو
وہ تھا بےچین مرے فراق میں
اُس کی حالت پہ تڑپنا نہیں آیا مجھ کو
مری آنکھوں کی پرستش کیا ہوئی
کہ پھر پلکیں جھپکنا نہیں آیا مجھ کو
اُس نے توڑا تھا اِک خوشۂ گندم
پر آدم کی طرح بہکنا نہیں آیا مجھ کو
میں ہوں دیوانی اس مٹی کی
سنگِ مرمر پہ پھسلنا نہیں آیا مجھ کو
اُس نے آواز تو دی تھی مگر نور
 شام سے پہلے پلٹنا نہیں آیا مجھ کو

جمعرات, اگست 21, 2014

"منتظم اعلیٰ اور استعفا"

منتظم اعلیٰ ایک عام انسان ہوتا ہے۔ خامیوں خوبیوں سے آراستہ۔
وقت کا پہئیہ اسے مسندِ اقتدار پر بٹھاتا ہے۔۔۔قسمت کا چکرانسانوں کے ہجوم میں سے نکال کر نمایاں کرتا ہے۔۔۔
کہیں جہد مسلسل اور امانت داری کے صدقے میں یہ منصب عطا ہوتا ہے۔۔۔ کبھی جوڑتوڑ اورسازشوں سے بھی کوئی نااہل اس عہدے پر قابض ہو جاتا ہے۔ 
منتظم اعلیٰ خواہ کوئی بھی ہو۔۔۔کسی بھی طریقے سے برسرِاقتدار آیا ہو۔۔۔ کسی بھی ملک کا ہو۔۔۔ لوہے اورکنکریٹ سے بنے محل اُس کی سلامتی کے محافظ نہیں۔۔وہ قانونی اورعسکری بیساکھیوں کے بل پر دُنیا میں اپنی بادشاہت سدا قائم نہیں رکھ سکتا۔۔۔ عقیدت مندوں کا دربار اور تقلید پسندوں کے ہار بھی اُسےفتح سے ہمکنار نہیں کر سکتے۔۔۔ دُنیا کے بادشاہوں سے ذاتی تعلقات اور اُن کا دباؤ اس عہدے پر رہنے کا جواز فراہم نہیں کرتے۔۔۔ جائز ناجائز طریقے سے کمائی گئی دولت کے انبار بھی اس کے تحفظ کے ضامن نہیں بنتے۔۔۔چالاکی، فریب اور دھوکا دہی سے وہ سادہ لوح یا سمجھ دار لوگوں کی آنکھ میں دھول نہیں جھونک سکتا۔
وہ تو خود "شیشےکے محل" میں رہتا ہے۔ایسا محل جسے "ثبوت " کا ذرا کنکر بھی ایک پل میں کرچی کرچی کر دیتا ہے۔اوروہ عرش سے فرش پر آ گرتا ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں آئے روزاس کے کرشمے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اُن ممالک میں جن کے عدل وانصاف کے گن گاتے ہم کبھی نہیں تھکتے۔۔۔ جن کی شہریت حاصل کرنا ہم میں سے بہت سے لوگوں کا خواب ہے۔۔۔جہاں کا قانون ہمارے لیے مثال کا درجہ رکھتا ہے۔ 70 کی دہائی کے آغاز میں امریکی صدر "رچرڈ نکسن" کا مشہور زمانہ"واٹر گیٹ اسکینڈل" تاریخ سے سبق سیکھنے والوں کے لیے جمہوریت کی فتح کی ایک روشن مثال ہے۔سیاسی اسکینڈلز سے قطع نظر موجودہ دور میں بھی یورپی اورامریکی صدور"اپنے کیے"کی سزا پاتے رہتے ہیں۔ بات صرف ٹھوس ثبوت کی ہے۔
ایک ترقی پذیر ملک کے شہری ہونے کے ناطے ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہی یہ ہےکہ ہم چاہےاشرافیہ سے ہوں یا عام عوام ۔۔۔ان پڑھ ہوں یا تعلیم یافتہ۔ کبھی اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتے۔ ہمارے پاس دلائل نہیں ڈنڈے ہیں۔ برسوں پہلے آزادی کے سفر پر نظر ڈالیں جب ہمارے قائد نے صرف دلائل کی طاقت پر دوست دشمن کو رام کیا۔۔۔ وہ قائد جس کی نہ صرف ظاہری وضع قطع بدیسی تھی بلکہ زبان سے بھی عام لوگ ناواقف تھے۔ اس کے لہجے کی سچائی نے انجان دلوں کو فتح کیا تو غیر اس کے شفاف عزم صمیم کے سامنے ہار گئے۔ جب کچھ نہ بن پڑا تو اس کی ذات ۔اس کے کردار میں کجی تلاش کی گئی۔ اس کے پاس سب سوالوں کے جواب تھے۔ہم جذباتی لوگوں کی قوم ہیں جو صرف الزام لگاتے ہیں۔ ایک پل میں ملزم کو مجرم بنا دیتے ہیں۔ اور جب ثبوت مانگا جائے تو ثبوت کسی کے پاس نہیں ملتا۔ "مجرم" کے پاس اور نہ ہی مدعی کے پاس۔ جناب اشفاق صاحب نے فرمایا تھا کہ "ہم بندہ مار دیتے ہیں جملہ ضائع نہیں ہونے دیتے"۔
۔" ہمارے بابے کہتے ہیں کہ مباحثے کے اندر، جھگڑے اور ڈائیلاگ میں کبھی کبھی آپ کو کمال کی بات سوجھ جائے جو آپ کے مدمقابل کو زیر کردے اور سب کے سامنے رسوا کردے تو وہ بات کبھی نہ کرو اور بندہ بچا لو۔ مت ایسی بات کرو جس وہ شرمندہ ہو جائے۔ اشفاق احمد از زاویہ۔۔۔2"۔
!حرف آخر
آپ بعض لوگوں کو ہمیشہ بےوقوف بنا سکتے ہیں یا تمام لوگوں کو کچھ عرصے کے لیے بےوقوف بنا سکتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہو سکتا کہ آپ تمام لوگوں کو ہمیشہ بےوقوف بنائے رکھیں ( لنکن)۔

سوموار, اگست 18, 2014

"رضا علی عابدی کی کتابیں "

 
  قلم سے آواز تک
 سوانح حیات۔۔۔ رضا علی عابدی
مصنف ::  خرم سہیل
سال اشاعت:: 2014
 دیباچہ :: انتظار حسین
کُتب خانہ۔۔۔
شائع ہونے والی سب سے پہلی کتاب ۔۔سال اشاعت اپریل 1985 ۔۔۔۔
۔ تحقیق:: 1982۔۔۔ مصنف نوٹ:: 5 فروری 1985
برصغیر میں کتابوں کے کیسے کیسے ذخیرے ہیں اور وہاں نادرونایاب کتابیں کس حال میں ہیں؟۔
۔۔۔۔۔۔۔
جرنیلی سڑک۔۔۔
دوسری کتاب ۔۔سال اشاعت۔۔۔مئی 1989
سفر ::1985۔۔۔پروگرام نشر ہوا::1987۔۔۔ مصنف نوٹ:: جمعہ 18 ستمبر1987
پشاورکو کلکتہ سے ملانے والی تاریخی شاہراہ (جی ٹی روڈ) پرسفر،اس کے بدلتےمناظرآس پاس بسنے والوں کا احوال۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
شیر دریا۔۔۔
سفر: 1990 سے 1991 تک تین مرحلوں میں سفر کیا:  ۔۔۔۔۔۔۔ مصنف نوٹ::15 اگست 1993
تبت سے نکل کر بحرِعرب میں اترنے والے دریائے سندھ  کے کنارے کنارے ایک دلچسپ سفرکی روئیداد ۔ تاریخ کے اوراق سے نکل کر پڑھنے والےکے دل میں اُتر جاتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔
جہازی بھائی۔۔۔
سفر::ستمبر 1994۔۔۔۔مصنف نوٹ::26 دسمبر1995
افریقہ کے ساحل سے لگے چھوٹے سے جزیرے ماریشس کا سفرنامہ۔ جہاں آج بھی اردو زبان کا راج ہے۔
اس کتاب پر میرا اظہار۔۔
 جناب رضا علی عابدی کی کتاب "جہازی بھائی" ماریشس کے سفر کا احوال ہی نہیں بلکہ اردو زبان میں اپنی طرز کی ایک ایسی کتاب ہے جس میں صدیوں پرانی تاریخ کا احوال ہے۔ان چہروں کی دل گداز کہانی ہے جنہیں تقدیر کے چکر نے اُن دوردراز جزیروں میں زندہ درگور کر دیا لیکن اُں کے نقش رہتی دنیا تک کاغذ کے رجسٹر پر اور اُن کی آنے والی نسلوں کے نام کا حصہ بن کر محفوظ ہو گئے۔ انسانی رویوں کی بدصورتی اور طاقتور کے کمزور پر ہیبت ناک مظالم کے ساتھ ساتھ ماریشس کے فطرتی حُسن کو فاضل مصنف نے بڑی بےساختگی سے لفظ میں سمویا ہے۔
ایک سوپینتیس (135) صفحات کی اس کتاب کو بجا طور پر ماریشس جانے والوں کے لیے ایک گائیڈبک کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ یہ اور بات کہ  آج سے تقریباً بیس برس پہلے کے ماریشس اور آج میں زمین آسمان کا فرق ضرور پیدا ہو گیا ہو گا پھر بھی  وہاں سیاحت کے لیے جانے والوں کے لیے "جہازی بھائی" میں اہم معلومات ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔
ریل کہانی۔۔۔
سفر::1996 کے اوائل میں سفر کیا ایک ماہ لگا۔۔۔۔ مصنف نوٹ::10جون 1997
برصغیر کی ہتھیلی پر زندگی کی لکیر کی طرح دوڑنے والی ریلوے لائن کی کہانی۔کوئٹہ سے کلکتہ تک انگریز کے فہم کا بچھایا ہوا جال جو آج اپنوں کی بےحسی اور ناقدری کا نوحہ سناتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
 جانے پہچانے۔۔۔
سال اشاعت۔۔۔فروری 2004۔۔۔۔مصنف نوٹ۔۔۔ دسمبر 2003
کچھ شخصیت، کچھ خاکے،چند مضامین
۔۔۔۔۔۔۔۔
حضرت علی کی تقریریں
سال اشاعت۔۔۔۔ستمبر 2004۔۔۔۔مصنف نوٹ۔۔۔اپریل 2004
 نہج البلاغہ سے سہل اردو میں 72 خطبات 
نغمہ گر۔۔۔
سال اشاعت::2010۔۔۔۔مصنف نوٹ::30 اپریل 2009
برصغیرکے نغموں کی تاریخی دستاویز۔۔عوامی تھیٹر سے مقبول نغموں تک
۔۔۔۔۔۔۔۔
ملکہ وکٹوریا اور منشی عبدالکریم۔۔۔
سالِ ِاشاعت::2012۔۔۔۔ مصنف نوٹ ::15 مئی 2000
ملکہ وکٹوریہ کی سوانح تاریخی حوالوں کے ساتھ
۔۔۔۔۔۔۔
 اُردو کا حال۔۔۔
سال اشاعت::2005۔۔۔ مصنف نوٹ::25 دسمبر2004
اردو کو جس حال میں پایا، اسی حال میں بیان کیا۔ اردو نے جو عطا کیا اُس کی شکرگزاری کا احساس ہے۔
۔۔۔۔۔۔
 سُبک اور لطیف 15 کہانیوں کا مجموعہ
سال اشاعت ::2009
۔۔۔۔۔۔۔
اپنی آواز۔۔۔۔۔۔۔۔
  چھوٹی چھوٹی 16 کہانیوں میں چھپی بڑی بڑی باتیں
سال اشاعت::۔۔۔۔ 1994
پہلا سفر۔۔۔
کہانی:: 1982 کے پاک بھارت سفر کی۔۔۔ پہلی اشاعت:: 2011.۔۔۔۔ مصنف نوٹ:: جنوری2010
متحدہ ہندوستان سے ہجرت اور پھر پاکستان سے لندن بسنے کے بعد واپسی کا سفر۔
۔۔۔۔۔۔۔
ریڈیو کے دن۔۔۔
سال اشاعت:: 2011۔۔۔مصنف نوٹ:: 16 نومبر 2010
بی بی سی کی اردو سروس میں گزرے ماہ وسال کی سرگزشت
۔۔۔۔۔۔۔۔
 اخبار کی راتیں۔۔۔
سال اشاعت::2012۔۔۔مصنف نوٹ::مئی 2011
اخبار سے عشق اور اخباری ملازمت  کا احوال۔
۔۔۔۔۔۔
پرانے ٹھگ۔۔
 سال اشاعت::2013۔
۔۔۔۔۔۔
...کتابیں اپنے آباء کی
سال اشاعت::2013۔۔۔۔مصنف نوٹ::۔۔۔ فروری۔2012
"سو کتابوں کی ایک کتاب"
 گرزتے وقت،بدلی تہذیب ،زبان  کے ارتقاء اورتاریخ کی کروٹوں کی داستان قدیم کتابوں کی زبانی
 اُن کتابوں کا احوال جو ہمارے بزرگوں نے پڑھی تھیں اور جو یورپ میں محفوظ رہ گئیں ہیں۔
بی بی سی کی مطبوعات کی تاریخ میں  شائع ہونے والی اردو زبان میں یہ پہلی کتاب ہےجو دراصل بی بی سی ریڈیو پر براڈ کاسٹ ہونے والا اردو کا پہلا پروگرام تھا۔۔۔۔۔چودہ ہفتوں کے لیے مرتب کیا گیا لیکن ایک سو چالیس ہفتے تقریباً ڈھائی سال  (1975 سے 1977)تک چلا ۔
  بچوں کے لیے تصنیف کردہ 16 کتابیں
  جن میں ابتدائی تعلیم کے لیے  تدریسی کتب، حکایات ، کہانیاں  اور نظموں کی کتاب شامل ہیں۔

  پہلی کتاب کے پہلے ایڈیشن کا سرورق۔۔۔
دوسری کتاب کا پہلا ایڈیشن ۔۔۔

 

اتوار, اگست 17, 2014

" قطرے میں سمندر "

قطرے میں سمندر یا سمندر میں قطرہ۔۔۔
زندگی کائنات میں ہے دُنیا میں نہیں۔۔۔ زندگی سے پیار کرو کہ دُنیا فانی ہے زندگی نہیں۔
تلاش زندگی ہے تو ٹھہراؤ دُنیا ہے۔۔۔ سفر زندگی ہے تو قرار دُنیا ہے۔۔۔حرکت زندگی ہے تو بےحسی دُنیا ہے۔۔۔ اضطراب زندگی ہے تو سکون دُنیا ہے۔۔۔بےقراری زندگی ہے توآسودگی دُنیا ہے۔۔۔مادہ زندگی ہے تو مادیت پرستی دُنیا ہے۔۔۔احساس شکست کی چبھن زندگی ہے تو فتح کا خمار دُنیا ہے۔
ناکامی کا سوگ منا کر اُس کے لاشے کو دفنا کر ایک نیا جنم لینا زندگی ہے تو کامیابی کے بُت کو کاندھے پر بٹھا کر عقل کے مندر میں سجا کر آرتی اُتارنا دُنیا ہے۔دنیا محدود ہے اور کائنات لامحدود۔ دنیا کا سفر جسمانی وجود کے ساتھ طے کیا جائے تو ماہ وسال کے دائرے میں سمٹ جاتا ہے۔ کائنات کا سفر مادی وجود کے لمس ۔۔۔اُس کے وسائل کا محتاج نہیں۔ روحانی وجود کی موجودگی کا بھرپور احساس کائنات کی وسعتوں کی رفاقت کا امین ہے۔
!حرف آخر
آنکھ کھل جائے تو قطرے میں سمندر اور سمندر میں قطرہ دکھائی دیتا ہے۔آنکھ بند ہو تو مٹی میں مل کر مٹی ہی ہونا ہے

ہفتہ, اگست 16, 2014

:یومِ آزادی،برستی بارش اور سیاست"

بارش ابرباراں کی صورت موسمی ہو۔۔۔قہر خداوندی کا سونامی بن کر سب کچھ تہہ وبالا کر دے۔۔۔چاہتوں کی رم جھم ہو۔۔۔ظلم، جبر اور مایوسی کی نہ ختم ہونے والی جھڑی ہو یا پھر خیال کے آنگن میں دھیرے دھیرے اُترنے والا شبنمی احساس ۔۔۔ اپنے آغاز سے انجام کا پتہ نہ دیتے ہوئے اندر باہر سے شرابور کر دیتا ہے۔
حبس کی شدت میں بارش کا پہلا قطرہ ماحول اور وقت کی قید سے آزاد ہر نڈھال جسم میں زندگی کی رمق جگا دیتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ہی اس کے اثرات سامنے آتے ہیں۔جب برستے ساون میں کہیں چھتیں ٹپکتی ہیں توکہیں مکینوں کے لیے مدفن بن جاتی ہیں۔ سیلابی ریلہ خاندانوں اور نسلوں کویک لخت صفحہءہستی سے یوں مٹا دیتا ہے کہ زمین تو کیا تہہ زمین بھی اُن کا سراغ نہیں ملتا۔ بارش جو امیروں کے لیے رومانس ہے وہ غریب کے لیے عذاب بن جاتی ہے۔ توازن ہر بارش سے فیض یاب ہونے کا سب سے اہم نکتہ ہے۔
عیسوی تقویم میں جولائی اگست کے مہینوں میں سب سے زیادہ بارشیں ہوتی ہیں۔یہ برسات کا موسم کہلاتا ہے۔ ہندی یا بکرمی تقویم میں یہ ساون بھادوں کے ماہ ہیں ۔ جب گرمی اور حبس انتہا کو پہنچ جائے تو ابر رحمت جوش میں آ جاتا ہے۔
ہمارے لیے یہ مہینے اس لیے بھی اہم ہیں کہ 67 برس پہلے جولائی میں آزادی کے لیے کی گئی جدوجہد کی انتہا ہوگئی اور بالاآخر اگست کو اپنے منطقی انجام کو پہنچ کر 14اور15 اگست کی درمیانی رات تقسیم برصغیر کا فیصلہ ہوا۔
سالوں سے انہی مہینوں میں قوم کو ہمارے نام نہاد "رہنماوں"نے عجیب دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے۔ملک وقوم کے غم میں چھلانگیں لگانے سے لے کر قلابازیاں لگانے والے رہنماوں نے اس یوم یقین کو شک وپریشانی کے دن میں تبدیل کر دیا ہے۔ پرانے پاکستان میں کتنے ناسور اور کون کون سی نا ختم ہونے والی بےضابطگیاں پیدا ہو گئی ہیں کہ یوم آزادی کے روز اُن کو جڑ سے اکھاڑنا لازم ٹھہرا ۔ وہ دن جو افراد کو چاہے وہ کسی بھی مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہوں۔۔۔نیک ومومن کی قید اور امیر غریب کے احساس تفاخر سے آزاد یہ دن اُن کو صرف پاکستانی ہونے کا یقین دلاتا ہے
سال کا یہ خاص دن ہر ایک کے شعور یا لاشعور پر دستک ضرور دیتا ہے۔اور ہر ذی شعور اپنے فہم کے مطابق اس کا اظہار کرتا ہے۔
اگست1947 کا دن ۔۔۔ جب فرد کے یقین محکم ۔۔ افراد کے اتحاد اور تنظیم نےفتح حاصل کی تھی ۔اس کے بعد طمع اور ہوس اقتدار نے آج تک ملک کو گومگو کی کیفیت میں مبتلا کر رکھا ہے۔
۔۔ 1857 میں ہونے والی جنگ آزادی اور آج کے یوم آزادی کے موقع پر ہونے والی اقتدار کی جنگ میں کچھ بھی تو مختلف نہیں،صرف دیسی بدیسی کرداروں کا فرق ہے ۔پہلے باہر سے آنے والوں نے ہماری کمزوریوں سے فائدہ اُٹھا کر حاکمیت کا تاج سر پرسجایا تو آج ہم ایک ہی مٹی سے جنم لینے والے کرسی کے لیے دست وگریباں ہیں۔عوام پہلے بھی تماشائی تھے اور آج بھی تماشائی ہیں۔ میوزیکل چئیرز کے...انا کی موسیقی میں محو رقص بڑوں کے اس کھیل میں عام عوام کیڑے مکوڑوں کی طرح کچلے جا رہے ہیں ۔ ستم یہ ہے کہ اس حبس زدہ موسم میں ٹھنڈے کمروں میں سونے جاگنے والے رہنما دہائی عوام کی بھلائی کی دیتے ہیں۔
اگست میں مارچ منانے سے بہار نہیں آ جاتی۔ ہر موسم اپنے وقت پر آتا ہےجیسے پھل اپنے وقت پر پکتا ہے۔ بےموسم کی بارشیں اچھی تو لگتی ہیں لیکن ان کے اثرات وقت گزرنے کے بعد ہی سامنے آتے ہیں ۔ بےموسم کا پھل جی کو لبھاتا ہے۔۔۔ مہنگا بھی ہوتا ہے لیکن اصل خوشبو اور ذائقے سے کوسوں دور ہوتا ہے۔ 
کولڈ سٹوریج کا تصور گرم اور حبس زدہ موسم میں خواب ناک ضرور ہے چاہے وہ زندگی کا کولڈ سٹوریج ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن اگست صرف انتظار کا مہینہ ہے۔۔۔ موسلا دھاربارش میں اپنے کچے گھر کی ٹپکتی چھت کو گرنے سے بچانے کی کوشش اور بارش رکنے کا انتظار۔ اس وقت کا انتظار جب وقت کی طنابیں اپنے ہاتھ میں مضبوط ہوں اورکسی بےمہر اور ناسمجھ کے سامنے گڑگڑانے کی نوبت نہ آئے۔
( پسِ تحریر۔۔۔  اگست  2014  ۔۔۔اسلام آباد میں ساڑھے چار ماہ سے زائد جاری رہنے والا دھرنا)

جمعرات, اگست 14, 2014

"تبدیلی"

ایک نیا پاکستان بنانے کا شورغا ہے۔"تبدیلی" کی لہر جتنی تیزی سے آئی تھی اُتنی ہی سُرعت سے واپس جا چکی ہے۔سونامی کے نہ آنے کا پتہ چلا اور نہ ہی جانے کی راہ دکھتی ہے۔ جہاں بلندوبانگ دعوؤں کی طغیانیوں کے سمندر میں ڈوبنے والے "جوان خون" کی تعداد بڑھتی جاتی ہے وہیں لالچ , بےحسی اور ہوس اقتدار کا یہ کھارا پانی پلٹتے ہوئے سانس لیتے مردہ جسموں کو اُگلتا جاتا ہے۔ہم عام عوام زندگی کے انتظار میں سراپا انتظار، ان سڑانڈ زدہ پٹے ہوئے مہروں کو اپنے مقدر کا ستارہ جان کر ایک بار پھر جوا کھیلنے کو تیار بیٹھے ہیں ایک نیا پاکستان بنانے کی لاحاصل امید میں پرانے پاکستان کو مدفن بناتے ہوئے بےخبرلوگ نہیں جانتے کہ قبر پر نہ تو گھر بن سکتا ہے اور نہ ہی خوشی ملتی ہے۔
"قبریں نوحہ گر تو پیدا کر سکتی ہیں ثنا خوان نہیں "
قیمتی چیز اگر پرانی ہو جائے تو اُسے توڑ کو کبھی نیا نہیں بنایا جا سکتا ۔اُسے اُسی حالت میں احتیاط سے سنبھال کر سجایا سنوارا جاتا ہے۔۔۔۔اس کا احترام کیا جائے تو ہی اس سے فیض اٹھایا جا سکتا ہے۔
غریب ماں ہو یا دھرتی ماں اُس سے فرار کسی صورت ممکن ہی نہیں ۔ترقی کی منازل طے کرنے کے بعد آگے سے آگے بڑھنا ہر فرد ۔۔۔معاشرے اور قوم کا بنیادی حق ہے. لیکن ! راستہ وہیں بنایا جاتا ہے جہاں پہلے سے راستہ بنا ہوا نہ ہو۔ پکی سڑک کو توڑ کردوبارہ اسی جگہ پر سڑک بنانے کے دعوے کرنا سمجھ میں نہ آنے والی حماقت ہےاور ان نعروں پر یقین کر لینا اس سے بھی بڑی جہالت کے سوا کچھ نہیں۔
۔۔۔۔ تبدیلی بنے بنائے خیالات اور جمےجمائے فرسودہ نظریات سے بغاوت کا نام ہے۔۔۔اور اس بغاوت کا حوصلہ اُن  طبقات میں زیادہ ہوتا ہے جن کے پاس لٹانے کوبےقیمت جان کے سوا کچھ نہ ہو۔۔۔عزت کی اُڑتی دھجیاں زندگی کو بےننگ ونام بنا دیں۔جن کے پاس واپسی کا زادِراہ موجود نہ ہو وہی کشتیاں جلانے کا عزم لے کر میدانِ کارزارمیں اُترتے ہیں۔ پھر یوں ہوتا ہے کہ بےہنگم عزم اور بےترتیب جوش وجذبے کے یہ طوفان جہالت اوراندھی عقیدت کے ساحلوں سے ٹکرا کر ہار مان لیتے ہیں۔ زمین میں رہنے والے زمین کی خاک ہی رہتے ہیں۔غربت ،بےکسی کے یہ سنگِ راہ قابل رحم سے زیادہ باعث عبرت بن جایا کرتے ہیں۔
 وقت کے ساتھ اپنے آپ کو بدلنا،اپنے رویوں،اپنے اصولوں پر نظرثانی کرنا،عمر کے بڑھتے ماہ وسال میں اپنے آپ کوبہتر سے بہتر تراشناتبدیلی ہے۔تخلیقِ انسانی پر نظر ڈالی جائے تو انسان اپنی زندگی کےہر پل نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی طور پر بھی تبدیل ہوتا رہتا ہے۔معاشرے میں تبدیلی ہمیشہ اوپر سے آتی ہے۔ تبدیلی علم سے آتی ہے۔۔۔ تعلیم سے آتی ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ علم اور تعلیم انسان کو محتاط کر دیتے ہیں۔ تبدیلی کا اصل طوفان اس وقت رونما ہوتا ہے جب اہلِ علم وعقل بےحسی اور لاتعلقی کی چادر اتارکرعام انسان کی سطح پرآ کر نہ صرف حقوق کی بات کرتے ہیں بلکہ اس کے لیے عملی قدم بھی اُٹھاتے ہیں۔ حق حلال سے کمانے والا مراعات یافتہ طبقہ اپنے"حال"کی آسائش میں رہتے ہوئےجب دوسروں کے حال کی فکر کرتا ہے چاہے اس میں اس کا ذاتی مفاد ہی کیوں نہ شامل ہو۔ سب سے بڑھ کر جب ناانصافی کا عفریت اُن کے اپنے دروازے پر دستک دیتا ہے تو اس لمحےجاگنا ہی پڑتا ہے۔۔۔ سنبھلنا ہی پڑتا ہےاور وقت کی باگ دوڑ اپنے ہاتھ میں لے کر بدمست ہاتھیوں کو سبق سکھانا ہی پڑتا ہے۔ 
!!!اس لمحے تبدیلی آ ہی جاتی ہے لیکن تماش بین بن کر نہیں ۔۔۔۔ بلکہ تماشا بنا کر
قابلِ رحم اور قابلِ تضحیک بن کر نہیں بلکہ باعث عزت وتکریم بن کر نہ صرف اپنے لیے بلکہ اپنے ساتھیوں کے لیے۔
جوش خطابت اور شورِجنون دکھلا کر نہیں بلکہ دلائل سے اپنے حق پر ڈٹے رہ کر۔
جیو پاکستانیوں اور اپنے اپنے محاذ پر تبدیلی کا آغاز کرو لیکن !!! اپنے "نظام" میں رہ کر اس کی بحالی اور اپنے "ماحول" میں خود کو ایڈ جسٹ کرتے رہنے کی آخری کوشش کے بعد۔
پےدرپےعجلت میں کیے گئے غلط فیصلوں اور سیاسی شعور کی ناپختگی سے قطع نظر مستقبل کا مؤرخ جب پاکستان میں تبدیلی کی لہر کے آغاز کے بارے میں لکھے گا تو عمران خان کا نام اس میں سرفہرست ہوگا۔ لیکن اس لہر کو مثبت سونامی میں بدلنے کے لیے عمران خان کو اپنے دوست نما دشمنوں کو پہچاننے کی دعا ہی دی جا سکتی ہے۔ہربہتی گنگا میں ہاتھ دھونا جن کا خاصہ اورشاہ سے بڑھ کر شاہ کا وفادار ہونا اُن کا ایمان ہے۔جو چڑھتےسورج کو دادوتحسین کا گرہن لگا کر اس کو بےفیض بنا دیتےہیں۔
! آخری بات
ہر انسان ایک مداری ہے۔۔۔ کیا جانئیے کب اُس کے تھیلے سے کیا نکل آئے؟ ہمیں اُس کے کرتب کو دیکھنا چاہیے اُس کے حلیے کو نہیں۔ اپنے کرتب کی قیمت مانگنے پر چپکے سے کھسک جانے کا اختیار بہرحال ہمارے پاس ہے۔
بحیثیت قوم ہم سادہ لوح ہیں۔ نعروں اور بڑھکوں کے فریب میں آ جاتے ہیں۔ بڑے بڑے "جھٹکوں" نے ہمیں میچورٹی عطا نہیں کی۔ سنہرے وعدوں کی زنجیریں ہمیشہ بیڑیاں ہی ثابت ہوئی ہیں۔ تبدیلی کا حصہ ضرور بنیں لیکن یہ بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ بھیڑ بھیڑیے کی کھال پہن کر بھی شکاریوں سے نہیں بچ سکتی اور گیدڑ شیر کا لباس پہن کر بھی بادشاہ نہیں کہلا سکتا۔

منگل, اگست 12, 2014

" پکارِ دوست "

انسان کو اپنی پہچان ہو جائے یہی بڑی بات ہے۔جسے اپنی پہچان نہ ہو وہ دوست دشمن میں کیسے تمیز کر سکتا ہے"۔"  
 ٭ہمیں دوست دُشمن کی پہچان ہی نہیں۔جو ہمارے آنسو پونچھے ہمیں نصیحت کرے تسلّی دے، راستہ دکھائے،ہماری زبان
 سمجھے،ہم سمجھتے ہیں وہی ہمارا سچا دوست ہے۔ حالانکہ حقیقی ساتھی تو وہی ہے جو ہمارے ساتھ ایک کشتی میں سوار ہے۔ زندگی  کے گرداب میں پھنسی کشتی میں ہچکولے کھاتے ہم ایک دوسرے پر الزام تراشی کرتے یہ بھول جاتے ہیں کہ اُس کا اور ہمارا مستقبل ایک ہے۔ کسی طوفانی لہر میں چاہتے ہوئے یا نہ چاہتے ہوئے وہی ہمارا ساتھ دے گا۔ توازن برقرار رکھنے کے لیے اُسے اور ہمیں ہرحال میں اپنی اپنی حد میں رہنا ہے، ورنہ سب کچھ سمیٹنے کی خواہش میں کشتی اُلٹ گئی تو نقصان برابر کا ہو گا ۔ ہمارے ہمدرد تو دور کھڑے اپنی پسندیدہ ٹیم کے لیے صرف تالیاں ہی بجا سکتے ہیں۔۔۔اپنی کشتی کے مسائل سے نظریں چُراتے ہوئے اُن کے لیےیہ محض ایک تماشا ہے۔ہم میں سے ہر ایک کو پہلے اپنی کشتی مضبوط کرنا ہے تا کہ مشکل کی گھڑی میں اپنے دوستوں کے لیے ایک مضبوط پتوار بن سکیں ۔
٭دوست بہت بڑا لفظ ہے۔۔۔ایک مقام ہے۔دوست ہمیشہ کچھ نہ کچھ دیتا ضرورہے چاہے اس وقت وہ اچھا نہ لگ رہا ہو۔۔۔سمجھ نہ آرہا ہو۔ اپنے دوستوں کی قدرکریں۔ دوستی نبھانا دنیا کا سب سے نازک کام ہے۔ دوست رگوں میں سما جائے تو اس ساتھ سےبڑھ کرمضبوط پائیدار رشتہ اورکوئی نہیں۔
٭دوستی میں اس حد تک نہ جاؤ کہ دوست جب دشمن بن جائے تو دوسروں کے سامنے شرمندگی ہو اور دشمنی میں اس حد تک نہ جاؤ کہ دشمن کو دوست بنانا پڑجائے تو اپنے آپ سے نظریں ملانا مشکل ہو جائے۔
٭دوستی گھاٹے کا سودا بھی نہیں۔ نادانی تب ہوگی جب بات مول تول کی ہو۔ یہاں مفت کےخریدارتو بہت ہیں پرخلوص کا گاہک کوئی نہیں اوردوستی بےغرض رشتے کا ہےنہ جفا نہ وفا جو مل جائے اس پر راضی۔
٭دوست روز کا اخبار  نہیں جو وقت ہوا تو ایک نظر ڈال لی۔۔۔ ورنہ بغیر دیکھےبغیرچھوئے پڑا رہا۔۔۔خاموش چپ چاپ۔۔۔نہ پڑھا تو شام کو پرانا۔۔۔ ردی کی ٹوکری کی نظر کسی اور کے حوالے۔ نہ آیا تو صرف اس کی خالی جگہ کا احساس۔۔۔نہ گلہ نہ شکوہ ، نہ اقرار نہ انتظار۔
٭دوست گھڑی کا الارم بھی نہیں ۔۔۔ایک بار سیٹ کر دیا تو مقررہ وقت پر جگاتا رہے گا۔ دوست تو دل کی دھڑکن کے ساتھ جُڑی وہ مدہم سی خاموشی ہے جوکھائی دیتی ہے نہ سُنائی لیکن پھر بھی وہ ہے تو زندگی کا ثبوت، ذات کا یقین ہے۔محسوس 
کریں تو زمانے کے سرد وگرم میں آپ کے ساتھ ہے۔
٭ہمیں اپنے دوستوں کو کبھی ڈسٹ بن کی طرح نہیں استعمال کرنا چاہیے کہ اپنی مایوسیوں،گلے شکوؤں کا کثیف انبار ان کے سر اُنڈیل دیں بلکہ پھولوں کے گلدستے کی طرح اپنے آپ کو پیش کریں جب وہ اسے دل سے لگائیں گے تو ہمارے وجود میں پیوست نادیدہ کانٹے وہ خود بخود ہی محسوس کر لیں گے۔
٭ہمارے دوست گھرکی مانند ہوتے ہیں۔ گھرکسی تپتے صحرا میں ہو یا برفانی بُلندیوں پر۔۔۔دریا کنارے مٹی سےبنا کچا مکان ہو
 یا فالٹ لائن پرموجود کسی بلند منزلہ عمارت میں۔۔۔ کسی شورش زدہ علاقے میں ہویا گیس بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی زد میں ۔۔۔گھرگھرہی ہوتا ہے۔۔۔ گھرسےاتنا دورکبھی نہیں جانا چاہیےکہ گھر کا رستہ ہی بھول جائے۔ اگر گھر نہ رہے تو دنیا کا کوئی گوشہ  ہمارے لیے جائے امان نہیں۔
حرفِ آخر
ہماری اپنی ذات سے بڑھ کر سب سے بہترین دوست اور کوئی نہیں جو ہمیں ہر دوست کی اصلیت سے بخوبی آگاہ کرتی ہے اور اس دوست کی قربت کا احساس بیدار رکھتی ہے جو ہماری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔"اللہ سے دوستی کریں وہ انسانوں سے دوستی کا قرینہ سکھا دے گا۔اللہ کے کلام سے دوستی کریں وہ بندوں کی زبان سمجھا دےگا۔اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم ) سے محبت کریں ہمیشہ کی اندھیری تنہائی سے نجات مل جائےگی اپنے آپ سے دوستی کر لیں تو ایک مخلص دوست مل جائے گا جو ہر قدم پر صحیح رہنمائی کرے گا"۔