صفحہِ اول

جمعرات, جولائی 31, 2014

" نورِعشق"

محبت!!! جوئے میں کمائی جانے والی ایک رات کی دولت نہیں اورنہ ہی کسی کونے کھدرے میں پڑے ہوئے اچانک نکلنے والے پرائزبانڈ کا انعام ہے۔وہ اپنے آپ کو ہمیشہ انڈراسٹیمیٹ کرتی آئی تھی چاہے ظاہری لبادہ ہو یا پوشیدہ خیالات ۔وہ انہیں ایک کمپلیکس کے طور پر سمجھتی یا ایسا سوچتی تھی لیکن پھر وہ جان گئی کہ یہ اللہ کا فضل ہے۔اس طرح کم ازکم وہ تکبر سے دور رہتی ،ہر قدم یوں رکھتی جیسے کانچ پر چل رہی ہو(ملکہ سبا )۔
محبت اللہ کا وہ رزق ہے جس کےبارے میں کہا گیا میں تمہیں ایسی جگہ سےعطا کروں گا جو تمہارے وہم وگمان میں نہ ہو گا۔ وہ ہمیشہ سے جانتی تھی کہ اسے کبھی کسی سے محبت کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔اسے محبت اتنی بےحساب۔۔۔عزت اتنی زیادہ۔۔۔ اور چاہت ہر رشتے سے اتنی بےپناہ ملی کہ وہ ان پھولوں کو اٹھاتے اٹھاتے ان کا بھرپور جواب دینے کی کوشش کو ہی زندگی کا حاصل ماننے لگی۔
اس نے اپنی عقل کے مطابق سب حاصل کر لیا تھا۔وہ محبت کرنے پر یقین نہیں رکھتی تھی۔ وہ سمجھتی تھی کہ کسی سے محبت کرہی نہیں سکتی۔ وہ فقط اللہ کے قرب کی متلاشی تھی جو کہ اپنی ذات کے حوالے سے (جتنا وہ جذب کر سکتی تھی ) اُسے حاصل تھا۔وہ بغیر آہ و زاری کیے اس طرح عطا کرتا تھا کہ وہ شکرگزاری کی انتہا پر جانے کے لیے بےچین رہتی ۔اُس کےلیے شکرگزاری کی انتہا صرف اور صرف"وصال" تھا۔اس پر بھی ڈرتی تھی کہ جس چیزپراختیار نہیں میں اس کی تمنا کیوں کرتی ہوں۔ شاید یہی وہ کسک تھی۔۔۔ جو بےچین رکھتی۔۔۔ کہ میں اب کیا کروں ؟یا کیا کرسکتی ہوں؟ یا مجھے اب کیا کرنا ہے؟۔ یہ سوال سر اُبھارتے تھے وہ جواب ڈھونڈتی پھر تھک کر خرگوش کی طرح سو جاتی اور یوں لگتا شاید "سونے" سے منزل قریب آ جائے گی۔لیکن آنکھ کھلتی تو منزل تو سامنےنظر آتی پر راستہ نہ دکھتا۔ یہی آغاز تھا اور شاید یہی انجام ہوتا۔
اب سوچو! ایسے انسان کا کیا بنے گا جسے منزل تو مل جائے لیکن راستہ نظر نہ آئے۔یہ اس انسان کی کہانی ہے جو کہتا ہے کہ وہ دیدۂ بینا رکھتا ہے۔۔۔ اس کے اندر ایک ایسی روشنی پھوٹی ہے کہ وہ اندر باہر یکساں دیکھ سکتا ہے۔ وہ اس بزرگ کے بارے میں سوچتا ہے۔۔۔جو اپنے چہرے کو اس لیے اونچا نہیں کرتے تھے کہ انہیں انسانوں کے اندر جانور نظر آتے تھے۔اُُس کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنے اندر کے انسان کو کھوج رہا ہے۔۔۔اسے سب سے بڑا فساد اپنے اندر دکھائی دے رہا ہے۔وہ سوچتا ہے کہ جب اللہ سے چاہتے ہیں کہ ہمیں معاف کر دے تو ہم بندوں کومعاف کیوں نہیں کرتے۔اللہ سے ہم ہر وقت اپنے بڑے بڑے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں لیکن بندوں کے چھوٹے چھوٹے قصور معاف کرتے ہماری جان نکلتی ہے۔وہ سوچتا ہے کہ میں اللہ کا شکر ادا نہیں کر پا رہا ہوں۔۔۔مجھ میں برداشت کی کمی ہے۔ عقل کہتی ہے کہ اے انسان تو نے تو برداشت کرنے میں اپنی ساری توانائی خرچ کر دی ہے۔اب تو تیرے پاس کچھ نہیں بچا۔سوچوں کی انہی بھول بھلیوں میں وہ انسان کولپس کر جاتا ہے ۔یہی اس کی زندگی کا "ون پوائنٹ ایجنڈا " تھا کہ وہ بکھر رہی تھی۔۔۔اُسے اللہ کے راستے پر چلنے میں یکسوئی حاصل نہیں ہو رہی تھی۔
اُس نے دنیا کو ہمیشہ خالق کی نظر سے دیکھا یا محبوب کی نظر سے۔اُسے احساس ہی نہ تھا یا کبھی ضرورت یا خواہش ہی محسوس نہ ہوئی کہ اپنے اونچے تخت سے اتر کر کسی کے قدموں میں بیٹھے۔لیکن اب زندگی کی اس ڈھلتی شام مالک جب اُسے ہر طرح سے نواز رہا تھا تو وہ اس جذبے سےکیسے دور رہنے دیتا۔اس نے وہ کسک عطا کی۔۔۔وہ تڑپ عطا کی جس کا احساس اُس کے علاوہ کسی کو نہیں۔"عاشق اپنی چاہت میں اپنے عشق میں تنہا ہوتا ہے" وہ اس میں کسی کا قرب برداشت نہیں کرتا یہاں تک کے محبوب کا بھی نہیں"۔۔۔
محبوب کیا ہے۔۔۔۔۔ ایک فرضی خط جیسے کہ خط استوا۔۔۔ایک ایسی شے جو کہ معدوم ہوتے ہوئے بھی موجود ہے۔۔۔جو آپ کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے لیکن اُسے پانے کے لیے اپنی ساری زندگی کی کمائی بھی اس کے قدموں میں رکھ دی جائے تو بھی کچھ پتہ نہیں کہ وہ قبول کرے یا نہ کرے۔۔۔سخی اتنا کہ ساری زندگی بھلائے رکھیں ۔۔۔اس سے جھگڑا کرتے رہیں لیکن"یقین" کے آخری لمحے اگر اس کی پہچان آنکھوں میں اتر آئی ۔۔۔اس کے سامنے سرنڈر کر لیا تو بیڑہ پار۔
واہ!!! کیا کیفیت ہے۔۔۔کیا بات ہے ۔یہ وہ جذبہ ہے وہ لگن ہے جو صرف عاشق کا ہی نصیب ہے۔ دُنیا کی ساری کمائی ساری نیک نامی ایک طرف اورعاشق کی "غلامی" ایک طرف۔۔۔ یہ وہ تحفہ ہے جو انسان اپنے آپ کو زمین سے لگا کرہی حاصل کرتا ہے۔وہ عشقِ مجاز جو عشق ِحقیقی سے ملا دے وہی سچا عشق ہے۔

بدھ, جولائی 30, 2014

" رمضان 1435 ہجری "

موسم اور مزاج کی اونچ نیچ محسوس کرتا۔۔۔ انسان کے انسان پر انسانیت سوز مظالم کی دلخراش داستانیں اپنے اندر سموتا۔۔۔ رحمتوں اور برکتوں کا ماہ مقدس  اختتام پذیر ہوا۔ اس ایک ماہ میں زندگی نے کیا کیا رنگ دکھائے؟ نظر نے کہاں کہاں فرش سے عرش تک کے نظارے دیکھے؟ بجائے خود ایک داستانِ الف لیلیٰ ہے۔ اور پھر "سب فانی ہے" کے احساس نے گویا فتوٰی لگا کر قلم  ہی توڑ دیا۔
ایک نظرگزشتہ تیس ایام پرڈالوں تو ہرمنظرایک مکمل تصویر پیش کرتا ہے۔ ہجری سال 1435 کا ماہ رمضان جتنی گرمی اور پیاس کی شدت کے احساس کے ساتھ طلوع ہوا اور اسی خنکی اوربرستی بارشوں کے ساتھ  اپنی یادیں چھوڑ گیا۔ایک عجیب سی اداسی ہے جوجسم وجاں کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے ہے۔
اس ایک ماہ میں کچھ بھی تو نہیں بدلا!!! کہیں ایک انچ کی تبدیلی دکھائی نہ دی۔ نہ فرد کی سطح پر اور نہ ہی معاشرے میں۔ ہمارے بازاراسی طرح پُررونق ہیں۔۔۔ہمارے تعیشات اسی طرح جاری وساری ہیں۔۔۔ہماری ملکی  سیاست اسی طرح چند افراد۔۔۔ چند خاندانوں کے گھر کی لونڈی بنی ان کی خدمت میں مصروف ہے۔۔۔ ہمارے خوشحال طبقات اسی طرح "سانوں کی" کا ورد کرتے ہوئے زندگی کالطف اٹھائے جارہے ہیں۔۔۔ہماری افطاریاں ہماری سحریاں دیسی بدیسی   ہوٹلز کے پُرکشش پیکجز سے استفادہ کرتی ہیں،جہاں ایک شخص کے افطار یا سحر کا خرچ ایک درجن سے زائد افراد کے لیے کافی ہے۔۔۔ ہم عام عوام اسی طرح لوڈ شیڈنگ ،انقلاب اور لانگ مارچ کی "انسانی آفات" کے کرشمے بھگت رہے ہیں۔۔۔دل  بہلانے کو ٹی وی آن کریں۔۔۔ جو ہرخاص وعام سے لے کرسب کے لیے ارزاں تفریح کا ذریعہ ہے۔۔۔ تودین ودنیا" محمودوایاز" کی طرح ایک صف میں ملتے ہیں۔۔۔ ایمان بھی بچتا ہے اور نفس بھی تسکین پاتا ہے۔ غرض اسی  خود فراموشی میں روز وشب گزرتے چلے گئے۔
 لیکن!!! کون سا ایمان؟ ۔ ایمان کے بارے میں یہ حدیث صبح شام سماعت میں گونجتی رہی۔
ایمان کو پرکھنے کے تین درجےـ
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا-آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "تم میں سے جو کوئی برائی دیکھے اسے چاہیے کہ اسے اپنےہاتھ سے مٹائے اگر ہاتھ سے مٹانے کی طاقت نہ ہو تو اسے اپنی زبان سے مٹائے اور اگر زبان سے مٹانے کی طاقت نہ ہو اس برائی کو اپنے دل سے مٹائےیعنی دل سے اس سے نفرت کرے۔ یہ ایمان کا سب سے کمزورترین درجہ ہے"۔
صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 179
جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 49
سنن ابوداؤد:جلد اول:حدیث نمبر 1137
سنن نسائی:جلد سوم:حدیث نمبر 1312
سنن ابن ماجہ:جلد اول:حدیث نمبر 1275
   وقت اور حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ  ایمان کے سب سے آخری درجے پر قدم جمانا بھی دشوار سے دشوارتر ہوتا جا رہا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ انسان دل میں کسی بات کو برا جانے اور ظاہر سے اس کا رتی بھر بھی اظہار نہ ہو۔ سب سے پہلے تو اپنے اندر یہ بےچینی رہی کہ کہیں رب کی  نعمتوں کی ناشکری نہ ہو جائے۔۔۔ اپنے پختہ کمروں اور دستر خوان دیکھ کر دل ان بےکسوں کی دہائی دیتا رہا جنہوں نے اپنے ہی ملک میں ہجرت کی۔  دو لاکھ آبادی والے شہر (بنوں ) نے کیسے ان دس لاکھ افراد ( فوج کےضرب عضب کی وجہ سےشمالی وزیرستان سے ہجرت کر کے آنے والوں) کو اپنے اندر سمو لیا۔
 اس میں شک نہیں کہ ہماری قوم بےحس نہیں۔۔۔ بہت کام ہوئے اور ہو بھی رہے ہیں۔ سڑکوں پر، ہسپتالوں میں عام لوگوں کے فی سبیل اللہ روزے کھلوائے گئے۔ جگہ جگہ امداد کے لیے کیمپ لگائے گئے۔ لیکن یہ وقت اجتماعی طور پر ساتھ دینے کا تھا۔ کیا فرق پڑ جاتا اگر ہم صرف ایک ماہ جذبہ اخوت کو عام کر دیتے۔ اپنی لذت کام ودہن کو کچھ وقت کے لیے فراموش کر دیتے زندگی میں صرف ایک عید نہ مناتے۔ ویسے بھی اگر ہمارے اپنے گھر میں ماتم ہو جائے کوئی پیارا بچھڑ جائے تو  پھرعید کا کسے ہوش رہتا ہے۔ ہم نے مقدور بھر زکوٰۂ ،صدقات اور خیرات دے کراپنا  فرض بھی پورا کیا۔ لیکن پھر بھی تشنگی باقی رہی۔ "حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا " والی بات تھی۔  سالوں سے مجبور اورمظلوم فلسطینوں پر ہونے والی حالیہ  لرزہ خیز قتل وغارت گری نے زندگی کے رنگ پھیکے کر دئیے۔
!حرف آخر
 سب بھلا کر چہرے پر بےنیازی اور خودفراموشی کا بناؤسنگھار کرنا بہت کٹھن مرحلہ ہے۔اوراس سے بھی  دشوار۔۔۔ لب یوں سی لینا کہ "خودکلامی"کہیں  بہت دور محسوس ہو۔ لیکن !!! لفظ اپنی جگہ آپ بنا لیتا ہے۔ سوچ کی خوشبو بکھرے بغیر رہ نہیں سکتی۔۔۔ایسے جیسے ہوا میں سرسراتی آکسیجن جو دکھائی بھی نہ دے اور جس کے بنا کچھ سنائی بھی نہ دے۔
 
       

جمعہ, جولائی 11, 2014

" لباسِ مجاز "

سورہ الحجر (15)۔۔۔مکی سورہ ۔تعداد آیات 99 آیاتترجمہ آیت99۔۔
"اور اپنے رب کی عبادت کیے جاؤ یہاں تک کہ تمہاری موت کا وقت آ جائے "
کبھی اے حقیقتِ منتظرنظر آ لباسِ مجاز میں
کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبینِ نیاز میں
کوئی نہیں جان سکتا کہ جذب کی کس حالت میں ڈوب کر اور کس کیفیت میں کیا محسوس کر کے جناب علامہ اقبال پر یہ لفظ اترے ہوں گے۔ تخیل کے رنگ میں جھلک ملی تو صرف یہ کہ حقیقت اُنہی اذہان پر اُترتی ہے۔۔۔وہی قلوب اس کو جذب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔۔۔جو منتظر ہوتے ہیں۔۔۔تلاش کے سفر میں بےچین رہتے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ یہ دُنیا "مجاز" ہے۔ یہاں اصل کبھی آشکار نہیں ہوتا اور نہ ہی ہو سکتا ہے۔
انسان کہانی اتنی مختصر ہے کہ اُسے صرف ایک لفظ اور تین حرفوں میں بیان کیا جا سکتا ہے۔۔۔۔ "سفر" دیکھتی آنکھ کا سفر۔۔جس کی ابتدا کے بارے میں تو جانکاری ہے لیکن انتہا تک رسائی کا سفر ابھی جاری ہے۔۔۔ سفرِدُنیا سے شروع ہونے والایہ سلسلہ سفرِآخرت پر ختم ہو جاتا ہے۔اس درمیانی وقفے کے ہر دن اور ہر رات میں ایک نئے سفر کی شروعات ہوتی ہیں۔انسان اپنی زندگی میں سفر کی کئی منازل طے کرتا ہے اور ہر منزل ایک اور منزل کی جانب اشارہ کرتی ہے۔
سفر صرف جسمانی نہیں ہوتا بلکہ اکثر جسمانی سفر تو جسم سے فرار کی لاشعوری خواہش کا عکس ہوتا ہے۔ایک سفر کی چاہ ہر صاحبِ ایمان کے دل میں مچلتی ہے۔۔۔ جو اُس کی روح پر تخلیق کے پہلے لمحےثبت کر دیا گیا۔اسی لیے جسم آخری سانس تک اُس کی خواہش میں گرفتار رہتا ہے۔انسان سانس کےمدوجزر میں یقین کی حالتوں سے گزرتا ہےاور محسوس کرتا ہے۔ "عین الیقین" یعنی آنکھ سےدیکھتا ہے۔۔۔نظر کے لمس سے پرکھتا ہے۔سوچ سے محسوس کر کے "علم الیقین" کے دائرے میں داخل ہو جاتا ہےیہاں تک کےسفرِمجاز' کے آخری لمحے آخری سانس میں "حق الیقین" عطا کیا جاتا ہےجو اس کی زندگی کمائی کا محورومنبع ٹھہرتا ہے۔ساری عمر جس تلاش میں رہا۔۔۔ جس لذت کے خواب دیکھتا رہا۔۔۔جس تسکین سے آسودگی حاصل کرتا رہا۔ ہمیشہ کے لیے بند ہوتی آنکھ اور دم توڑتی سانسوں کی آخری گرفت میں روشنی کے جھماکے کی طرح۔۔۔ برق کی سی تیزی سے زندگی کے سارے پل۔۔۔سارے منظر ایک لمحے میں سمٹ آتے ہیں۔
کانوں سنی باتیں اور آنکھوں دیکھی حقیقت بھی یہی ہے۔۔۔ حالت ِنزع میں انسان اُسی شے کی خواہش کرتا ہے جو اس کی زندگی کی طلب رہی ہو۔۔۔وہی کلمہ زبان پر آتا ہے جس کا ورد زندگی کے ایام میں ذہن وقلب پر جاری رہا۔اسی لیے کہا گیا کہ دم توڑتے انسان کو کچھ بھی کہنے پر مجبور نہ کرو۔"یہ وقت حق الیقین کا وقت ہے"۔صرف اور صرف سچ ہی زبان سے ادا ہو سکتا ہے اور شاید وہی زندگی کمائی بھی ہو۔
حاصل کلام یہ ہے کہ حقیقت کی پہچان اس مجازی دنیا میں ممکن ہی نہیں لیکن معجزہ رب کریم کی وہ عطا ہے جو اسی فانی دنیا میں ایمان والوں کا نصیب ہے۔۔۔اور اُن کا بھی جو کسی معجزے کسی چمتکار کے انتظار کے بغیر اپنے مالک کے ہر فیصلے کو سر جھکا کر ماننے کی راہ پر چلنے کا عزمِ صمیم رکھتے ہوں۔
دھند انہی آئینوں کی صاف کی جاتی ہے جو صفائی کے خواہش مند ہوں۔۔۔ تسکین اُن دلوں کا مقدر ہے جو بےقرار ہوں ورنہ 
جن قلوب پر مہریں لگ جائیں انہیں سب کچھ دکھائی دے بھی جائے پھر بھی نابینا رہتے ہیں۔
حرفِ آخر
ہم انسان ہیں مجاز کو کسی حد تک ہی سمجھنے کی اہلیت رکھتے ہیں اور اگر مجاز کی رمز سمجھ آنے لگے تو حقیقت کا ادراک دور نہیں
کہ مجاز حقیقت کی سمت کی جانب پہلا قدم ہے۔

اتوار, جولائی 06, 2014

"نورِکائنات"


سورۂ النور(24)۔۔آیت 34۔۔۔ 35۔۔
ترجمہ ۔۔۔۔
ہم نے آپ کی جانب روشن آیات نازل کی ہیں اور ان لوگوں کی مثالیں بھی جو آپ سے پہلے تھے، پرہیز گاروں کے لیے ایک نصیحت(34)۔ اللہ آسمان و زمین کا نور ہے۔ اس کے نور کی مثال ایک طاق کی سی ہے جس میں ایک چراغ ہو، وہ چراغ شیشہ کی قندیل میں ہو گویا کہ وہ چمکتا ہوا روشن ستارہ ہے جو کہ ایک بابرکت درخت زیتون کے تیل سے جلایا جاتا ہے۔ یہ نہ تو مشرقی ہے اور نہ مغربی، قریب ہے کہ اس کا تیل خود ہی روشنی دینے لگے اگرچہ اسے آگ نہ چھوئے۔ یہ نور کے اوپر ایک اور نور ہے۔ اللہ اپنے نور سے جسے چاہتا ہے، ہدایت دیتا ہے اور اللہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان کرتا ہے۔ اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے (35)۔
 اللہ ہماری بیرونی کیفیت نہیں اندرونی احساس کا نام ہے۔جس طرح کہا گیا کہ حُسن اور خوبصورتی کی تلاش میں ہم چاہے پوری دُنیا کا چکر لگا لیں۔اگر وہ ہمارے اندر نہیں تو کہیں نہیں ملے گی۔
 اپنی خوبصورتی کا احساس تلاش کے راستے پر پہلا قدم ہے۔ ظاہری خوبصورتی کا فخروغرور دنیاوی دلدل کی طرف لے جاتا ہے اور باطنی خوبصورتی کی خوشبو "درِکائنات" کو چھو جاتی ہے۔
 اس میں شک نہیں کہ بیرونی اور اندرونی عوامل کی یکجائی سے ہمیں اللہ کی قربت نصیب ہوتی ہے۔یہ قربت عشق کی منزلوں سے پرے بہت بلند  بھی ہے۔۔۔جو صرف اللہ کے مقربین کا نصیب ہے۔۔۔ جس کو ہم جیسے عام انسان دیکھ سکتے ہیں۔۔۔مان سکتے ہیں لیکن سمجھ نہیں سکتے۔۔۔غورکر سکتے ہیں لیکن اپنی محدود استعداد میں رہتے ہوئے اس کو بیان نہیں کر سکتے۔ 
عام انسان ہونے کے ناطے ہمارے لیے احکامات کی پابندی شرطِ اول ہے۔۔۔ اللہ تک رسائی کے لیے احکامات کی پابندی سیڑھی ہرگز نہیں۔۔۔پہلا قدم ضرور ہے کہ اس کے بغیر سفر آگے بڑھ ہی نہیں سکتا۔ لیکن اگر احکام کو ہی اول وآخر مان لیا۔۔۔نصاب کو رٹ کر امتحان دے دیا پھر پاس تو ہوا جا سکتا ہے۔۔۔آگے تو بڑھا جا سکتا ہےپرحرفِ غلط کی طرح مِٹ کر بعد میں آنے والوں کے لیے روشنی کا کوئی ذرہ بھی چھوڑا نہیں جا سکتا۔
 روشنی کا سفر اپنی تلاش سے شروع ہوتا ہے۔ہم اپنے آپ کو فراموش کر کے اللہ کی تلاش سے آغاز کرتے ہیں۔۔۔پہلا ورق پڑھے بغیر درمیان سے شروع کرتے ہیں۔۔۔کچھ پہلے ورق کو ہی اسم اعظم جان کر اس کے ورد میں دُنیاومافیہا سے بےخبر ہو جاتے ہیں۔
 کامیابی کی پہچان سانسوں کی محدود آمد ورفت میں اُن کی روانی کا دھیان رکھتے ہوئے ایک تسلسل کے ساتھ آگےسے آگے بڑھتے چلے جانا ہے۔
علم زمان ومکان کی قید سے آزاد  صرف نور ہی نور ہے۔اللہ نورِکائنات ہے اور انسان اُس کی تخلیق اول ۔اللہ نے نور کی خوشبو سب سے پہلے اپنی محبوب تخلیق کو ودیعت کی۔اور پھر اس کے وسیلے سے کائنات وجود میں آئی۔۔۔ آدم سے اولادِآدم تک یہی سلسلہ جاری وساری ہے۔


جمعہ, جولائی 04, 2014

" قلم کار"

" قلم کاراور تنقید نگار"
پڑھنے سے انسان تنقید نگار تو بن سکتا ہے۔۔۔لکھنے کا طریقہ تو سیکھ سکتا ہے۔۔۔ لفظ کی کمائی کر کے اپنی دُنیا اپنی زندگی کامیاب بنا سکتا ہے۔ایک محدود عمرمیں ستائش اورآسائش کے مزے لوٹ کر۔۔۔اپنے"ظرف" کے مطابق مطمئن ہو کر۔۔۔اس جہانِ فانی سے کوچ کر سکتا ہے۔
لیکن!!!قلمکار بننے کے لیے اپنی ذات کی پہچان بےحد ضروری ہے۔جب تک اپنے ذہن کے جالے صاف نہ کیے جائیں۔۔۔مایوسیوں ،ناکامیوں اور تلخیوں کی گرد ہٹا کر آنکھیں نہ کھولی جائیں۔۔۔اپنے آنسوؤں کو موتی کی طرح پرو کر لفظ میں نہ سمویا جائے۔۔۔ماضی کے بوسیدہ اوراق کو یاد نہ رکھا جائے۔۔۔ انہیں اپنی غربت کے لباس کی طرح نہ پہنا جائے۔۔۔لازوال ادب تخلیق نہیں ہوتا ۔ وہ ادب جو صدیوں بعد بھی آج کی کہانی لگے اور ہر دور میں پڑھنے والے کو اپنا فسانہ محسوس ہو۔
مروجہ دستور کے مطابق ادیب اُسے کہا جاتا ہے جو ادب کے مقرررہ قواعدوضوابط کے دائرے میں رہتے ہوئے ادب تخلیق کرتا ہے۔۔۔نثر لکھتا ہے تو اصنافِ ادب کے خانوں میں اِس کی جگہ تلاش کرتا ہے۔شاعری کے میدان میں قدم رکھتا ہے تو قافیہ ردیف اور اوزان کی بحروں میں سفر کرتا ہے۔ادیب طے شدہ راستوں پر سفر کرنے والا وہ مسافر ہے جس کی نگاہ منزل سے زیادہ نشانِ منزل کی درستگی پر مرکوز رہتی ہے اور وہ راستہ بھٹک جانے کے خطرے اور خدشے سے بے نیاز زندگی کی خوشیاں اور غم لفظ میں سمیٹتا چلا جاتا ہے اور بقدرِ استطاعت ان کا اظہار بھی کرتا ہے۔
انسان فطرتاً آزاد پیدا ہوا ہے ۔اپنی طبع کے خلاف اپنے آپ کو کسی بھی حصار میں محدود کر لینا درحقیقت بڑے حوصلے کا کام ہے۔یہی وجہ ہے کہ ادیب بننا ہر کس وناکس کے بس کی بات نہیں اور ادیب بن کر اپنے آپ کو منوانا اس سے بھی بڑا اعزاز ہے۔ بہت کم لکھنے والے ناموری کی معراج کو چھو پاتے ہیں اور اُن میں سے بھی بہت کم اپنے آپ میں اس اہلیت کو پہچان کر نہ صرف خود فیض اٹھاتے ہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی مشعلِ راہ ثابت ہوتے ہیں ۔
لفظ لکھنے کے بعد لکھاری اگرچہ آزاد ہو جاتا ہے لیکن ایک چھوٹے دائرے سے بڑے دائرے کے حصار میں چلا جاتا ہے۔ دل میں اُترنے والے لفظ کسی کسی لکھاری کا نصیب ہیں۔لفظ ہمیشہ نظر کے لمس اور احساس کی خوشبو سے زندہ رہتا ہے۔عظیم الشان کتابوں میں لکھے قیمتی لفظ جب تک پڑھے نہ جائیں سمجھے نہ جائیں دل میں نہ اتریں اور سب سے بڑھ کر صاحبِ تحریر کی ذات نہ اُجالیں ۔وہ تابوت میں بند بےجان ممیوں کی طرح رہتے ہیں۔ جنہیں اپنی ذات کے قدیم عجائب گھر میں فخر سے رکھا جاسکتا ہے۔دنیا کو رشک وحسد کے سجدے تو کرائے جا سکتے ہیں لیکن اکثراوقات اہلِ ذوق کی ناقدری سے باعث عبرت بھی بن جاتے ہیں۔
بہت لکھنا یا کسی کی نظر سے اچھا لکھنا اہم نہیں ۔ اہم یہ ہے کہ جو کچھ بھی لکھا جائے وہ دل سے لکھا جائے اور کسی کے دل میں بھی اتر جائے۔

اچھے لکھاری اور مقبول لکھاری میں بڑا فرق ہوتا ہے۔اچھا لکھاری ضروری نہیں ہردلعزیز بھی ہو اور ہرمشہور لکھاری اچھا لکھاری بھی نہیں ہوتا۔ اچھا لکھاری جب نہیں ہوتا پھر اس کے لفظ سمجھ آتے ہیں اور مقبول لکھاری کے لفظ اس کے ساتھ قبولیت کی سند حاصل کرتے ہیں اور اس کے بعد اس کے ساتھ ہی چلے جاتے ہیں۔ اچھے اور مقبول لکھاری سے زیادہ کسی لکھاری کے لفظ کے دوام کا تعین وقت کرتا ہے۔ ہم انسان صرف اپنے محدود علم کے دائرے میں دیکھتے ہیں اور فیصلے صادر کر دیتے ہیں۔
لفظ آنے والے زمانوں کے لیے ہی ہوتے ہیں۔ 
 اپنی تمام تر ترقی کے باوجود انسان ابھی تک زمانہ قبل ازمسیح کی بہت سی تحاریر نہیں سمجھ سکا اور نہ ہی بلندپایہ سائنسدانوں اور محققین کے نظریات کی تہہ تک رسائی ملی ہے۔ کون جانے کہ اس دور میں جب وہ لکھے گئے ان کو سمجھنے والے کتنے تھے۔ہم تاریخ کو نہیں بدل سکتے پر اپنے حال میں یہ تو کر سکتے ہیں کہ جو  چیز سمجھ نہ آئے اس کو یکسر مسترد کرنے سے گریز کریں۔
لکھنے والے کو دنیا کی معلوم تاریخ میں کبھی اُس کے سامنےمکمل طور پر پہچانا نہیں گیا اور نہ ہی اسے اس کا مقام ملا۔ اہم یہ ہے کہ لکھنے والا خود بھی اپنے لفظ کی اصل تاثیر سے لاعلم ہوتا ہے اور یہی لاعلمی اسے لفظ کے دشت میں چلتے رہنے پر مجبور کرتی ہے۔ہر لکھنے والے۔۔۔تحقیق کرنے والے کا ایک وقت ہوتا ہے۔ وہ وقت ! جب اس کو مان لیا جاتا ہے۔۔۔ پہچان لیا جاتا ہے۔۔۔اپنا لیا جاتا ہے۔۔۔اس کے علم کو اپنے اندر محسوس کر لیا جاتا ہے۔اور پھراس کو تسلیم کر کے اپنی زندگی کے لیے مشعلِ راہ بنایا جاتا ہے۔لیکن!!! یہ وقت بہت کم کسی لکھنے والے،کسی محقق کی زندگی میں آتا ہے۔کوئی انسان جو مروجہ قواعدوضوابط سے ہٹ کر لکھے یا سوچے اور یا پھر کوئی نیا نظریہ پیش کرےاس کے حرف ،اس کی سوچ کو کبھی اس کے سامنے تعظیم نہیں ملی۔تاریخ کا یہ سبق بارہا ہماری نظروں کے سامنے سے گزرا۔اس کے باوجود کسی تعریف وتوصیف سے بےنیاز ہو کر لکھنے والے  لکھتے رہے،سوچنے والے سوچتے رہےاورعمل کرنے والےعمل کرتے رہے۔جس نے اپنی خاک کی قدر صرف جانی ہی نہیں بلکہ اسے چمکدار ذرے کی صورت دُنیا کے سامنے پیش کیا۔۔۔ وہ لازوال ٹھہرا اور دُنیا نے بھی اس کی خاک کی قدر اس کے سامنے کی۔غالب سے لے کر اقبال تک اور اس صدی میں فیض سے لے کر فراز تک سب وقت کی نبض تھام کر ہی اوج کمال کو پہنچے۔ جب کہ اپنی ذات کے خول میں بند رہنے والےخواہ اصلی ہیرے بھی تھے۔۔۔ دُنیا کی بےحسی کا نوحہ پڑھتے رُخصت ہوئے۔ اُُن کے بعد بھی ان کے مزار بنا کر اس پرآہوں کے ہارتو ڈالے جاسکتے ہیں لیکن ان کی خوشبو بہت کم کسی کی زندگی میں صبح بہار کا پیام دیتی ہے۔ مصطفٰے زیدی،ناصر کاظمی،مجید امجد،ساغر صدیقی سے جون ایلیاء تک ایک طویل فہرست ہےجن کی زندگی کہانی زمانے کی ناقدری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔جو ادب انسان کو اپنی ہی زندگی برتنے کا قرینہ نہ سکھا سکے وہ زیادہ دور تک روشنی نہیں پھیلا سکتا۔سب سے زیادہ دکھی وہ لوگ ہوتے ہیں جو بہت سمجھ دار ہوتے ہیں لیکن ایسی سمجھ کا کیا فائدہ جس سے وہ اپنے لیے خوشی بھی نہ حاصل کر سکیں۔دُکھ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ دوسرے آپ کو کتنا سمجھتے ہیں اہم یہ ہے کہ آپ اپنے آپ کو کتنا جانتے ہیں۔
ادب برائے زندگی اگر اپنے آپ کو ایک نئی زندگی دینے کے لیے ہوتو اس سے بہتر تحفہ اور کوئی نہیں جو ہم اپنے آپ کو دے سکتے ہیں۔جو ادب صرف ادب برائے لذت ہے وہ وقتی تفریح ہے،پھلجھڑی ہےاور کچھ بھی نہیں۔جس ادب سے ہم کچھ سیکھ نہ سکیں وہ اس کھانے کی طرح ہے جس کی پیٹ میں جا کر شیلف لائف چند گھنٹے سے زیادہ نہیں اور اس کے بعد وہ ناقابلِ برداشت بوجھ بن جاتا ہے۔یہی بات صرف ادب یا لفظ سے تعلق پر ہی نہیں بلکہ ہر انسانی تعلق،اس سے بنتے ہر رویے  اور ہر احساس پر بھی پورا اترتی ہے۔

"اقرا"


سورہ ۔۔96۔۔۔ سورۂ العلق
 مکی سورۂ۔۔۔ تعداد آیات۔۔۔19
۔(اے محمدﷺ ) پڑھ اپنے رب کا نام لے کر جس نے پیدا کیا۔(آیت 1)۔
لفظ سے محبت کرو۔۔۔ کتاب سے نہیں۔۔۔ کیونکہ چاہے جانے کے قابل کتاب تو صرف ایک ہی ہے۔۔۔ جو ہرانسان کی دسترس میں ہے اور صرف اسی کے لیے خاص ہے۔اللہ کی کتاب آب حیات ہے جس کو جذب کرنے سے حیات ِجاودانی حاصل ہوتی ہے۔ 
لفظ جہاں بھی ملے۔۔۔جس کا بھی ہو۔۔۔جس کے لیے بھی لکھا گیا ہو۔۔۔خوشبو کی طرح ہے جو چھونے والوں کو خالی ہاتھ نہیں لوٹاتا۔اس کی سچائی کہیں نہ کہیں کبھی نہ کبھی اپنا اثر ضرور چھوڑتی ہے۔
کتاب توحید ہے اور لفظ شراکت۔۔۔ان دونوں کو کبھی گڈمڈ نہ کر بیٹھنا ورنہ خسارہ ہی خسارہ ہے۔
ہم انجانے میں اس کے الٹ کام کرتے ہیں۔علم کی  ہوس میں مبتلا ہو کر کتابیں جمع کرتے چلے جاتے ہیں۔۔۔ان کی محبت میں سب فراموش کر بیٹھتے ہیں۔۔۔عشق سے جنوں تک کی منازل طے کرتے ہیں اور بعد میں خالی ہاتھ چلے جاتے ہیں سب چھوڑ کر۔
جب کہ لفظ کو محور مان لیں۔۔۔ پتھر پر لکیر کی طرح اُس پر ڈٹے رہیں۔۔۔ اپنا کہا ہوا ہو تو اس کے گرد فخروانبساط اورغروروتکبر کے پھیرے لگاتے ہیں۔ غیرکا جی میں اترجائے تو پھراُسی در کے بھکاری ہو کر رہ جاتے ہیں۔ہماری انا کا بت اپنی ذات سے شروع ہو کر شخصیت پرستی تک جا پہنچتا ہے۔

" محبت ۔۔۔ اِک حقیقتِ منتظر"

کیا ہے محبت ؟
 کسی  کی نگاہ سے ۔۔۔
محبت ایک احساس جو محسوس نہ کیا جا سکے۔
محبت ایک پل جو ہاتھ نہ آ سکے۔
محبت ایک جھلک جو دیکھی نہ جا سکے۔
محبت ایک لفظ جو بولا نہ جا سکے۔
محبت ایک اظہار جو کیا نہ جا سکے۔
محبت ایک زندگی جو پل میں بیت جائے۔
محبت ایک خوف جو روشنی میں بھی چھپا رہے۔
محبت ایک تحفہ جو کبھی دیا نہ جا سکے۔
محبت ایک سزا جو جینے نہ دے۔
محبت ایک گھر جس کی فصیلیں آسمان سے باتیں کریں۔
 محبت ایک جھرنا جو پتھروں سے ٹکرا کرگزرے۔
محبت ایک دریا جو کناروں کے بیچ گنگناتا رہے۔
محبت ایک انعام جو بن دیکھے صرف دل پر اترے۔
  میری نظر سے ۔۔۔۔ 
محبت ایک ادا جو ہر احساس کو مہکا  دے۔
محبت ایک پل جو ہاتھ نہ آ سکے۔۔۔ لیکن روح کو چھو جائے تو اس سے مضبوط ساتھ اور کوئی نہیں۔
محبت ایک جھلک جو دیکھی نہ جا سکے۔۔۔ اور جن کے اندر کی آنکھ کھل جائے ان کے لیے جلوے ہی جلوے۔
محبت ایک لفظ جو بولا نہ جا سکے۔۔۔ اور جو ان کہی کو سن لے ؟؟ محبت اُس کے انگ انگ سے بولتی ہے۔
محبت اور خوشبو کی ایک سی سرشت ہے جو اپنا اظہار آپ ہے۔
محبت ایک زندگی جو پل میں بیت جائے۔۔۔ اور وہی پل زندگی کا حاصل ٹھہرے۔ چاہے زندگی کا آخری پل ہی کیوں نہ ہو۔
محبت کا خوف اگر روشنی میں عیاں نہیں  تو تاریکی میں جگنو کی چمک بن کر راہ منور کرتا ہے۔
 محبت وہ تحفہ ہے جو نہ صرف لینے والے بلکہ دینے والے کو بھی مالا مال کر دیتا ہے۔
 محبت سزا صرف ان اذہان کے لیے جو ماہ وسال کے آنے جانے کو جینا تصور کریں۔
 محبت کے گھر میں اعتماد اور یقین کی ننھی سی درز تازہ ہوا کے جھونکوں کی نوید ہے۔  
محبت ایک جھرنا جو پتھروں سے ٹکرا کر گزرے۔۔۔ اور درد کی میٹھی میٹھی کسک چھوڑ جائے۔
محبت ایک دریا جو کناروں کے بیچ گنگناتا رہے۔۔۔۔۔ اور روح و جسم اس کی موسیقیت کےساتھ محورقص رہیں۔
محبت صرف اور صرف " ایک انعام جو بن دیکھے دل پر اترے" ۔۔۔۔ ان دلوں پر جو ہر مادی طلب سے بے نیاز ہونے کی خواہش رکھتے ہوئے ایک راہ کے مسافر ہوں۔
!حرف آخر 
محبت خیال کی ہم آہنگی کا نام ہے جو زمان و مکان کی ہر قید سے آزاد صرف پاک دلوں پر اترتی ہے۔
 جون26۔2014

"آنسو"

میں وقت کی قید میں ٹھہرا آنسو ہوں ۔۔۔
جو بہتا جائے تو دریا۔۔۔ سمٹ جائے تو صحرا۔۔۔ جذب ہو جائے توبارآور۔۔۔ بلند ہو تو چٹان۔۔۔برس جائے تو ساون۔۔۔ پھیل جائے تو سمندر۔۔۔ مستور ہو تو موتی۔۔۔ منجمد ہو تو گلیشئیر۔۔۔ حدت کی انتہا چھو لے تو آتش فشاں۔۔۔ برداشت کی حد پار کر لےتو سونامی اورزلزلے کی صورت بحروبر تہہ وبالا کردے۔۔۔برداشت کا جوہر اپنے اندر سمو لے تو ہیرا۔۔۔ بےغرض ہو کر مہکے تو خوشبو۔۔۔عکس پڑے تو رنگ ہی رنگ ۔۔۔ مستور ہو تو تخلیق۔۔۔سما جائے تو زندگی۔۔۔ جگ کومنور کرے تو نور۔۔۔چمکے تو کہکشاں۔۔۔لیکن!!! وقت کی قید میں محصور ہو تو محض ٹھہرا ہوا آنسو۔
آنسو فطرتِ انسانی کی بُنیادی صفات میں سےہیں ۔ہرچیز کے دو پہلو ہوتے ہیں۔۔۔اس طرح آنسو جب بہتےدکھائی دیتے   ہیں تو انسان کی بےبسی، کم مائیگی اور کمزوری کا مظہر ہوتے ہیں۔۔۔اپنے آپ کو طاقتور ماننے والے،عقلِ کُل سمجھنے والے کبھی آنسو نہیں بہاتے۔آنسو بہا کرانسان وقتی طورشانت ہوجاتا ہے۔وہ دُکھ تکلیف جو برداشت سے باہر ہو رہی ہو آنسو بہانے سے اُس سے عارضی طور پرسہی چُھٹکارا ضرورمِل جاتا ہے۔ لیکن آنسو جب اندر کی طرف بہتے ہیں توگویا زمین کی انتہائی گہرائی کی غاروں میں موجود عظیم الشان کرسٹلز وجود میں آتے ہیں۔۔۔ جو دُنیا کی نظر سےتو پوشیدہ ہی رہتے ہیں لیکن جن کی سرشت میں تلاش اور نئی دُنیا دیکھنے کی آرزوئیں مچلتی ہیں وہ اپنی ہمت ومحنت سےان کی کھوج  میں نکل پڑتے ہیں۔ یہ شاہکاراگرچہ متاثر تو ہرخاص وعام کو کرتے ہیں لیکن اُن کی انفرادیت اورحُسن صرف ماہرِفن ہی پرکھ سکتے ہیں۔۔۔ جو اس راستے کے مسافر ہوں وہی اس کے پیچ وخم کو بخوبی محسوس کرنے کا ہنر رکھتے ہیں۔
آنسوؤں کا وزن ہوتا ہے،آنسو خلا میں نہیں زمین پرموجود ایک شے کا نام ہے۔آنسوجسم کے ساتھ روح بھی رکھتے ہیں۔۔۔ اُنہیں بھی کسی ساتھی کی ضرورت ہوتی ہے جوان کا وزن سہار سکے نہ کہ وہ جو اپنا وزن بھی ان پرڈال کرخود ایک بوجھ بن جائے۔آنسو کی کوئی زبان،کوئی جنس نہیں ہوتی،یہ سانجھے ہیں جو چاہے اپنا لے۔جس کے دل کو چھو جائیں اس کے نام۔
دنیا کا سب سے خالص سب سے سچّا رشتہ آنسو کا ہے۔ وہ آنسو جو تنہائی میں اپنے رب کے حضورسجدۂ شُکر میں ہو۔سجدۂ شُکر  یہ نہیں کہ سب کُچھ پانے کے بعد باقاعدہ اہتمام سے رب کا شُکریہ ادا کیا جائےبلکہ جہاں جس وقت اپنے رب کی حضوری مل جائے۔۔۔ چاہے وہ احساسِ توبہ ہو یا احساس ندامت۔لامکانی کی گھٹن میں اپنے دوست کی عنایات ونوازشات کی برسات ہو یاعقل وشعورکا ایسا رزق عطا ہو کہ دُنیا بھر کی لعنت وملامت سے سجا دسترخوان ایک نعمتِ مُترقبہ دکھائی دے۔انسان یہ سوچے کہ گڑھے میں گرنے کے بعد ایسی بُلندی ہے توعروج کے بعد کمال کیا ہوگا ؟ یہ تو تصوّر سے بھی بالاتر ہے۔ اپنے مالک۔۔۔ اپنے رب۔۔۔اپنے ولی سے۔۔۔ قُربت کی لذت آنسُو کے ایک قطرے میں پنہاں ہے۔۔۔ وہ آنسو جو وصال کی خواہش کو قریب سے قریب تر کردیتا ہے۔۔۔ہجرکی کسک کو بڑھا دیتا ہے۔لیکن یہ کسک بھی زندگی کے ساتھ ساتھ چلتی رہے تو زندگی کی گاڑی کے لیے گریس کا کام کرتی ہےاگر اس کو بریک کے طور پر استعمال کریں گے تو زندگی کا سفر طے  کرنامحال ہوجائے گا۔
آنسو سے بڑھ کر محبت کا اظہار ممکن ہی نہیں، لیکن جب آنسو خشک ہو جائیں تو کیا محبت نہیں ہوتی یا محبت مر جاتی ہے۔ایسا نہیں ہے۔آنسو کبھی خشک نہیں ہوتے۔اگر بہتے دکھائی نہ دیں تو اندر کی جانب جل تھل کر دیتے ہیں۔کہیں بھی کسی بھی انداز میں اپنی جگہ تلاشتے ہیں۔۔۔اپنا راستہ آپ نکالتےہیں۔ہئیت بدلتے جاتے ہیں،بھیس بدل کر سامنے آتے ہیں تو حیران کر دیتے ہیں۔کبھی خون کی روانی میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔کبھی آنکھوں کی حیرانی انہیں ہمارے جسم میں پتھر کی صورت جنم دیتی ہے۔کبھی ہڈیوں میں اس طور سرایت کر جاتے ہیں کہ ڈھونڈنے والوں کو نام ونشان تک نہیں ملتا۔
آنسو لفظ میں ڈھل جائیں تو کاغذ پر گر کر جذب نہیں ہوتے بلکہ اُبھر اُبھر جاتے ہیں۔۔۔ کبھی لفظ کی صورت دلوں کو مسخر کرتے ہیں تو کبھی لہجے کی تلخی بن کر دوسروں کو ہم سے نفرت پر اُکساتے ہیں تو کبھی ہمارے وجود کو مقناطیس بنا کر اوروں کو طواف پر مجبور کر دیتے ہیں۔کبھی زمانے کی ٹھوکروں پر رکھتے ہیں تو کبھی والئ تخت بنا کر چاند ستاروں سے سجدہ کراتے ہیں۔ کبھی بینائی سلب کرتے ہیں تو کبھی اتنی روشنی اُترتی ہے کہ اندر باہر سب یکساں دکھتا ہے۔جو بھی ہے آنسو اتنی طاقت رکھتے ہیں کہ محبت چاہے خیرات میں ملے یا دیوی کے قدموں کی خاک کی صورت، نذرانوں کے ڈھیر لگ جاتے ہیں۔
حرفِ آخر
آنکھ میں ٹھہرے یہ منجمد گلیشئیر ان چھوئے رہیں تو ہی زندگی گاڑی چلتی ہے ورنہ برداشت کی حدت سے پگھل جائیں تو سب ختم ہوجاتا ہے۔اِن کے قطرہ قطرہ رسنے میں ہی سلامتی ہے۔ یہ بےآواز رم جھم کسی بھی صلے کی توقع کے بغیراپنے وجود کی پیاسی زمین کو تو خاموشی سے سیراب کر ہی دیتی ہے۔


‫سُوۡرَةُ الاٴنعَام

سورہ۔۔6 ۔۔۔۔ سُوۡرَةُ الاٴنعَام
پارہ۔۔7۔۔واذاسمعوا
مکی سورہ۔۔۔ تعداد آیات۔۔۔165
شروع الله کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
ترجمہ ۔۔۔آیات1 تا3۔۔۔
ہر طرح کی تعریف اللہ ہی کوسزاوار ہے جس نے آسمانوں اورزمین کو پیدا کیا اوراندھیرا اورروشنی بنائی پھر بھی کافر(اورچیزوں کو) خدا کے برابر ٹھہراتے ہیں(1)۔
 وہی تو ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر (مرنے کا) ایک وقت مقرر کر دیا اور ایک مدت اس کے ہاں اورمقرر ہے پھر بھی تم شک کرتے ہو(2)۔
 اور آسمانوں اور زمین میں وہی (ایک) خدا ہے تمہاری پوشیدہ اور ظاہر سب باتیں جانتا ہے اور تم جو عمل کرتے ہو سب سے واقف ہے(3)۔
ترجمہ ۔۔۔ آیات74 تا83۔۔۔۔
اور (وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے) جب ابراہیؑم نے اپنے باپ آزر سے کہا کہ تم بتوں کو کیا معبود بناتے ہو۔ میں دیکھتا ہوں کہ تم اور تمہاری قوم صریح گمراہی میں ہیں(74)۔
 اور ہم اس طرح ابراہیمؑ کو آسمانوں اور زمین کے عجائبات دکھانے لگے تاکہ وہ خوب یقین کرنے والوں میں ہوجائیں(75)۔
۔(یعنی) جب رات نے ان کو (پردہٴ تاریکی سے) ڈھانپ لیا (تو آسمان میں) ایک ستارا نظر پڑا۔ کہنے لگے یہ میرا پروردگار ہے۔ جب وہ غائب ہوگیا تو کہنے لگے کہ مجھے غائب ہوجانے والے پسند نہیں (76)۔
پھر جب چاند کو دیکھا کہ چمک رہا ہے تو کہنے لگے یہ میرا پروردگار ہے۔ لیکن جب وہ بھی چھپ گیا تو بول اٹھے کہ میرا پروردگار مجھے سیدھا رستہ نہیں دکھائے گا تو میں ان لوگوں میں ہوجاؤں گا جو بھٹک رہے ہیں (77)۔ 
پھر جب سورج کو دیکھا کہ جگمگا رہا ہے تو کہنے لگے میرا پروردگار یہ ہے یہ سب سے بڑا ہے۔ مگر جب وہ بھی غروب ہوگیا تو کہنے لگے لوگو! جن چیزوں کو تم (خدا کا) شریک بناتے ہو میں ان سے بیزار ہوں (78)۔
 میں نے سب سے یکسو ہو کر اپنے تئیں اسی ذات کی طرف متوجہ کیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں (79)َ۔
 اور ان کی قوم ان سے بحث کرنے لگی تو انہوں نے کہا کہ تم مجھ سے خدا کے بارےمیں (کیا) بحث کرتے ہو اس نے تو مجھے سیدھا رستہ دکھا دیا ہے۔ اور جن چیزوں کو تم اس کا شریک بناتے ہو میں ان سے نہیں ڈرتا۔ ہاں جو میرا پروردگار چاہے۔ میرا پروردگار اپنے علم سے ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے۔ کیا تم خیال نہیں کرتے۔ (80)َ۔
 بھلا میں ان چیزوں سے جن کو تم (خدا کا) شریک بناتے ہو کیونکرڈروں جب کہ تم اس سے نہیں ڈرتے کہ خدا کے ساتھ شریک بناتے ہو جس کی اس نے کوئی سند نازل نہیں کی۔ اب دونوں فریق میں سے کون سا فریق امن (اور جمعیت خاطر) کا مستحق ہے۔ اگر سمجھ رکھتے ہو (تو بتاؤ) (81)َ۔
 جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو (شرک کے) ظلم سے مخلوط نہیں کیا ان کے لیے امن ہے اور وہی ہدایت پانے والے ہیں (82)َ۔
 اور یہ ہماری دلیل تھی جو ہم نے ابراہیمؑ کو ان کی قوم کے مقابلے میں عطا کی تھی۔ ہم جس کے چاہتے ہیں درجے بلند کردیتے ہیں۔ بےشک تمہارا پروردگار دانا اور خبردار ہے( 83)۔