بدھ, مئی 28, 2014

"ادھورا خط"

کسی نے کہا تھا کہ پرانے خطوں کو پڑھنے میں اس لیے بھی مزا آتا ہے کہ اُن کا جواب نہیں دینا پڑتا۔
 لیکن میرے لیے۔۔۔۔ لفظ اہم ہے جو کبھی پرانا نہیں ہوتا۔۔۔ خیال زندگی ہے جو نشان منزل ہے۔۔۔ فکر کشش ہے جو خلا میں گرنے سے بچاتی ہے۔۔۔ سوچ کی گیرائی اہم ہے جو پلٹ کر دیکھنے پر پتھر کا نہیں بناتی۔
ایسا ہی ایک خط گیارہ برس قبل بہت عزیز دوست کے نام لکھا ۔۔۔ جو لکھنے کی حد تک ادھورا رہا۔۔۔ لیکن زندگی کے سفر کے ساتھ ساتھ مکمل ہوتا جا رہا ہے۔
بنا کسی کانٹ چھانٹ کے حرف بہ حرف درج ذیل ہے۔
2003، 29جنوری
تیرا ملنا خوشی کی بات سہی 
تجھ سے مل کر اُداس رہتا ہوں
آپ کے وسیلے سے میری بھٹکی ہوئی روح کو قرار ملا ہے۔ایسے سننے والے کان ملے ہیں۔۔۔جو میری کہی ان کہی کی گہرائی کو سُن سکتے ہیں۔ وہ سب کچھ مل گیا ہے جس کی مجھے ہمیشہ سے تلاش رہی تھی۔اس سے پہلے میں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ آئندہ آپ کو لکھ کر تنگ نہیں کروں گی۔ جب آپ نے بتایا کہ زندگی کے الجھے دھاگے سلجھاتی خود بھی الجھتی جا رہی تھی۔۔۔ تو میں نے اپنے آپ کو بہت نادم محسوس کیا کہ جس نے مجھے مالامال کر دیا۔۔۔میں اُس کے لیے کچھ بھی نہ کرسکی۔ آپ میرے اتنا قریب ہیں کہ میں گھنٹوں آپ سے باتیں کر کے پُرسکون ہوجاتی ہوں۔۔۔ ہر سوچ ہر مسئلہ آپ سے شئیر کرتی ہوں۔۔۔اس کے لیے براہِ راست آپ سے ملنا ایک ثانوی بات ہے۔یہ نہایت عجیب لگتا ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ میں آپ کو اپنے سے دور نہیں سمجھتی۔آپ کا جسمانی طور پر میرے اتنا قریب ہونا کہ میں جب چاہوں آپ کو چھو لوں ۔۔۔ اس تعلق کی یقیناً ایک اچھی اور اضافی خصوصیت ہے۔ اسی لیے مجھے دُکھ ہوا کہ میں نے آپ کی پکار کیوں نہیں سنی۔ انہی دنوں میں بھی اپنی زندگی کے ایک اہم موڑ سے گزر رہی تھی۔ میں بھی آپ سے مل کر بہت کچھ کہنا چاہتی تھی۔ آپ سے ملتے ہوئے تقریباً نو سال ہو گئے ہیں۔ لیکن شاید آپ نے محسوس کیا ہو گا کہ گزشتہ ایک سال سے میں زیادہ قریب آ گئی ہوں۔
یہ کہانی 25 جنوری 2002 سے شروع ہوتی ہے۔جب میں 35 برس کی ہوئی ۔تو گویا خواب ِغفلت سے بیدار ہو گئی۔ میں نے سوچنا شروع کیا کہ میں نے کیا کھویا کیا پایا۔ مجھے اب ہر حال میں آگے دیکھنا تھا۔۔۔ 35 برس کا سنگِ میل یوں لگا جیسے باقاعدہ کلاسز ختم ہو گئی ہوں اور امتحانوں سے پہلے تیاری کے لیے جو عرصہ ملتا ہے وہ شروع ہو گیا ہو۔ دسمبر تک مجھے ہر حال میں بستر بوریا سمیٹنا تھا۔ ہر چیز نامکمل تھی۔۔۔میں ایک ایسے سوٹ کیس کی طرح تھی جس میں ہر قسم کا سامان اُلٹا سیدھا ٹھسا تھا۔۔۔اُس کو بند کرنا بہت مشکل کام تھا۔۔۔ہر چیز کو قرینے سے رکھنا تھا۔۔۔فالتو سامان نکالنا تھا۔۔۔میں بیرونی پرواز پر جانے والے اُس مسافر کی مانند تھی جس کو ایک خاص وزن تک سامان لے جانے کی اجازت ہوتی ہے۔ ان حالات میں جبکہ میں ڈوب رہی تھی مجھے کسی بھی قابل اعتماد یا ناقابلِ اعتماد سہارے کی تلاش تھی۔۔۔ یقین جانیں میں اس کیفیت میں تھی کہ روشنی کی جستجو میں آگ سے کھیلنے کو بھی تیار تھی۔ان حالات میں آپ نے مجھے سہارا دیا !!! آپ حیران ہونے میں حق بجانب ہیں کہ کب سہارا دیاَ؟ کب تسلی دی ؟ ۔آپ کا تو میرے ساتھ ہمیشہ سے ایک سا طرزعمل رہا ۔۔۔ مشفقانہ اور بردبار۔۔۔ میں نے بھی اس فاصلے کو پاٹنے کی کوشش نہیں کی۔ کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ اپنی ذاتی باتیں آپ سے شئیر کروں گی ۔لیکن جب آپ نےرسول اللہ ﷺ کے حوالے سے بات کی۔۔۔علم کا خزانہ کتابوں کی صورت عطا کیا تو یہی وہ لمحہ تھا جب میں ٹھہر گئی۔۔۔ سوچا کہ سستانے کے لیے یہی پڑاؤ منتظر تھا ۔رفتہ رفتہ اندازہ ہوتا گیا کہ نشانِ منزل بھی یہیں سے ملے گا اور زادِ راہ بھی۔ اپنے اوپر اعتبار مستحکم ہوتا گیا کہ قدم سیدھے رستے پر پڑ رہے ہیں۔ سفر کی تھکان شوق ِ منزل میں بدل گئی۔

منگل, مئی 27, 2014

"عہدِ عابدی ۔۔۔۔رضاعلی عابدی کی خوشبو جیسی باتیں "

رضا علی عابدی
یہ زبان مجھ سے نہیں مگرمیں اس زبان سے ضرور ہوں۔اس نے میرا بھلا چاہا،میں اس کا بھلا چاہتا ہوں۔یہ کوئی ادلے بدلے کا بندوبست نہیں۔یہ میرے آنگن میں بکھری ہوئی روشنی ہے اور میرے چمن  میں پھیلی ہوئی خوشبو ہے،یہ میرے سینے میں دھڑکتی ہوئی زندگی کی علامت ہے،یہ میرے وجود پر برستی ہوئی ٹھنڈک اور میرے ماتھے پر رکھی ہوئی ماں کی ہتھیلی ہے۔جس طرح اس میں عربی،فارسی،ہندی،پنجابی،سندھی اور گوجری کی آمیزش ہے بالکل اسی طرح یہ زبان راحت،چین،سکون،آرام اورآسائش کا آمیزہ ہے۔
بس یہ ہے کہ یہ زبان کھلی ہوئی بانہیں مانگتی ہے۔وہ کھلی ہوں تو یہ آپ ہی آپ سینے سے لگ جاتی ہے۔
یہی اُردو کا حال ہے۔یہی ماضی اور مجھے یقین ہے ،یہی مستقبل۔
رضا علی عابدی
2004،25 دسمبر
لندن
اُردو کا حال از رضا علی عابدی"۔۔۔ صفحہ 8"
۔۔۔۔۔۔۔
 پہلا سفر

 صفحہ 4۔۔۔ سارے احساس محو ہو جاتے ہیں، محبتوں کا  احساس مٹائے نہیں مٹتا۔
۔۔7۔۔۔ دُنیا میں غریب نہ ہوتے تو شاید  محبت بھی نہ ہوتی۔
۔۔ 14۔۔۔ سکھر کی گرمی کا یہ قصہ بھی سن لیجیے کہ باقی ملک کو کراچی کی بندرگاہ سے ملانے کے لیے تین ہزار تین سو ٹن وزنی ریل کا پل لندن سے لا کر یہاں دریا کے اوپر دوبارہ بنایا گیا اور 25 مارچ 1889ء کو گورنر بہادر اس کا افتتاح کرنے بمبئی سے تشریف لائے تو گرمی اتنی سخت تھی اور تمام سفید فام مہمانوں کے لباس اتنے دبیز تھے کہ پل کا افتتاح صبح سورج نکلنے سے پہلے کرنا پڑا۔ پھر مہمانوں نے پیدل چل کر پل کی سیر کی اور دیکھا کہ اتنے بھاری بھرکم الجھے ہوئے پیچیدہ ڈیزائن پر لندن میں بیٹھے ہوئے انجینئروں نے کتنا ذہن کھپایا ہوگا اورہندوستان میں موجود غریب مزدوروں نے کس قدر مشقت اُٹھائی ہو گی ،کہ کتنے بہت سے تو سروں پر اوزار کرنے سے مر گئے ہوں گے۔
 ۔۔ 48۔۔۔ وقت کا جھونکا مجھے اُڑا لے گیا اور اگلے ہی روز ایک اور مزار کے سامنے لے جا کر کھڑا کیا۔اندھیرے غار کی ٹھنڈی زمین پر رُخسار ٹیکے ایک شیر سو رہا تھا۔
ٹیپوسلطان۔
۔۔49۔۔۔ویسا ہی اندھیرا۔ ہوا میں ویسی ہی خنکی۔ دیواروں کا رنگ ویسا ہی مٹیالا۔ وہ شیرکا غار تھا۔ مقبرہ نہ تھا۔اس کے بیچوں پیچ ٹیپوصاحب کی قبر تھی۔قبر پر بڑا سا کپڑا پھیلا دیا گیا تھا جس پر شیر کی سرمئی دھاریاں بنی ہوئی تھیں۔بالکل ایسا لگا جیسے کوئی گھائل شیر زندگی کی آس چھوڑ کر غار کے ٹھنڈے فرش پر رخسار ٹیکے لیٹا ہو اور بجھی بجھی سی آنکھیں اُٹھا کر ہر آنے جانے والے کو دیکھ رہا ہو اور کہہ رہا ہو کہ تمہیں تو معلوم ہی ہو گا،میرے ساتھ دھوکا ہوا ،ورنہ میں بھی آزاد رہتا اور تم بھی ۔
۔۔63۔۔۔ میرے میزبانوں نے مجھے اس بس میں بٹھا دیا جو ایلورا کے غاروں تک لے جاتی ہے۔خدا جانے وہ کون تھا جس نے ان حیران کر دینے والی تعمیرات کو غاروں کا نام دیا۔یہ غار نہیں ہیں۔یہ سنگلاخ پہاڑوں کا کلیجہ نکال کر ان کے اندر تراشی ہوئی ایسی عبادت گاہیں ہیں کہ ان میں دُنیا بھر کی عقیدت سما جائے پھر بھی کچھ جگہ خالی رہ جائے۔
اورنگ آباد سے صرف اُنیس میل دور ایلورا میں ایک دور تک پھیلا ہوا پہاڑ کھڑا ہے جس کے نیچے اور سامنے بہت کشادہ ایک وادی ہے جو آنکھوں کو بھلی لگتی ہے اور روح میں ایک عجب تازگی سی بھرتی ہے۔
فصیل جیسے اس پہاڑ میں پہلے بودھوں نے اپنی خانقاہیں تراشیں، یہ پندرہ سولہ سو سال پرانی بات ہے۔پھر برہمنوں نے اپنے مندر بنائے جن کے درودیوار میں سو طرح کی مورتیاں تراشیں, بعض ایسی جنہیں دیکھ کر بچے اپنے بڑوں سے پوچھ رہے تھے کہ یہ لوگ کیا کر رہے ہیں۔
برہمنوں کے بعد جین آئے اور انھوں نے پہاڑوں کو ایسے تراشا جیسے یہ مکھن کے بنے ہوں۔ عقیدت دل ودماغ ہی  میں نہیں ،بازوؤں میں بھی کیسی  شکتی بھر دیتی ہے۔
۔۔64۔۔۔وجد صاحب کا وہ فقرہ مجھے یاد رہے گا کہ جس گھر میں کتابیں اور بچے نہ ہوں وہاں جا کر دل نہیں لگتا۔
۔۔80۔۔۔ وقت پر سکیڑ کر اُڑا اور پھر سات سمندر پار جا اترا۔
میرا خواب ختم ہوا ۔
کیسا خواب تھا جو میری جاگتی آنکھوں نے دیکھا تھا۔
۔۔۔۔۔
 ریل گاڑی کی کہانی۔۔۔ رضاعلی عابدی کی کتب کی زبانی اور کچھ گوگل سے۔۔۔  
٭کتابیں اپنے آباء کی ۔۔ صفحہ 266 تا 268۔۔
٭ ریڈیو کے دن ۔۔۔ صفحہ 41
٭ ریل کہانی۔۔۔ صفحہ14۔۔۔153۔۔۔154
ایک نام، ایک ناول اورایک کہانی" اُمراؤ جان ادا (1899)"سے کون واقف نہیں۔مرزامحمد ہادی رسوا کے قلم سے نکلی اس تحریر کو ناقدین اردو زبان وادب کا پہلا باضابطہ ناول قرار دیتے ہیں۔ایک سو سولہ برس پہلے شائع ہونے والا یہ ناول  اُن کتابوں میں سرِفہرست ہے جو آج تک شائع ہو رہی ہیں اور نہ معلوم کب تک شائع ہوتی رہیں گی۔
انگریز حکومت نے کوئٹہ کے راستے افغانستان تک ریلوے لائن ڈالنے کا آغاز کیا۔وہاں پٹڑیاں ڈالنے اور سرنگیں کھودنے کے لیے سروے کرنے والوں میں مرزامحمد ہادی رسوا  بھی شامل تھے جو روڑکی انجنئرنگ کالج سے اوورسئیری کی سند لے کر آئے تھے اورکوئٹہ میں ملازمت کرتے تھے۔  کئی برس کے سروے کے بعد کوئٹہ سے آگے درۂ بولان میں 1886 میں ریلوے لائن بچھائی گئی۔ 
  دُنیا کی پہلی مسافر بردار ریل گاڑی 1825 میں برطانیہ میں چلی۔اس کےبعد فرانس،امریکہ،جرمنی،روس،اٹلی،اسپین اور میکسیکو میں ریل گاڑی سے سفر کا آغاز ہوتا گیا۔ ہندوستان میں  ریل کی آمد انگریزوں کے اقتدار کے ساتھ شروع ہوئی بھاپ کا پہلا انجن 22 دسمبر 1851 کو روڑکی میں چلایا گیا اور اس وقت  پنجاب کے حاکم ٹامسن کےنام پر اُس کا نام ٹامسن رکھا گیا۔ ہندوستان میں سب سے پہلی مسافر ریل گاڑی 1853 میں چلی۔16 اپریل 1853 کو بمبئی میں عام چھٹی کا اعلان ہوا۔بوری بندر کے اسٹیشن پر گورنر کے بینڈ نے انگریزی دُھنیں بجائیں۔سہ پہر تین بج کر پینتیس منٹ پر پہلی گاڑی چارسو مسافروں کو لے کر چلی توراستے میں ہر رنگ ہر نسل کے بےشمار لوگوں نے خوش ہو کر تالیاں بجائیں۔گاڑی کو اکیس توپوں کی سلامی دی گئی۔اس کے ساتھ چودہ ڈبے لگائے گئےاور تین انجن اسے کھینچ رہے تھے جن کےنام سندھ،سلطان اورصاحب
رکھے گئے۔یہ گاڑی تھانہ (ضلع مہاراشٹر) تک گئی تھی۔اس گاڑی نے اکیس میل کا سفر تقریباً پینتالیس سےستاون منٹ میں طے کیا۔

"لم یلد ولم یولد"

  اللہ اپنی حکمتیں اُنہیں پر ظاہر کرتا ہے جو اُس کے دوست ہوں۔ رازکی باتیں دوستوں سے کی جاتی ہیں نوکروں اور غلاموں سے نہیں۔۔۔وہ جوصرف جی حضوری کہنا جانتے ہیں۔۔۔ کہ یہ اُن کے رزق کی مجبوری بھی ہے اور بقا کا سوال بھی۔دوست جو دے اس پر بھی راضی اور جو نہ دے اس پر بھی راضی۔ دوستی میں توقع بالکل نہیں ہوتی۔۔۔ توقع پوری نہ ہو تو مایوسی اور دُکھ ہوتا ہے۔
دوستی خوشی کا نام ہے۔۔۔رقص کا نام ہے۔۔۔اپنے مدار سے نکل کر دوست کے مدار میں دیوانہ وار گردش کا نام ہے۔۔۔ لیکن! دوست کے رُتبے اور مقام کو سامنے رکھتے ہوئے۔۔۔اُس کی ناراضگی اور اُس کی ادا پہچاننا بہت ضروری ہے۔ دوست وہی ہے جو ان کہی کو سن لے۔ دوستی رشتہ نہیں ہوتی ۔۔۔ دوستی تعلق ہوتی ہے۔ دوستی ذمہ داری نہیں ہوتی۔۔۔کام نہیں ہوتی لیکن! ذمہ داری اُٹھانے اور کام کو بہتر سرانجام دینے کا حوصلہ دیتی ہے۔
مئی29۔2013

جمعہ, مئی 23, 2014

"ثابت قدم "

کہا جاتا ہے کہ اُستاد سبق دے کر امتحان لیتا ہے اور زندگی امتحان لے کر سبق دیتی ہے لیکن کچھ لوگ زندگی کی طرح ہوتے ہیں جو صبح کی پہلی کرن کی طرح ہماری ذات کے اُفق پر طلوع ہوتے ہیں۔نگاہ اُن کی چکاچوند کے سامنے ہار مان لیتی ہے۔۔۔وجود اُن کی روشنی میں جگمگا اُٹھتا ہے۔۔۔قدم اُن کے ہم قدم ہونے کو مچل جاتے ہیں۔۔۔دل دماغ برسوں کی کمائی اُن کے چرنوں میں نچھاور کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔
 چاہنا اور چاہے جانے کا احساس ایک نشے کی طرح یوں اپنی گرفت میں لیتا ہے کہ آنکھ اس لذت کے  خمار میں بند ہوجاتی ہے۔اگلے ہی پل جب کھلتی ہے تو مایوسی۔۔۔محرومی یا جدائی کا تصور سوہانِ روح لگتا ہے۔۔۔محبت کا نشہ جاتے جاتے انسان کو توڑ کر رکھ دیتا ہے۔انسان کی حقیقت محبت اور آزمائش میں کھل کر سامنے آتی ہے۔
محبت کا سفر جہاں سے ختم ہوتا ہےآزمائش کا وہی نقطہءآغاز ہے۔آزمائش کی گھڑی میں سر پر پہاڑ ٹوٹ پڑتا ہے،ہمت،صبراور برداشت کے اسباق ریت پر لکھی تحریر سے زیادہ نہیں دکھتے۔بس ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہےعشق وجنوں کےدرمیان۔۔۔بلندی پستی کے بیچ۔اس پلِ صراط سے بخیروعافیت گُزر جانا ابدی کامیابی کا ضامن ہے۔یہی وقت انسان کی ساری زندگی کا حاصل ہے تواُس کی عمربھر کی کمائی مٹھی میں بند  ریت کی طرح پھسلتی جاتی ہے،اس سمے ہتھیلی پرآگہی کی ریت کا ایک ننھا سا ذرہ بھی باقی رہ جائے تو انسان دوبارہ قدم جمانے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔نگاہ کا زاویہ بدلنے سے غیرمحسوس انداز میں طوفانوں کے رُخ بھی بدلنے لگتے ہیں۔اپنے وجود۔۔۔ اپنے شرف کا احساس حوصلہ عطا کرتا ہے۔۔۔آنے والی ہر آزمائش کے سامنے ثابت قدم رکھتا ہے۔اپنے رب کی حکمت کے راز کھولتی سکون کی یہ کیفیت بڑی سے بڑی لذت سے بڑھ کر ہے۔یہی وہ امتحان ہے جس کے نصاب میں پاس ہونا نہ صرف لینے والے بلکہ دینے والے کے لیے بھی ساری عمر کی تپسیا کا حاصل ہے۔ اور یہ امتحان نہیں انعام ہےان کے لیے جو بہت خاص ہوں۔ کہ رب کائنات کسی پر اس کی استطاعت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا
!حرفِ آخر
 محبت ہو یا آزمائش صرف اُن کا مقدر ہے جو اس کے اہل ہوں۔۔۔ لیکن!!! ان میں سے بھی بہت خاص وہ ہوتے ہیں جو اپنی محبت کو آزمائش جانیں اور آزمائش کی گھڑیوں میں اپنے خالق کی محبت ورحمت کو یاد رکھیں۔
محبت اور آزمائش کی حقیقت ہم نہیں جان سکتے۔۔۔کیا خبر کہ جسے محبت سمجھ رہے ہوں وہ آزمائش ہو اور جو آزمائش دکھتی ہے وہ قربت کی راہ پر پہلا قدم ہو۔

جمعہ, مئی 16, 2014

"کرنیں (2) "

محبت نہ ملے تو انسان ٹوٹ جاتا ہےاور پسند نہ ملے تو دل ٹوٹ جاتا ہے۔::
۔۔۔۔
خوشی دراصل اندر کے سکون کا نام ہی تو ہے ،اس دنیائے رنگ وبو میں جس کی تلاش کی سعی ہی کی جا سکتی ہے۔لیکن یہ سعی بھی ہر ایک کا نصیب نہیں۔ اور کامل خوشی کی گرفت تو فانی انسان کی فانی زندگی کی دسترس میں ممکن ہی نہیں۔
۔۔۔
 ۔::انسان جتنا تنہا ہوتا ہے اتنی ہی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔۔۔اپنے کردار کے متعلق ۔۔۔ صرف خود کو مطمئن کرنےکے لیے۔
۔۔۔۔
 ۔:: راضی با رضا رہنے کا اعجازکنواں خود چل کر پیاسے کے پاس آ جائے۔۔۔ کنواں کون اور پیاسا کون۔۔۔ اس راز کی کھوج پیاسے کو سیراب ہو کر بھی تشنہ رکھتی ہے۔
۔۔۔۔

خواہشات کے پاؤں اتنے نہ پھیلاؤ کہ عمر کی چادر چھوٹی پڑ جائے۔
,۔۔۔۔
دیوانگی منزل تک پہنچا تو دیتی ہے لیکن منزل کا شعور صرف عقل ہی فراہم کرتی ہے۔
۔۔۔۔۔
فطرت کو بدلا نہیں جا سکتا لیکن سمجھا جاسکتا ہے۔فطرت کو عزت دی جا سکتی ہے اور ہم عزت دینا نہیں جانتے یہی اصل المیہ ہے۔
۔۔۔۔
سچائی خوشبو کی طرح ہے کبھی نہ کبھی اس کی مہک کہیں نہ کہیں ضرور اپنا اثر چھوڑتی ہے۔
خوشبو اپنا راستہ خود بناتی ہے یہ صرف وقت کی طاقت ہے جو راستہ دیتا بھی ہے اور راستہ روکتا بھی ہے۔
خوشو کوئی بھی ہو چرائی نہیں جاسکتی خود ہی ہرطرف پھیل جاتی ہے۔اب جس کا جتنا ظرف ہے وہ اسی طوراس سے فیض یاب ہوتا ہے۔جس کا جو حصہ ہے وہ اسے مل کر ہی رہتا ہے چاہے رسائی کی لذت ہو یا نارسائی کا کرب۔جو سانس کی خوشبو چھو لے اسے سب مان لینا چاہیے۔۔۔غصے میں لپٹی محبت ہو یا محبت میں چھپا درد۔
۔۔۔۔
عقیدت اندھی ہوتی ہے محبت نہیں ۔ محبت تو بذات خود تکمیل کا نام ہے اس میں کسی قسم کی خامی کی گنجائش ہی نہیں۔
۔۔۔۔۔
قربت لمحاتی لمس یا وقتی سرشاری کا نام نہیں۔ قربت ایک احساس ہے۔۔۔ وہ احساس جو زمان ومکاں کی قید سے آزاد وقت گزرنے کے ساتھ بڑھتا جاتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
محبت قربت کا نام ہے اورعقیدت پوجا کا۔محبت عقیدت میں ڈھل جائے تو بڑا مسئلہ ہو جاتا ہے کہ پھرمحبت میں لین دین اور نفع نصان کا کھاتہ کھل جاتا ہے۔ محبت "ایکو" ہے اور کچھ بھی نہیں ۔محبت کا اعجاز یہ بھی کہ بن مانگے تحفے ملتے جاتے ہیں۔ عقیدت میں تو چڑھاوے چڑھاتے جاؤ پھر بھی اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ نذر قبول ہو کہ نہ ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عورت زمین ہے،مٹی ہے،کھیتی ہے،کان(مائن)ہے،لباس ہے،ڈونر ہے۔۔۔کچھ نہ کچھ دیتی ہے۔مرد کھدائی کرتا ہے،محنت
کرتا ہے،تن ڈھانپتا ہے،جسم وجاں کی توانائی پاتا ہے۔۔۔ہمیشہ کچھ نہ کچھ حاصل کرتا ہے چاہے وہ نہ بھی ہو جس کی خواہش کی لیکن جو بھی ملے اپنی مزدوری کا حاصل جان کر سنبھالنے کی سعی کرتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
دنیا میں بےغرض کچھ نہیں کہیں بھی نہیں،یہ بہت اہم بات ہے لیکن ہم کبھی نہیں سمجھتے اور نہ مانتے ہیں۔
۔۔۔۔۔
ہم زندگی کے آئی سی یو میں اُکھڑتی سانس لیتے پل دوپل کے مہمان ہیں ۔ایسے میں سکون کی آکسیجن مل جائے تو جی اُٹھتے ہیں سانسوں کی روانی کچھ بہتر ہو جاتی ہے،اُس کا خمارایک عادت بن کر پورے وجود پر چھا جاتا ہے۔ لیکن آکسیجن کبھی قید نہیں ہوسکی، یہ بےکراں،لامحدود تو ہے ہرایک کے لیے لیکن اس کی اہمیت اورخاصیت سے ہم میں سے اکثرلاعلم ہی رہتے ہیں
۔۔۔۔۔
پریشان انسان جب ہو جب مسئلے کا حل ہو اور پھربھی مسئلہ حل نہ ہو رہا ہو۔جن مسئلوں کے حل وقت کے سوا کسی کے پاس نہ ہوں انہیں وقت پر ہی چھوڑ دینا چاہیے۔
۔۔۔۔۔۔۔
زندگی میں ہم ہر ایک ماؤنٹ ایورسٹ سر نہیں کر سکتے کہیں نہ کہیں سے تو واپس آنا پڑتا ہے؎ بجائے اس کے کہ واپس کر دیا جائے خود ہی اپنی اہلیت کو پہچان کر پلٹا جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمیں جس کی تلاش ہو وہ مل جائے لیکن کیا ہم بھی اس کی تلاش ہیں یا نہیں ؟۔۔۔یہ بہت اہم سوال ہے۔
۔۔۔۔
 ہر احساس کے لیے سب سے بنیادی چیز وقت ہے۔۔۔مکمل وقت۔
۔۔۔۔۔
جو عورت یا مرد صرف جسمانی تقاضوں کے ساتھ جیتے ہیں وہ زیادہ خوش رہتے ہیں۔
۔۔۔۔۔
ضروری نہیں جس سے ذہن مل جائے وہ ہمارے جسم کی طلب بھی پوری کر سکتا ہو۔
۔۔۔۔
یہ صرف ساتھ کا کمال ہوتا ہے کہ وہ کسی لمس کو بار آور کر دے یا بانجھ رہنے دے۔
۔۔۔۔
::انسان کی مٹی میں خوشی کی جڑیں جتنی گہری ہوتی جاتی ہیں دُکھ کی کونپلیں اُتنی ہی تیزی سے نمودار ہونے لگتی ہیں۔
۔۔۔۔
 ::دکھ لباس کی مانند ہیں کوئی ان کو اوڑھ لیتا ہے تو کسی کے اندر یوں اُتر جاتے ہیں کہ روشنی کی ردا بدن کے زخم چھپا دیتی ہے۔
۔۔۔۔
 ۔::جتنا مل جائے اسے قبول کر لینا چاہیے شاید یہ بھی ہماری اوقات سے زیادہ ہو ہم رب کے گناہ گار بندے ہیں اس کا فضل سب عیب چھپا لیتا ہے۔
۔۔۔۔
محبوب راستہ دیتا ہے راستہ روکتا نہیں۔۔۔ سہارا دیتا ہے دربدر نہیں کرتا۔ ::

۔۔۔۔
حرام کی کمائی حرام کھانے والوں کو ہی راس آتی ہے۔ ::
۔۔۔۔
سب کیا دھرا مٹی ہوجاتا ہے۔۔۔کبھی مٹی میں مل کر ۔۔۔کبھی مٹی کا مادھو بن کر۔ ::
۔۔۔۔
ہم جانتے بہت کچھ ہیں لیکن یقین نہیں کرتے۔اسی لیے خالی ہاتھ رہ جاتے ہیں۔ ::
۔۔۔۔
 ہم ساری عمر سونا جان کر پتھر جمع کرتے ہیں۔ ضرورت پڑے تو پتہ چلتا ہےکھوٹ ہی کھوٹ۔ ::
۔۔۔۔
کبھی محبت کی گہرائی کا اندازہ نہ ہونا ہی ڈوبنے سے بچا لیتا ہے۔::
۔۔۔۔
 ۔::کچھ قیمتی چیزیں ہم کبھی نہیں خرید سکتے اور کچھ قیمتی چیزیں ہمیں بن مانگے مل جاتی ہیں۔جو قیمتی چیزیں بن مانگے مل جائیں بد قسمتی سے ہم انهیں" قیمتی"کے زمرے میں رکهتےہی نہیں۔
۔۔۔۔
 ۔::چراغ روشنی کے لیے ہے لیکن جو چراغ اپنے گھر کی تاریکی نہ دور کر سکے وہ چاہےجگ کو منور کرے لیکن تاسف اور ناقدری کا گرہن ہمیشہ اس کے ساتھ لگا رہتا ہے۔
۔۔۔۔
 آزادی اپنی حد پہچانتے ہوئے اُس کے اندر پروازکرنےکا نام ہے۔::

منگل, مئی 13, 2014

" واہ محبت "

محبت تاج وتخت ٹھکرا کر تاج وتخت سے اُتارنے کے بعد "دامن میں کوہ کے" اِک چھوٹا سا جھونپڑا بنانے کا نام نہیں۔محبت جسم وروح کی ہرکنجی تک رسائی دینے۔۔۔اُس کوبےدریغ برتنے۔۔۔ حرم سرا میں 'ممتاز' کرنے۔۔۔ یکے بعد دیگرے مہریں لگا کر نئی ارواح لانے کی ہوسِ بادشاہی سے قرار نہیں پاتی۔۔۔ محبوب کی ساری توانائی نچوڑ لینے کے بعد "اس کے مرقد کو رہتی دُنیا تک "محل" کا تاج پہنانے سے یادگار نہیں ہوتی۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ محبت کی انتہا محبوب کے ہمیشہ ساتھ رہنے کی خواہش کا نام ہے۔ تاریخ میں سچی  محبت کو ہمیشہ کے لیے امر کرنےکے لیے تاج وتخت اورتاج محل کے حوالے کی اہمیت سے انکار نہیں۔لیکن محبت صرف مادی وسائل سے محبوب کو حاصل کرنے اورگنتی کے ماہ وسال میں اپنی دسترس میں رکھنے سے مکمل نہیں ہوتی۔ تاریخ کا ایک ورق بننے سے کہیں بہتر تاریخ رقم کرنا ہے۔ تاریخ کو سمجھنا ہے۔۔۔زندگی کے اغراض ومقاصد کو جاننا ہے اور پھر عمل کرنا ہے۔ محبت زندگی کہانی کا وہ باب ہے جس تک رسائی ہرکسی کا نصیب نہیں۔۔۔اوررسائی ہو جائے تو پھراس کو سمجھنا بڑے کرم کی بات ہے۔ محبت کرنا جتنا آسان دکھتا ہے اس سے زیادہ مشکل محبت کو سنبھالنا ہے۔ محبت کرنے کے بعد خود کو اس کا اہل ثابت کرنا ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ کسی بڑے ادارے میں داخلہ تو آسانی سے مل جائے لیکن اس کے بعد اپنی صلاحیت پر آگے سے آگے کا سفر طے کیا جائے۔
!آخری بات
محبت کرنے پر اپنا اختیار نہیں لیکن اُسے سمجھنے پر ہمارا مکمل اختیار ہے۔ خاموشی سے محبت کرتے رہیں۔۔۔خوشبو بکھیرتے رہیں۔۔۔خوشبو سمیٹتے رہیں۔۔۔تو معتبر رہتے ہیں۔اگر محبت کو سمجھنے سے قاصر ہو جائیں تو پھر کسی کام کے نہیں رہتے۔۔۔نہ اپنے اور نہ ہی محبوب کے۔

سوموار, مئی 12, 2014

"ماں"

ماں ۔۔۔
عورت کا  وہ نام جو نہ صرف مر کر بلکہ مرنے کے بعد بھی اس سے  جدا نہیں ہوتا۔
وہ اسم اعظم جو صرف اس کی ذات کے لیے خاص ہے۔
ماتھے کا وہ جھومر جو چہرے کی سیاہی چھپا دیتا ہے۔
عزت کی وہ معراج جو محبت کو کم قیمت بنا دیتی ہے۔
 پاؤں کی وہ زنجیر جو ایک مخصوس دائرے میں "می رقصم" رکھتی ہے۔ 
راستے کی وہ رُکاوٹ جو نئی منزلوں کی جانب نظر بھر کر دیکھنے کی بھی اجازت نہیں دیتی۔
 آسمان کی وہ وسعت جو طاقت ِپرواز کو محدود کر دیتی ہے۔
 زمین کی وہ رفعت جو خاک ہو کر بھی خاک میں ملنے نہیں دیتی۔
کائنات کی وہ حقیقت جو خالق کائنات کے بعد تخلیق  کا جواز ہے۔

  

ہفتہ, مئی 10, 2014

"زیرو پوائنٹ"

بہت سی عام پریشانیوں،اکثر خواریوں کی جڑ خواہ کچھ بھی ہو لیکن ہماری ناسمجھی کاچھڑکاؤ انہیں گہرا کرتا جاتا ہے۔ یوں بڑھتے بڑھتے آکاس بیل کی طرح وہ ہمارے جسم وجاں کو چاٹ جاتی ہیں۔
ہماری پسماندگی یہ نہیں کہ ہم جاہل ہیں۔۔۔یہ بھی نہیں کہ ہم سوچتے نہیں۔ہمارا دکھ یہ ہے کہ ہم کبھی اپنے آپ کو دوسرے کی جگہ پر رکھ کر نہیں سوچتے۔ اپنی ذات کو اپنے قلب سے نکال کر دوسرے کے قالب میں ڈھال لینا ایسا منتر ہےجس کا علم کسی عامل کے پاس نہیں۔۔۔ذہنی ارتکاز کی مسلسل مشقیں شرط نہیں۔۔۔ جان مال اور ایمان بھی لُٹ جانے کا اندیشہ نہیں۔۔۔محترم اشفاق احمد کے الفاظ میں "تنہائی میں دیوار سے ڈھو لگا کر بیٹھنے " کی بھی حاجت نہیں۔۔۔علم وعرفان کی موٹی موٹی کتابیں پڑھنے،رٹنے اورحفظ کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔۔۔معمول کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ہپناٹائز کرنے۔۔۔اُس کے ماضی اور حال کی گہرائی ماپنے کے بعد۔۔۔اُس کے مسائل کی جانکاری اور حل کرنے کی کوشش بھی نہیں۔
ان سب کے باوجود یہ ایسا ٹوٹکا ہے کہ انسان اس پرعمل کرنے لگ جائے توبہت حد تک اپنی زندگی کی چھوٹی چھوٹی الجھنوں سے بچ سکتا ہے۔۔۔اور بڑی بڑی مصیبتوں کو برداشت کرنے کا حوصلہ مل سکتا ہے۔ہمارا مسئلہ یہی ہے کہ ہم یہ گھٹیا" کام کرنا نہیں چاہتے۔ ہم کسی چور،کسی غاصب،کسی بددیانت کی جگہ پر جا کر کیوں سوچیں؟۔ ہمارا اپنا ذہن ہے جو ہمیں اچھے برے کی پہچان دیتا ہے۔۔۔۔ہمارا شعور ہےجوہمیں ضمیر کے مطابق فیصلے کرنےکا عزم دیتا ہے۔
المیہ یہ ہے کہ یہ سارے لٹیرے،سارے ڈاکو،سارے خائن ہماری جگہ پر آ کر سوچتے ہیں۔اورسب سے بڑا صدمہ یہ ہے کہ ہم اپنی جگہ پر رہ کر سوچتے ہیں اوراِس کے مطابق عمل کرتے ہیں ۔ جبکہ وہ ہماری جگہ پر آ کر سوچتے ہیں لیکن عمل وہ اپنے مطابق کرتے ہیں۔ اپنا الو سیدھا کرتے ہیں اور گھر لوٹ جاتے ہیں۔جبکہ ہم سانپ نکل جائے پھر لکیر پیٹتے ہیں۔
خودسوزی کرتے ہیں۔۔۔اُن کے سامنے جن کے دل سوزوگدازسےعاری ہیں۔اپنی دہاڑیاں اُن کے لیے قربان کرتے ہیں۔۔۔ جن کے گھروں کے چولہے کبھی ٹھنڈے نہیں ہوتے۔ گرمی سردی میں اُن کی آواز پر لبیک کہتے ہیں۔۔۔ جو ٹھنڈے ملکوں،گرم کنٹینرز میں۔۔۔ ملک وقوم کے غم میں ۔۔۔فرنگیوں کی عطا کردہ نعمتوں سے دُنیا میں جنت کے مزے لوٹتے ہیں۔ اپنے بچوں,اپنی عورتوں کو سڑکوں پر لاتے ہیں۔۔۔اپنی ماؤں کو خوف کی سولی پر چھوڑ آتے ہیں۔۔۔اُن کی خاطر جن کے بچےذاتی جہازوں میں سفر کرتے ہیں اورمحلوں میں لینڈ کر جاتے ہیں۔جن کے حرم من چاہی بیگمات کی رونق سے سجے رہتے ہیں۔جن کی مائیں دُور دیس میں ہوش وٖخرد سے بیگانہ نہ جانے کس جُرم کی سزا کاٹ رہی ہوتی ہیں۔ہم عام عوام گیس،پٹرول کی لمبی لمبی لائنوں میں اپنی زندگی کا قیمتی وقت ضائع کرتے ہیں اور باری آنے پر گیس ختم ہوجانے یا بجلی چلے جانے کا سُن کر منہ لٹکا کر خاموشی سے گھر لوٹتے ہیں۔ گھر میں ضروریات ِزندگی کےبڑھتے ہوئے "بل"ہمیں بلبلانے پر مجبور کر دیتے ہیں۔۔۔ ہم یا توباہر نکل کراپنا دامن چاک کرتے ہیں یا پھرخودترسی کی اذیت میں مبتلا ہو کرایک دائرے میں گھومتے چلے جاتے ہیں۔
ہماری زندگی اسی "زیرو پوائنٹ" کے گرد چکر کاٹتے گزر جاتی ہے جہاں راستے تو بےشمار دکھتے ہیں۔ لیکن آنکھوں پر
بندھی اندھی عقیدت کی پٹی سوچنے سمجھنے کی صلاحتیں بھی سلب کر لیتی ہے۔ راز کی بات یہ ہے کہ اسے کھولنے کا اختیار ہمارے پاس ہے بس ذرا سی ہمت اورایکا کرنے کی بات ہے۔
"ہمیں اپنی مرضی سے جینے دو اور ہم سے جینے کا حق نہ چھینو"
ہفتہ 10 مئی 2014
اسلام آباد

"دھرنے اور آج کا اسلام آباد""

"ڈی چوک ا سلام آباد"
اسلام آباد پاکستان کا دارالحکومت ۔۔اُس کا دل،ایک خوبصورت شہر ۔۔۔ جس کا موسم مالک کی فیاضی کا اورجس کی دلکشی اور نکھار انسان کی تنظیمی صلاحیتوں کا آئینہ دار ہے۔۔۔ ۔جس کے خوبصورت گھر مکینوں کی آسودگی کی گواہی دیتے نظر آتے ہیں ۔۔۔ جس کے قبرستان دیکھ کر انسان کے دل میں مٹی سے ملن کی خواہش بیدار ہو جاتی ہے۔۔۔ جس کے پہاڑ کا سحر انسان کو زندگی اورموت کے درمیان تارِعنکبوت بھلا دیتا ہے۔۔۔جس کی بل کھاتی سڑکوں پر چمچماتی نئے سے نئے ماڈل کی گاڑیاں شاہ سواروں کی بےنیازی کا منہ بولتا ثبوت پیش کرتی ہیں۔جس کے پوش علاقوں کے برانڈڈ شاپنگ پلازہ مہنگائی اورغربت کے منہ پرطمانچے رسید کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ جس کی مہذب سول سوسائٹی ملک وقوم کےغم میں آئے روز"دھرنے اور واک"کا اہتمام کرتی ہے،لبرل گھرانوں کے تعلیم یافتہ نوجون لڑکے اورلڑکیاں کندھے سے کندھا ملائے ملکی مفاد کی خاطراپنی خواب گاہوں اور درس گاہوں سے اٹھ کر ایک مقصد( "کاز")کے لیے جمع ہوتے ہیں۔
اسلام آباد پاکستان کا سب سے جدید اور پوش شہر ہے۔ ڈی چوک کے آس پاس "بلیو ایریا"کا سب سے مہنگا تجارتی مرکز ہو یا شہر کے مختلف سکیٹر ۔ پرتعیش طعام گاہوں اور نت نئے ماڈل کی گاڑیوں کی رونق سےمزین ہیں ۔ جہاں غربت وافلاس چوکوں اور چوراہوں پر پیشہ ور بھکاریوں کے روپ میں نظر آتی ہے۔۔۔شہر کے قرب میں سانس لیتی کچی آبادیاں آقاوغلام کے ازلی تاثر کی غمازی کرتی ہیں۔۔۔ سڑکوں پر جا بجا لگے ناکوں سے حالات کی سنگینی کا پتہ چلتا ہے ورنہ راوی ہرطرف چین ہی چین لکھتا ہے۔ سی ڈی اے کے زیر اہتمام ہفتے میں تین روز لگنے والے بازارنہ صرف متوسط طبقے بلکہ ہر قسم کے طبقات کے لیے ایک نعمت مترقبہ سے کم نہیں۔ جہاں ضروریات زندگی سے تعیشات زندگی کی ہر چیز کی خریداری ہر کوئی اپنی جیب کے مطابق کر سکتا ہے... عام شہری قاعدے قانون کی پابندی کرتے ہوئے باقاعدگی سے ٹیکس دیتے ہیں ۔۔۔بجلی پانی گیس اورصحت وصفائی جیسی بنیادی سہولیات سے مستفید ہوتے ہیں۔ 
کہنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ یہاں مشکلات اور پریشانیاں نہیں ۔۔۔جرائم اور اشرافیہ کی زیارتیاں نہیں۔ بلکہ یہاں تو جرائم بھی اتنے مکمل انداز میں اور دن دیہاڑے ہوتے ہیں کہ لوٹنے والا نام ونشان تک نہیں چھوڑتا۔قبضہ مافیا آبائی گھروں اور زمینوں میں رہنے والوں کو قانون کا سہارا لے کر یوں صفائی سے بیدخل کرتا ہے کہ برسوں مقدمات اپنی موجودگی کی گواہی دینے میں گزر جاتے ہیں۔جج کے سامنے لاکھ چیخ پکار کرو کہ ایک بندہ تمہارے سامنے زندہ کھڑا ہے اس کی شہادت اہم ہے یا کسی جعلی دعوے دار کی۔ قانون اسلام آباد میں بھی اندھا ہے۔ یہاں قائم سب سے بڑی عدالت انصاف سے انصاف یہاں بھی کوسوں دور ہے ۔ یہاں کی پولیس بھی "کارکردگی "میں " وقت ' پڑنے پر کسی بڑے صوبے کی پولیس سے کم نہیں۔ یہاں بھی جان مال سے لے کر ایمان تک "سب" بکتا ہے۔گاڑیوں کی چوری اور گھروں میں دن رات کے فرق کے بغیر ڈاکے بھی معمول کے جرائم میں شامل ہیں۔
لیکن ان سب باتوں کے باوجود اندھا انقلاب یا اندھی تقلید اندھے قانون سے نجات کا حل نہیں ۔ 
بنیادی طور پر دیکھا جائے تو اسلام آباد موسم اور لوگوں کے مزاج۔۔۔وسائل اور مسائل کے اعتبار سے ایک معتدل اور منظم شہر ہے۔کاش ہمارے آج کے "مخلص رہنما" جو قوم کے درد میں "خوار" ہو رہے ہیں ۔۔۔۔ میرے وطن کی ان زمینوں کو دھرنے اور نیا پاکستان بنانے کے لیے منتخب کرتے جہاں کے لوگ آج بھی پتھر کے زمانے میں سانس لے رہے ہیں۔ جہاں کے موسم کی سختی اور حالات کے جبر نے انسان کا انسان سے رشتہ ختم کر دیا ہے۔جہاں بھوک وافلاس کا عفریت خونی رشتوں کو نگل رہا ہے۔ جہاں ہمارے وطن کا قانون نہیں چلتا ۔ کاش کوئی وہاں کی بادشاہی کو للکارنے کی ہمت پیدا کرسکتا۔
کاش کوئی "عظیم نجات دہندہ "۔۔۔ "بڑا انقلابی رہنما" ان محکوم ومجبور پسے ہوئے لوگوں کو احتجاج کے بھاری بجٹ میں سے ایک وقت کی روٹی ہی کھلا دیتا۔ایک روز کے لیے پینے کا صاف پانی ہی مہیا کر سکتا۔لاکھوں چاہنے والوں اورعقیدت مندوں کی طاقت ان کے لیے راستہ بنانے پر لگا دیتا۔ یہ انقلاب کا وہ انداز ہوتا جو اس سے پہلے کسی نے دیکھا نا سنا ہوتا۔ عوام کی سطح پر آ کر بادشاہیت ختم کرنے کا وہ عہد ہوتا جو اشرافیہ کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دیتا۔گھنٹی سے یاد آیا کہ یہ تو
۔"بلی کے گلے میں گھنٹی کون ڈالے"والا مشکل کام تھا، جس کی زد میں "اپنے" ہی آتے ہیں۔
ہربار کیوں ہم عام عوام سے قربانی مانگی جاتی ہے؟ ہمیں بےوقوف بنایا جاتا ہے۔ کیا کبھی کسی بڑے نے اپنی ملکیت میں آنے والے ملک کے ایک حصے کو روشن مثال بنایا ہے؟ احتجاج کا طریقہ غلط ہے۔ اس میں صرف عوام کا نقصان ہے۔ مہذب معاشروں میں بھی اس طرح کےاحتجاج ہوتے ہیں کوئی شک نہیں کہ بےاثر بھی رہتے ہیں ۔لیکن کبھی کوئی طریقہ اتنا کارگر بھی ہوتا ہے کہ بغیر کسی شور کےاپنی بات منوا لی جاتی ہے۔ دور نہ جائیں صرف گزشتہ 30 سالہ ملکی تاریخ کا مشاہدہ کرلیں یہ بھی زیادہ لگے تو اس صدی کے پندرہ سال دیکھ لیں ۔ہر آنے والا پہلے سے بدتر ثابت ہوا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ جعلی ڈگریوں والے صاحبان ِاقتدارکی طرح ہم بھی اپنی تاریخ سے ناآشنا ہیں یا جان بوجھ کر نظر چراتے ہیں۔یہ جانے بنا کہ تاریخ اپنے آپ کو باربار دُہراتی جاتی ہے جب تک کہ اُس سے سبق نہ سیکھ لیا جائے۔
ہم عوام کے لیے حوصلے اور ہمت کی دعا ہے اور ہمارے نام نہاد قائدین جو خواہ حکومت میں ہیں یا اپوزیشن میں ۔۔۔ ان کے لیے جوش سے بڑھ کر ہوش کی تمنا ہے ۔۔۔جنہوں نے "تخت یا تختہ" کو اپنی ذاتی انا کا مسئلہ بنا لیا ہے۔
!آخری بات
اسلام آباد گرایک الف لیلوی شہر ہے تو "ڈی چوک" اس کی جادو نگری جہاں جتنے جوش وخروش سے میلے لگتے ہیں۔۔۔اُتنے ہی جوش سے کامیاب ہو کر ختم بھی ہو جاتے ہیں۔ کرتب دکھانے والا بھی خوش۔۔۔ناچنے والا بھی خوش اور پلے سے پیسے خرچ کر کے دیکھنے والا بھی کان لپیٹ کر گھر لوٹتا ہے۔۔۔آگے کی کہانی کس نے دیکھی؟ کس نے سنی؟۔عوام پہلے بھی تماشائی تھے اور آج بھی تماشائی ہیں۔ میوزیکل چئیرز کے...انا کی موسیقی میں محو رقص بڑوں کے اس کھیل میں عام عوام کیڑے مکوڑوں کی طرح کچلے جا رہے ہیں۔
اُس شہر ِبےمثال میں دوردراز کے پسماندہ علاقوں کے لوگوں کو ایک نظریے کا ٹیکہ لگا کر لانا اور دنوں خوار کرنا ایسا ہی ہے کہ جیسے کسی بھوکے کو فائیوسٹار ہوٹل کی سیر کرائی جائے،پھر اس کے باہر والے باغیچے میں فرش پر بٹھا کرمحرومی اور مایوسیوں کا نوحہ سنایا جائے۔ ان بھوکوں کی برداشت کا امتحان لیا جائے۔ پھر اپنا پٹارا سمیٹ کر پچھلے دروازے سے اسی ہوٹل کے آرام دہ کمرے میں نیندیں پوری کی جائیں اور عام عوام کو دبی زبان میں "گوٹو ہیل" کہہ دیا جائے اور وہ سچ میں اپنے اپنے جہنم میں لوٹ جائیں۔
اپنے پیارے دیس کے باسیوں سے دلی معذرت کہ ہم سب کہیں نہ کہیں گروی رکھے ہوئے ہیں۔
اللہ ہم سب کے حال پر رحم کرے اور مستقبل کے لیے وہ فیصلے کرنےکی توفیق دے جو ہمارے دین ایمان اور وطن کی سلامتی کے علم بردار ہوں ۔ آمین۔
پاکستان زندہ باد
۔ 10 مئی 2014۔۔
اسلام آباد

جمعرات, مئی 08, 2014

" ریڈیو کے دن"

 ریڈیو کے دن۔۔۔۔رضا علی عابدی
صفحہ9۔۔۔
یہ تحریراُن تمام احباب کے لیے ہے جنہوں نے مجھے جانا اور میری محنت کو سراہا۔
اس ضخیم کتاب کا خلاصہ ایک لفظ میں کیا جائے تو وہ ایک لفظ ہے: شکریہ۔ یہ تحریر نہیں اظہار ِتشکر ہے ان بےشمارسامعین اور قارئین کے نام جو میری کوششوں کو سراہ کر میرے حوصلے بڑھاتے رہے اور جس روز میں   مکمل طور پرریٹائر ہوا اس دن بالکل یوں لگا جیسے وہ سب میری ناؤ کی طنابیں کھینچ رہے تھے اور جب تک یہ ناؤ ساحل پر نہیں لگی ،انہوں نے محبت کی یہ ڈور ٹوٹنے نہیں دی۔
رضا علی عابدی
نومبر 16 ،2010۔ لندن
۔۔۔۔۔۔۔
صفحہ 19۔۔۔
کسی نے لکھا کہ یہ عورتیں بازاروں میں گھومتی پھرتی ہیں ،انہیں ان کے گھروں کی چاردیواری میں بند کیا جائے۔
میں نے کہا کہ کیوں نہ آپ اپنے اندر کے وحشی کو اپنے وجود کے اندر بند کرلیں۔
ایک بار باتوں باتوں میں دین اورعقیدے کا ذکرآ گیا۔اس پر کراچی سے ایک انقلابی گھرانے کی خاتون کا خط آیا جنہوں نے خفگی کا اظہار کیا۔اس روز پندرہ منٹ کے پروگرام میں وہی ایک تنہا خط تھا اوراس کا جواب تھا۔ چند لفظوں میں وہ جواب یہ تھا کہ جس زمانے میں جادوگری کا زور تھا،اس دور کے انبیاء نے ویسے ہی معجزے دکھائے اورجب طب اور معالجے نے زورپکڑا تو اس دور کے نبی نے مریضوں کو اچھا اور مُردوں کو زندہ کرنے کے معجزے دکھائے لیکن جب علم واگہی کا دور شروع ہونے لگا اور آسمان سے پہلی آیت اتری تو اس میں پڑھنے،قلم کا اورکتاب کا ذکر تھا۔لوگ اپنے پیغمبر سے مطالبہ کرتے تھے کہ کوئی معجزہ دکھائیے تو آسمان سے صدا آتی تھی کہ یہ کتاب ہی ہمارا معجزہ ہے۔یہ بات طے ہے کہ یہودیت کی بنیاد خوف پر۔عیسائیت کی بنیاد پیار پراورکوئی مانے یا نہ مانے اسلام کی بنیاد علم پررکھی گئی۔
میرا یہ طویل جواب پاکستان کے سب سے بڑے اخبار نے حرف بہ حرف شائع کیا ،یہ الگ بات ہے کہ اخبار نے نہ میرا حوالہ دیا اور نہ میری نشرگاہ کا۔
صفحہ25۔۔۔
ہندوستان کے شہرکلکتہ میں اُردو کتابوں کی باقاعدہ چھپائی سن1803ء کے لگ بھگ شروع ہوئی۔یہ سلسلہ چل نکلا اور چھپنے والی ہرکتاب کی چھ جلدیں برطانیہ بھیجی جانے لگیں۔
یہ جلدیں انڈیا آفس،برٹش لائبریری اورآکسفورڈ،کیمبرج اسکاٹ لینڈ اورآئرلینڈ کی یونیورسٹیوں میں جمع ہونے لگیں ۔یہ جان کر حیرت ہوتی ہےکہ سمندری جہازوں میں لد کرہندوستان کی ہرکتاب برطانیہ پہنچی البتہ جو جہازراہ میں ڈوب گئے ان میں لدی ہوئی کتابیں بھی دریابُرد ہو گئیں اور اب نایاب ہیں۔
صفحہ46۔۔۔
ایک ہزار اٹھاون صفحوں کی کُلیاتِ میر تو ایسی ہے کہ دیکھا ہی کیجئیے۔اُردو چھاپہ خانہ قائم ہوئے بمشکل بارہ برس گزرے تھے کہ فورٹ ولیم کالج نے کمر باندھی اوراتنی بڑی اورضخیم کتاب چھاپ ڈالی۔بڑی تقطیع پر اس زبان کے پیچیدہ ٹائپ کو کمپوز کرنا،صفحات چھاپنا،انہیں ترتیب سے محفوظ رکھنا اور پھر اُن کی جلد بندی کرنا،یہ سب 1811ء میں آسان نہ تھا۔کتاب کی نگرانی کا فرض مرزا کاظم علی جواں،مرزا جان طپش،مولوی محمد اسلم،تارنی چرن منتر اور منشی غلام اکبر کو سونپا گیا۔یہ کلیات کپتان ٹیلر کی ہدایت پراور ولیم ہنٹر،کپتان گالوے اورکپتان ٹامس روبک کے تعاون سے چھپی۔ میرنے تو چند لوگوں سے عشق کیا ہو گا،میر سے جن لوگوں نے عشق کیا،ان کا کوئی شمار ہے؟
صفحہ 47۔۔۔
جواہرِمنظوم:(1849ء) غالبیات کے ماہرکہتے ہیں کہ غالب کو انگریزی شاعری سےبھی یقیناً کوئی تعلق رہا ہےلیکن کب اور کیسے؟کوئی یقین سے نہیں کہہ سکتا۔ بی بی سی کے پروگرام کتب خانہ میں تحقیق کے دوران انگریزی شاعری کا وہ اردو ترجمہ مل گیا جس کا غالب نے نہ صرف مطالعہ کیا ہوگا بلکہ اس کو درست بھی کیا ہو گا،تقریباًً ایک سو ساٹھ سال پہلے الٰٰہ آباد میں محکمہ تعلیم کے ایک سابق منشی غلام مولا نے ولایت کی کتاب  سلیکشن آف انگلش پوئٹری حصہ اول کا منظوم ترجمہ کیا تھا جو اصلاح کے لیے مرزا غالب کو بھیجا گیا تھا۔ کتاب میں ساری نظمیں بچپن کے موضوع پرہیں۔دل پر اثر کرنے والا کلام ہے۔
صفحہ48۔۔۔
مثنوی عابد(1867ء) اسے الٰہ آباد کی عدالت دیوانی کے امین محمد عبداللہ خان نے انگریزی سے ترجمہ کیا تھا۔ترجمہ اتنا عمدہ تھا کہ لیفٹینٹ گورنر ولیم مور نے سنا تو ایک سو روپیہ انعام دیا اور اسے الٰہ آباد کے سرکاری چھاپہ خانے میں چھاپنے کا حکم دیا ،اس بات کو 140 سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے۔ مثنوی عابد آئرلینڈ کے شاعرٹامس پارٹل کی طویل نظم ہرمٹ کا منظوم ترجمہ ہے۔ حقیقتاً پڑھنے کے قابل ہے۔
صفحہ50۔۔۔
زہرِعشق(1867) سچی بات ہےکہ اس مثنوی پراردو شاعری کی یہ صنف ختم ہے۔لکھنؤ کے حکیم نواب مرزا شوق نے اس کتاب میں اپنی چارمثنویاں جمع کی ہیں: بہارِعشق،زہرِعشق،لذت ِعشق اورفریبِ عشق مگرباقی تین مثنویاں زہرِعشق کی خاک کو بھی نہیں پہنچتیں۔ جب دوسرے شاعر انجانے نگر کے شہزادوں اور پہاڑوں میں رہنے والی پریوں کی داستانیں رقم کر رہے تھے،مرزا شوق نے شہر ہی کے ایک محلے میں رہنے والے نوجوان اور کچھ مکان چھوڑ کر اسی محلے میں رہنے والے سوداگر کی بیٹی کے عشق کا قصہ اس طرح لکھا کہ لوگوں نے اپنے بیٹوں اوربیٹیوں کو حکم دے دیا کہ یہ کتاب نہ پڑھیں لیکن خوب خوب حکم عدولی ہوئی اور کہنے والے کہتے ہیں کہ اسے پڑھ کر آٹھ نو لڑکے لڑکیوں نے زہر پی کر جان دی۔ زہرعشق کا جو سب سے پرانا ایڈیشن لندن میں محفوظ ہے اسے تقریباً 145 سال پہلے نولکشور کے چھاپہ خانے نے شائع کیا تھا۔ کتاب میں شاعر نے جس طرح اپنے جذبات کھول کر بیان کیے تھے ،مصور نے بھی اس طرح ان کے جذبات کو تصویروں میں ڈھال دیا۔ کتاب چھپی تو ایک کہرام مچ گیا۔ کسی نے کہا کہ یہ دلکش شاعری کی معراج ہے۔ کسی نے حکم دیا کہ خبردار یہ کتاب شریف گھرانوں میں داخل نہ ہونے پائے۔
آج بھی حال یہ ہے کہ کسی ناشر کو اصل اٰیڈیشن کا عکس چھاپنے کی جرءات نہیں۔۔حالانکہ وقت اور زمانہ بس اب برہنہ ہوا ہی چاہتا ہے۔
صفحہ52۔۔۔
گلدستہءبیت بازی(1876ء) سولہ صفحوں کی یہ دلچسپ کتاب میرغیاث الدین نے لکھی تھی،اس بات کو اب 135 سال ہو رہے ہیں،اس میں مکمل بیت بازی ہےاور الف سے یے تک سینکڑوں شعر ہیں۔ خود غیاث کی کہی ہوئی غزلیں ہیں۔ پہلی غزل کے سارے مصرعے آ سے شروع ہو کر آ ہی پرختم ہوتے ہیں۔دوسری میں آ سے شروع ہو کر الف پر۔ تیسری میں الف سے شروع ہو کر بے پر۔چوتھی میں بے سے شروع ہو کر پ پر ختم ہوتے۔راہ میں ٹ،ڈ اور ژ تک آتے ہیں اور اس طرح یہ سلسلہ یے تک جاتا ہے۔
صفحہ100۔۔۔
کہتے ہیں کہ تاج محل کے حسن کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ اسے دیکھنے کے لیے چاندنی رات میں آئے ہیں یا بھری دوپہر میں۔
اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ آپ اسے دیکھنے کس کے ساتھ آئے ہیں۔
صفحہ 132۔۔۔
میانوالی میں فولاد کا کارخانہ لگنا تھا ،نہیں لگا۔ کالا باغ ڈیم بننا تھا،نہیں بنا۔جو کچھ بھی بنا وہ جاگیرداروں کی زمینوں کو سیراب کرنے کے لیے بنا۔
مجھے تو یوں لگا کہ میانوالی ایک ایسی عورت ہے جو بغیرمیاں والی ہے۔
صفحہ 134۔۔۔
  میں ڈیرہ غازی خان پہنچ تو گیا مگر کسی بھٹکے ہوئے اجنبی کی طرح۔
میں ان کے گھر پہنچا تو برامدے میں ایک عجیب چیز دیکھی۔میں اپنی عمر میں کھٹیا،کھاٹ،کھٹولہ،پلنگڑی اور پلنگ دیکھ چکا تھا مگر یہ تو مہا پلنگ تھا جس پر چاہے تو پورا کنبہ سو سکتا تھا۔میں نے حیرت سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟انہوں نے خوشی سے جواب دیا 'ہماچی'۔ میں نے کہا "اتنی بڑی؟" کہنے لگے یہ تو چھوٹی ہے،ہماچی کہلاتی ہے۔اس سے بھی بڑا ہماچا ہوتا ہے جس پر پورا محلہ بیٹھ سکتا ہے۔
آپ اسے ڈیرہ غازی خان کے باشندوں کا کلب کہہ سکتے ہیں۔
صفحہ140۔۔۔
حیدر آباد میں تین چیزیں کمال کی بنتی ہیں۔ربڑی،ٹین کے بہت بڑے بڑے ٹرنک اور شیشے کی نازک نازک چوڑیاں۔
صفحہ 142۔۔۔
دُنیا کی ہر داستان کا انجام ہی کہانی کی گتھیاں کھولتا ہے۔
صفحہ157۔۔۔
بڑی بڑی باتیں تو سب ہی کو یاد رہتی ہیں۔ مجھے اُن چھوٹی چھوٹی باتوں سے والہانہ لگاؤ ہے جو نہ صرف یاد رہتی ہیں بلکہ یاد آ کر خوشیاں بھی دیتی ہیں،چھوٹی چھوٹی سی۔
# Selection of Urdu Poetry 
# Hermit

"ہم سے پہلے"

۔"ہم سے پہلے"۔۔۔کالم جاویدچودھری۔۔۔جمعرات‬‮ 72 جولائی‬‮  بھارت کے کسی صحافی نے اٹل بہاری واجپائی سے جنرل پرویز مشرف کے بارے میں ...