صفحہِ اول

بدھ, اپریل 30, 2014

" اسلام آباد ادبی میلہ 2014"


"ادبی میلہ۔۔۔2014"
 مارگلہ کی پہاڑیوں کے سائے میں اوراُس کی خوشبو میں لپٹی یہ پوش قیام گاہ اُس روز اپنائیت اور بےنیازی کا عجیب امتزاج لیے ہوئے تھی۔ایک ادبی میلے کا اہتمام تھاجس میں انگریزی کے ساتھ اردوزبان کو ہم پلہ دیکھ کرخوشگوار حیرت ہوتی تھی کہ اردو کو بول چال میں نہ سہی اردو ادب میں تو مانا گیا ہے اور یہاں اسے فخر سے پیش کرنے کا اہتمام بھی تھا۔
 مارگلہ ہوٹل کی راہ داریوں کی طرح دل کے دروازے بھی ہرایک کے لیے کھلے تھے۔۔۔چاہو توعلم لفظ کی صورت کتاب میں سے جتنا جذب کرسکتے ہوکرلو۔۔۔چاہو تو لفظ لکھنےوالوں کو آوازاورتصویر کے پردے پربنفسِ نفیس سن کراوردیکھ کرشوق کی تسکین کرو۔۔۔ چاہو تو ایک ٹھنڈے کمرے میں آرام دہ نشست پر بیٹھ کر پاس سے گزرتے مانوس چہروں کو آنکھوں سے چھو لو۔۔۔اُن کے ساتھ کے احساس کو محفوظ کرنا چاہو تو بلاجھجھک ایک کلک سے اپنی اس یاد کو محفوظ کر لو۔۔۔اُن سے بات کر کےیا ان کے دستخط لے کر اپنی عقیدت کا اظہار کرنا چاہوتو اس کے بھی مواقع تھے۔
لفظ  بولنے،لفظ کہنے، لفظ لکھنےاورلفظ برتنے والے لوگوں کی قربت اُن کے قد کی گواہی دیتی تھی۔ انسانوں کے اس وسیع جنگل میں نظریات ،خیالات اوراقدارکو مجسم دیکھ کر جہاں خوشی کا پہلا احساس جنم لیتا تھا۔۔۔ وہیں دل کے مندر میں سجے بڑے بڑے قدآور بُت جاتی بہار کی مہربان دھوپ میں مومی مجسموں کی طرح پگھلتے تھے۔لمس کی پہلی بارش میں اُن کے دلفریب رنگوں کو اترتے دیکھ کرکچھ افسردگی بھی ہوتی تھی۔پردے کے سامنے اور پردے کے پیچھے نظر آنے والے چہرے آج بےپردہ   تھے اور اُن کی اصل اُن کےجسموں،اُن کے لہجوں اور اُن کی آنکھوں سے چھلکی پڑتی تھی۔رنگوں،خوشبوؤں اور
جھرنوں کی باتیں کرنے والے کتنے بےرنگ،بےبو اوربےذائقہ تھے۔ تہذیب اوراخلاقی اقدارکے مبلغوں کی اپنی ذات اُن کے اقوال کی قلعی کھولتی تھی۔ ملک وقوم کےغم میں صبح وشام دھاڑنے والوں کی پوستین خرگوش کی طرح نرم لیکن ان کے
لبادے مارخورکی طرح قیمتی تھے۔خاص بات یہ تھی کہ وہ بھرے پیٹ کے لوگ تھے جن کی خواہش اورطلب عمل کی سیڑھی  پر چڑھ کر قرار پا چکی تھی اب یہ اپنی منزل پر پہنچ کر اُس کو برقراررکھنے کی تگ ودومیں تھے۔اچھی بات یہ تھی کہ بےنیاز تھےاُن چھوٹے چھوٹے جذبوں،چھوٹی چھوٹی خواہشوں اور چھوٹے چھوٹے لوگوں سے جن کو کہیں پیچھے چھوڑ آئے تھےاور اب اپنے جیسوں کے ساتھ خوش گپیاں کرتے تھے۔ نہیں جانتےتھے کہ انہی چھوٹے لوگوں کے کاندھوں پر بیٹھ کر تو انہوں نے دنیاوی معراج کا سفر طے کیا ہے۔اپنی دُنیا میں مگن تھے۔بےفکری،خوش لباسی اور خوش مزاجی کا غازہ لگائے اپنی ذاتی زندگی اوراس کی تلخیوں کوخوبصورتی سے چھپائے پھرتے تھے۔لفظوں کے ان جادوگروں تک رسائی نئی بات نہ تھی۔ لیکن برسوں پہلے ایک قاری کی نگاہ سےاورلفظ کےعقیدت مند کےطورپردُور دُور سے شناسائی تھی۔اب ایک محترم لکھاری نے یہ شرف بخشا تھا کہ اس کے ہم قدم ادب کے بڑے ناموں سے رابطہ ممکن ہوا۔۔۔
  محترم رضاعلی عابدی۔۔۔وہ جو آوازکی دُنیا کا جانا پہچانا نام تھا۔ لفظ جس کی آوازکا جامہ پہن کرعام دلوں تک رسائی حاصل کرتے تھے۔۔۔بڑے چھوٹے، بچے بوڑھے،بینا نابینا،علم والے لاعلم۔۔۔غرض یہ کہ مردوعورت کی تخصیص سےبالاتردیارِغیر سے جہاں تک آواز کا دائرہ محیط تھا وہاں تک اُس کا نام۔۔۔ آواز،اندازاورتحقیقی کام کے حوالے سے پہچانا جاتا تھا۔اور جب انہوں نے آواز کو لفظ کے سانچے میں ڈھال کر کاغذ کی قید میں محفوظ کیا تو گویا عوام سے خواص تک کا دائرہ مکمل ہو گیا۔
 ہوا کے دوش پربکھرتی آوازنے بلاشبہ دلوں کو فتح کیا تھا۔وقت کی تیزرفتاری رفتہ رفتہ اس یاد کومٹاتی جا رہی تھی۔اگر یہ محض آواز سے سماعت تک کا سفر ہی رہتا تو شاید جلد قصہ پارینہ بن جاتا اورآنے والی نسل نہ صرف اس علم اور تحقیق سے بےخبر رہتی بلکہ اپنےاس عظیم تہذیبی ورثے سے بھی ہمیشہ محروم ہو جاتی۔ اُس شخصیت کی وضع داری قول وفعل کےیکجا ہونے کا ثبوت دیتی تھی۔ جناب رضا علی عابدی کی منکسرالمزاجی اوراپنائیت ذہن میں آنے والا ہر سوال پوچھنے پراُُکساتی۔۔۔ میں بھی کتاب اوراُس کےلکھاری کی سنگت کے خمار میں بےدھڑک سب کہہ دیتی ۔
 بدیس میں اردوکا پرچم بلند کرنے والے۔۔۔اردولکھنے،اردو بولنے سےعشق کرنے والے اوراردونظم ونثر کا تاریخی ورثہ منظم انداز میں عام لوگوں کے حوالے کرنے والے اس سادہ انسان کی عاجزی کمال تھی۔ اُن سے پہلی بار مل کر ایسا لگا جیسے پہلی بار سے پہلے بھی مل چکی ہوں۔
اب ایک جھلک اس ادبی میلے کی۔۔۔
 پہلے روز کی افتتاحی تقریب کے بعد اگلے دو روز میں چار بڑے ہالوں اور مرکزی لان میں 70 سیشن ہونا تھےاور 150 سے زیادہ مقررمدعو کیے گئے تھے۔14 کتابوں کی تقریبِِ رونمائی بھی تھی۔ افتتاحی تقریب میں شیما کرمانی کا کلاسیکل رقص جاری تھا۔۔۔ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔۔۔اسلام آباد کی'کریم' اس رنگانگی سے خوب لطف اندوز ہو رہی تھی۔۔۔میں سوچتی تھی کہ یہ پڑھے لکھے لوگ کتنے ہی لبرل کیوں نہ ہو جائیں کیا یہ اپنی بیوی یا بیٹی کو اس طرح سب کے سامنے ناچتے دیکھنا تو درکنار کیا اس لباس میں ہی لوگوں کے درمیان دیکھ سکیں گے یا نہیں؟۔میرے جواب نے مجھے ان منافق لوگوں سے بدظن کر دیا اور میں خاموشی سے باہر آگئی۔یہ تو محض آغاز تھا۔۔۔باہر میری دقیانوسی سوچ کے لیے کچھ اور مناظر بھی آراستہ تھے جو بحیثیت عورت مجھے اپنی نظروں میں شرمندہ کیے دے رہے تھے۔مجھے آج معلوم ہوا تھا کہ عورت جتنی برہنہ اورجتنی بےپردہ ہو گی اتنا ہی اس کا علمی قد بلند مانا جائے گا اور یہ بھی کہ اپنی ذہنی صلاحیت منوانے کے ساتھ ساتھ اپنی جسمانی کشش پر بھی مہر لگوانا اہم ہے۔
 لفظ سے معاشرے اورتہذیب کو سدھارنے والیوں کے ننگے جسموں سے ابکائی آنے لگی ۔اگلے روز کے سیشن چاہتے ہوئے بھی اٹینڈ نہ کر سکی۔۔۔شاید میرا احساسِ کمتری میری چادرکی طرح مجھ پرحاوی ہو گیا تھااورمجھے کوئی اعتراض بھی نہ تھا۔
 اتوار کے روزصبح دس بجے ہی پہنچ گئی۔"زبان وادب بدلتی ہوئی صورتِ حال میں" کے عنوان سے پہلا سیشن دیکھا اور سنا۔ خوب باتیں ہوئیں۔۔۔ بلکہ باتیں ہی تھیں صرف۔۔۔ معاشرے کی بگڑتی اقدار پر۔۔۔عورت کے استحصال پر۔۔۔اردو زبان کی تنزلی پر۔۔۔ خیال آیا کہ ان بڑے بڑے لوگوں کے گھروں میں کس اقدار پرعمل ہوتا ہو گا؟ان کے بچے کون سی زبان بولتے ہوں گے؟ اور جن ماؤں کے سر ننگے تھے وہ کیونکر اپنی بیٹیوں کو سرڈھانپنے یا بیٹوں کوعورت کے احترام کا درس دیتی ہوں گی؟ یہ ان کا مسئلہ تھا میرا نہیں۔۔۔ لیکن! پھربھی میرا بن گیا۔خیر "پروین شاکر" کا نام پڑھ کراگلے ہال میں جا پہنچی۔ اس بڑی شاعرہ کا انتخابِ کلام ایک کتابچے کی صورت شائع کیا گیا تھا اس بارے میں تقریب تھی۔پروین شاکر کی شاعری اور اس کی ذاتی زندگی کی باتیں سننا اچھا لگا لیکن سُونا ہال دکھی کرگیا۔ایک گھنٹے کے اس سیشن میں تین اور کتابوں کی بھی تقریب رونمائی تھی۔۔۔غلام عباس ،سعادت حسن منٹو اور حسن منظر کی تصانیف سے انتخاب کے کتابچے تھے۔اسی دوران "غالب"پر ہونے والا سیشن سننا تھا جومرکزی لان میں تھا۔ وہاں پہنچی تو ایک خوشگوار حیرت منتظر تھی۔ "مرزا غالب" کے سیشن سے پہلے"ارض شمال" کے نام سے گلگت بلتستان کے شاعروں کا سیشن تھا۔ 'رواداری' میں بیٹھ گئی تو اچانک پچھلی نشستوں پر بیٹھے جناب"مستنصر حسین تارڑ"صاحب پر نظر پڑی،بہت اچھا لگا۔ آپ نےبلتی شاعروں کے کلام پر  دل کھول کر دل سے داد دی اور مجھے دل ہی دل میں شرمندگی ہوئی کہ ہمارے دیس کے دوردراز خطوں کے یہ باسی اپنے اظہار میں  کتنے سادہ اور تنہا ہیں اور ہم شہر میں رہنے والوں کی ناقدری کے باعث  کتنے اُداس بھی ہیں۔سوال جواب کے سیشن میں جناب تارڑ کو سننے کا موقع ملا توچند لفظ ذہن میں رہ گئے( مفہوم بیان کرنے کی کوشش کرتی ہوں)۔ آپ نے کہا " کہ لوگ مجھے کہتے ہیں کہ کیوں بار بار اور اس عمر میں ان علاقوں کو جاتے ہیں۔ تو میں کہتا ہوں کہ "شمال سے ہوائیں اور دعائیں مجھے بلاتی ہیں"۔
کچھ دیر پہلے ٹھنڈے ہال میں ہونے والے سیشن میں  برائےنام  لوگ تھےاوریہاں دھوپ کی تپش میں۔۔۔ پیڈسٹل پنکھوں کی ناکافی ہوا بھی غالب کے پرستاروں کو آنے سے نہ روک سکی تھی۔دو سو سال قبل پیدا ہونے والےغالب کی شاعری اوراس کا تخیل آج کے سائنسی دور میں بھی جادو اثر رکھتا تھا۔ نوجوان طلبہ کی تعداد زیادہ تھی۔ اس شاعرانہ ماحول میں ذرا دیر سے
آنے پرتشنگی سی محسوس ہوئی۔بعد میں سوال جواب کا سیشن مزا دے گیا۔اسٹیج پر مقررین میں سکالر ڈاکٹر نعمان الحق اور
راحت کاظمی تھے۔ دیر سے جانے کی وجہ سے کلامِ غالب پرراحت کاظمی کا اسلوب ِبیاں نہ سن سکی جس کا بہت ملال بھی رہا۔
شام  کے آخری سیشن بہت اہم تھے۔ ایک تو مستنصرحسین تارڑ کی "تارڑ نامہ" کی تقریب تھی اوردوسری طرف"رضا علی عابدی " کی"اخبار سے ریڈیو تک " کے عنوان سے ایک گھنٹے کی گفتگو تھی۔ شام کو گھر بھی واپس جانا تھا۔ اس لیے کتاب میلے کو یہیں خداحافظ کہا اورگھر جانے کو فوقیت دی۔
بحیثیت مجموعی یہ کتاب میلہ اسلام آباد کی ثقافت اوراس کے شہریوں کے طرزِبودوباش کی نمائندگی کرتا تھا۔ میلے اسلام آباد 
کی شناخت بنتے جا رہے ہیں جہاں لوگ اپنے خاندان کے ساتھ آ کر پرسکون ماحول میں کچھ وقت گزارتے ہیں۔
 "مستنصرحسین تارڑ"
 اس ادبی میلے کی سب سے منفرد بات  برس ہا برس سے جناب مستنصرحسین تارڑ  کی  تحاریر پڑھنے کے بعد اُن کی شخصیت  سے پہلا تعارف تھا۔ وہ تعارف جو  جناب تارڑ پر تحاریر کے سلسلے کی  پہلی کڑی ثابت ہوا اور پھر اپنے پسندیدہ لکھاری کے لفظ سے قربت کی خوشبو  لفظوں میں ڈھلتی چلی گئی۔اُس ادبی میلے میں جناب تارڑ سے  ملاقات کو ایک  بلاگ"پہلی ملاقات پہلی نظر" میں سمونے کی کوشش کی۔
!آخری بات
 اس کتاب میلے میں بڑے بڑے ادیبوں کے قریب رہ کرجانا کہ عورت ہونے کے ناطے لفظ سے زیادہ لفاظی اہم ہے اور کچھ پانے کے لیے بہت کچھ کھونا بھی پڑتا ہے۔نام کے لیے مقام کی قربانی بہرحال دینا لازمی ہے۔ یوں اس کتاب میلے میں ایک "خود ساختہ" لکھاری اپنی موت آپ مر گیا اورکوئی دکھ بھی نہ ہواکہ اُس نے اپنا مقام پہچان لیا اوربچا بھی لیا۔

    

منگل, اپریل 22, 2014

"علی پور کا ایلی..اصل کہانی"

                         




















ممتاز مفتی
علی پورکا ایلی میں میں نے جان بوجھ کرادب کا ذکر نہیں کیا تھا۔ مجھے یہ ڈرتھا کہ بھید نہ کھل جائے، قاری کو پتہ نہ چلے کہ یہ ناول نہیں بلکہ خود نوشت ہے۔ علی پور کا ایلی میں میں نے اپنے غلیظ پوتڑے چوک میں بیٹھ کر دھوئے تھے، لیکن مجھ میں اتنی جرات نہ تھی کہ اپنی حماقتوں، غلاظتوں، کمیوں ، کجیوں کو اپناؤں۔ اب جبکہ بات کھل چکی ہے کہ علی پور کا ایلی میری سوانح حیات ہے اور میں اپنی آپ بیتی کا دوسرا حصہ لکھ رہا ہوں، تو مناسب ہے کہ میں ادب کے متعلقہ کوائف کو تحریر میں لے آؤں۔ میرے دل میں کبھی آرزو پیدا نہ ہوئی تھی کہ ادیب بنوں میرے دل میں کبھی یہ خیال پیدا نہیں ہوا تھاکہ میں اردو میں لکھنے کا شغل اپناؤں گا۔ جوانی میں میں ایک نالائق لڑکا تھا۔ میری توجہ کتاب کی جانب نہیں تھی۔ سکول میں چونکہ میں ہیڈماسٹر کا بیٹا تھا، اس لیے اساتذہ پاس کردیا کرتے تھے۔کالج میں شدید احساس کمتری کی وجہ سے میرے لیے جماعت میں بیٹھنا مشکل تھا۔ 1928-29ء میں جب میں بی۔ اے میں تھا اور اسلامیہ کالج لاہور کے کریسنٹ ہوسٹل میں رہتا تھا، تواتفاق سے جوکمرہ مجھے ملا، وہ فیاض محمود کے کمرے سے ملحق تھا۔ فیاض محمود ان دنوں کمبائنڈ آنر سکول میں پڑھتا تھا۔ فیاض کو کریسنٹ ہائوس میں رہنے کی خصوصی اجازت ملی تھی۔ اس پر مطالعہ کا جنون طاری تھا اور اس کے مطالعہ میں بڑی وسعت تھی۔ مطالعہ کے سوا اس کا اور کوئی شغل نہ تھا۔ اس کے ذرائع بہت محدود تھے، لیکن جو پیسہ اس کے ہاتھ آتا، اس کی کتابیں یا رسائل خرید لیتا تھا۔ اس کے کمرے میں فرش پر یہاں وہاں کتابوں اور میگزین کی ڈھیریاں لگی رہتی تھیں، انگریزی ادب، پینٹنگ ، فلسفہ، فلم سازی، پامسٹری، سائنس۔ مطالعہ : فیاض اور اس کا بھائی ضیا دونوں کریسنٹ میں مقیم تھے۔ وہ بٹالہ کے ایک معروف خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ فیاض نے کبھی مجھے پڑھنے کی ترغیب نہ دی تھی۔ الٹا میرے ہاتھ میں کتاب دیکھ کر وہ طنزاً کہتا، اچھا تو آپ کتاب دیکھ رہے ہیں۔ لیکن اس کتاب میں تو کوئی تصویر نہیں ہے، جسے آپ دیکھنا چاہیں گے۔ یہ کہتے ہوئے اس کی بات میں بڑی کاٹ ہوتی اور انداز میں تحقیر۔ شاید اس تحقیر کی وجہ سے میں چوری چوری فیاض کی کتابوں کی ورق گردانی کرتا رہتا۔ بہرحال کتاب کی عظمت کا احساس مجھے فیاض نے دلایا۔ پھر محبت کا ایک بلبلہ پھوٹا۔ محترمہ نے مجھے کرسی سے اٹھا کر دھم سے فرش پر پھینک دیا۔ اتنی تذلیل ہوئی کہ میں تنکا تنکا ہوگیا۔ اس شاک کے بعد ہوش آیا تو حسن اتفاق سے میرے سامنے کتاب آگئی۔ ڈوبتے کے ہاتھ تنکا آگیا۔ پنجاب پبلک لائبریری نے مجھے پناہ دی۔ یہ مثبت مطالعہ نہ تھا بلکہ فرارتھا، ان دنوں میں گوجرہ ڈسٹرکٹ بورڈ ہائی سکول میں استاد تھا۔ ہمارے ہیڈماسٹر مبارک اسمٰعیل میں اتنی جان تھی، اتنی بے چینی تھی کہ وہ جن بنا ہوا تھا۔ ایک دن بیٹھے بٹھائے اسے سوجھی کہ سکول کا ایک جریدہ شائع کرنا چاہیے۔ وہ اتنا بڑا آمر تھا کہ کسی استاد میں روبرو کھڑے ہوکر ، بات کرنے کی ہمت نہ تھی۔ جب مضامین کی بانٹ ہورہی تھی کہ جریدے کے لیے کون، کیا لکھے گا، وہ بولا، ممتاز صاحب آپ اردو سیکشن کے لئے کوئی مزاحیہ چیز لکھیں گے۔ میں نے عرض کی، عالی جاہ! میں انگلش ٹیچرہوں۔ ہائی کلاسز کو انگریزی پڑھاتا ہوں۔ اردو سے ناواقف ہوں۔ انگریزی پڑھتاہوں، پنجابی بولتا ہوں۔ ہیڈماسٹر بولے، سنیے! مسٹر میں اپنی بات دہراتا ہوں۔ ممتاز صاحب! آپ اردو میں ایک مضمون لکھیں گے۔ میں نے کہا، جناب والا! میں اپنی بات دہراتا ہوں۔میرے یہ الفاظ دیئے کی رگڑ ثابت ہوئے۔جن باہر نکل آیا۔ مجبوری میں،رو دھو کرمیں نے ایک نفسیاتی مضمون لکھ دیا۔ جو گھر کے موضوع پر تھا۔ ٭٭٭
(الکھ نگری۔۔۔ ممتاز مفتی)










جمعہ, اپریل 11, 2014

" کہانی"

کہانی وہی پرانی ہے
جو آج تم کو سنانی ہے
تم نے سن کر بھول جانا ہے
اور ہم نے کہہ کریاد رکھنا ہے
مجھے کتنی مشکل ہے
تمہیں کتنی آسانی ہے

"تعلق"

وہ
جب میرے ساتھ ہوتی تھی
کہتی تھی وقت رک گیا ہے
کچھ دیر اور
اسی لمحے میں جی لیں
پھر اگلے پل تم کہاں ہم کہاں
تعلق کا ایک لمحہ بھی بہت ہوتا ہے
اگر محسوس کیا جائے
ورنہ صدیاں بیت جاتی ہیں
اور
احساس تک نہیں ہوتا بچھڑنے کا

جمعرات, اپریل 10, 2014

"کائنات ِتخیل"

اگر ایک کائنات ہمارے سامنے ہے تو ایک کائنات ہمارے وجود کے اندر بھی ہے۔  جس طرح باری تعالٰی کی تخلیق کردہ کائنات کے سامنے ہماری حیثیت ذرے سے بھی کمتر ہے اسی طرح ہمارے اندر کی کائنات کے سامنے ہمارا ظاہراس کی ایک معمولی سی جھلک ہے۔
 حقیقت اورتخیل جسم وروح کی مانند ہیں۔ جسم کتنا ہی روح کی موجودگی سے انجان ہو لیکن اُس کے سب رنگ زندگی کی ہر چمک دمک صرف اور صرف روح کے دم سے ہے۔ روح کا احساس ہونا اپنے آپ کو اس کے سپرد کر دینا اہم نہیں بلکہ روح کو اُس کا جائز مقام دینا ۔۔۔اُس کی پاکیزگی کو سمجھنا اہم ہے۔
 زندگی کی حقیقت پہلےتخیل کی صورت دماغ کے کاغذ پر نقش ہوتی ہے پھر عمل کے پیرہن میں ڈھل کر تلاش کا سفر آگے بڑھتا ہے۔خیال تخیل کے سمندر میں لہروں کی مانند ہوتا ہے۔جو لہر ایک بار آ کر چلی جائے وہ دوبارہ کبھی نہیں ملتی۔تخیل سے نکل کر توکل اور یقین کے سمندر میں ڈوبنے والا"درحقیقت اپنی مایوسی کو خود ساختہ "صبروقناعت" کا لبادہ پہنا دیتا ہے اسی لیے ڈوب جاتا ہے۔ اصل ہنر تیرنا اور ڈوبتے ہوؤں کو بچانا ہے۔ ساحل پر پہنچنا یا نہ پہنچنا قسمت کا کھیل ہے۔
تخیل اورحقیقت بظاہر دو متضاد رویے ہیں لیکن حقیقت کے بغیرتخیل محض فریب ِنظر ہے۔ اسی طرح حقیقت میں جب تک 
تخیل کی آمیزش نہ ہو زندگی چلتی تو رہتی ہے لیکن لگے بندھے اصولوں پر۔۔۔میدان ِجنگ میں ہارے ہوئے سپاہیوں کی طرح۔۔۔ سرجھکا کر دوسروں کے قدموں میں ہتھیار ڈال کر۔۔۔ لڑنے سے پہلے شکست تسلیم کرکے۔۔۔اپنی صلاحیت آزمائے بغیر ہار مان کر۔دوسری طرف اگر حقیقت کو فراموش کر کے صرف تخیل کو ہی پروان چڑھایا جائےتو اس کا خمار یوں اپنی گرفت میں لیتا ہے کہ پھر آنکھ بند ہو یا کھلی۔۔۔ حقیقت کبھی دکھائی نہیں دیتی ۔ تاریخ میں بکھری کئی داستانیں تخیل کے اسی بے مہار آسیب کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ جن کے سیاق وسباق سے واقفیت نہ ہوتے ہوئے بھی ہم صرف چند الفاظ میں پوری کہانی جانچ لیتے ہیں۔۔۔۔۔جیسے!"روم جل رہا تھا اورنیرو بانسری بجا رہا تھا"۔۔۔چنگیز خان کے بغداد پر حملے۔۔۔ ہزاروں کتب خانوں کو نذزِآتش کرنا۔۔۔ جن کی راکھ سے دجلہ کا پانی کالا ہو گیا تھا۔۔۔کھوپڑیوں کے مینار بنانے کے وقت۔۔۔اہلِ بغداد کی سوچ کا محوریہ تھا 'کوا حلال ہے یا حرام' اور"سوئی کی نوک پر فرشتہ اُترسکتا ہے یا نہیں"۔ اسی طرح بہت قریب اپنی تاریخ دیکھی جائے تو 1857ء میں مغلیہ سلطنت کے زوال کے وقت80 سالہ تاجدارِدہلی ۔ ایک حساس شاعر "بہادر شاہ ظفر" کے نزدیک سب سے اہم مسئلہ صرف اورصرف اپنی جان بچانا تھا اوراسی شرط پرانگریزبہادرکے سامنے 80 ہزارجان نثاروں کے ہوتے ہوئے بھی ملک بدر ہونا قبول کرلیا۔
تخیل تخلیق کی بنیاد تونہیں لیکن اُس کی بناوٹ میں اس کی اہمیت ریڑھ کی ہڈی کی سی ہے۔تخلیق میں اگرتخیل کا تاثر دکھائی نہ دے تو وہ بےرنگ تصویر کی طرح موجودگی کا احساس تو دلاتی ہے لیکن نظروں کو اپنی طرف مائل نہیں کرسکتی۔
تخیل کی بے پناہ کشش کا دائرہ حقیقی سے غیر حقیقی تخیل تک پھیلا ہوا ہے۔حقیقی تخیل اگر اپنی زندگی کے اس پاس بکھرے رنگوں کو  سمیٹ کر تخلیق میں جلوہ گر ہوتا ہے توغیرحقیقی تخیل انسان کو کوہ قاف کی جادونگری میں لے جاتا ہے۔۔۔ ٹارزن کی صورت جنگلوں کے عشق میں مبتلا کر دیتا ہے۔۔۔جدید دور کے منطقی سوچ رکھنے والے ذہنوں کو سائنس فکشن کی صورت مسمرائز کرتا ہے۔۔۔ تو کہیں "ہیری پورٹر"سیریز کے خمار میں بھی مبتلا کر دیتا ہے۔
ہرچیز کی طرح تخیل چاہے حقیقی ہو یا غیر حقیقی  اس کے مثبت اور منفی پہلو بھی ہیں۔زیارتی ہر چیزکی نقصان دہ ہے۔ حقائق کی گہرائی کو چھو کر نظر آنے والا تخیل خطرناک حد تک تلخ بھی ہو سکتا ہے یا کیف ولذت کی انتہا تک پہنچا کر ایک نشے کی طرح اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔غیرحقیقی تخیل اگرانسان کو خوابوں کی دُنیا کا مکین بنا کر اُس کے اپنے رنگوں کی چمک معدوم کر سکتا ہےتوکبھی اُس کے رنگ میں اپنے رنگ یوں مل جاتے ہیں کہ پھر تخیل اورحقیقت میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ نثرمیں آپ بیتی کو افسانوں کی شکل میں بیان کیا جا سکتا ہے تو نظم میں عشق ِمجازی کے پردے میں اسباق ِزندگی سےلے کرعشق ِحقیقی کے اسرارورموز اشارے کنائے میں بخوبی سمیٹے جا سکتے ہیں۔ایسی ہی شاعری لازوال ٹھہرتی ہے۔۔۔یوں تخیل اورحقیقت کے ملاپ سے شاہکار ادب تخلیق پاتا ہےلیکن اُس کو حقیقی زندگی کا عکس ماننا پڑھنے والوں کے لیے جتنا مشکل ہے اُس سے زیادہ اعتراف کا حوصلہ لکھنے والے کو درکار ہوتا ہے۔
!آخری بات
حقیقت اورتخیل کے ملاپ کے بعد جب لفظ کاغذ پر اترتا ہے تو قاری کی ذہنی پختگی اور معاشرے کی اقدار اس کی "مقبولیت اورقبولیت" کا تعین کرتی ہیں۔ لکھنے والے کے لیے اپنی سوچ کا اظہار سب سے بڑی کمائی ہے۔اس 'کمائی'کو ماننا اصل امتحان بھی ہے۔ بیشتر لکھنے والے زندگی کی ناقدری اور محرومیوں کی مثال بن کر دُنیا سے ایک مایوسی کے عالم میں رخصت ہوتے ہیں۔ 
 حرف وہی زندہ رہتا ہے جو دل سے لکھا جائے اوردلوں تک رسائی حاصل کر لے چاہے وہ لایعنی تخیل ہو یا پھرسفاک حقیقت کا عکس۔اردو ادب میں اعتراف ِحقیقت کی بلند آہنگ آواز "علی پورکا ایلی" (سالِ اشاعت 19622) ہے اورتقریباً تیس برس بعد "الکھ نگری" میں "ممتاز مفتی" نے اس کا اظہار یوں کیا۔
ممتاز مفتی۔۔۔" علی پورکا ایلی میں میں نے جان بوجھ کرادب کا ذکر نہیں کیا تھا۔ مجھے یہ ڈرتھا کہ بھید نہ کھل جائے، قاری کو پتہ نہ چلے کہ یہ ناول نہیں بلکہ خود نوشت ہے۔ علی پور کا ایلی میں میں نے اپنے غلیظ پوتڑے چوک میں بیٹھ کر دھوئے تھے، لیکن مجھ میں اتنی جرات نہ تھی کہ اپنی حماقتوں، غلاظتوں، کمیوں ، کجیوں کو اپناؤں۔اب جبکہ بات کھل چکی ہے کہ علی پور کا ایلی میری سوانح حیات ہے اور میں اپنی آپ بیتی کا دوسرا حصہ لکھ رہا ہوں، تو مناسب ہے کہ میں ادب کے متعلقہ کوائف کو تحریر میں لے آؤں۔میرے دل میںکبھی آرزو پیدا نہ ہوئی تھی کہ ادیب بنوں میرے دل میں کبھی یہ خیال پیدا نہیں ہوا تھاکہ میں اردو میں لکھنے کا شغل اپناؤں گا"۔
خطاطی بشکریہ جناب "سجاد خالد

اتوار, اپریل 06, 2014

"آکسیجن"

وہ  برسوں سے لکھ رہی تھی  پہلے کبھی کبھار لکھتی  پھر لکھنا اُس کی ضرورت بنتا گیا۔۔۔آکسیجن کی طرح.جب آکسیجن کی طلب حد سے بڑھ جاتی اورسانس لینا محال ہو جاتا تو وہ کاغذ کے آکسیجن ٹینٹ میں ذرا دیر کو پناہ لے لیتی۔۔۔ یہی بہت تھا نہ مزید خواہش اور نہ کھلی فضا کی چاہ ۔ زندگی اسی طرح  گزرتی جا رہی تھی ۔۔۔ پُرسکون۔۔۔ بہتے پانی کی مانند۔ گو اندازہ تو تھا کہ ان پانیوں کی گہرائی میں کہیں کوئی سونامی سانس لیتا ہے لیکن اُس سے خوف نہ آتا ۔ سوچ کی روانی میں جب تعطل آنے لگا اور لہریں بے ترتیب ہونے لگیں تو سونامی کی گرفت بھی محسوس ہوئی یوں کہ آکسیجن ٹینٹ بھی کارگرثابت نہ ہوا۔ پھر ہاتھ قلم بن گئےاور وقت کم پڑ گیا۔
یہ صرف ڈیمانڈ اورسپلائی کا کھیل تھا۔ ڈیمانڈ بڑھی تو راستہ خود ہی مل گیا۔۔۔ پھر دروازے یوں کھلے کہ نگاہ ایک منظر سے سَیر نہ ہو پاتی کہ اگلا منظر سامنے آ جاتا ۔ وہ تتلی جو اپنے آپ کو بند مٹھی کی قید میں محسوس کرتی تھی  طاقت ِپرواز ملی تو ڈال ڈال مہکنے لگی ۔ اپنے رنگوں کو جانا تو ہرمنظر رنگین دکھنے لگا۔
آکسیجن ٹینٹ سے باہر کھلی فضا میں سانس لینا دُنیا کا خوبصورت ترین تجربہ تھا جس نے اُسے نہال کردیا ۔ وہ نگاہوں کی ہوس سے لاپرواہ اپنا آپ بچاتی بس اُڑنا چاہتی تھی۔۔۔ اُن فضاؤں میں دور تک ۔۔۔ جو اُس کی پہنچ سے دُورتو تھیں پرآوازیں دیتی تھیں۔۔۔سرگوشیاں کرتی تھیں۔۔۔ پاس بلاتی تھیں۔۔۔اُن سرزمینوں کے۔۔۔ جن پر ابھی کسی  کے قدموں کے نشان نہیں اُترے تھے۔ سفر لامحدود تھا اور قوت ِپرواز محدود۔ 
بس اجنبی دیس کو چھونے کی لذت تھی جو شوق ِسفر کو مہمیزکرتی تھی۔ وہ بے خبرتتلی جان کر بھی جاننا نہیں چاہتی تھی کہ ہر لمس اس قابل کہاں کہ اُسے چھوا جا سکے۔ تقدیر کے کھردرے لمس کو محسوس کرتی  وہ حالت ِسفر میں تھی اور اپنی خواہشوں کے نگرمیں تھی جس کی وہ  ملکہ تھی بلا شرکت غیرے۔



جمعہ, اپریل 04, 2014

" دُنیا...(2)"

دُنیا کی زندگی کو اگر کھیل تماشا کہا گیا تو وقت کی آنکھ مچولی بھی ہماری ہی کہانی ہے۔ کبھی ہم رہ جاتے ہیں ہمارا وقت گزر جاتا ہے تو کبھی ہم گزر جاتے ہیں ہمارا وقت رہ جاتا ہے۔ رسہ کشی کے اس کھیل میں جتنا زور لگاتے جائیں ہار یا جیت کسی ایک فریق کا مقدر ٹھہرتی ہے اور وقت سے کبھی کوئی جیت نہیں سکا۔ یوں جس طرف بھی ہوں اگر وقت سے پنجہ آزمائی شروع کر دی تو نقصان اپنا ہی ہو گا۔
زندگی کو کھیل سمجھ کر اس سے کھیلنے والے اپنے تئیں کتنے ہی محتاط کیوں نہ ہوں کھیلتےکھیلتے چپکے سے ہار بھی جاتے ہیں اور کبھی ہارتے ہارتے اچانک جیت سکتے ہیں۔ اس کھیل تماشے میں سے اپنا اصل سبق تلاش کرنا اور اصل امتحان میں کامیابی کے لیے اس کو ازبر کرنا اشد ضروری ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ تلاش کا عمل جتنا جلد شروع ہو جائے اُتنا وقت تیاری کے لیے مل جائے گا ۔ورنہ اکثر یوں ہوتا ہے کہ جیسے ہی سبق سمجھ آنے لگتا ہے۔۔۔اس کھیل تماشے کاسرا ملنے کا امکان پیداہوتا ہےتوساتھ ہی امتحان کا پہلا مرحلہ بھی شروع ہو جاتا ہے۔
 زندگی شطرنج کا کھیل ہی تو ہے۔اہم یہ نہیں کہ ہرچال کامیابی سے چل کر دوسرے کو مات دیتے رہیں۔اہم یہ ہے کہ آخری چال میں کون کس کو شہ مات دیتا ہے۔ کامیاب وہی ہے جو اپنی حد تک چال چلنے کے بعد آخری چال کے لیے تقدیر کے فیصلے کا انتظار کرے اور پھر اس کو من وعن تسلیم کرنے کا حوصلہ بھی رکھے خواہ وہ اس کے حق میں دکھائی نہ بھی دیتا ہو۔
 اصل ہنر ساری چالیں جانتے ہوئے۔۔۔اُن پراپنا اختیار رکھتے ہوئے پھر بھی کوئی چال چلنے میں پہل نہ کرنا ہے۔ ایک لمحے کی ہار کے اندر چھپی ہوئی جیت کا احساس قائم رہے تو بظاہر جیتنے والے کو ہمیشہ کی ہار دے جاتا ہے۔

" گھر اور قبر"

گھر قبر پرنہ بناؤ اور نہ ہی کبھی کسی قبر پر کوئی گھربن سکا ہے۔سنگ مرمر سے بنا تاج محل مٹی کی قبر کا تو امین ہوسکتا ہے لیکن قبر پر تاج محل تو کیا مٹی کا گھروندا بھی تعمیر نہیں کیا جاسکتا۔ہماری خواہشیں مٹی سے بنے فانی جسم میں جنم لیتی ہیں اورمٹی سے ملاپ کی حسرت لیے مٹی میں ہی جذب ہو جاتی ہیں۔تخیل اور تصور کے بلندوبالا خوبصورت تاج محل انسان کے دستِ طلب کا نوحہ بن کر انسان کے ساتھ ہی دفن ہوجایا کرتےہیں۔
گھر کی تعمیر میں بنیاد سب سے پہلے اہمیت کی حامل ہے بجا کہ یہ بنیاد مٹی سے بڑھ کرکہیں سے نہیں مل سکتی۔بہتے پانی پر گھر بن تو جاتے ہیں لیکن ڈانواں ڈول ہی رہتے ہیں جبکہ ریت پر بنے گھر ہرلمحے قدموں تلے زمین سرکنے کے خدشے کی وجہ سے لرزتے رہتے ہیں۔
قبر چاہے ارمانوں کی ہو۔۔۔ خواہشوں کی۔۔۔یا پھرانسان کے مردہ جسم کی۔۔۔ یاد کے آنسوؤں سے تر رہے۔۔۔احساس کی لرزش سے مہکتی رہے۔۔۔ 'سب فانی ہے' کے یقین سے قائم  رہے تو ہی زندگی کی گاڑی کا پہیہ رواں رہتا ہے۔
قبر حق ہے اور زندگی کا سب سے اہم سبق ہےجب تک اس پرایمان نہ ہو اورسمجھنے کا سلیقہ نہ آئے تب تک مایوسی،بےچینی ،بغاوت سراُبھارتی رہتی ہے۔اگر یہ خلش اپنی انتہا تک پہنچ جائے تو انسان فطرت کے خلاف چل پڑتا ہے۔قبروں پر گھر بنانے کی خواہش طلب کا روپ دھار لیتی ہے۔ ان جانے میں قبروں پر بنائے جانے والے گھر یا تو ہمہ وقت ناآسودہ خواہشات کے طوفانوں میں گھرے رہتے ہیں اوریا اُن میں انسانوں کے ساتھ آسیب بھی بسیرا کرلیتے ہیں۔ پھروقت ہی فیصلہ کرتا ہے کہ کون سا مکین طاقتور ہے۔وقت کے اس فیصلے سے پہلے اپنی اہلیت کا ذرہ برابر بھی ادراک ہو جائے تو بہت سی الجھنوں سے نجات مل جاتی ہے۔

مکان کا ربط مکینوں سے ہے تو گھر رشتوں کے ستونوں پر قائم ہوتے ہیں۔کبھی گھر بن جائے تو مکان نہیں بن پاتا اورکہیں مکان بن جائے تو گھر بکھرجاتے ہیں۔اینٹ گارے سے بنے مکان کی چاردیواری گھر کے مکینوں کے مابین کمزور پڑتے رشتوں اورتعلقات کی دراڑوں کے سامنے پردے کا کام دیتی ہے تو باہر سے گزرنے والوں کے حسد یا تاسف کی تکلیف دہ سنگ باری سے بھی پناہ میں رکھتی ہے۔دوسری طرف یہ بھی سچ ہے کہ خاندان کے باہمی اعتماد کے سائے اور محبتوں کی مہکتی مٹی میں گوندھے زندہ گھر کو بھی مکان کا تحفظ نہ ملے تو مٹی میں احساس کی نمی خشک ہونے میں دیر نہیں لگاتی اور بُھربھرے ہوتے تعلق ہوا کے خفیف سے جھونکے میں پرواز کو مچلتے ہیں۔

منگل, اپریل 01, 2014

"مطالعہ"

"انسان اور کتاب"
کلام الٰہی کے بعد زندگی سے بڑی کتاب اورانسان سے بڑھ کر لفظ اورکوئی نہیں۔
لفظ وہی زندہ رہتا ہے جو انسان سے انسان تک سینہ بہ سینہ سفرکرتا ہے اور ہرایک اپنی استطاعت کے مطابق اُسے آنے والی نسلوں کو منتقل کرتا جاتا ہے۔
کتاب حوالہ ہے۔۔۔ وسیلہ ہے علم تک رسائی کا۔۔۔ لیکن علم نہیں۔اصل علم وہی ہے جو انسان اپنی زندگی سے اپنے آپ سے حاصل کرتا ہے۔
کتاب ہو یا انسان کبھی پرانا نہیں ہوتا۔ یہ پڑھنے والے کی سوچ اوردیکھنے والے کی آنکھ ہے جو سیاق وسباق یا شخصیت کی چمک سے آگے ہی نہیں جاتی، اسی لیے تو نفس ِمضمون سے توجہ ہٹ جاتی ہےیا انسان شخصیت کے پیچ وخم میں اُلجھ کر رہ جاتا ہے۔
انسان سےزیادہ دلچسپ کتاب اورکوئی نہیں شرط یہ ہے کہ ہمیں اُسے پڑھنا آجائے۔
کتاب ہو یا انسان اس کا دسترس میں آجانا خوش نصیبی ہے اور پڑھنے سے پہلے مسترد کردینا بدقسمتی ہے۔

کتاب ہو یا انسان اُس کا ہاتھ میں آ جانا اکثرغیرارادی یا بےاختیاری بھی ہوتا ہے لیکن بعد میں اُس کو پڑھنے یا نا پڑھنے پرہمارا مکمل اختیار ہے۔ اس لیے جو کتاب یا انسان پسند نہ آئے یا سمجھ نہ آئے اُس کو ایک لمحہ ضائع کیے بنا چھوڑ دینا چاہیےبجائے اس کے اس کی نوک پلک کی اغلاط نکالی جائیں یا کردار کے بخیے اُدھیڑے جائیں۔
انسان کی لکھی کوئی بھی کتاب ہرایک کے لیے نہیں ہوتی ۔۔۔ اسی طرح ہرانسان بھی ہر ایک کو سمجھ نہیں آسکتا۔
کتاب پڑھنا۔۔۔ کتاب سمجھنا تو دورکی بات ہم میں سے اکثراپنے اندرکی زبان بھی نہیں سمجھتے۔اور اگر سمجھ جائیں تو پڑھنے سے گریز کرتے ہیں۔
سرورق سے کتاب کا دیباچہ نہیں لکھا جا سکتا۔۔۔ کبھی تو پوری کتاب پڑھ کربھی اس پربحث نہیں کی جا سکتی جب تک اُس کو سمجھا نہ جائے۔۔۔ اس کے معنی کو محسوس نہ کیا جائے۔ یہی حال انسان کا بھی ہے محض ظاہری وضع قطع سے انسان کی شخصیت کا مکمل اندازہ نہیں لگایا  جاسکتا۔
کسی کو جاننے کے لیے خواہ وہ کتاب ہو یا انسان اُس کا حرف بہ حرف حفظ کرلینا قطعاً ضروری نہیں۔ کبھی ایک نکتہ سب راز کھول دیتا ہے یا ایک جھلک ہماری نگاہ کو اُس کے قدموں میں سجدہ ریزکردیتی ہے۔
بسااوقات زیادہ نہ جاننا ہی ہمارے لیے نعمت ہوتا ہے کہ اگرہم کسی کو مکمل جان جائیں۔۔۔اُس کی رگ رگ سے واقف ہو جائیں تو پھرعشق کی اُن منزلوں تک رسائی دُور نہیں ہوتی جو عقل وخرد سے پرے اورجنوں کی وادیوں کے قریب ہوتی ہیں۔