صفحہِ اول

ہفتہ, فروری 15, 2014

"چودہ فروری ۔۔۔ ایک یاد کہانی "

 تہوار چاہے دیسی ہوں یا بدیسی ۔۔۔ مذہب سے جُڑے ہوں یا دائرۂ عقل وفکر سے بھی خارج ۔۔۔ اپنی مٹی کی باس سےمہکتے ہوں یا پھر درآمد شدہ مہنگی خوشبویات کی طرح ذہن پرحاوی ہوتے۔۔۔امیروں کے چونچلے ہوں یا غریبوں کی پھلجھڑی جو اپنے ہی گھر کا خراج چاہتی ہے۔۔۔ انسانوں کے ہجوم کی میراتھن کی مانند ہوں یا کسی کے دل میں جگمگاتے ننھے دیے کی روشنی۔۔۔ بہرصورت ہرخاص وعام پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ تنقید ہو یا تعریف سوچنے والا ذہن کہیں نہ کہیں ان کا تجزیہ ضرور کرتا ہے۔اورجب بات احساس کی ہو تو پھر ہر ایک اپنی ذہنی سطح اپنے تجرباتِ زندگی کے حوالے سے اس کی شدت کو محسوس کرتا ہے۔
چودہ فروری ساری دُنیا میں "محبت" کے جذبے کے احساس کو زندہ رکھنے کے لیے منایا جاتا ہے۔ کسی بھی بحث سے قطع نظر 'محبت" کا دن دُنیا میں ہرایک کے لیے یکساں نہیں ہوتا بلکہ کسی کے لیے محبت دنیا کی سب سے بڑی عیاشی سے بھی زیادہ غیراہم چیز ہوتی ہے۔ کسی کے لیے خوشی کا یہ دن نہ بھولنے والےغم اورکبھی نہ مٹنے والی تذلیل وحقارت کا دن بھی ہو سکتا ہے۔ یہ ہرگزنہیں کہ چودہ فروری کو کسی کے گھر ماتم نہیں ہوتا یا اس روز راوی ہر طرف چین ہی چین لکھتا ہے۔ پھر بھی خوشی کا احساس اپنی حدود وقیود کے اندررہتے ہوئے کسی بھی دن ہو سکتا ہے۔
دس برس قبل بارہ فروری کی شام کا ذکر ہے۔ سامنے والے گھر سے کسی نے مدد کے لیے آواز دی۔ خاتون کو ہارٹ اٹیک ہوا تھا۔ اتفاق دیکھیں کہ اُن کے اپنے بیٹے اوربہوئیں ڈاکٹر تھے لیکن اس وقت اُن کےگھرگاڑی تھی اورنہ ہی بچے پاس تھے۔ ایک ڈاکٹر بہو کے ساتھ ہسپتال کے راستے میں کلمہ پڑھتے ہوئے انہوں نےآخری سانس لی۔ اُن کی میت کو مردہ خانے میں رکھا اورخالی ہاتھ گھر لوٹ آئے۔ مردہ خانہ عجیب سی سہولت ہے اپنے پیارے کی وفات کے بعد زیادہ تر لوگ جسے استعمال کرتے ہیں۔ اکثر مردہ خانے میں رکھنا مجبوری بھی ہوتی ہے۔
بچےجب بیرون ِملک اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے دُنیا میں اپنا ایک نام اور پہچان بنا لیتے ہیں تواکثر بہتر مواقع کی وجہ سے وہیں کے ہوکر رہ جاتے ہیں۔اُن کے والدین ہنسی خوشی ہمیشہ کی طرح بچوں کے کل کے لیے اپنا آج قربان کردیتے ہیں۔ اپنی تنہائی کو فخر کی چادر میں لپیٹ کر اپنے آپ کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔والدین کی وفات کے وقت اکثروبیشتر انہی بچوں کی خاطر جنازہ روکے رکھنا بہت ضروری ہو جاتا ہے۔ ان محترمہ کے بچے بھی ملک سے باہر تھے اس لیے ان کی آمد تک میت کو رکھنا تھا۔ ایک دن بعد چودہ فروری کی صبح اُن کا جنازہ اُٹھا۔
چودہ فروری ۔۔۔ محبت کا دن۔۔۔ اور یہ جنازہ کہانی۔۔۔ بظاہر بےربط تحریر ہے۔ لیکن ہر سال مجھے چودہ فروری کو کیوں یاد آتی ہے؟ میں بھی کچھ نہیں جانتی بس اتنا جانتی ہوں کہ یہ ہنستی مسکراتی ،چلبلی سی خاتون بچوں بڑوں سب کی دوست تھیں۔ ہرایک سے بڑی اپنائیت سے ملتیں، رازدل بےتکلفی سےعیاں کرتیں اورسوال پوچھنے والوں کی ممکن حد تک تشفی کرتیں۔
وہ کیا سوال تھے؟ جن کے جواب بھی ملتے پھر بھی دل یقین نہ کرتا تھا۔۔۔ وہ کون سی کشش تھی ؟جو سب کو اُن کے گرد جمع کر دیتی تھی ۔۔۔ وہ کیسی بےنیازی تھی ؟ جو اپنائیت کے گہرے احساس کے باوجود اُن کے پاس سے چھلکی پڑتی تھی۔۔۔ زندگی کا وہ کون سا رنگ تھا؟ جس نے اُن کے وجود کو گلناربنا دیا تھا۔۔۔طمانیت کا وہ کیسا احساس تھا؟ کہ جس نے اُن کو داتا بنا دیا تھا۔ 
بادِ نسیم کی طرح مہکتی اسمِ بامسمٰی ان محترمہ کے شریک ِحیات کو دنیا سے رخصت ہوئے بائیس برس گذر چکے تھے اوران بائیس برسوں میں نمازِ فجر کے بعد ہر روز قبر پرجانا اور وہاں بیٹھ کرقران پاک کے کم ازکم دو پاروں کی تلاوت کرنا ان کا معمول تھا۔ اتنے برسوں میں بچوں نے باہر بلایا لیکن زیادہ دن اُن کے پاس نہ رہتیں۔ گھر میں گاڑی کے ہوتے ہوئے اور بچوں کے ڈرائیور رکھنے کے اصرار کے باوجود پیدل جانا ہی اُن کی ضد یا خواہش تھی ۔ قبرستان میں اپنے مرحوم شوہر سے ہونے والی باتیں اپنے گلے شکوے یوں بیان کرتیں جیسے روزکسی زندہ انسان سے مل کرآتی ہیں۔ ہم اُن سے بڑے شوق اور تجسس سے رات کے آخری پہر کا احوال پوچھتے جب وہ سردی، گرمی اورکبھی موسلا دھاربارشوں کی پروا کیے بغیر گھر سے نکلتی تھیں۔ انہوں نے کسی خوف یاممکنہ حادثے کی بات نہ کی۔اور نہ ہی کبھی کسی واہمے یا حقیقت سے ڈریں۔
بچوں نے عمرے پر بھیجنا چاہا تو کہنے لگیں۔ "وہ" کہیں گے  پیسے دیں گے تو جاؤں گی ورنہ نہیں۔ اتفاق دیکھیں کہ انہی دنوں ان کے شوہر کے دفتر سے بقایا جات کی وصولی کے لیے کاغذ آیا اوراس پر اتنے ہی روپے درج تھے جتنے عمرے پرخرچ ہونے تھے۔ خیرعمرے کے بعد وہ حج پربھی گئیں۔ ہرسال بائیس دسمبر کو اپنے شوہر کی برسی کے موقع پر قران خوانی کی محفل کے بعد سب ملنے والوں کی شاندار دعوت کا اہتمام کرتیں۔ اکثر کہا کرتی تھیں بلکہ اپنی ایک دوست سے وعدہ بھی لیا تھا کہ میں مرجاؤں تو بہت اچھی طرح بنا سنوار کر رخصت کرنا۔ وہ میرا برسوں سے انتظار کر رہے ہیں۔
اُن کی اچانک وفات کے بعد سب کچھ ویسا ہی ہوا جیسا انہوں نے چاہا تھا۔ سرد خانے میں چھتیس(36) گھنٹے سے بھی زائد رہنے کے باوجود اُن کا جسم اسی طرح نرم وملائم تھا اوراُن کو اپنے شوہر کے پہلو میں سپردِ خاک کیا گیا عین اسی جگہ جہاں وہ برسوں بیٹھ کر تلاوتِ کلام پاک کیا کرتی تھیں۔
یہ  رُخصت ہونے والے انسان سے کیسی محبت تھی کہ جس نے اُن کی ابدی آرام گاہ کواُن کے لیے باعث سکون بنا دیا اورجس مٹی میں ملنا تھا اس مٹی کے لمس کو برس ہا برس تک اپنے وجود میں سموتی رہیں۔
آنکھوں دیکھی بات ہے لیکن دل مان کر بھی نہیں مانتا کہ دُنیا میں ایسا بھی کبھی ہوا ہے کہ انسان اُس مٹی سے جس میں مل کر اس نے مٹی ہونا ہےاس قدرمانوس ہو جائے؟۔ مزید یہ کہ ایک کمزورعورت جو اپنی بھرپورعمرمیں بیوہ ہو جائے اس طرح برسوں آدھی رات کو اپنے گھر سے ایک کلو میٹر سے بھی زائد فاصلہ بلا کسی رکاوٹ کےطے کرتی رہے؟۔
واہ کینٹ عجیب وغریب کرداروں کی سرزمین ہے۔ یہاں بسنے والے جاتے جاتے بھی اپنی خوشبوئیں اپنے اسرار یہاں کی ہواؤں میں چھوڑ جاتے ہیں۔ دیکھنے والی آنکھ ان اسرارکو جان کر بھی کچھ نہیں جان پاتی۔اس لمس کو چھو کر بھی اُس کی اصل خوشبو سےان جان ہی رہتی ہے۔ لیکن احساس کی تازگی جانے والوں کو ہمیشہ قریب رکھتی ہے۔۔۔ہماری دعاؤں میں اورہماری یادوں میں۔
شاید یہی انسان کی اہلیت ہےاوریہی پہنچ جو اسے مالک ِحقیقی کے قریب سے قریب ترکردیتی ہے۔
 ﷺ

منگل, فروری 11, 2014

" لمس سے لفظ تک"

محبت احساس کا نام ہے اورقربت اس احساس کا اظہار ہے۔۔۔ جذبوں کی روانی ہے۔۔۔ ایک بہتا مدھرچشمہ ہے جس پراگر لمس کا بند نہ باندھا جائےتو یہ بےفائدہ ۔۔۔ بےفیض چُپ چاپ دریا سے ہم آغوش ہو کر وقت کے گہرے سمندروں کی نذرہوجاتا ہے۔ یا کسی پُرشور ندی نالے سے مل کر نہ صرف اپنی پہچان کھو بیٹھتا ہے بلکہ تباہی وبربادی کی نئی داستانیں بھی رقم کرتا ہے۔
لمس کی اہمیت اس کی بےپناہ طاقت سےانکار نہیں۔ لمس جسم کا ہوتا ہے یا سوچ کا اور سب سے بلند تر کہیں تو روح کا اور پھر نور کا۔
لمس  کائنات کی سب سے بڑی لذت ہے لیکن حدودوقیود کے اندر رہ کر ہی اس کا ثمر پایا جا سکتا ہے ورنہ بظاہر خوشنما اوردل فریب نظر آنے والے پھل جان لیوا حد تک زہریلے بھی ہو سکتے ہیں۔
لفظ لمس کے بنا ادھورا ہے لیکن کبھی لمس اتنا طاقتور ہو جاتا ہے کہ لفظ اُس کے سامنے بےمعنی ہو کر رہ جاتا ہے۔لفظ کبھی گم نہیں ہوتے بس ہم ہی اپنی طلب کو سمجھنے میں ناکام رہتے ہیں۔
لمس خواہ محبت کا ہو نفرت کا یا پھردرد تکلیف کا بہت طاقتور ہوتا ہے۔نرم ونازک احساسات کو جڑ سے اُکھاڑ کر نئے سرے سے اُن کی نمو کرتا ہے۔ یہ مقناطیسیت محض لمحوں کا کھیل ہوتی ہے۔۔۔ برقی مقناطیس کی طرح ۔۔۔ اُس پل لگتا ہے جیسے سب ختم ہو گیا۔ لیکن اگرمحبت کا لمس وجود کو گل وگلزار بناتا ہے۔۔۔زمینوں میں زرخیزی کی مہر لگاتا ہے تو نفرت کا لمس تذلیل کااحساس بن کردوسروں سے اس کا بدلہ لینے پر اُکساتا ہے۔۔۔کبھی چوٹ کا لمس جسم پر نہ مٹنے والے نشانات چھوڑ جاتا ہے جن کے گھاؤ کبھی نہیں بھرتے اور نارسائی کا کرب احساس کو بنجر بھی کر دیتا ہے۔
 لمس کوئی بھی ہو اگراپنا انمنٹ اثر نہ چھوڑے تو پھرانسان کو گونگا یا بےحس بنا دیتا ہے۔ یہی وہ وقت ہے جب لفظ کی اہمیت کھل کر سامنےآتی ہے۔ پھر صرف لفظ ہی بچتے ہیں جو لمس کے احساس کو بچانے کی سعی کرتے ہیں ۔لفظ وہ نہیں جانتے جو ہم جانتے ہیں اور جو ہم جانتے ہیں وہ لفظوں میں بیان ہی نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہاحساس کو جب تک لفظ کی زبان نہ ملے وہ بےحیثیت ہی رہتا ہے۔انسان کا احساس بہت قیمتی ہے جو دوسری نعمتوں کی طرح رب کی انمول عطا ہے اور خاص ہے ان کے لیے جو خاص ہوتے ہیں۔اہم یہ ہے کہ اگر لمس اورلفظ کا تعلق بھی نہ رہے تو انسان اس وسیع کائنات میں اپنی ذات کے بھنور میں یوں ڈوب جاتا ہے کہ کوئی اس کی پکار سننے والا بھی نہیں ہوتا۔
آخری بات
لمس کی طاقت پرجو لوگ یقین رکھتے ہیں وہ اس کا اظہار نہیں کرپاتے۔اورجو اظہار کرتے ہیں وہ اِس کی طاقت سے بےخبرہی رہتے ہیں۔