صفحہِ اول

ہفتہ, جون 07, 2014

"کیکر تے انگور چڑھایا "

"کیکر تے انگور چڑھایا۔۔۔۔ "
وہ وقت جو تجھ بن بیت گیا
اس وقت کا کون حساب کرے
اِک دھوپ چھاؤں کا موسم تھا
کبھی زخم جگر،کبھی مرہم تھا
یوں جان کہ وہ گزری ہوئی عمر
اِک لمبی کالی رات تھی
جس کے ماتھے پر
 جھوٹے تاروں کی افشاں تھی
(اور اس افشاں کو میں نے اپنی مانگ میں بھرنا چاہا تھا)
 اِک لمبی کالی رات کہ جس کے پہلے پہر کی آنکھوں میں
ادھ کھلے دریچے اور ان کی بےخوابی تھی
اور پچھلے پہر کی سانسوں میں
پھر کبھی نہ آنے والوں کے قدموں کی آہٹ 
واہمہ بن کر گونجتی تھیں
( !پر واہمہ تب کس درجہ یقین سا لگتا تھا) 
میں ایسی شاخ کہ جو اپنی کچی کلیاں
بارش سے قبل جلا بیٹھی
جب پھول آنے کے دن آئے
بادل کا پیار گنوا بیٹھی
کیسی کیسی بے معنی باتوں میں شامیں برباد ہوئیں
کیسے بےمصرف کاموں  میں اُجلی راتیں برباد ہوئیں
کس درجہ منافق لوگوں میں دل سچی بات سناتا رہا
وہ جن کے قلوب پہ مہریں تھیں انہیں روشنیاں دکھلاتا رہا
 کیسے کیسسے پیارے جذبے
کن ناقدروں کو دان کیے
کیسی بارآور رُت نے بےزر موسم سے پیمان کیے
کن کم ہمت شہزادوں کے وعدوں پہ بھروسہ کر کے
اپنے نوختہ جسم میں سوئیاں گڑوا لیں 
کن آسیبوں کے کہنے میں
آبادیاں شہرجاں کی تمام اُجڑوا لیں
کیا کیا دُکھ دل نے پائے
ننھی سی خوشی کے بدلے
ہاں کون سے زخم نہ کھائے
تھوڑی سی ہنسی کے بدلے

زخموں کا کون شمار کرے
یادوں کا کیسے حصار کرے
اور جینا پھر سے عذاب کرے
اس وقت کا کون حساب کرے
 وہ وقت۔۔۔۔ جو تجھ بن بیت گیا
(صدبرگ۔۔۔پروین شاکر)

2 تبصرے :

  1. I wɑs ɑble to fnd good info from your articles.

    my site :: banking industry in india 2012 analysis

    جواب دیںحذف کریں
  2. کنکر تے انگور چڑھایا ۔۔۔۔۔ ہم اکثر اسے کسی موقع پر استعمال کر دیتے ہیں مگر آج اس رنگ میں پڑھنے کا لطف آ گیا ۔

    جواب دیںحذف کریں