صفحہِ اول

اتوار, مارچ 23, 2014

"سوچ سفر"

 کبھی سوچ سفر کا ہر رستہ
اِک بند گلی میں کھلتا ہے
اورخواب نگر کا ہر منظر  
سپنا ایک ہی بنتا ہے
 ذات کے عکس کی خوشبوپا کر
تنہا کب کوئی تھکتا ہے 
دل کی سونی نگری میں
ارماں یوں ہی مچلتا ہے
 منزل منزل سفر سفر
چلنا ہے اور چلتا ہے 

3 تبصرے :