صفحہِ اول

سوموار, مارچ 10, 2014

"پاکستانی عورت"


٭ فاطمہ جناح (31 جولائی1893ء... ، 9جولائی1967ء)
٭ بانو قدسیہ ( 28 نومبر1928ء۔۔4فروری2017)
٭ بلقیس ایدھی (14 اگست1947)
فاطمہ جناح (31 جولائی1893ء ، 9جولائی1967ء)
 بانو قدسیہ ( 28 نومبر1928ء۔۔4فروری2017) 
بلقیس ایدھی (14 اگست1947)

یہ تین خواتین عام پاکستانی عورت کے لیے انسانی رشتوں،جذبات اور احساسات کی بُنت،اپنی زندگی میں ان کے مقام اور کردار کے لحاظ سے قابل تقلید ہیں۔اس لیے کہ ان کی زندگی کا ایک ایک گوشہ سب کے سامنے کھلی کتاب کی طرح ہے اور کہیں بھی کوئی چوردروازہ یا خفیہ خانہ ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتا۔ اور اس لیے بھی کہ انہوں نے" صفر" سے سفر شروع کیا۔
 سب سے پہلے محترمہ فاطمہ جناح، پھر بانو قدسیہ اور اس کے بعد بلقیس ایدھی صاحبہ اپنی ذات کی نفی کر کے، اپنے آپ کی قربانی دے کر اپنی زندگی میں آنے والے مرد کی خاطر اپنا احساس قربان کر دینے کی زندہ مثال ہیں ۔ یہ ان کا ظاہر ہے جسے ان کا بڑے سے بڑا مخالف بھی جھٹلا نہیں سکتا۔ لیکن ان کے اندر کی کہانی ان کا بڑے سے بڑا راز دان بھی نہیں جان سکا یا جان سکتا ہے۔۔۔ سوائے اس کے جو انہوں نے ضبط کی آخری منزلوں سے گزرتے ہوئے اپنی خود کلامی میں کہہ دیا۔ اور"بانو قدسیہ" نے "راہ رواں" میں سلیقے سے قرینے سے کہہ کر دل کا بوجھ کسی حد تک محسوس کرنے والے اذہان کے حوالے کر دیا۔یہ اُن کے جیون ساتھی کی بڑائی ہے کہ انہوں نے وقتاً فوقتاً اپنی تحاریر ۔میں بانو قدسیہ کی ذات کی رنگا رنگی اور لفظ کی عظمت کا برملا اعتراف کیا۔ 
اور یہی خواتین مرد یا معاشرے کی حاکمیت کا بولتا ثبوت بھی ہیں۔
 فاطمہ جناح کا ان کے بھائی کے بعد ہم نے جو حال کیا وہ تاریخ میں رقم ہے۔"مادر ملت" کا لقب دے کر گویا ہم نے اگلے پچھلے سارے قرض چکا دئیے۔اب کون 'مادر' اور'ملت' کی گہرائی میں جا کر گڑھے مردے اُکھاڑے کہ"اور بھی غم میں زمانے میں ۔۔۔"محترمہ فاطمہ جناح نے اپنی زندگی کے انیس سال(1929۔۔۔1948 )بھائی کے ساتھ گزارے اور اتنے ہی سال(1948۔۔1967)اُن کی وفات کے بعد زندہ رہیں۔اپنےعظیم بھائی کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیےمحترمہ فاطمہ جناح نے جناب قائدِاعظم کی زندگی کے احوال پر"میرا بھائی" کے عنوان سے ایک کتاب لکھی۔اس سے کچھ عرصہ پہلے1954 میں نیوزی لینڈ کے ناول نگار ہیکٹر بولیتھو کی کتاب"جناح کریٹر آف پاکستان" کے نام سے منظرِعام پر آئی۔عام خیال یہ ہے کہ اس کتاب میں موجود ناکافی معلومات اور کئی ایک جگہوں پر واقعات اور حالات کے بارے میں پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کے ازالے کے لیے محترمہ فاطمہ جناح نے بھائی کے ساتھ اپنی قربت کا حق ادا کرنے کے لیے قلم اُٹھایا۔
 بانو قدسیہ نے چپ کا لبادہ اوڑھ کراپنا خون جگر لفظ کی صورت معاشرے کے حوالے کیا اور تعظیم و تکریم کی دیوی کا روپ اپنا لیا۔ اُن کے جیون ساتھی محترم اشفاق احمد کا بڑا پن تھا کہ وہ انہوں نے وقتاً فوقتاً اپنی تحاریر میں بانو قدسیہ کی ذات کی رنگا رنگی اوراُن کے لفظ کی عظمت کا برملا اعتراف کیا۔بانو قدسیہ نےجناب اشفاق احمد کے وصال 7ستمبر 2004 کے بعد  اپنی آنے والی کتاب"راہ رواں" میں سب لکھ کر اپنی زندگی کے ہر راز،ہر سمجھوتے اور ہر احساس سے پردہ اُٹھا دیا۔
 بلقیس ایدھی"مادرِ پاکستان" کا اعزاز حاصل کر کےلاکھوں خواتین کے سرکی ردا بن کربھی اپنے گھر کے مرد کے لیے وہی جھاڑیں کھانے والی عام سی اُجڈ عورت ہے۔ لیکن سلام ہے اس پر کہ اپنی سادگی میں کہہ تو بہت کچھ دیتی ہے لیکن ہے وہی مشرقی وفا شعار بیوی ۔اپنے سرکے تاج کی سلامتی کے لیے آنسو بہانے والی اور اس کی رضا میں راضی رہنے والی۔ اور!'سرتاج' وہی اوروں کے لیے مسیحا ،اوربیوی کے لیے سخت گیر آقا۔ 
واہ رے قدرت!  مرد کے کتنے روپ ہیں اور عورت کے اس سے بھی بڑھ کر لیکن گھر کے اندرعورت کا ایک ہی روپ ہے۔اور کامیاب عورت وہی ہے جو اس روپ کو دل وجان سے اپنا لے۔۔۔ چاہے اس کی چبھن رات کی تنہائی میں گہری نیند سے جگا کر کروٹیں بدلنے پرمجبورکر دے یا پھر دنیا فتح کر کے بھی ایک مرد کے سامنے سجدہ ریز ہونےاور ناقدری کے دکھ کو سات پردوں میں چھپانے کا حوصلہ عطا کرے۔

کوئی تبصرے نہیں :

ایک تبصرہ شائع کریں