جمعہ, نومبر 22, 2013

"خوشبو سےخوشبو تک"

تاریخ ِپیدائش۔۔۔۔۔ 24 نومبر 1952۔۔۔۔۔ کراچی
تاریخ ِوفات ۔۔۔۔۔۔26 دسمبر1994۔۔۔۔۔۔ اسلام آباد
شعری مجموعے
٭1)  خوشبو۔ 1977
 ٭2)صد برگ۔ 1980
 ٭3)خودکلامی ۔1985
٭4) انکار۔1990
ماہ ِتمام (کلیات)۔ 1994۔وفات سے صرف تین ماہ قبل پروین شاکر نے خود اپنی متذکرہ چاروں کتابوں کی کلیات "ماہ تمام " کے نام سے چھپوائی۔ 
 ٭5)کفِ آئینہ۔۔۔۔1996 (بعد از وفات شائع ہوئی)۔
٭6)گوشۂ چشم (کالمز)۔
وہ مارگلہ کی نیلگوں پہاڑیوں سے دھیرے دھیرے اُترتی بادلوں سے ڈھکی ایک اُداس شام تھی۔زندگی  سے اپنے لیے ذرا سا
 وقت چُراتے ہوئے  وہ اپنے  کالج کی پرانی دوست کے ساتھ ایک لونگ ڈرائیو  پرتھی ۔ 26دسمبر 1994 کے اُس سرد دن  وقت تھا اورنہ  ہی موقع کہ شام کو ایک شادی کی تقریب میں بھی جانا تھا،پرجب دوست نے آواز دی تو رہ نہ سکی ۔گاڑی میں بس وہ دو تھےاور ڈھیروں ان کہی باتیں۔ لانگ ڈرائیو اوروہ بھی اس خوبصورت شام سب کچھ گویا ایک خواب سا تھا۔
رشتوں کے لیے ہم ساری زندگی بھی دے دیں اُن کی طلب پوری نہیں پڑتی اورنہ ہی ہمارا سفر۔ بس ایک دائرے میں دیوانہ وارگرو وپیش سے بےخبرچکر کاٹتے چلے جاتے ہیں جبکہ دوست کے ساتھ ہم چند پل بھی گزارلیں تو جدائی اوراُداسی کے ملبوس میں لپٹے یہ گلاب لمحے تا زندگی مہک دیتے ہیں،دوست خواہ دل میں رہتا ہو یا دُنیا کے دوسرے حصے میں خوشبو کی لکیر ہمیشہ درمیان میں کھنچی رہتی ہے۔اس شام پتہ نہیں کیا کیا باتیں ہوئیں اورکہاں گئے۔ یاد ہے تو بس اتنا کہ "سپر مارکیٹ"میں ایک بڑی کتابوں کی دُکان میں تھےاورجانے کیا تلاش کرتے تھے،سپر مارکیٹ کا خاص "کاٹج چیز" جو کیلے کے پتوں پرملتا ہے،کھایا  اورگہرے ہوتے اندھیرے میں گھر واپس آ گئے۔کون جانتا تھا یہ خوبصورت شام یادوں میں ہمیشہ گہری اُداسی لے کرطلوع ہو گی کہ جب رات کو شادی کی تقریب میں پتہ چلا کہ"خوشبو" کی شاعرہ آج ہم سے ہمیشہ کے لیے بچھڑ گئی ۔آنے والے مہمانوں میں"نورین طلعت عروبہ" بھی تھیں جو شاید اُس کے آخری سفر پرروانہ ہونے سے پہلے اُس سے مل کرآئی تھیں۔پروین شاکر کے لفظ سے قربت اگر  کچی عمر کی پہلی محبت تھی تو  اسلام آباد میں ہونے والے مشاعروں میں اُس دل پذیر شاعرہ کی جھلک گویا خوابوں کی مجسم تصویر اور پھر بھوری ڈائری میں اُس  کومل شاعرہ کے  دستخط اور اس کے ہاتھ سے لکھا گیا اس کا شعر ہمیشہ کے لیے ایک قیمتی یاد بن کر محفوظ ہو گیا تھا۔ اس  رات  یوں لگا جیسے کوئی  تتلی پل میں چھب  دکھلا کر نظروں سے ہمیشہ کے لیے اوجھل ہوگئی ہو۔غرض کہ وہ دن جو خواب اورخوشی کے انوکھے ملاپ سے شروع ہوا تھا دل گرفتگی اوردُکھ کے ان کہے احساس پراختتام پذیر ہوا۔
آندھی کی زد میں آئے پھول کی طرح "
میں ٹکڑے ٹکڑے ہو کے فضا میں بکھر گئی" ۔۔۔ پروین شاکراپنی آخری سانس کی کہانی بھی خود لکھ گئی۔
پروین شاکر کے بعد بس یوں لگا کہ "خوشبو" کے جانے سے خوشبو کا احساس ہی کھو گیا اورپھرشاعری کے حوالے سےکسی اوردرجانے کی خواہش ہی پیدا نہ ہوئی۔
خواب دیکھنے والی آنکھ اورخوابوں میں رہنے والا ہرمکین "خوشبو" کی سفیر کی قربت کے بھرپوراحساس سے واقف ہی نہیں بلکہ اُسے کبھی فراموش نہیں کرسکتا۔ لیکن اُس دورمیں پروین شاکر کے لفظوں سے شناسائی تو ہوئی لیکن آشنائی کی لذت نہ مل سکی کہ "خوشبو" لمس کی ترجمان تھی ۔ پروین شاکر نے چاہنے اورچاہے جانے کے احساس کو لفظ میں پرویا تھا اوروہ لڑکی ابھی لمس سے کوسوں دورصرف خیال وخواب کے رستے میں تھی۔ خوشبو اپنی جگہ آپ بناتی ہے۔اُس سمے اُس نے اپنی جگہ توڈھونڈ لی تھی لیکن مہک کا احساس برسوں بعد اپنی زندگی کے رنگوں میں تصویر کشی کرتے ہوئے جاگا تو پھر یوں لگا کہ جیسے"خوشبو" تو صرف اُس کے لیے ہی لکھی گئی تھی اور"خوشبو" کے لفظ لفظ میں اُس کا اپنا وجود بولتا تھا۔ بلاشبہ یہ پروین شاکر کا اعجاز تھا کہ' ستمبر'76' میں محض 24 سال کی عمرمیں جب "خوشبو" کا دیباچہ لکھا تو اُس نے وہ سب کہہ دیا جو برسوں کی مسافت کے بعد جسم وجاں پروارد ہوتا ہے۔ اُس نے اپنی"خوشبو" کے دیباچے میں یہ راز افشا بھی کر دیا اوراُس سے بڑھ کر کسی نے کبھی اپنے آپ کا جائزہ اتنے بھرپوراندازمیں نہیں لیا ہو گا۔ چار سال بعد  1980 میں آنے والی  "صد برگ" کےانتظار سے،1985 کی"خود کلامی" کی لذت اورپھر1990"انکار"میں بغاوت سے لے کر اُس نے"ماہ ِتمام" میں سب کہہ کرگویا اپنی زندگی کا نوحہ خود ہی مکمل کر دیا۔ یہ اُس شاعرہ کاوجدان تھا کہ "خوشبو" ہی اُس کی ساری زندگی کا حاصل اورنچوڑٹھہری ۔آغازِسفر سےاختتام ِسفر تک کا احساس"خوشبو" میں ہرسو بکھرا ملتا ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے"خوشبو"جب صفحۂ قرطاس پراُبھری اُس وقت ہرانسان کی طرح پروین شاکر کو بھی اپنے مستقبل کا ذرہ برابرادراک نہ تھا۔ "خوشبو" کی پہلی غزل صفحہ 35 سے  "خوشبو" کی آخری غزل صفحہ 356 تک اس کی زندگی کہانی کا لمحہ بہ لمحہ عکس ملتا ہے۔ 
 برسوں پہلے "پروین شاکر" کے ہاتھ سے لکھے لفظ عظیم شاعرہ کی خوشبو کی قربت کا احساس دلاتے ہیں۔



"پروین شاکر کی یادیں اوراس کی باتیں "
ان کی ایک عادت یہ تھی کہ وہ کسی بھی محفل میں اپنے جوتے اتار دیا کرتیں اور ننگے پیر پھرا کرتیں ،واپسی پر اکثر ہی جوتے گم ہو جایا کرتے اور انہیں ننگے پیر گھر آنا پڑتا،وہ گاڑی بھی جوتا اتار کر چلایا کرتیں،ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ وہ اسلام آباد کی جناح سپر مارکیٹ میں جوتوں کی دکان کے سامنے گاڑی روکے زورزور سے ہارن بجا رہی تھیں ، شاپ سے سیلزمین باہر آیا تو پتا چلا کہ پروین شاکر ہیں اور ننگے پیر ہیں انہیں جوتا چاہیے،اصل میں وہ کسی تقریب میں اپنا جوتا کھو بیٹھی تھیں اور اب جہاں جانا تھا وہاں بغیر جوتے کے جا نہیں سکتی تھیں۔ ان کے سفر میں جوتے کبھی آڑے نہیں آئے۔ کوئی چیز ان کی راہ میں حائل نہیں ہوئی۔
نہ جانے وہ کیا سوچتا ہو گا کہ گیارہ برس کے ساتھ ( 1976۔۔۔1987) میں کون خوش قسمت رہا اورکون بدقسمت، کس نے
کیا کھویا اور کس نے کیا پایا۔ ہم سفر " ڈاکٹر نصیر علی " کے ساتھ ۔۔۔۔
بیٹے 'مراد علی (1978) 'کے ساتھ
"اللہ پاک پروین شاکر کی ابدی دنیا کی منزلیں آسان کرے "
" پروین شاکر کی اپنی پسندیدہ غزل "
یارب! مرے سکوت کو نغمہ سرائی دے
زخمِ ہُنر کو حوصلہ لب کشائی دے
لہجے کو جُوئے آب کی وہ نے نوائی دے
دُنیا کو حرف حرف کا بہنا سنائی دے
رگ رگ میں اُس کا لمس اُترتا دکھائی دے
جو کیفیت بھی جسم کو دے ،انتہائی دے
شہرِ سخن سے رُوح کو وہ آشنائی دے
آنکھیں بھی بند رکھوں تو رستہ سجھائی دے
تخیلِ ماہتاب ہو، اظہارِ آئینہ
آنکھوں کو لفظ لفظ کا چہرہ دکھائی دے
دل کو لہو کروں تو کوئی نقش بن سکے
تو مجھ کو کربِ ذات کی سچی کمائی دے
دُکھ کے سفر میں منزلِ نایافت کُچھ نہ ہو
زخمِ جگر سے زخمِ ہُنر تک رسائی دے
میں عشق کائنات میں زنجیر ہو سکوں
مجھ کو حصارِ ذات کے شہر سے رہائی دے
پہروں کی تشنگی پہ بھی ثابت قدم رہوں
دشتِ بلا میں، رُوح مجھے کربلائی دے
"آخری ٹی وی مشاعرے ( پی ٹی وی) میں پروین شاکر نے یہ دو غزلیں پڑھیں"
٭بخت سے کوئی شکایت ہے نہ افلاک سے ہے
یہی کیا کم ہے کہ نسبت مجھے ،اس خاک سے ہے
خواب میں بھی تجھے بھولوں تو روا رکھ مجھ سے
وہ رویہ جو ہوا کا خس و خاشاک سے ہے
بزم انجم میں قبا خاک کی پہنی میں نے
اور میری ساری فضیلت اسی خاک سے ہے
اتنی روشن ہے تیری صبح کہ ہوتا ہے گماں
یہ اجالا تو کسی دیدہ نمناک سے ہے
ہاتھ تو کاٹ دیئے کوزہ گروں کے ہم نے
معجزے کی وہی امید مگر چاک سے ہے 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
٭بابِ حیرت سے مجھے اِذنِ سفر ہونے کو ہے
تہنیت اَے دِل کہ اَب دیوار دَر ہونے کو ہے
کھول دیں زنجیرِ دَر حوض کو خالی کریں
زندگی کے باغ میں اب سہ پہر ہونے کو ہے
موت کی آہٹ سنائی دے رہی ہے دِل میں کیوں
کیا محّبت سے بہت خالی یہ گھر ہونے کو ہے
گردِ راہ بن کر کوئی حاصل سفر کا ہو گیا
خاک میں مل کر کوئی لعل و گہر ہونے کو ہے
اک چمک سی تو نظر آئی ہے اپنی خاک میں
مجھ پہ بھی شاید توجہ کی نظر ہونے کو ہے
گمشُدہ بستی مسافر لوٹ کر آتے نہیں
معجزہ ایسا مگر بارِ دگر ہونے کو ہے
رونقِ بازار محفل کم نہیں ہے آج بھی
سانحہ اس شہر میں کوئی مگر ہونے کو ہے
گھر کا سارا راستہ اس سر خوشی میں کٹ گیا
اس سے اگلے موڑ کوئی ہمسفر ہونے کو ہے
یہ خوبصورت غزل پروین شاکر کی اپنی آواز میں درج ذیل لنک میں ملاحظہ فرمائیں۔
"خوشبو کی پہلی غزل صفحہ 35"
کھلی آنکھوں میں سپنا جھانکتا ہے
وہ سویا ہے کہ کچھ کچھ جاگتا ہے
تیری چاہت کے بھیگے جنگلوں میں
میرا تن، مور بن کرنا جانتا ہے
مجھے ہر کیفیت میں کیوں نہ سمجھے
وہ میرے سب حوالے جانتا ہے
میں اس کی دسترس میں ہوں، مگر وہ
مجھے میری رضا سے مانگتا ہے
کسی کے دھیان میں ڈوبا ہوا دل
بہانے سے مجھے بھی ٹالتا ہے
سڑک کو چھوڑ کر چلنا پڑے گا
کہ میرے گھر کا کچا راستہ ہے
خوشبو " کی آخری غزل صفحہ 356"۔۔۔ پروین شاکر نے چوبیس سال کی عمر میں اپنی پہلی کتاب کی آخری غزل میں اپنی زندگی کے ماہ تمام کا عکس رقم کر دیا تھا۔
کیا ذکرِ برگ وبار ، یہاں پیڑ ہل چُکا
اب آئے چارہ ساز کہ جب زہر کِھل چُکا
جب سوزنِ ہوا میں پرویا ہو تارِ خوں
اے چشمِ انتظار ! ترا زخم سِل چُکا
آنکھوں پہ آج چاند نے افشاں چُنی تو کیا
تارہ سا ایک خواب تو مٹی میں مِل چُکا
آئے ہوائے زرد کہ طوفان برف کا
مٹّی کی گود کرکے ہری ، پُھول کھِل چُکا
بارش نے ریشے ریشے میں رَس بھردیا ہے اور
خوش ہے کہ یوں حسابِ کرم ہائے گِل چُکا
چُھوکر ہی آئیں منزلِ اُمید ہاتھ سے
کیا راستے سے لَوٹنا ، جب پاؤں چِھل چُکا
اُس وقت بھی خاموش رہی چشم پوش رات
جب آخری رفیق بھی دُشمن سے مِل چُکا

سوموار, نومبر 18, 2013

"وظیفہ "

"ایک خط جو کبھی پوسٹ نہیں ہوا اوراب گیارہ برس بعد پہلی بار "شائع" ہو رہا ہے"
! پیاری دوست
 بانو قدسیہ نے ایک وظیفہ آپ کو بتایا جس کے پڑھنے سے آپ کے اندرکی آگ بُجھ گئی،آپ کو قرار آ گیا۔زندگی گزارنے کا ایک وظیفہ مجھے آپ کی ذات میں ملا کہ جسے محسوس کرکے ہی میری برسوں پرانی دہکتی آگ ٹھنڈک بن گئی۔یہ ایسا وظیفہ ہے جسے میں نے چھوا نہیں اورپڑھنے کی تو نوبت ہی نہیں آئی۔یہ بیش قیمت جُزدان میں لپٹی ایسی کتاب ہے کہ جس کے پانے کے تصور نے ہی مجھے مدہوش کر دیا ہے۔
 میں جذباتی ہرگزنہیں۔دل سے محسوس کرتی ہوں لیکن دماغ کی بات کو اوّلیت دیتی ہوں۔آج تک میرا کوئی ایسا رویہ کوئی ایسا جذبہ نہیں جس کی میرے پاس دلیل نہ ہو۔ ہرانسانی رویے کے پیچھے ایک ٹھوس جوازکہیں نہ کہیں پوشیدہ ضرور ہوتا ہے۔ دل کے اس احساس کو دماغ کے پاس قبول کرنے بھیجا تو اس نے ہرطرح چھان پھٹک کی ، بہت غور کیا کہ ایسا کیا ہوا؟ کیا بات دیکھی؟ کیا ملا؟ کہ میں مالا مال ہو گئی ۔ بہت غور کیا،بہت تلاش کی تومعلوم ہوا کہ آپ نے اپنی ذات کا ایک حصہ میرے نام کر دیا ہے۔اپنی ہر چیز میں ایک ایسی جگہ دے دی ہے جہاں میں دھونی رما کربدھ بھکشوؤں کی طرح بیٹھ گئی ہوں۔ یہ خیال یہ تصور جب میرے ذہن میں آیا تو یقین کریں (حالانکہ یہ لکھنا قطعاً بے معنی ہے کیونکہ یہ آپ کا یقین ہی ہے جس نے مجھے کہاں سے کہاں پہنچا دیا ہے) میں جسمانی طورپرکانپ سی گئی مجھے مسجد ِقرطبہ میں شہاب صاحب ۔۔۔ قدرت اللہ شہاب از شہاب نامہ یاد آ گئے۔ میری روح صدیوں سےعالم ِپرواز تھی اُسے آسمان کا سفر کرنے کے لیے زمین سے آغاز کرنا تھا۔ کہیں جگہ ہی نہ تھی،تھکن تھی کہ بڑھتی جا رہی تھی ۔ آپ کی ذات ایک ایسا کمرہ ہے جہاں صرف میں ہوں اور کوئی نہیں صرف آپ کی خوشبو ہے آپ خود بھی نہیں۔ میری آنکھیں بند ہیں روح آپ کی خوشبو کے ساتھ محو ِرقص ہے۔ جب آنکھیں کھولوں آپ کو موجود پاتی ہوں۔ دیکھنے سے تسکین ملتی ہے لیکن تشنگی بڑھ جاتی ہے۔ اس لیے میں گھبرا کر پھر آنکھیں بند کر لیتی ہوں اورآپ باہر سے تالا لگا کر چلی جاتی ہیں۔ یہ کیسا احسان ہے کہ جب بھی میں آنکھیں کھولنا چاہوں آپ سامنے آ جاتی ہیں چاہے کتنی ہی بےخبر کیوں نہ ہوں یا کہیں بھی چلی جائیں ۔
 آپ کو سب بتانے کا مقصد صرف اپنے محسوسا ت بیان کرنا ہے تعریف وتوصیف مراد نہیں ۔لوگ تو پتھروں،بتوں سے بھی فیض حاصل کرتے ہیں،قبروں،مزاروں پر بار بار بھی جاتے ہیں۔ بے جان چیزوں سے فلاح ،سکون مانگتے ہیں ۔ یہ شرک ہے،گناہ ِعظیم ہے۔ میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتی ۔ بس یہ سوچتی ہوں کہ دُنیا میں زندگی گزارنے کے لیے ہمیں کسی ساتھ کی ضرورت ہے کہانی آدم سے شروع ہوتی ہے۔ ہم کسی انسان کے بغیر دُنیا میں زندہ نہیں رہ سکتے۔ یہ بات میں نےسائنس کے خلاف کہہ دی ۔ زندہ رہنے کے لیے تو صرف روٹی ،پانی اور آکسیجن چاہیے نا۔ یہ درست ہے اورحقیقت بھی یہی ۔ ہزاروں بلکہ اربوں انسان اسی فارمولے کے تحت زندہ ہیں اورکامیاب بھی ہیں ۔ میں سوچتی ہوں اللہ نے انسان کو دو چیزوں کا مرکب بنایا ہے۔ایک جسم دوسری روح ۔ جسم تو سائنس کا تابع ہے لیکن روح کی کچھ اورطلب ہے دونوں الگ الگ راہ کے مسافر ہیں ۔ جسم کو اگر روٹی ،پانی ،آکسیجن نہ ملے تو مر جاتا ہے اوراگر روح کو وہ سب نہ ملے جو اُس کی خوراک ہے تو وہ مرتی تو نہیں لیکن بے قرار رہتی ہے۔ جسم کو اپنے حصے کی توانائی ضروردیتی ہے لیکن خود اپنے لیے کچھ نہیں مانگتی۔ بات تو اتنی طویل ہے کہ الفاظ ختم ہونے میں نہیں آرہے۔ قصہ مختصر یہ کہ میں نہیں چاہتی کہ آنکھیں کھولوں اورآپ کو بار بار اپنی زندگی کے قیمتی وقت کی خیرات دینی پڑے لیکن میرا دل چاہتا ہے(یہ بھی آپ نے حوصلہ دیا ہے کہ کچھ کہہ سکوں)کہ اس کمرے کو اپنے ہاتھوں سے چھو کر محسوس کروں،اس جنت ِارضی کو محسوس کروں جومجھے عرش پر لے گئی ہے جانتی ہوں جنت جنت ہوتی ہے اُس کے لیے ہمارا جاننا یا نہ ماننا بے معنی سی بات ہے۔ میں خواہشیں نہیں پالتی کہ اگر ہماری ہرخواہش دعا بن کر قبول ہو جائے تو شاید ہمارے حق میں اچھا نہ ہو۔
تمہاری نورین
اٹھارہ دسمبر 2002  
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
! دوست کا جواب 
بےحد پیاری نورین ۔۔۔۔
 جس سنگاسنگ پر تم مجھے بٹھا رہی ہو میں ہر گز ہر گز اس قابل نہیں ۔یہ صرف تمہارا حُسن ِظرف ہے کہ مجھے اس قابل سمجھا کہ"میں بھی 'کچھ' ہوں" ۔ لیکن میری درخواست ہے کہ اللہ تعالٰی نے جو حساس دل ودماغ تمہیں دے دئیے ہیں اور جس طرح تم خود 'تلاش' کے سفرپرہو۔اس کو رُکنے نہ دو۔ تم بہت خوش قسمت ہو کہ اپنے احساسات کو صفحے پر الفاظ کی صورت لکھ دیتی ہو،میں نے اس عمر تک یہ کوشش بارہا کی لیکن الفاظ ساتھ دے بھی دیتے ہیں مگر احساس ِجرات ساتھ نہیں دے پاتا۔ یہی وجہ ہے کہ گول مول طریقوں سے،ڈھکےچھپے الفاظ سے دل ودماغ ہلکا کرلیتی تھی یا ۔۔۔۔۔ ہوں ۔ بس میری شدید خواہش ہے کہ تم اپنی حساس طبیعت کے تحت اتنا اچھا لکھ لیتی ہو تو کیوں نہ اچھے افسانے لکھو تا کہ کسی طرح تمہیں آؤٹ پُٹ ملے۔ جذبات کا نکاس روح کو کافی حد تک ہلکا پھلکا کرڈالتا ہے۔ تم نے عمر کے اس دورمیں قدم رکھا ہے جہاں سے زندگی اب صحیح معنوں میں شروع ہوتی ہے۔اس سے پہلے کا دورتو امیچوراورپھر پچاس کے بعد کا دور ناطاقتی کا دورہو گا۔ اس گولڈن دورمیں جسمانی اور روحانی طاقتوں کو اپنی ذات کے اندر بیلنس کرو کہ تمہارے جیسے لوگ کم ہوتے ہیں ۔ اللہ تعالٰی تمہارے لیے آسانیاں عطا کرے اورکرے گا کیوں کہ تم دوسروں کو آسانیاں مہیا کر رہی ہو۔
تمہاری ہمدم وہمراز
بارہ جنوری۔2003

" ایک عورت ہزارداستان "

دُنیا کے بالا خانے میں قسمت کی دُکان سجائے خواہشوں کے ہارسنگھار کیے۔۔راہ چلتے  مرد کی دسترس سے دور لیکن اُس  کی نگاہ کے دائرے میں  گردش کرتا  عورت کا ایک ایسا  روپ  بھی ہے جو ہر رشتے،ہر احساس،ہر تعلق  میں کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی طرح اُسے اپنی اوقات یاد دلاتا رہتا ہے۔
وہ لفظ جو منہ پر کہہ دیا جائے تو گالی ۔۔۔برتا جائے تو چند گھڑیوں کی پھلجھڑی ،گناہ ِبےلذت۔۔۔
کسی بڑے لکھاری کے قلم سے لکھا جائے تو اُس کےدُنیا سے جانے کے بعد کلاسیک ورنہ اُس کے سامنے فحش،قابلِ تعزیر۔۔۔
عام عورت کی زبان سے ادا ہو تو بےباکی۔۔۔عام عورت کے قلم سے محسوس کیا جائےتو اندر کی گھٹن۔۔۔
سنجیدہ نویس کے لیے معاشرتی برائی۔۔۔صحافی کی تحقیق سے سمجھا جائے تو چسکہ۔۔۔
اُس خاص" عورت کے وجود سے جھلکے تو بےشرمی۔۔۔"
دُنیا دار کے احساس کو چھو جائے تو مال ِمفت دل ِبےرحم۔۔۔دین دار کے لیے مردار کی بُو سے بھی بدتر۔۔۔
جوان دولت مند کے لیے ہوس ،عیاشی۔۔۔عمررسیدہ دولت مند کے لیے خطرے کا سائرن۔۔۔
غریب کے لیے طلب تو جہاں دیدہ کے لیے ماضی کی یادیں۔۔۔
مُقتدر حلقوں کے لیے بہتی گنگا تو ایوان ِاقتدار کے کارپردازوں کے لیے ثقافت کی جاذب نظر پیکنگ۔۔۔
استحصال شدہ معاشرے میں مرد سے پڑھی لکھی عورت کا انتقام۔۔۔
جبر کی چکی میں پستی عورت کی مجبوری یا تقدیر کا ایک کریہہ وار۔۔۔
بدنصیب عورت کا نصیب خواہ وہ جنم جلی ہو یا کسی اورکے گلشن کی کلی۔۔۔
خاتون ِخانہ کے خواب وخیال سے بھی کوسوں دور تو شمع محفل کے شب وروز کی کہی ان کہی داستاں۔۔۔
سچی محبت کی تلاش میں ماری عورت کے لیے سراب ِصحرا۔۔۔جھوٹی محبتوں کاغازہ لگائےتونابینا کر دینے والی چکاچوند۔۔۔
۔"غلطی"سے ماں جیسے مقدس رشتے سے آشنا ہو جائے تو آنے والی نسل کے لیے کلنک کا ٹیکہ۔جان بوجھ کر اولاد کی متمنی ہو تو اپنی جیسی جنس کی طالب اوراگر من چاہی جنس جنم دے لے تو میلہ چراغاں ورنہ نرالا دستور کہ رہتی دُنیا تک بےننگ ونام۔۔۔
اپنے آپ کی صحیح بولی لگانے کا ہنر جان لے تو کامیاب ترین "کاروباری"عورت۔۔۔
توبہ کے پانی سے غسل کرے تو آسمان چھو لے،بھٹکے ہوؤں کے لیے سنگ ِمیل بن جائے،بڑے بڑوں کو پار لگا دے۔۔۔
خودآگہی کے احساس کی انتہا کو چھو لے تو ٹھنڈے کمرے میں آتش فشاں بھڑکا دے اور گرم کمرے میں جامد گلیشئیر بن کر زمانوں کے لیے 'ممی' کی صورت حنوط ہو جائے۔ ۔۔
کیا ہے یہ عورت ؟ کیوں ہے یہ عورت ؟ کون ہے یہ عورت ؟
یہ عورت کا کون سا روپ ہے کہ نہ چاہتے ہوئے نہ مانتے ہوئے ہر احساس میں کہیں نہ کہیں یوں چپکے سے درآتی ہے جیسے ہنستی بستی جنت میں شیطان سانپ کا روپ دھار کر داخل ہوا تھا اور پھر نہ بستی رہی نہ جنت ۔ گریہ ہی بچا تھا اور یا پھرسانپ جو آج تک کبھی خواب کبھی خیال میں آکر اُسی طرح چُپکے سے اس دُنیا سے بھی دربدر کرانے کی خو میں ہے۔
! آخری بات

عورت صرف عورت ہے اگر اُس کو اپنی پہچان کا علم عطا ہو جائے تو نسلیں سنور جاتی ہیں ورنہ بےخبری اور قناعت کی اعلیٰ ڈگریاں آراستہ پیراستہ محل ہی بنا سکتی ہیں اورعورت کا جسم اس شان وشوکت میں مٹی کی قبربن کر دوسروں کے لیے محبت وعقیدت کی چادریں چڑھانے کا سزاوارتو ہو سکتا ہے لیکن اپنے لیے وہ پیوند ِخاک ہی رہتی ہے۔

"سوال"

"دھوپ چھاؤں "
وہ سردیوں کی دھوپ تھی اور وہ برف کا آدمی ۔ عجیب تضاد تھا یہ بھی کہ دھوپ کے اندر گلیشئیر کی سی ٹھنڈک منجمد رہتی اور اُس برف چہرے کے اندر آتش فشاں دہکتا تھا ۔ قربت کے لمحوں میں کبھی دھوپ برف کو پگھلانے لگتی تو کبھی بھٹی کی تپش صدیوں کی جمی برف پر اپنے نقش چھوڑ دیتی۔ نہ چاہتے ہوئے نہ مانتے ہوئے بھی وہ ایک ڈور میں بندھ گئےوہ جس کے سرے ازل تا ابد پھیلے تھے پر نظر نہ آتے تھے۔جتنی شدّت سے آگے بڑھتے اُتنی ہی تیزی سے دُور ہونے لگتے ۔بےخبر! نہیں جانتے تھےکہ دھوپ ڈھل گئی تو اندر کی آگ برف پگھلا ڈالے گی اورپھرکچھ باقی نہ بچے گا نہ برف نہ تپش اور نہ وجود۔ اور گلیشئیر پر جب تک قدم نہ اُتریں اُس کو سہج سہج فتح نہ کیا جائے تو اُس کی دھوپ چاندنی سب رائیگاں ہے۔
وہ بہت سوال کرتا تھا اورباربار دہراتا تھا۔ جب جواب نہ ملتا تو خفا ہو جاتا۔ کبھی کہتا ٹال دیتی ہوں،کبھی کہتا کہ سمجھتی نہیں،کبھی کہتا تمہیں کب پروا ہے کسی کی.کبھی کہتا کہ خودغرض ہو بس اپنی کہتی رہتی ہو۔ جب بہت تھک جاتا تو خاموش ہو جاتا کچھ نہ کہتا نہ سوال نہ جواب بس ایک سرد گلیشئیر جس کے اندرآتش فشاں دہکتا تھا۔
اُسے کیسے بتاتی کہ یہ حاضر جوابی کا کھیل نہیں کہ دوسرے کو نیچا دکھانا مقصود ہو۔ یہ مقابلے کا امتحان بھی نہیں تھا کہ پاس ہو کر کسی بڑے عہدے کی طلب ہو اورپھر حسب ِخواہش تعیناتی کا ارمان بھی۔یہ انا کی جنگ بھی نہ تھی کہ کسی فریق کے ہارنے کا خوف ہو۔ وہ سارے جواب جانتی تھی جواب دیتی بھی تھی لیکن اُس کے سامنے نہیں اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نہیں بلکہ اُس کے ساتھ ،اُس کے پاس،اُسے محسوس کر کے آنکھیں بند کر کے سب کہہ دیتی اور وہ سُنے جاتا یوں جیسے کوئی رم جھم قطرہ قطرہ اُس کے تپتے صحرا میں جذب ہو رہی ہو۔ ساری تشنگی اپنے اندر سمیٹ رہی ہو۔ وہ پانے کی لذت میں سب بھلا دیتا۔ سوال جواب گلے شکوے۔ یکدم وقت گھڑی اُس کے اندرشورمچاتی سارے وجود کا احاطہ کر لیتی تو وہ فوم کا گڈا پھر پتھر بن جاتا۔ سوال جواب کے اس کھیل میں جانے کیوں وہ تھکنے لگی تھی۔وہ اسے سمجھا کر بھی نہ سمجھا پا رہی تھی کہ جب دوست کہہ دیا تو پھر کیسے سوال کہاں کے جواب۔۔۔دوست کو کسی امتحان میں نہ ڈالو،فیل ہو گیا تو وہ ہار جائے گا اور پاس ہو گیا تو تم ہار جاؤ گے۔

جمعہ, نومبر 15, 2013

" لاپتہ "

یہ  سچی  کہانی دو  ایسی بچیوں کی  داستانِ الم ہے جن میں کچھ بھی مشترک نہیں سوائے شناخت کی تلاش کے۔ایک  جسے کسی بدبخت  کینظر کھا گئی اور دوسری وہ جسے پیدائش کے چند گھنٹوں بعد ماں باپ نے اپنی رضا سے ہمیشہ کے لیے ایک ایسے انجان کے سپرد کر دیا جس سے انسانیت کے علاوہ اور کوئی رشتہ نہ تھا۔ 
 وہ ڈھائی سال کی ایک پیاری سی گول مٹول بچی تھی جسے جھیل کنارے اُمنڈتی گرد وغبارکی گھٹائیں نہ جانے کہاں سے کہاں لےگئیں۔وہ پہلی اولاد تھی ،نئے نئے بنے ماں باپ کی پہلی خوشی ۔۔۔ پہلا بچہ  پہلی محبت کی طرح ہوتا ہے جس کے اوّلین لمس کا احساس ساری زندگی ساتھ چلتا ہے۔جس کے ننھے جسم کی نرمی بڑے بڑوں کی کرختگی  جذب کر لیتی ہے تو اُس کی پہلی آواز، پہلا جملہ روح سرشار کر دیتا ہے۔
یہ جون2013 کے پہلے ہفتے کا ذکر ہے وہ اپنی لاڈلی کے ساتھ گھر سے دور لانگ ڈرائیو پرتھے۔ راستے میں خیال آیا کہ کیوں نہ آج راول جھیل کنارے کچھ وقت گزارا جائے۔ شادی کے آٹھ برس بعد اُن کے سُونے آنگن میں ایک ننھی پری کی چہکار سنائی دی تھی اوروہ پچھلے کئی سالوں کے ان کہے خدشات بھلا کراُس کی نازبرداریاں کرتے تھے۔
ابھی تو اس نے اٹک اٹک کر بولنا سیکھا تھا ۔۔۔ابھی تو وہ چھوٹے چھوٹے لفظوں کو جملوں میں تراشتی تھی ۔۔۔ابھی تو وہ اُڑتے پرندوں کو دیکھ کر انگلی سے اشارہ کرتی تھی ۔۔۔ ابھی تواس کی چھوٹی چھوٹی فرمائشیں اور ننھے ننھے نخرے شروع ہوئے تھے ۔۔۔ ابھی تو ماں باپ نے اُس کی شرارتوں پر ہلکا سا جھنجھلانا شروع کیا تھا ۔۔۔ ابھی تو وہ اُس کی معصومیت کے خمار سے نظر بچاتے اُسے اچھی باتیں یاد کراتے تھےاور رات  سونے سے پہلے اُس کے ٹوٹے پھوٹے لہجے میں دعائیں سن کر بےساختہ اپنے ساتھ لپٹانے کو لڑپڑتے۔اکثر ماں خود ہار مان لیتی باپ کی محبت دیکھ کر ۔۔۔۔
 باپ کی چاہت ہی ایسی ہوتی ہے بھرپور،مکمل ۔۔۔۔ یا شاید یہ مرد عورت کا رشتہ ہے اس کی کشش ہے جو روزِاول سے لکھ دی گئی ہے اسی لیے تو ماں کے وجود کا حصہ ہو کربھی بیٹی کو کبھی مکمل تسکین نہیں مل پاتی۔
ماں کے ساتھ عجیب محبت نفرت کا رشتہ ہوتا ہے۔ بیٹی کو ماں کی ممتا کاثبوت خود اپنے وجود سے ہٹ کرکبھی نہیں ملتا۔ ماں کے ساتھ جُڑی روک ٹوک ،ڈانٹ ڈپٹ اورمار پیٹ تک کی یادیں ایک بھیانک خواب کی صورت ماں کی حقیقت پر پردہ ڈالے رہتی ہیں۔ایک لڑکی خواہ  جتنا  بھی اپنی ماں سے محبت کے دعوے کرے، خود ماں بن کرماں کے جذبات کی گہرائیوں کو سمجھنے کا اعلان بھی کر دے لیکن  ماں کے سامنے دل میں اُس سے خفا خفا سی رہتی ہے کہ ماں اسے دُنیا کے سامنے سر اُٹھا کر چلنے کا اعتماد نہیں دیتی۔۔۔اُس کی ذات پر شک کرتی ہے۔
  ایک ماں اپنی  بیٹی کے اس احساس کوکبھی نہیں جھٹلاتی۔وہ جانتی ہے کہ لڑکیاں کانچ کے برتن سے بھی نازک ہوتی ہیں۔رویوں کے کھردرے لمس کا بال بھی اس شیشے میں خراش ڈال سکتا ہے۔ماں روکتی تو ہے پرچاہتی بھی ہےکہ بیٹی اپنا راستہ خود چُنے،آپ طے کرے کہ بند گلی کس سمت ہے۔ایک بچی ماں کے خواب کا عکس ہوتی ہے۔ ماں اپنے خواب کی حقیقت جانتی ہے لیکن پھر بھی اُس کا دل اپنے خواب کی سچی تعبیر کے لیے ہمکتا ہے۔ ماں کے ساتھ تخلیق کے درد کا رشتہ آخری سانس تک لاشعور میں لہروں کی صورت موجود رہتا ہے۔ اور باپ کے جسم کا ادھورا احساس ساری عمراپنے ملنے والے ہر رشتے میں محسوس ہوتا ہے چاہے وہ بھائی ہو،شوہر ہو،بیٹا ہو اوریا پھرکوئی اجنبی مہربان۔ 
 بات کہیں بہت دور چلی گئی ۔ خیر اُس روز جب وہ جھیل کے آس پاس خوش گپیاں کرتے لوگوں کو دیکھتے اسےاپنی زندگی کا حسین دن تصور کرتے تھے۔ نہیں جانتے تھے کہ یہ اُن کی زندگی کا بدترین دن ہو گا۔اس سمے اُٹھتی کالی آندھی ہمیشہ کے لیے اُن کی محبتوں کا باغ ویران کر دےگی ۔ اذان کی آواز رب کا بلاوا ہے کہ فلاح کی طرف آؤ اور عصر کا وقت تو ویسے بہت سے نافرمانوں کو سر جھکانے پر مجبور کر دیتا ہے۔اُس روز تقدیر اپنی چال چل رہی تھی ۔ماں بیٹی کو باپ کے حوالے کر کے وضو کرنے گئی اورعین اسی لمحے صورِاسرافیل کی صورت فون کی گھنٹی بجی۔یہ موبائل فون ایک عذاب ہے۔انسان خود کو کسی سُپر پاور کے صدر سے کم نہیں سمجھتا کہ گھنٹی بجتے ہی فوراً نہ اُٹھایا تو شاید حریف پہلے ایٹمی دھماکا نہ کر دے۔ ہم میں سے اکثر اسی خبط میں مبتلا ہیں کہ جانے دوسری طرف کس کا ضروری فون آیا ہے اور ستم یہ کہ کان سے لگاتے ہی دنیا مافیہا سے بےخبر ہو جاتے ہیں۔اُس روز بھی یہی ہوا نہ جانے کس کا فون تھا کتنی لمبی بات ہوئی ۔آنکھ اس وقت کھلی جب ماں نے واپس آ کر بیٹی کو نہ پایا ۔ باپ سے پوچھا تو اس نے پہلے تو بےنیازی سے کہا کہ میں سمجھا کہ تمہارے ساتھ چلی گئی ہے۔ اوراگلے ہی لمحے دونوں کے ہاتھوں سے طوطے اُڑ گئے۔
 عین اسی وقت سچ مچ کی آندھی چل پڑی اوردیکھتے ہی دیکھتے سب اپنی سواریوں میں بیٹھےاور بھاگنے لگے۔عجیب افراتفری کا عالم تھا ۔ شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے۔لوگ زندگی بچا کر خوشیوں کے دسترخوان لپیٹ کر بخیریت گھروں کو لوٹ رہے تھے اور یہ بدنصیب پاگلوں کی طرح ادھر ادھر بھاگتے راہ چلتوں کو روک کر اپنی جنت تلاش کر رہے تھے۔
کیسی شام ِغریباں تھی جو اُن بہتے پانیوں کے کربلا پراُتری تھی۔۔۔وہ کیسی وضو تھی کہ جس کی نماز نہیں تھی۔۔۔ وہ کیسی آواز تھی کہ جس نےآنگن سونا کر دیا تھا۔۔۔ وہ کیسی لاپرواہی تھی کہ جس نے اُسی شاخ پر ضرب لگائی جس پر تنکا تنکا آشیانہ بنا تھا۔۔۔ وہ کیسا گناہ تھا کہ جس کی ندامت میں دونوں ایک دوسرے سے آنکھیں نہیں ملا رہے تھے۔۔۔ وہ کیسی خلش تھی کہ جو آنے والی راتوں میں انہیں ایک دوسرے سے یوں ڈرا دیتی تھی کہ دل کی دھڑکن بھی کہیں ایک دوسرے کی سرگوشی نہ سن لے۔۔۔ وہ کیسی بددعا تھی جو اُن کے دل سے نکلتی تھی تو لبوں تک آتے آتے دعا کی صورت اُن کا جگر چیر دیتی تھی۔۔۔
وہ جس کی آمد کی نوید کے لیے آٹھ برس انتظار کیا اب جیسےجیسے دن گزرتے جا رہے تھے کبھی معجزے کی صورت واپسی کی اُمید رکھتے تو کبھی حقیقت تسلیم کرتے ہوئے اپنے آپ سے بچ کر اُس کی عزت کی موت کی دعا مانگتے۔اُس آنگن کی کلی کیا کھوئی کہ جب اُس کی خوشبو کو باہر تلاش کیا تو پتہ چلا کہ دُنیا کے گندے بازاروں میں کچی کلیوں کو کس طرح مسلا جاتا ہے۔ آٹھ برس کی جامد خاموشی کے بعد ابھی صرف ڈھائی سال ہی تو نازک جذبوں کی پھوار برسی تھی اوراب دونوں طرف سنی سنائی باتوں کے خوف اوربولتی تصویروں نے مل کر ایسا حبس طاری کر دیا تھا کہ ساتھ رہتے ہوئے بھی وہ کوسوں دور چلے گئے۔ وہ مرد تھا اس نےباہرپناہ ڈھونڈ لی۔ فکرِمعاش کا لبادہ اُوڑھ لیا۔آنکھوں میں تیرتی نمی چھپائےدُنیا کا سامنا کرتا تھا ۔ خالی کمروں اوراُجڑی گود کے ساتھ ماں نے اللہ سے لو لگا لی ۔ صبروشکراور تسلیم ورضا کی چنری پہن کراعتکاف میں بیٹھی ۔ نہ جانے مالک نے کیسے اُس کے دل کو تسکین بخشی ہو گی،ہم نہیں جان سکتے۔۔۔ لفظوں کی چاہے جتنی مرضی کاری گری دکھا دیں،مالک اور بندے کےدرمیان رازونیازکی خوشبو بھی نہیں پا سکتے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں فرشتوں کے بھی پرجلتے ہیں ہم توعام انسان ہیں۔
 ایک کہانی اگر سب کے سامنے اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں غم کی سیاہی سے لکھی جارہی تھی تو دوسری طرف ایک کہانی ایک ماں کی کوکھ میں بھی پروان چڑھ رہی تھی ۔ وہ ماں جس کی دو معصوم سی بیٹیاں تھیں اوراب پھر اُمید کے غنچے اس کی شاخوں پر کھلتے تھے۔
یہ اسی سال بڑی عید (اکتوبر2013) سے ایک دو روز پہلے کی بات ہےجب تین سو کلو میٹر کی دوری سے فون آیا کہ ابھی آؤ اور اپنی امانت لے جاؤ۔ یہ کیسا حساب تھا کیسی دوستی تھی کہ ایک ماں جس کی چھاتیوں میں ابھی تو بچے کی محبت کا رس بننا شروع ہی ہوا تھا ۔ ابھی تو وہ درد وتکلیف کے مرحلے سےبخیروعافیت سُرخرو ہو کر نیند کے انعام کی حقدار ٹھہری تھی ۔ابھی تو اس نے اپنے آپ کو تیار کرنا تھا کہ تیسری بیٹی پیدا ہونا کوئی جرم نہیں۔اللہ نے صحت کے ساتھ اپنی رحمت اُن کے گھر آنگن میں اتاری ہے۔ لیکن شاید اپنی دوست کے کرب کا احساس ہر احساس پرغالب آگیا اور اُس باپ پر بھی آفرین جس نے اپنی شریک ِحیات کی خواہش کو عبادت جان کر اپنا جگرگوشہ اُس لٹے پٹے جوڑے کے حوالے کر دیا جو اُسے اپنا کھویا ہوا خزانہ جان کر دامن میں سمیٹ کر لوٹ آئے۔
 اس سے آگے کچھ نہیں کہوں گی کہ تقدیر کے قلم کے آگے لفظوں کی بڑی سے بڑی فسوں کاری دم توڑ دیتی ہے۔ اللہ اس گھر کو آباد رکھے اور یکے بعد دیگرے آزمائشوں کے اس کھیل میں ثابت قدمی عطا فرمائے۔آمین۔
نومبر15 ،2013

سوموار, نومبر 11, 2013

"اُمتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم"

   "اُمتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم"
نبی کریم ﷺ کی اُمت دوسری تمام اُمتوں سے افضل ہے۔ سب سے 
افضل اُمتی وہ ہیں ۔۔۔۔۔ 
 جنہوں نے حضورﷺ کو دیکھا اورآپﷺ پرایمان لائے ،آپﷺ کی تصدیق کی ،آپﷺ سے بیعت کی ۔ آپﷺ کے ساتھ کُفار سے لڑے،آپﷺ کی عزت کی ،مدد کی ، اپنی جان اپنا مال آپﷺ کے لیے (راہ ِحق) میں صرف کردیا۔
ان سے بہتر 1400 ۔۔۔۔۔۔
 اس زمانہ کے لوگوں میں زیادہ افضل وہ ہیں جنہوں نے حُدیبیہ میں حضورﷺ کے دستِ مبارک پر بیعت کی جسے
بیعتِ رضوان کہتے ہیں۔ یہ چودہ سو افراد تھے۔
ان سے بہتر 313۔۔۔۔۔۔۔
اہلِ حُدیبیہ سے بہتر اصحاب ِبدر ہیں جن کی تعداد 313 تھی اور اصحاب ِطالوت کے برابر ہیں۔
ان سے بہتر 40 ۔۔۔۔۔۔۔
ان سے بہتردارِخیزران کے چالیس مرد ہیں جو حضرت عمررضی اللہ عنہ کے ساتھ اسلام لائے تھے۔
ان سے بہتر دس ۔۔۔۔۔۔۔
 ان سے افضل دس وہ ہیں جن کے بارے میں نبی کریمﷺ نے گواہی دی کہ یہ قطعی بہشتی ہیں۔ ان میں
حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ ۔۔۔۔۔ 
حضرت عمررضی اللہ عنہ ۔۔۔۔۔ 
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ ۔۔۔۔۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ ۔۔۔۔ 
حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ ۔۔۔۔
حضرت زبیر رضی اللہ عنہ ۔۔۔۔
حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ ۔۔۔۔۔
حضرت سعد رضی اللہ عنہ ۔۔۔۔۔
حضرت سعید رضی اللہ عنہ ۔۔۔۔۔
حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ ۔۔۔۔۔۔
ان سے بہتر چار ۔۔۔۔۔
چاروں خلفاء راشدین سب سے زیادہ نیکو کار اور افضل ہیں۔ مراتب کے لحاظ سے سب سے پہلے 
حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ
پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ
پھر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ
اور پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ آتے ہیں۔

جمعرات, نومبر 07, 2013

"منیلا میں چند روز "

منیلا۔۔۔۔ فلپائن
فرار سدا سے انسان کی جبلت ہے۔یہی فرار ہےجس نے انسان کو خُلد سے نکلوایا اوریہ جبلت ہی تو ہے جو بچے کو ماں کی کوکھ سے جلدازجلد باہر آنے کے لیے مجبور کرتی ہے۔سات سمندروں کا سفر کس کا خواب نہیں۔دُنیا میں پیدا ہونے والا تقریباً ہر شخص اپنے پاؤں میں پہیے لے کر پیدا ہوتا ہےاور ہمارے وطن میں تو ویسے ہی کچھ باقی نہیں سوائے ہمارے جسمانی وجود کے وہ بھی جو ہوا کی زد پہ ٹمٹماتے دیے کی مانند ہے۔مہنگائی سے لے کر کرپشن تک اور انفرادی سطح پر زیارتی سے اجتماعی طور پر ناانصافی تک،ماحول سے معاشرے تک کہیں بھی  تازہ ہوا میں سانس لینے کی  ذرا سی گنجائش نہیں۔یہ ہم سب کے دل کی آواز ہے اورثبوت کے طور پرآنکھیں جابجا اس کے نظارے دیکھتی ہیں۔
ایسی ہی پُکاراُس لڑکی کی بھی تھی جوبرسوں سے باہر کے کسی ملک جانے کی خواہش لیے بیٹھی تھی۔قسمت نے یاوری کی اوراللہ نے چاہا کہ اُسے اُس کے خواب کی اصلیت ایک بار تو دکھا دی۔خواب سے حقیقت تک کے اس سفر میں نہ صرف اس نے ایک نئی دنیا دریافت کی بلکہ اپنے وطن اوراس کی نعمتوں کا بھی ادراک ہوا۔
وہ  ایک کانونٹ اسکول کی  معلم تھی۔اس سال 2013 اگست میں کانونٹ کی تاریخ میں پہلی باراسلام آباد کی اپنی اساتذہ کے لیے فلپائن میں ایک گیارہ روزہ تعلیمی سیاحتی پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ جاتے وقت جانے والے اور لے جانے والے دونوں بہت پُرجوش تھے۔کانونٹ کی سسٹرز یہاں پاکستان میں اپنی اساتذہ کو بہت عزت دیتی ہیں اوراپنے ملک میں لے جانا وہاں کی ثقافت سے روشناس کرانا تو اُن کے لیے بہت ہی قابل ِفخر بات تھی۔روانگی سے لے کر واپسی تک کا سارا شیڈول جانے سے ایک ماہ پہلے ہاتھ میں تھما دیا گیا اور باقاعدہ لیکچر دے کر ہر بات کی وضاحت کی گئی۔
اساتذہ کا یہ گروپ جس میں ہر عمر کی خواتین تو تھیں لیکن اُن میں ایک قدر مشترک تھی اپنی مرضی سے اپنی دُنیا سے باہر آزاد فضا میں سانس لینے کی خوشی۔دس گیارہ گھنٹے کے سفر اور دو جہاز بدلنے کے بعد اپنے مقررہ مقام پر پہنچے تو رہائش سے لے کر کھانے تک نہایت عالیشان وی آئی پی ٹریٹمنٹ منتظر تھا۔ پاکستانی عورت خواہ وہ گھر پر کام کرے یا باہر کی ذمہ داریاں بھی نبٹائے وہ اتنےپروٹوکول کا کبھی خواب میں بھی تصور نہیں کر سکتی۔ یہ پہلا احساس تھا جس نے روح سرشار کر دی۔روح کی تسکین کے بعد جب پیٹ کی بھوک نے شور مچایا تو آنکھ نے انواع واقسام کے خوش رنگ کھانے میز پرسجے دیکھے ۔ یہ بھی جنت کا نظارہ تھا کہ ہم خواتین جو سب کو کھانا کھلا کر اور برتن سمیٹ کر آخرمیں دیگچیاں صاف کر کے اللہ کا شکر ادا کرتی ہیں۔ اپنے آپ کو معزز و محترم جانتے ہوئے دلپذیر دکھائی دیتی سجی نما روسٹ کی جانب ہاتھ بڑھایا تو ساتھ بیٹھی دوست نے آنکھ کا اشارہ کیا "حرام" ۔ بس پھر کیا تھا سوچنے والے بڑھتے ہاتھ رُک گئے اور لذت محسوس کرنے والوں کو عجیب سی ناگواری کا احساس ہوا ۔ مارے باندھے سفید چاول(خشکہ چاول) کھائے کہ یہ فلپائن تھا جہاں روٹی کا نام و نشان تک نہ تھا۔ تھوڑا بہت چکھ کر کمروں میں واپس آئے ہی تھے کہ سسٹر کی کال آئی "واپس آؤ برتن سمیٹو" یہ کیا انداز تھا ؟ پہلے بادشاہوں کی طرح کھانا کھلایا اور اب برتن اُٹھانے کا کہا جا رہا ہے۔ تھکے ہارے الٹے قدموں لوٹے تو دیکھا میز کے اطراف ایک کاؤنٹر تھا جس میں استعمال شدہ چمچے،پلیٹیں،بچا ہوا کھانا اور باقی بچ جانے والی چیزوں کے لیے الگ الگ خانے بنے تھے۔ طریقے سے اپنی ٹرے کو ان جگہوں پر خالی کیا اورآئندہ کا یہ پہلا سبق ذہن نشیں کر لیا۔آہستہ آہستہ پتہ چلا کہ یہ جنت تو تھی لیکن ہم پاکستانیوں کے لیے جیل جیسے قوانین لیے ہوئے۔ وقت کم تھا اور ہر کام پہلے سے طے تھا شروع شروع میں کچھ الجھن سی ہوئی کہ ہم پاکستانیوں کے پاس ایک آزادی کی دولت ہی تو ہے۔ لیکن پھر جلد ہی "بندے دے پتر" بن گئے۔ پیٹ گھڑی بہت باقاعدہ ہوتی ہے جب اس نے شور مچایا تو پتہ چلا کہ لال مرچ ، دہی ، روٹی اور تو اور چائے بھی اس جنت بےنظیر میں شجرِ ممنوعہ تھی ، چائے کی کمی کافی سے پوری کرنے کی کوشش کرتے رہے اوریا پھر" کیلا زندہ باد" ۔ 
یہ ایک تعلیمی دورہ تھا ہر روز تقریباً تین سکولوں میں جا کر وہاں کے سیکھنے سکھانے کے عمل کا جائزہ لینا تھا۔ زندگی میں پہلی بار اپنےمعلمی کے پیشے پر فخر محسوس ہوا جب ہر جگہ پُرتپاک استقبال کے ساتھ خوش آمدید کے طور پر خاص پروگرام بھی پیش کیے جاتے۔ چائے توپورے منیلا میں شجرِممنوعہ تھی ۔ کافی اور دوسرے مشروبات کے ساتھ کھانوں سے سجی میزیں خوش مزاج میزبانوں کی طرح استقبال کرتیں اورحلال حرام کے شش و پنج میں ہم میں سے اکثر پھلوں پر گزارا کرتے۔ اور پھل بھی تو قسم قسم کے تھےایسے جو ہم نے اپنے یہاں صرف کتابوں میں ہی دیکھے تھے۔ صرف میز پر جانے کی دیر ہوتی ہماری پسند پوچھ کر بہت اہتمام سے کاٹ کر پیش کیے جاتے۔ ایک بار تھکن سے بےحال جب متلی کی سی کیفیت پیدا ہوئی تو تازہ ہوا کی خاطر باہر جا بیٹھی ۔ سسٹرکو جب ناسازئ طبع کا پتہ چلا تو فوراً ملحقہ ریسٹ روم میں لے گئیں ۔ وہاں نرسز نے اتنی چاہت سے دیکھ بھال کی ،نرم نرم ہاتھوں سے مساج کیا ،نہایت احتیاط سے جوتے اتارے۔ اتنی محبت اتنی توجہ تو کبھی اپنوں سے بھی نہ ملی تھی۔ہمارے ہاں تو جب تک بندہ گر نہ جائے اُسے بیمار نہیں جانا جاتا اور سر درد تو محض ایک چونچلہ ہی سمجھا جاتا ہے۔
ایک اولڈ ہاؤس بھی گئے جو مدر ہاؤس تھا ۔ یہاں مدرز نے بہت پیار سے خوش آمدید کہا۔ ہم سے باتوں کے دوران ہماری اردو کے لفظ "خوش آمدید ،شکریہ اور اللہ حافظ " لمحوں میں یاد کر لیے ۔ ہر مدر اپنے کاموں میں مصروف تھی اور بہت فخر سے اپنے بارے میں بتاتی تھیں ۔ ہر چیز کی فراوانی اپنی جگہ لیکن تنہائی کا آسیب اس پُررونق مدر ہاؤس میں پوری شان سے براجمان تھا ۔ واپسی پر مدرز "تھوڑی سی اور بات کر لیں ذرا دیر اور رک جائیں" کہتی بہت دُکھی کر گئیں ۔ وسیع وعریض شاپنگ مالز میں گھومنا پھرنا اور پھر کھو جانا زندگی کا ایک نہ بھولنے والا تجربہ تھا۔ ہم نے بہت شوق سے جینز رکھیں کہ باہر جا کر بنا کسی روک ٹوک کے اپنی مرضی سے جو چاہے وہ پہنیں گے لیکن پھر یہ ہوا کہ جب پُرہجوم مالزمیں سب ایک دوسرے کو ڈھونڈتے اور دیار ِغیر میں کھو جانے کے خوف سے بوکھلانے لگے تو طے یہ پایا کہ اپنا لباس اپنا حجاب پہنا جائے تاکہ دور سے ایک دوسرے کو پہچانا جاسکے۔ وہ شناخت جو اپنے وطن میں بنیاد پرستی دکھائی دیتی تھی اب انسانوں کے سمندر میں نعمت بن گئی اورتو اور آس پاس گزرنے والے رک کر پوچھتے" انڈین" ،ہم کہتے نہیں! پاکستانی ۔ وہاں بھکاری اور بھیک کا تصور نہ تھا اور نہ سامان کی چوری کا خطرہ لیکن ہمیں خبردار کیا گیا کہ اپنے پرس کی حفاظت کریں ،غیر ملکیوں کے بیگ اورپیسے لوٹنا یا چھیننا جسے انگریزی زبان میں سنیچنگ کہتے ہیں عام ہے اور ایسا ہوا بھی ہماری ایک ساتھی کے پرس سے پیسے غائب ہو گئے اوراسے پتہ بھی نہیں چلا ۔
!ایک نیا تجربہ !! سسٹر کا آبائی گھر 
یہ منیلا سے نو گھنٹے کی زمینی مسافت پر تھا ، سسٹر نے ذاتی خرچ پر بذریعہ ہوائی جہاز اپنے گھر والوں سے ملوانے کا اہتمام کیا۔ منیلا میں بیرونِ ِملک پروازوں کے لیے الگ اور لوکل آنے جانے کے لیے علیحٰدہ ہوائی اڈے موجود تھے۔ سسٹر خود بھی کئی سال بعد اپنے گھر گئی تھیں ۔( سسٹرز کون ہوتی ہیں ؟ جیسے مسلمانوں میں ہمارے گھر کا کوئی ایک بچہ مدرسے چلا جاتا ہے دینی تعلیم حاصل کرتا ہے اور پھر دین کے لیے اپنے آپ کو وقف کر دیتا ہے بالکل اسی طرح عیسائیت میں بھی ہوتا ہے۔ ہمارے یہاں تو دین اور دنیا میں ایک توازن رکھا جاتا ہے لیکن عیسائیت میں دینی تعلیم کے بعد دنیا سے رابطہ فقط کبھی کبھار اپنے گھر والوں سے چند روز ملنے تک کا ہی ہوتا ہے۔ شادی شدہ زندگی اور عام پہناوا یہاں تک کہ لوگوں کے ساتھ زیادہ ہنسنا بولنا بھی ممنوع ہوتا ہے۔ کم عمر لڑکیاں ایک مخصوص لباس کے ساتھ سب کے سامنے سنجیدگی اور بردباری کا لبادہ بھی اوڑھ لیتی ہیں۔ان کی معاشرتی زندگی کانونٹ  تک ہی محدودہوتی ہے جہاں وہ اپنی مرضی سے جو چاہیں کر سکتی ہیں ۔) سسٹر کے گھر بہت زیادہ عزت اور محبت ملی ۔ سسٹر نے اپنے گھر میں اپنی والدہ کے ہاتھ سے بنے خاص کھانے کھلائے جن میں دنیا میں پائی جانے والی سب سے چھوٹی مچھلی ( سیناراپان )کی ایک مہنگی ڈش بھی تھی ۔ لیکن باقی کھانوں میں وہی حلال کھانے کا مسئلہ۔ اب احساس ہوا کہ جس طرح دنیا گول ہے اسی طرح ہر جذبہ بھی گول ہے، ہم محبت کو روٹی پر ترجیح دیتے ہیں۔ محبت کے خواہش مند ہوں محبت مل جائے تو عزت کی چاہ کرتے ہیں ،عزت مل جائے تو پھربات دوبارہ روٹی پرآ کر ختم ہو جاتی ہے۔خیرہم نے سسٹر کے کچن گارڈن سے نہایت چھوٹے سائزکی ڈھیروں ہری مرچیں توڑیں اورخوب مزے سے خشکہ چاولوں کے ساتھ کھائیں اور گھر والے کبھی ہمیں کبھی اپنے پُراہتمام کھانوں کو دیکھتے تھے۔
!!واپسی 
پی آئی اے کی رات کی فلائیٹ سے پہنچنےاوراگلی صبح دس بارہ روز کے بعد روٹی کی شکل دیکھنے اورمیرے ہاتھوں کا گرماگرم پراٹھا کھاتے ہوئے یہ سب باتیں بہن کا بے ساختہ اظہار تھا جسے میں نے اسی لمحے لکھ لیا،اسی لیے جب اس پورے آرٹیکل کا جائزہ لیا تو کھانا ہی سب سے بڑا موضوع دکھائی دیا اوراُسوقت بھی جب بہن نے بتایا کہ وہاں مٹی یا گرد کا نام و نشان نہ تھا تو میں نے یہی کہا تھا... ......"مٹی پاؤ تےروٹی کھاؤ"۔
کہانیاں کہنے سننے کے بعد اصل مرحلہ سوٹ کیس کھلنے کا بھی آیا۔ یہ ہماری فطرت ہے کہ محبت خلوص اپنی جگہ پر باہر سے آنے والوں کے سامان کا بھی بڑے ذوق وشوق سے جائزہ لیا جاتا ہے،لالچ کی بات نہیں بس ایک تجسّس سا ہوتا ہے ورنہ ہمارے ملک میں دُنیا کی ہر چیز وافر موجود ہے اورہماری پاکستانی ذہنیت جب کسی شے کی قیمت کو اپنی کرنسی میں تبدیل کرتی ہے تو کوئی خاص فرق نہیں لیکن ہر ملک کی خاص ثقافت اوراُس کی پہچان ہوتی ہے جو اس کی عام استعمال کی چیزوں میں نظر آتی ہے اور پھر یہ تو ایک طرح سے سرکاری دورہ تھا اس لیے سسٹرز نے اپنے ملک کے تحائف (سوونئیر) دے کر رُخصت کیا اورہم بھی بہت سی جگہ شاپنگ کرتے ہوئے جو مناسب لگا بھاگ دوڑ میں لیتے گئے۔ یہاں اپنی اس کمزوری کا بھی پتہ چلا جو ونڈو شاپنگ کہلاتی ہے۔اپنے ملک میں تو وقت بھی اپنا ہوتا ہے اور جگہیں بھی اپنی ۔ پہلے کئی جگہ سے تسلی کر کے پھر ہی کوئی چیز خریدتے ہیں لیکن یہاں جس جگہ ایک بار ہو آئے پھر دوبارہ وہاں جانے کا نہ موقع ملا اور نہ ہی وقت نے اجازت دی ۔ گھر آکر جب جائزہ لیا تو بہت سی چیزیں ہمارے ہاں کے مقابلے میں سستی لگیں ،اسی طرح بہت سی ایسی تھیں جو یہاں بھی مل سکتی تھیں ۔
منیلا کو مشرق کا موتی (اورینٹ آف دی ایسٹ) بھی کہا جاتا ہےاوروہاں کی خاص سوغات "سچے موتی" ہیں۔ خواتین اور زیور لازم وملزوم ہیں ۔ منیلا کے موتی بازارمیں جا کر ہماری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں ۔ بالکل اصلی سچے موتی جو دو طرح کے تھے۔ فریش واٹر اور میرین واٹر،اول الذکر ذرا کم قیمت کے تھے ، لیکن اپنی کرنسی میں دیکھا تو بہت سستے لگے جیسے وہاں کے سو پیسو کی چیز ہمارے دوسو پاکستانی روپوں کے برابر تھی موتیوں سےلدی پھندی دکانیں ہمارے بڑھتے قدم روکتی تھیں اور ہم چھوٹے بچوں کی طرح ان رنگ برنگ موتیوں کی دُنیا میں کھو جاتے تھے۔ واپس آ کر سب سے زیادہ افسوس یہی ہوا کہ اصلی خریداری تو کی ہی نہیں ۔ وہ سچے موتی جن کی ہم نے وقت پر قدرنہ کی اب رہ رہ کر یاد آتے تھے۔ یہی ہماری فطرت ہےاورالمیہ بھی یہی۔ سچے موتیوں کی وقت پرقدرنہ کی جائے تو وقت کے گہرے سمندروں میں سیپ میں بند چپ چاپ کہیں کھو جاتے ہیں۔
! آخری تاثر
خواب سے حقیقت تک کے اس سفر میں ہمیں نہ صرف اپنے بارے میں بلکہ دوسروں کے بارے میں بھی بہت کچھ جاننے کا موقع ملا۔ نوک جھونک ، جھنجلانا ،روٹھنا منانا اور پھر سب بھول کر گلے لگ جانا ہمارے اس سفر کی نہ بھولنےوالی یادیں ہیں۔ اور یہ بات سو فیصد سچ ہے کہ کسی انسان کی اصلیت اور اُس کے اندر کا اندر ہم کبھی بھی نہیں جان سکتے جب تک اس کے ساتھ رات نہ گزاریں یا سفر نہ کریں۔ اوراس سفر میں دن اگرخوشگوار حیرت کے مزے میں سب کے ساتھ گزرتے تھے۔ راتیں بھی پردیس میں تنہا کسی غیرمذہب کی مقدس جگہ میں گزارناعجیب تجربہ تھا۔ جہاں رات کےاندھیرے میں دیوار پرآویزاں اُن کی مقدس صلیب جگمگاتی اورپھر کھڑکیوں سے درختوں کو چھو کر آنے والی شائیں شائیں کی آوازیں ہمیں کسی دوست کے کمرے میں دستک دینے پر مجبور کرتیں۔ واپسی پر شاید سب کے دل کی آواز یہی تھی کہ ہم باہر سے جتنے بھی بدل جائیں اندر سے وہی خالص پاکستانی ہیں جن کی چھوٹی چھوٹی خوشیاں ہیں اورچھوٹے چھوٹےغم۔ جو لڑتے ہیں تو دل سے اورکسی پرمرتے ہیں تو بھی دل سے۔ ہمارا وطن جیسا بھی ہے ہمیں قبول ہےکہ ہم یہاں ایک نمبر شہری ہیں۔ 
" پاکستان زندہ باد "
! آخری بات
اُن اجنبی ،بےلوث مہربانوں کو سلام جن سے  ہم شاید زندگی میں پہلی اورآخری بار ملےاور اُن سے ہمارا کسی بھی قسم کا رشتہ نہ تھا  مذہب کا اورنہ زمین کا اور سب سے بڑھ کر نہ ہی مطلب کا۔ لیکن محض انسانیت کےناطے ہمیں اتنا کچھ دے گئے کہ اُس محبت کا لمس،اُن آنکھوں کی تازگی اوربےغرض خلوص کی مہک تازندگی ہمارے ساتھ رہے گی۔ اللہ پاک مشکل کی اس گھڑی میں جب اُس قوم پر سمندری طوفان "ہیان" کی بدولت کڑا وقت آیا ہے، رحم کرے اورثابت قدم رکھے۔
نومبر8، 2013 
تصاویر۔۔۔۔
سوونئیرز۔۔۔
سچے موتیوں سے بنے زیور۔۔۔
 visiting BRH
YUMMY ice cream 
visit to school
universal food
trip to Tagatay
our regional home
ready to go
Ocean park ,Mailing
cam sur beach                                          
 SMA Ligao Mayon volcano                                      
 
Cam sur beach
 
Desi touch

Mall of Asia
shopping and just shopping
real pearls really
amazing
 
shopping paradise
snow land



بدھ, نومبر 06, 2013

"ضبط لازم ہے مگر۔۔۔۔۔۔ "

گھر اورعورت لازم وملزوم ہیں۔ گھر کا تصورہو اورعورت ذہن میں نہ آئے یہ ناممکن سی بات ہے لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ عورت کا کوئی گھر نہیں ہوتا۔
پیدائش کی اولین ساعتوں سے لے کر سوچ کی بلوغت تک وہ جیسے ایک سرائے میں سانس لیتی ہے جہاں ہرقدم پھونک پھونک کر رکھنا پڑتا ہے یہ جانے بنا کہ اس کا اپنا وجود شیشے سے بھی زیادہ نازک ہے۔اُس کی سماعتوں پر نصیحت وتلقین کی مسلسل ژالہ باری کے ساتھ ساتھ ہوس،محبت،عشق کے سنگریزے بھی برستےجاتے ہیں۔دامن بچاتی،ردا سنبھالتی اورکبھی اپنے دل کی کہی ان کہی نظرانداز کرتی سفر طے کرتی ہے۔یہاں تک کہ وہ مرحلہ آن پہنچتا ہے کہ جب بڑے تزک واحتشام سے ایک گھر سے کسی دوسرے گھرسفرکرنا پڑتا ہے۔ سماعتوں میں گھنٹیاں گونجتی ہیں کہ وہ گھراپنا نہیں تھا لیکن یہ گھرتو اپنا ہے۔ بہت جلد سُروں کا خمار اُترتا ہے یوں کہ ابھی تو پاؤں تلے زمین ہی نہیں گھر کی باری بعد میں ہی کہیں آئے گی۔ رفتہ رفتہ سمجھ آتا ہے تو فقط اتنا کہ زندگی کی گاڑی میں دو پہیوں کا ذکر توسنتے آئے تھے پرتوازن کا پیمانہ معلوم ہی نہ تھا۔ اب پتہ چلا کہ   زندگی کے اس بندھن میں ہر دو میں سے ایک گونگا،بہرا اوراحمق بھی ہو پھر ہی گاڑی اپنی رفتار سے چلتی ہےاور یہ سبق صرف اپنی یاداشت میں تازہ رہے اوردوسرے کے سامنے اسے بار بار دہرانے کی  ضرورت ہے اورنہ اجازت لیکن عورت اگر کشادہ دلی سےاس بات کو قبول کرے اور وقتاً فوقتاً اس بات کا اقراربھی کرتی رہے تو پھرکیا کہنے۔
یہ اپنی زندگی گزارنےکا نسخہ ہے کوئی نہیں سوچتا کہ اپنی زندگی گزارنے سے بھی زیادہ اہم ایک نئی زندگی پروان چڑھانے کا عمل ہے۔اس پودے کی نشوونما کی کتھا ہےجس کی آبیاری قدرت نے ذمے لگائی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہےکہ معاشرے میں عورت کی اس طرح بےحرمتی خود ایک عورت سے بڑھ کر کوئی دوسرا شاید نہیں کرتا۔ ایک ماں کے روپ میں اپنی بیٹی کی تو کہیں ساس کے روپ میں کسی دوسرے کی بیٹی کی اور بہن ہوکر دوسری بہن کے احساسات نہ سمجھنے کی اورخود اپنے آپ اپنی ذات اپنے احساسات کونظرانداز کرنے کی۔ پہلا قدم ہمیشہ عورت ہی اُٹھاتی ہے کسی عورت کو حقیر جاننے میں، اپنے آپ کوتباہ کرنے میں، اپنی صلاحیتوں کو زنگ لگانے میں لیکن اس کی وجہ ہمیشہ مرد کا رویہ ہی ہوتا ہے جو کبھی باپ کبھی بھائی اورکبھی شوہر کے روپ میں اس کا استحصال کرتا ہے۔
یاد رہے استحصال کوئی جسمانی یا ذہنی تشدد ہرگزنہیں بلکہ وہ میٹھا زہر ہے جو سلو پوائزن کی طرح خون میں شامل ہوتا رہتا ہے۔ یہ صرف قدموں تلے زمین چھن جانے کا خوف ہے جو عورت کو سر اٹھانے سے روکتا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ عورت اس خوف سے نجات پا بھی جائے پھربھی دربدری اس کا مقدر ہے کہ یہ معاشرہ صرف مرد کا معاشرہ ہے جس میں عورت کا حق صرف کاغذوں پر ہی ملتا ہےاورکاغذ پربنے گھر بہتے پانی پرچلتی ناؤ سے زیادہ وقعت نہیں رکھتےاورکاغذ کے گھر سے باہر  در تو بہت  کھلے مل جاتے ہیں لیکن گھر کا خواب ایک خواب ہی رہتا ہے۔بجا کہ عورت کا کوئی گھر نہیں ہوتا۔۔۔ لیکن اپنی زبان اورعمل سے مکان کو گھر بنانے کی ذمہ داری سراسر عورت پرعائد ہوتی  ہے۔کوئی بھی نظام کتنا ہی ناقابلِ برداشت اور ناہموار کیوں نہ ہو اُس کو مان کر،اس میں رہ کر ہی اپنی گنجائش نکالی جا سکتی ہے،کسی حد تک اپنے مطابق ڈھالا جا سکتا ہے۔گھر میں رہتے ہوئے کتنی ہی مشکلات اور ناانصافیاں کیوں نہ ہوں انتظار کیا جائے تو سنوارنے کا موقع مل ہی جاتا ہے یا پھر برداشت کا ہنر ہاتھ آجاتا ہے۔گھر سے باہر نکل کر ہمدردی تو سمیٹی جا سکتی ہے،دکھوں کا مداوا بھی شاید ہوسکتا ہے لیکن گھر اور اس سے منسلک عزت  دوبارہ  کبھی نہیں مل سکتی۔
ایک مردہ عورت رہتی دُنیا تک نسلوں پر اپنےاثرات چھوڑنے والے  والے "دیوان" اور دم بخود کرنے والے یادوں کے "تاج محل"کبھی محسوس نہیں کر سکتی اور نہ ہی اُن کا قرض اُتار سکتی ہے۔لیکن!ایک زندہ عورت کو دل کے کسی کونے میں احساس کا ننھا سا دیا ہی نصیب ہو جائے تو وہ اپنی ساری زندگی اور مکمل خواہشات اتنی بےنیازی سے دان کر دیتی ہے کہ فنا کی لذت بقا کی خواہش پر حاوی آ جاتی ہے۔
!آخری بات
یہ پوسٹ مردوں کے خلاف ہرگزنہیں بلکہ مرد توعورت کی خاطر جان، مال اور یہاں تک کہ ایمان بھی داؤ پر لگا دیتا ہے۔ اس کے"دل" میں عورت کےلیے بےتحاشا جگہ ،بےحد احترام اور بلاشبہ ناقابلِ فراموش محبت کا سمندرموجزن رہتا ہے۔ عورت کی دیوی کے روپ میں پرستش سے لے کر ماں کی صورت اس کے قدموں میں جنت تلاش کرنے تک وہ ہمہ وقت قیام وسجود میں ہی رہتا ہے۔ یہ عورت کا مسئلہ ہے کہ وہ پتھر کے بت کی صورت نہیں بلکہ ایک عام انسان کی طرح اپنے وجود کا احساس چاہتی ہےاور مرد کا مسئلہ فقط یہ کہ وہ "دل" کی بات زبان پرکبھی نہیں لاتا۔ انا کےاس کھیل میں رسہ کشی چلتی رہتی ہے اورایک شاندار ازدواجی زندگی مثال بن جاتی ہے۔قصہ مختصر ایک کامیاب ازدواجی زندگی اُس شہد کی مانند ہے جس میں رویوں کے زہر کی نہایت چابک دستی سے آمیزش کی جاتی ہے،وہ زہر جو صرف پینے والے کو ہی نظر اتا ہے اور پلانے والاان جان ہوتا ہے اور یا پھر ان جان بننے کی کوشش کرتا ہے۔۔دیکھنے والے دیکھتی آنکھ پر بھروسہ کر کے فیصلے صادر کرتے ہیں،اس بات سے بےخبر کہ جس کی رگوں میں یہ قطرہ قطرہ"امرت" اُتر رہا ہے وہ اس کی اصل سے باخبر ہو کر بھی صرف"سقراط کہانی" کے لفظ اپنی مٹھی میں دبی تتلی کی صورت محفوظ کر کےاپنے رنگوں کی چمک اور خوشبو کی تازگی برقرار رکھنے کی سعیءمسلسل کیے جا رہا ہے۔جان کر بھی ان جان بنتے ہوئے کہ دیوار نہ سہی سایۂ دیوار تو سلامت ہے۔اور گردشِ سفر میں یہ آسرا بھی بہت ہے ورنہ منزل پر پہنچ کر کون کس کا آشنا۔

سوموار, نومبر 04, 2013

"کرب و بلا"

"کرب و بلا "
کربلا ایک پیغام ہے اس کو ڈی کوڈ کرو اور جان لو ۔
کرب وبلا ایک واقعہ نہیں ایک تسلسل ہے ،ایک ڈرامہ نہیں ایک سیریل ہے جس میں کردار بدلتے جاتے ہیں کہانی وہی چل رہی ہے۔
یاد کرنا اچھا ہے اگر بھلانے کے ڈر سے نہ کیا جائے۔
ہاتھ ملنا اچھا ہے اگر پیچھے رہ جانے پرکیا جائے ورنہ آگے بڑھنے والوں کی منزل کھوٹی نہیں کرنی ۔
ماتم جینز میں ہوتا ہے،ماحول اور اسباب بعد میں پیدا ہوتے ہیں۔
ماتم کچھ لوگوں کے نصیب میں لکھ دیا گیا ہے اورگریہ فطرت میں ۔
ماتم بہترین ہے اگر اپنی ذات کے کرب وبلا کو سامنے رکھ کر کیا جائے۔
ماتم اپنی کمزوری پرہو تو بہتر ہے۔
رونا گڑگڑانا رحمت ِخداوندی کے قرب کا ذریعہ ہے۔
آنسو اگر اندر کی طرف بہیں تواندرکی صفائی کرتے ہیں اورباہرآ جائیں تو ہرشے دھندلا دیتے ہیں ۔
ہم سارا سال روتے ہیں کبھی اپنے اندر تو کبھی سب کے سامنے ۔
ہر شخص شناخت چاہتا ہے چاہے وہ عزاداری سے ہو یا شکرگزاری سے۔
ہم جن سے محبت کرتے ہیں اُن کے قدموں کے نشان توچومتے ہیں لیکن ان پر چلنے سے ڈرتے ہیں۔
اپنے پیاروں کے جانے کا گریہ تو کرتے ہیں لیکن اُن کی زندگی کی خوشی نہیں مناتے۔
اُن کی کامیابی کا ذکر نہیں کرتے۔اُس راستے پر چل کر ابدی بقا کے طالب نہیں ہوتے۔
کربلا کیا ہے ؟ کرب و بلا ۔ ہم اس لفظ سے آگے نہیں بڑھتے یہ نہیں سوچتے کہ جن پر گزرا انہیں کیا ملا ۔
جسم کی حرمت بجا ہے لیکن اگر روح بےقرار ہو جائے تو صدیوں بھٹکتی رہتی ہے۔
کربلا اگر موت ہے،خون ہے رشتوں کا، اُن کی تقدیس کا ،عظمتِ انسانی کا تو یہ حیات بھی ہے انسانی عزم وحوصلے کی، راضی با رضا رہنے کی ، صبر کے پھل کی ،رب العالمین کی عطا کی ۔
محرم قیامت کا نام ہے اور قیامت نے ابھی آنا ہے۔ ہم مرنے سے پہلے مرنا نہیں چاہتے۔ محرم گزر جائے تو ڈھارس بندھ جاتی ہے کہ قیامت کا خطرہ ٹل گیا ۔
ہر انسان اپنے اپنے کرب و بلا میں ہے دیکھنا یہ ہے کہ وہ حسین بن کر نکلتا ہے یایزید بن کر ۔

ہفتہ, نومبر 02, 2013

"نسخہ"

  نسخہ ۔۔۔جاویدچودھری۔۔۔ 21 ستمبر2013
بابا جی نے تانبے کو سونا بنانے کا فن سیکھ لیا تھا اور ہم یہ فن جاننے کے لیے روز ان کے پاس بیٹھ جاتے تھے‘ کامران کی بارہ  دری کی دیواریں آہستہ آہستہ بھربھرا رہی تھی‘ پرندے دیواروں کا چونا چگنے کے لیے صبح سویرے بارہ دری پہنچ جاتے تھے اور رات تک اس اجڑے دیار کی گری چھتوں اور رکوع میں جھکی دیواروں پرپھرتے رہتے تھے‘ بابا رات کے وقت راوی کے اس سنسان ٹاپو پر آ تا تھا‘ وہ مشرق کے رخ بیٹھ کر آلتی پالتی مارتا تھا اور سورج کی پہلی کرن تک وہاں دم سادھ کر بیٹھا رہتا تھا‘ فجر کے وقت جوں ہی پرندوں کی چونچیں کھلتی تھیں‘ وہ ایک لمبا سانس لیتا تھا‘ ایک ٹانگ پر کھڑا ہوتا تھا‘ باز کی طرح دونوں بازو کھولتا تھا۔
دوسری ٹانگ سیدھی کر کے آہستہ آہستہ پیچھے کی طرف پھیلاتا تھا اور اڑتے ہوئے پرندے کے آسن میں کھڑا ہو جاتا تھا‘ وہ سورج چڑھنے تک اس آسن میں رہتے تھے اور اس کے بعد سیدھے ہوتے تھے اور چائے کا ایک بڑا مگ پیتے تھے‘ ہم ان کے سیدھے ہونے سے قبل ان کے لیے چائے بنا دیتے تھے‘ وہ چائے بھی نام کی چائے ہوتی تھی‘ بابا جی دو گھونٹ پانی میں دو گھونٹ دودھ اور چائے کے چار چمچ پسند کرتے تھے‘ وہ میٹھے سے نفرت کرتے تھے چنانچہ ہم ان کی چائے میں چینی نہیں ڈالتے تھے‘ وہ اس کے بعد اپنی پتیلی اٹھاتے‘ پانی میں اترتے اور شڑاپ شڑاپ کرتے ہوئے جنگل میں غائب ہو جاتے‘ ہم روز سوچتے بابا جی کیسے جانتے ہیں پانی کس کس جگہ کم ہے اور وہ چل کر دریا پار کر سکتے ہیں‘ ہم روز سوچتے تھے اور ہمیں اس کا جواب نہیں ملتا تھا‘ ہم کشتی کھولتے اور چپو چلا کر کنارے پر پہنچ جاتے‘ ہم بابا جی کے تین شاگرد تھے۔
شاگرد بھی ہم نے خود ہی طے کر لیا تھا‘ بابا جی نے ہمیں کبھی شاگرد نہیں مانا تھا بلکہ مجھے بعض اوقات محسوس ہوتا تھا وہ شاید ہمارے وجود ہی سے لاتعلق ہیں‘ وہ ہم سے دس دس دن بات نہیں کرتے تھے اور اگر کبھی بولنا ضروری ہوتا تھا تو ان کی بات چند لفظوں تک محدود ہوتی تھی‘ وہ سارا دن راوی کے جنگلوں میں غائب رہتے اور شام کے وقت اپنی گڈری اور میلی کچیلی پتیلی کے ساتھ کامران کی بارہ دری پہنچ جاتے ‘ ہم تینوں ان کے پہنچنے سے پہلے بارہ دری میں ہوتے تھے‘ بابا جی آتے‘ ہم پر ایک نگاہ ڈالتے‘ مشرق کے رخ بیٹھتے اور دم سادھ لیتے‘ مجھے بابا جی کا پتہ دھرم پورہ کے بابا جی نے دیا تھا‘ یہ ان کے شاگرد رہے تھے‘ میں انھیں ڈھونڈتا ڈھونڈتا کامران کی بارہ دری پہنچا اور میں نے انھیں پا لیا مگر وہ میرے وجود ہی سے لاتعلق تھے‘ بالکل ان دونوں شاگردوں کی طرح جو مجھ سے پہلے ان کے مرید ہوئے اور جنھیں بابا جی کی سیوا کرتے دو سال بیت چکے تھے۔
میں کہانی کو مختصر کرتا ہوں‘ بابا جی مدراس کے رہنے والے تھے‘ بچپن میں جوگیوں کے ہتھے چڑھے اور پھر پوری زندگی جوگ میں گزار دی‘ پچیس تیس سال قبل لاہور آئے اور راوی کے کناروں کو مسکن بنا لیا‘ وہ سارا دن جنگل میں غائب رہتے اور شام کے وقت کامران کی بارہ دری آ جاتے اور صبح دس بجے تک وہاں رہتے‘ دھرم پورے والے بابا جی کا کہنا تھا‘ یہ بابا جی تانبے کو سونا بنانا جانتے ہیں‘ انھوں نے خود ایک بار تانبے کی ڈلی سونا بنا کر انھیں گفٹ کر دی‘ میں ان دنوں کیمیا گری کے بارے میں کتابیں پڑھ رہا تھا‘ سائنس کہتی تھی کوئی دھات اپنا جون تبدیل نہیں کرتی مگر کیمیا گری کہتی تھی ہم جس طرح ہوا کو مائع اور مائع کو ٹھوس بناسکتے ہیں بالکل اسی طرح لوہے کو تانبا اور تانبے کو سونے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے اور میں ان دنوں اس بات کو سچ سمجھتا تھا اور سچائی کی یہ تلاش مجھے اس باباجی تک لے گئی‘ بابا دنیا جہاں کی نعمتوں اور ضرورتوں سے مبریٰ تھا‘ وہ کپڑے روڑی سے نکال کر پہن لیتا تھا‘ جوتے وہ پہنتا نہیں تھا‘ وہ کھاتا کیا تھا‘ ہم اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتے تھے‘ ہم بس اسے کڑوی چائے کا ایک کپ پیتے دیکھتے تھے اور وہ اس کے بعد اپنی پتیلی لے کر جنگل میں غائب ہو جاتا تھا۔
میں کہانی کو مزید مختصر کرتا ہوں‘ یہ سردی کی سرد رات تھی‘ میں اس رات بابے کے پاس اکیلا تھا‘ کامران کی بارہ دری میں بارش ہو رہی تھی‘ بابا جی بارش میں آسن لگا کر بیٹھے تھے اور میں چھتری تان کر ان کے سر پر کھڑا تھا‘ بابا جی نے اچانک ایک لمبی ہچکی لی‘ ان کا سانس اکھڑا اور انھوں نے غصے سے میری طرف دیکھا‘ میں نے زندگی میں کبھی اتنی خوفناک اور گرم آنکھیں نہیں دیکھیں‘ میرے پورے جسم میں حرارت دوڑ گئی اور میں سردیوں کی بارش میں پسینے میں شرابور ہو گیا‘ بابا تھوڑی دیر تک میری طرف دیکھتا رہا‘ اس نے پھر میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے سر سے چھتری ہٹائی‘ گیلی زمین سے اٹھا اور دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گیا‘ میں بھی آہستہ آہستہ چلتا ہوا اس کے قریب پہنچا‘ چھتری بند کی اور ٹیک لگا کر دیوار کے ساتھ بیٹھ گیا‘ بابے نے لمبا سانس لیا اور بولا ’’ کاکا تم چاہتے کیا ہو‘‘ میں نے عرض کیا ’’ کیاآپ کو واقعی سونا بنانا آتا ہے‘‘ بابے نے خالی خالی آنکھوں سے میری طرف دیکھا اور ہاں میں سر ہلا کر بولا ’’ ہاں میں نے جوانی میں سیکھا تھا‘‘ میں نے عرض کیا ’’کیا آپ مجھے یہ نسخہ سکھا سکتے ہیں‘‘ بابے نے غور سے میری طرف دیکھا اور پوچھا ’’ تم سیکھ کر کیا کرو گے‘‘ میں نے عرض کیا ’’ میں دولت مند ہو جاؤں گا‘‘ بابے نے قہقہہ لگایا‘ وہ ہنستا رہا‘ دیر تک ہنستا رہا یہاں تک کہ اس کا دم ٹوٹ گیا اور اسے کھانسی کا شدید دورہ پڑ گیا۔
وہ کھانستے کھانستے دہرا ہوا اور تقریباً بے حالی کے عالم میں دیر تک اپنے ہی پاؤں پر گرا رہا‘ وہ پھر کھانستے کھانستے سیدھا ہوا اور پوچھا ’’ تم دولت مند ہو کر کیا کرو گے‘‘ میں نے جواب دیا ’’ میں دنیا بھر کی نعمتیں خریدوں گا‘‘ اس نے پوچھا ’’نعمتیں خرید کر کیا کرو گے‘‘ میں نے جواب دیا ’’میں خوش ہوں گا‘ مجھے سکون ملے گا‘‘ اس نے تڑپ کر میری طرف دیکھا اور کہا ’’گویاتمہیں سونا اور دولت نہیںسکون اور خوشی چاہیے‘‘ میں خاموشی سے اس کی طرف دیکھتا رہا‘ اس نے مجھے جھنجوڑا اور پوچھا ’’ کیا تم دراصل سکون اور خوشی کی تلاش میں ہو؟‘‘ میں اس وقت نوجوان تھا اور میں دنیا کے ہر نوجوان کی طرح دولت کو خوشی اور سکون سے زیادہ اہمیت دیتا تھا مگر بابے نے مجھے کنفیوز کر دیا تھا اور میں نے اسی کنفیوژن میں ہاں میں سر ہلا دیا‘ بابے نے ایک اور لمبا قہقہہ لگایا اور اس قہقہے کا اختتام بھی کھانسی پر ہوا‘ وہ دم سنبھالتے ہوئے بولا ’’ کاکا میں تمہیں سونے کی بجائے انسان کو بندہ بنانے کا طریقہ کیوں نہ سکھادوں‘میں تمہیں دولت مند کی بجائے پرسکون اور خوش رہنے کا گر کیوں نہ سکھادوں‘‘ میں خاموشی سے اس کی طرف دیکھتا رہا‘ وہ بولا ’’ انسان کی خواہشیں جب تک اس کے وجود اور اس کی عمر سے لمبی رہتی ہیں۔
یہ اس وقت تک انسان رہتا ہے‘ تم اپنی خواہشوں کو اپنی عمر اور اپنے وجودسے چھوٹا کر لو‘ تم خوشی بھی پائے جاؤ گے اور سکون بھی اور جب خوشی اور سکون پا جاؤ گے تو تم انسان سے بندے بن جاؤگے‘‘ مجھے بابے کی بات سمجھ نہ آئی‘ بابے نے میرے چہرے پر لکھی تشکیک پڑھ لی‘ وہ بولا ’’ تم قرآن مجید میں پڑھو‘ اللہ تعالیٰ خواہشوں میں لتھڑے لوگوں کو انسان کہتا ہے اور اپنی محبت میں رنگے خواہشوں سے آزاد لوگوں کو بندہ‘‘ بابے نے اس کے بعد کامران کی بارہ دری کی طرف اشارہ کیا اور بولا ’’ اس کو بنانے والا بھی انسان تھا‘ وہ اپنی عمر سے لمبی اور مضبوط عمارت بنانے کے خبط میں مبتلا تھا‘ وہ پوری زندگی دولت بھی جمع کرتا رہا مگر اس دولت اور عمارت نے اسے سکون اور خوشی نہ دی‘ خوش میں ہوں‘ اس دولت مند کی گری پڑی بارہ دری میں برستی بارش میں بے امان بیٹھ کر‘‘ میں نے بےصبری سے کہا ’’ اور میں بھی‘‘ اس نے قہقہہ لگایا اور جواب دیا ’’ نہیں تم نہیں! تم جب تک تانبے کوسونا بنانے کا خبط پالتے رہو گے تم اس وقت تک خوشی سے دور بھٹکتے رہو گے۔
تم اس وقت تک سکون سے دور رہو گے‘‘ بابے نے اس کے بعد زمین سے چھوٹی سی ٹہنی توڑی اور فرش پر رگڑ کر بولا ’’ لو میں تمہیں انسان کو بندہ بنانے کا نسخہ بتاتا ہوں‘ اپنی خواہشوں کو کبھی اپنے قدموں سے آگے نہ نکلنے دو‘ جو مل گیا اس پر شکر کرو‘ جو چھن گیا اس پر افسوس نہ کرو‘ جو مانگ لے اس کو دے دو‘ جو بھول جائے اسے بھول جائو‘ دنیا میں بےسامان آئے تھے‘ بے سامان واپس جاؤ گے‘سامان جمع نہ کرو‘ ہجوم سے پرہیز کرو‘ تنہائی کو ساتھی بناؤ‘ مفتی ہو تب بھی فتویٰ جاری نہ کرو‘ جسے خدا ڈھیل دے رہا ہو اس کاکبھی احتساب نہ کرو‘ بلا ضرورت سچ فساد ہوتا ہے‘ کوئی پوچھے تو سچ بولو‘ نہ پوچھے تو چپ رہو‘ لوگ لذت ہوتے ہیں اور دنیا کی تمام لذتوں کا انجام برا ہوتا ہے‘ زندگی میں جب خوشی اور سکون کم ہو جائے تو سیر پر نکل جاؤ‘ تمہیں راستے میں سکون بھی ملے گا اور خوشی بھی‘ دینے میں خوشی ہے‘ وصول کرنے میں غم‘ دولت کو روکو گے تو خود بھی رک جاؤ گے‘ چوروں میں رہو گے تو چور ہو جاؤ گے۔
سادھوؤں میں بیٹھو گے تو اندر کا سادھو جاگ جائے گا‘ اللہ راضی رہے گا تو جگ راضی رہے گا‘ وہ ناراض ہو گا تو نعمتوں سے خوشبو اڑ جائے گی‘ تم جب عزیزوں‘ رشتے داروں‘ اولاد اور دوستوں سے چڑنے لگو تو جان لو اللہ تم سے ناراض ہے اور تم جب اپنے دل میں دشمنوں کے لیے رحم محسوس کرنے لگو تو سمجھ لو تمہارا خالق تم سے راضی ہے اور ہجرت کرنے والا کبھی گھاٹے میں نہیں رہتا‘‘ بابے نے ایک لمبی سانس لی‘ اس نے میری چھتری کھولی‘ میرے سر پر رکھی اور فرمایا’’ جائو تم پر رحمتوں کی یہ چھتری آخری سانس تک رہے گی‘ بس ایک چیز کا دھیان رکھنا کسی کو خود نہ چھوڑنا‘ دوسرے کو فیصلے کا موقع دینا‘ یہ اللہ کی سنت ہے‘ اللہ کبھی اپنی مخلوق کو تنہا نہیں چھوڑتا‘ مخلوق اللہ کو چھوڑتی ہے اور دھیان رکھنا جو جا رہا ہو اسے جانے دینا مگرجو واپس آ رہا ہو‘ اس پر کبھی اپنا دروازہ بند نہ کرنا‘ یہ بھی اللہ کی عادت ہے‘ اللہ واپس آنے والوں کے لیے ہمیشہ اپنا دروازہ کھلا رکھتا ہے‘ تم یہ کرتے رہنا‘ تمہارے دروازے پر میلا لگا رہے گا‘‘
میں واپس آ گیا اور پھر کبھی کامران کی بارہ دری نہ گیا کیونکہ مجھے انسان سے بندہ بننے کا نسخہ مل گیا تھا۔

گوگل اورگاڈ - مجیب الحق حقی

گوگل اورگاڈ - مجیب الحق حقی بشکریہ۔۔دلیل ویب سائیٹ۔۔اشاعت۔۔11نومبر 2017۔ خدا کی قدرت اتنی ہمہ گیر کس طرح کی ہوسکتی ہے کہ کائنات کے ہر ...