بدھ, اکتوبر 30, 2013

"ماسٹر کی"


 "ماں کی ڈائری سے "
موسم بدل رہا ہے۔جسم کو مَس کرتی ہوا کے جھونکے بدلتے موسم کی آمد کی گواہی دیتے ہیں ۔ پُرانے لباس کتنے ہی پسندیدہ کیوں نہ ہوں نئے موسم کا سامنا نیا لباس ہی کر سکتا ہے۔ پرانے کپڑوں کو بھاری بکسوں میں رکھنا عجیب سا دُکھ بھرا لمحہ ہوتا ہےکہ نہ جانے اگلے برس انہیں پہننے کا موقع بھی مل سکے گا یا پھر اُن کو خیرات کر دیا جائے گا۔لباس چاہے کتنا پسندیدہ کیوں نہ ہو اگر اُس کا پہننے والا نہ رہے تو دوسروں کے لیے بےوقعت  ہوجاتا ہے۔ہم اپنے لباس سینت سینت کر رکھتے ہیں اور کبھی دوسروں کے لباس سنبھالتے ہیں ۔ لباس سدا وہیں رہتے ہیں جہاں رکھے جائیںلیکن کبھی اُن کو پہننے والا چلا جاتا ہے تو کبھی سنبھالنے والا۔اگلے برس جب نئے موسم میں لباس کی ضرورت پڑتی ہے تو اگر سنبھالنے والا نہ رہے تو بہت ٹٹولنا پڑٹا ہے یوں کہ جیسے بھوسے کے ڈھیر میں سے سوئی تلاش کرنا ۔ کھوئے ہوئے انسان کی طرح کھویا ہوا لباس بھی کم ہی ملتا ہے۔ دُنیا کا کاروبار تو چلتا ہے لیکن ایک کمی ہمیشہ ساتھ رہتی ہے۔ لباس چاہے کپڑے کا ہو یا احساس کا اس کی خاصیت اور ضرورت ہمیشہ ایک سی ہوتی ہےکہ دونوں کا تعلق جسم سے ہوتاہے۔
ماں گھر کی "ماسٹر کی" ہے۔ اُس کی خواہش ہوتی ہے کہ اُس کا کوڈ گھر کے ہر فرد کو پتہ ہو تا کہ کوئی کسی وقت بھی گھر لوٹے تو دروازہ کھول سکے۔کوئی نہیں سوچتا کہ دروازہ بند بھی مل  سکتا ہے۔یہ صرف ماں سوچتی ہے۔اسی سوچ میں بچوں سے دور رہتی ہےکہ بچے اتنے بڑے ہو جائیں اور اپنے قدموں پر کھڑے ہو کر ہر دروازہ خود کھول سکیں۔بچے لاشعوری طور پر ہمیشہ ماں کے شانوں کا سہارا چاہتے ہیں بظاہراپنی قوت ِپرواز پر نازاں ہوتے ہیں یوں کبھی جُھک کر نہیں دیکھتے۔بےخبر پرندے نہیں جانتے کہ قدموں تلے زمین نہ رہے تو قدم جمانا کتنا مشکل ہے اور ماں کی ردا کے بغیر تنکا تنکا آشیانہ بنانا کتنا کٹھن۔
مائیں بچوں سے محبت ضرور کریں لیکن اُنہیں اپنی عادت نہ ڈالیں کہ محبت یاد بن جاتی ہے اورعادت کمزوری۔
ماں کے لیے اگر اس کے بچے آنکھ کی روشنی ہیں تو بچوں کی آنکھ میں اترے جگنوعکس ماں کے دل میں نقش بن کر ابھرتے ہیں۔ اب ان نقوش کو ایک مجسم تصویر کی صورت میں ڈھالنے کا ہر ماں کا جدا انداز ہے۔ کچھ لمس کی گرمی سے تو کچھ لفظ کی نرمی سے اس احساس کو ساتھ رکھنے کی سعی کرتی ہیں اور کبھی کوئی اپنی نظر سے گھبرا کر بےخبری کی خودساختہ عینک میں سب چھپا جاتی ہیں اور صرف اُن کا دل ہی اس نقش کی سلامتی کی پکار سُنتا ہے۔
#  Master key ماسٹر کی.۔۔  

سوموار, اکتوبر 28, 2013

"ممتاز مفتی کی تحاریر سے اقتباسات"

 
ممتاز مفتی
تاریخِ پیدائش۔۔۔11 ستمبر 1905
تاریخِ وفات۔۔۔۔27اکتوبر1995
سمے کا بندھن۔۔۔۔
یہ کہانیاں 
یہ کہانیاں نہ تو میں نے فن 
کے لیے لکھی ہیں اور نہ ہی 
زندگی کے لیے
یہ کہانیاں 
میں نے اپنے لیے
لکھی ہیں
دراصل یہ کہانیاں نہیں ہیں
یہ سب کچھ وہ ہے جو
میں نے زندگی میں پایا
کھویا
یہ میرے ہونٹوں پر آیا ہوا
تبسم بھی ہیں،طنز سے پاک، میری آنکھ
سے گرا ہوا آنسو بھی ہیں
ممتازمفتی مارچ 1986

 ٭ایک ہاتھ کی تالی۔۔ص54۔۔ "میری دانست میں محبت میں کوئی شرط نہیں ہوتی۔محبت صرف کی جاتی ہےچاہے دوسرا کرے نہ کرے۔محبت ایک ہاتھ کی تالی ہے۔اس میں نہ شکوے کی گنجائش ہے، نہ شکایت کی۔نہ وفا کی شرط ،نہ بےوفائی کا گلہ"محبت  لین دین نہیں،صرف دین ہی دین ہے۔
٭مانانمانہ۔۔ص65۔۔لڑکی کا المیہ یہ ہے کہ جو رُک جائے وہ توجہ کے لائق نہیں رہتا،جو شرارہ چھوڑ کر چلا جائے،وہ ذہن میں اٹک جاتا ہے۔سنجیدہ اور مخلص جھڑ جاتا ہے،تفریحی کانٹے کی طرح چُبھ جاتا ہے۔
٭دیوی۔۔ص74۔۔یہ کیسے ہو سکتا کہ کوئی اُسے محبت بھری نظروں سے دیکھے اور عورت کو پتہ  ہی نہ چلے،ضرور اسے پتہ ہو گا۔پھر بھی لپٹی لپٹائی یوں گزر جاتی ہے جیسے کوئی بات ہی نہ ہو،ہوتا ہو گا،ضرور ہوتا ہو گا۔اس کے دل کی گہرائیوں میں پتہ نہیں کیا کیا ہوتا ہو گا۔میں جانوں بھری ہوئی ہوتی ہےپر چھلکتی نہیں۔وہ تو کرنے والی محبت ہوتی ہے جو چھلکتی ہے۔بھری نہیں خالی چھلکتی ہے،صرف چھلکن ہی چھلکن۔
٭عینی اور عفریت۔۔ص92۔۔۔محبت دوڑبھاگ نہیں ہوتی،طوفان نہیں ہوتی،سکون ہوتی ہے،دریا نہیں ہوتی،جھیل ہوتی ہے، دوپہر نہیں ہوتی،بھورسمے ہوتی ہے،آگ نہیں ہوتی،اُجالا ہوتی ہے۔اب میں تجھے کیا بتاؤں کہ کیا ہوتی ہے،وہ بتانے کی چیز نہیں ،بیتنے کی چیز ہے،سمجھنے کی چیز نہیں جاننے کی چیز ہے۔ص94۔۔۔محبت ایک پرسکون کیفیت ہے،وجدان ہے۔
٭دومونہی۔۔ص110۔۔ میرے خدوخال ایوریج سہی لیکن مجھ میں بڑا چارم ہے۔راہ چلتے سر اُٹھا اُٹھا کر،گردن موڑ کر دیکھتے ہیں،میں لڑکی پن سے نکل آئی ہوں لیکن ابھی لڑکی ہی ہوں عورت نہیں بنی۔اللہ نہ کرے کہ بنوں۔ہاں تو میں کہہ رہی تھی کہ مجھ میں بڑا چارم ہے۔راہ چلتے کوئی بانکا اچھا لگےتو ایسی چھلکی چھلکی بھرپورنگاہ ڈالتی ہوں کہ اس کا سارا کلف اتر جاتا  ہے"گویا" ہو کرگر پڑتا ہے۔پھر میرے اندر سے آواز آتی ہے،تت تت بےچارہ اپنے کام سے گیا۔مجھے پتہ ہے کہ  میں بڑی طاقتور نگاہ رکھتی ہوں۔اتنی سادگی سے نخرہ کرتی ہوں کہ کوئی اسے نخرہ مان ہی نہیں سکتا۔سمجھتا ہے انوسنس ہی انوسنس ہوں۔
بس میری ایک ہی مشکل ہے۔میرے اندر کچھ ہے۔پتا نہیں کیا ہے،پر ہے جس طرح مدفون خزانے پر سانپ ہوتا ہے جس طرح اہرامِ مصر کے اندر جادوٹونا کیلا ہوا ہے۔ویسا ہی  کچھ ہے۔میرے اندر ایک نہیں دو ہیں۔دودو روحیں ہیں ۔کبھی ایک کنڑول پر بیٹھ جاتی ہے،کبھی دوسرے پر۔
ممتاز مفتی از ہند یاترا
صفحہ15۔۔جاننا اور بات ہے اور ماننا اور بات۔ہم بہت سی باتیں جان لیتے ہیں مگر وہ ہمارا جزو ایمان نہیں بنتیں ۔ جاننا صرف ذہن کو متحرک کرتا ہے دل میں جذبہ پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا ۔ عمل پر اپنا رنگ نہیں چڑھاتا ۔ ایسا جاننا ذہن پر بوجھ کے علاوہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا ۔ میری طرح بہت سے لوگ ایسے ہیں جو سروں پر جاننے کی بھاری گھٹڑیاں اُٹھائے پھرتے ہیں لیکن ماننے کی سُبک روی سے محروم ہیں۔
صفحہ 35۔۔میں نے خود کو سکھی رکھنے کے لیے یہ اصول بنا رکھا ہے کہ جو ہونا چاہیے اس کی توقع نہ رکھو ۔ اگر نہ ہو تو غم نہیں ہو گا ،ہو جائے تو مفت کی خوشی ۔
صفحہ 77۔۔ایک شخص کے ساتھ آپ گھنٹوں بلکہ دنوں رہتے ہیں اور جدا ہوتے وقت کچھ محسوس ہی نہیں ہوتا جیسے کوئی بات ہی نہ ہو ، جیسے کچھ فرق نہ پڑا ہو ۔ ایک شخص کے ساتھ آپ چند گھڑیاں اکھٹی گزارتے ہیں اور جدا ہوتے وقت اور بعد میں بھی دنوں احساس ِجدائی سے چھلکتے رہتے ہیں ۔
راہ رواں۔۔۔۔ بانو قدسیہ صفحہ 517 تا 520۔۔ایک ذاتی خاکہ ممتاز مفتی کے قلم سے۔۔۔ 
اس وقت یہ عالم ہے کہ اعضاء بے رحمی کے محکمے کو آوازیں دے رہے ہیں۔کہتے ہیں 86 سال سے ہم دن رات ٹک ٹک کر رہے ہیں ، نہ کبھی جمعے کی چھٹی ملی ہے نا عید شب برات کی ۔ بس اب بہت ہو لیا، ہم پر ظلم بند کیا جائے ۔
نتیجہ یہ ہے کہ میں پلیٹ فارم پر بیٹھا انتظار کر رہا ہوں کہ کب گاڑی آئے اور میں ٹا ٹا کر کے رُخصت ہو جاؤں ۔
جناب والا!میری تحریر اور شخصیت کے متعلق چند خوش فہمیاں چل نکلی تھیں ۔سوچا رخصت ہونے سے پہلےاحوالِ واقعی قلم بند کرجاؤں۔حال ہی میں میں نے اپنی تحریراور شخصیت پر ایک مضمون لکھا تھا جس میں سے چند اقتباسات پیش خدمت ہیں۔
عنوان ہے ۔ چھوٹا
ممتاز مفتی کو میں نے بہت قریب سے دیکھا ہے،سیانے کہتے ہیں ،دو جگہوں سے دیکھو تو ٹھیک سے نظر نہیں آتا۔
!دور سے
!بہت قریب سے
چونکہ میں نے بہت قریب سے دیکھا ہے ،اسلیے مضمون سند نہیں ہے۔
مفتی کو ادیب ہونے پر فخر نہیں ہےبلکہ معذرت ہے۔ اس نے کبھی نہیں چاہا تھا کہ ادیب بنے۔اتفاق سے بن گیا۔ تالی بج گئی ۔ یوں زندگی بھر لکھنے پر مجبور کر دیا گیا ۔
اسے اردو زبان نہیں آتی ۔ اس کی تحریر کی روٹس اردو ادب میں نہیں ہیں ۔ اس نے کبھی شعوری طور پر اُردو ادب کے لیے نہیں لکھا ۔ اس نے اردو ادب پر کوئی احسان نہیں کیا نہ ادب کی خدمت کی ہے۔اُلٹا اہل ِادب نے مفتی پراحسان کیا ہے۔اسے ادیب کا مرتبہ بخشا ،اہمیت عطا کر دی ۔ زندگی بے مصرف نہیں رہی ۔
اس کے گھر میں کسی کو ادب سے خصوصاً اُس کی تحریروں سے دلچسپی نہیں ہے۔ بیٹے میں بڑی صلاحیت تھی لیکن اس نے کہا میں خود! میں خود! جیسے جان دار ضدی بچے کہا کرتے ہیں مطلب تھا ، میں اپنا راستہ خود تلاش کروں گا ۔ بنے ہوئے راستے پر چلنا گوارا نہیں ۔ یہ تو بیٹے کا باپ کا تعلق ہے۔ بیوی کہتی ہے،کیوں جھوٹی کہانیاں لکھ کر اپنی عاقبت خراب کرتا ہے۔ اب بھی تو بہ کر لے ۔
دوست کہتے ہیں ، تجھے تو سچ کے زعم میں خود کوسر ِبازار رسوا کرنے کی لت پڑی ہوئی ہے۔ نہ نہ ہمیں معاف ہی رکھنا ، خبر دار ہمارا تذکرہ نہ کرنا ۔
مفتی ازلی طور پر اکیلا ہے۔
اکیلے دو قسم کے ہوتے ہیں۔
ایک وہ جو جان بوجھ کر التزاماً الگ رہنا پسند کرتے ہیں ،محفل لگ جائے تو ڈوبتے نہیں تیرتے رہتے ہیں ۔
دوسرے وہ جو محفل سے گھبراتے ہیں ،کتراتے ہیں ،لگ جائے تو ڈوب جاتے ہیں ۔ مفتی دوسری قسم کا اکیلا ہے۔اگر آپ مفتی کو ایک کمرے میں بند کر دیں جہاں اس کی ضروریات اسے ملتی رہیں تو بے شک چھ مہینے کے بعد اگر دروازہ کھولیں مفتی یوں ہشاش بشاش بیٹھا ہو گا جیسے ابھی ابھی روز گارڈن کی سیرکر کے آیا ہے۔
صفحہ 520 ۔۔۔۔۔۔
دوستو ! سچی بات یہ ہے کہ میں نے مفتی جیسا خوش قسمت شخص نہیں دیکھا ۔ اونہوں! خوش قسمت نہیں وہ توایک لکی ڈیول ہے ۔
اس نے بڑی رچ زندگی بڑی بھرپور زندگی گزاری ہے ۔ اللہ نے اسے بہت کچھ اور بن مانگے دیا ہے۔ ساتھ ہی اللہ نے اسے کئی ایک لعنتوں سے بچائے رکھا ۔امارت سے بچائے رکھا ،اقتدار سے بچائے رکھا ،عہدے سے بچائے رکھا ،ذاتی اہمیت کے احساس سے بچائے رکھا۔
بلی ماراں دلی کے بزرگ حاجی رفیع الدین نے 1930 میں سچ کہا تھا ۔ کہنے لگے،جوانی میں دُھول اڑے گی ،بدنامی ہو گی ،رسوائی ہو گی لیکن بعد میں آپ کوبڑے اچھے لوگ ملیں گے۔ واقعی مفتی کو زندگی میں بڑے اچھے اچھے لوگ ملے۔
اگر آج اللہ میاں ممتاز مفتی کے روبرو آ کھڑے ہوں اور کہیں ۔۔۔ " مانگ کیا مانگتا ہے" تو سوچ میں پڑ جائے گا ،کیا مانگوں ۔ جسے زندگی بھر بن مانگے ملا ہو ،وہ کیا مانگے۔ اب تو وہ تکمیل کی خوشی میں سرمست پلیٹ فارم پر بیٹھا ہے انتظار کر رہا ہے کہ کب گاڑی آئے اور کب وہ آپ کو "ٹاٹا" کہہ کر رُخصت ہو جائے ۔ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آخری بات ۔۔۔ میری طرف سے
نورین تبسم۔۔۔۔ جب میں اپنی ڈائری سے اُن کے یہ لفظ لکھ رہی تھی تو یوں لگا جیسے مجھ سے باتیں کر رہے ہوں ۔ میں اُن کے ساتھ کےاحساس سےسرشار تو ہوں لیکن ایک تشنگی سی ہے کہ شاید میرےلکھے ہوئے لفظ دنیا میں اُن سے بہتر کوئی نہیں سمجھ سکتا۔ اللہ اُن کے لیے آخرت میں آسانیاں پیدا کرے ۔ آمین

اتوار, اکتوبر 27, 2013

"ممتاز مفتی سفرِآخرت "

 ممتاز مفتی۔۔۔۔۔۔
آخری  آرام گاہ ۔۔۔ اسلام آباد

 عکسی مفتی ۔۔۔۔ بیٹا
راہِ رواں۔۔۔۔ بانو قدسیہ
( سال اشاعت 2011 )
صفحہ۔۔ 513 
ممتاز مفتی کی یادیں 
از عکسی مفتی 
ہمیں چھوڑ جانے سے چند روز قبل ممتاز مفتی مجھ سے کہنے لگے۔ "یارعکسی ! تیرے لوک ورثہ دا کیہ فائدہ ! یار، یاد رکھنا جب میں مر جاؤں تو دو شہنائیوں والے اور ایک ڈھول والے کو بلوا لینا اور گھر کے باہر خوب شادیانے بجانا ۔خوشی منانا۔ وعدہ کرو یار۔ایسا ہی کرو گے"۔
والد سے کیا ہوا وعدہ تو میں نبھا نہ سکا ۔
لیکن آج اتنا ضرور عرض کروں گا کہ ہمیں ممتاز مفتی کا سوگ نہیں منانا چاہیے بلکہ انہیں سیلیبریٹ کرنا چاہیے 
So let us celebrate MUMTAZ MUFTEE
He was a gift to all us from ALLAH

مجھے یہ زعم تھا کہ ممتازمفتی کے تمام رُفقاء کو ذاتی طور پر جانتا پہچانتا ہوں اور پھر ان میں سے بیشتر تو میرے بھی دوست ہیں لیکن یہ زعم ان کی وفات پر پاش پاش ہو گیا ۔ سینکڑوں ہزاروں لوگ نہ جانے کہاں کہاں سے اُمڈ پڑے۔
اچھے،خاصے عمر رسیدہ بزرگ دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے۔ کچھ چیخ چیخ کر پکار رہے تھے
"باپو باپو ۔۔ میں یتیم ہو گیا ۔" 
میں حیرت سے ان سب کو دیکھ رہا تھا ۔
یہ کون ہے؟ کہاں سے آیا ہے؟ یہ کیونکر یتیم ہو گیا ؟ میں سوچتا رہا۔ 
میراخیال تھا لوگ آئیں گے ،مجھے سہارا دیں گے،گلے لگائیں گے،دلاسہ دیں گے،غم بانٹیں گے، اُلٹا مجھے ہی ان سب کا دُکھ بانٹنا پڑ گیا۔ اور تو اور وہ مولوی حضرات جنہوں نے "لبیک" کے چھپنے پر مفتی جی کے خلاف فتوے جاری کیے ،یہ کون ہے جو بیت المکرم کو "کالا کوٹھا" کہتا ہے ۔ اس کی یہ جسارت کہ حج کا تمسخر اُڑائے کہ "کوٹھے والا مجھے آنکھیں مار رہا ہے"۔
ان ہی میں سے ایک مولانا ممتاز مفتی کے قلم کو اسلام کی تلوار سے تشبیہ دینے لگا ۔
میں حیرت سے سنتا رہا ۔
اسی موقع پر جیب کترے بھی پیچھے نہیں رہے ۔ جیب کتروں کا ایک پورا گروہ جنازے کے دوران ممتاز مفتی کے پرستاروں کو لوٹتا رہا ۔ بہت سوں کی جیبیں کٹ گئیں۔ 
ایک صاحب جن کی جیب کٹ چکی تھی ،فرمانے لگے "کیا مذاق ہے۔ ممتاز مفتی جاتے جاتے بھی ہاتھ دکھا گئے، پاس ہی کھڑا احمد بشیر بولا ،" نہیں صاحب ، ممتاز مفتی جاتے جاتے سب کو سب کچھ دے گئے ۔ جیب نہیں اپنا دل ٹٹولیں اور کہیں کہ میں غلط تو نہیں کہہ رہا ہوں "۔
ممتاز مفتی جیب کتروں کو بھی کچھ دے گئے ہیں ۔
صفحہ 516 ۔۔۔۔۔۔۔ 
آخری سانس تک ممتاز مفتی کی آنکھوں میں چمک تھی ۔ قلم میں تلوار جیسی کاٹ تھی ۔ وہ علی پور کا ایلی تھا ۔ ہار ماننا اس کا شیوہ نہ تھا لیکن اب ممتاز مفتی دھیما پڑچکا تھا ۔ مجذوبیت رنگ بدل کر فقیری میں تبدیل ہو چکی تھی ۔ ایک بوسیدہ بستر پر پڑا رہتا یا پھر رنگین ٹکڑیوں والی رلی پر بیٹھ کر کچھ نہ کچھ لکھتا رہتا ،کچھ سوچتا رہتا ۔
لوگ یوں ہی کھنچے چلے آتے۔ لوگوں کی سیوا اس کا مسلک بن چکا تھا ۔ ایک گھنے درخت کی طرح اس کا سایہ دور دور پھیل چکا تھا لیکن اس کی تلاش ختم نہ ہوئی ۔ حالانکہ وہ بہت تھک چکا تھا ۔ اس کی آرزو جوان تھی ۔ اس کی جستجو میں چمک تھی ۔ وہ ایک لمحے کے لیے رُکا نہ تھا ۔ اس کا سفر جاری تھا ۔ 
قلم میں لامکاں کی آرزو رکھنا" 
نوے سال یا سو سال ، آخر ٹوٹ جاتی ہے
گئے ممتاز مفتی جی
ازل سےتا ابد پھیلی 
"کہانی رو پڑی ہے۔ 
ممتاز مفتی کی زندگی دراصل ایک طویل تلاش ہے۔ ان کی آخری تصنیف کا نام بھی "تلاش" ہے۔ 1905 سے لے کر 1945 تک جو کچھ ان پربیتا اس کا نام "ایلی" رکھا ۔ یہ پہلا حصہ ممتاز مفتی کی عالمِ شہادت کی روئیداد ہے۔"علی پور کا ایلی" تلاشِ ذات کا ناول ہے۔
انیس سو پچاس سے انیس سو نوے۔۔۔۔ 1950 سے 1990 تک کی آپ بیتی کو" الکھ نگری" کا نام دیا ۔ یہ دوسرا حصہ
ممتاز مفتی کا عالم الغیب کا سفرنامہ ہے ۔ 'لبیک' اور 'الکھ نگری' دراصل تلاش ِخدا کی روئیداد ہے۔ دونوں ہی ممتازمفتی کی تلاش ہیں ۔ وہ مشاہدات ہیں جن میں سے ممتازمفتی گزرا اور جن کی بدولت مفتی "ممتاز" ہو گیا اور دونوں تصانیف میں بلاشبہ بہت تضاد ہے۔
" علی پور کا ایلی کے دھوں دھار اندھیرے آنے والی کرن کو مزید چمک بخشیں گے۔ ایلی کے اندھیرے اور"الکھ نگری" کے چمکیلے خواب ایک دوسرے سے جس قدر مختلف ہیں ،اسی قدر ممتاز مفتی کی شخصیت کے ارتقاء کی اہم کڑیاں ہیں ۔ یہ ایک ہی عمل کے دو ایسپیکٹس ہیں، دو رُخ ہیں۔ 
اس عمل کے دوران کئی شخصیات ،کردار ،روحانی بابے ،بزرگ ،عامل ،پروفیسر حتٰٰی کہ خود قدرت اللہ شہاب سنگ ِمیل توضرور ہیں منزل نہیں ۔ ممتاز مفتی کا سفر یہاں ختم نہیں ہوتا ،جاری ہے ۔ 
ممتاز مفتی کی تلاش جاری ہے۔ 

ہفتہ, اکتوبر 26, 2013

"ممتازمفتی اور وہ"



ممتاز مفتی
پیدائش۔۔۔11ستمبر 1905
وفات ۔۔۔۔27اکتوبر
۔1995۔اسلام آباد




 ممتاز مفتی کےلفظ   سےاسکاتعلق برسوں پرانا ہے،اس وقت سےجب وہ رشتوں اورتعلقاتکی غلام گردشوں میں بولائی بولائی پھرتی تھی۔ کالج لائبریری کی  نیم تاریکی میں  اُس  کی الماریوں کی سرد ہوا سے بھی ڈری سہمی چپکے چپکے منٹو اورمحی الدین نواب کو پڑھتی اور پھرگھبرا کرلاحول پڑھتی،ڈھلتی شاموں میں کالج کی آخری بس میں گھر جاتی اورسب بھول کر سو جاتی۔ راتوں کو اُٹھ کر خاص طور پر اپنے سٹورمیں بکسوں پر بیٹھ کر کیمسٹری اورفزکس کے رٹے لگاتی کہ سردیوں کے موسم میں جس کی کھڑکی کے ٹوٹے شیشے سے مارگلہ کی پہاڑیوں کو چھوکرآنے والی یخ ہوا نہ صرف نیندیں اُڑاتی تھی بلکہ اس کے وجود میں دہکتے آتش فشاں کو بھی تھپکیاں دے کرسلاتی تھی۔ زندگی اورمحبت اُس کے لیے الجبرا کا سوال یا ریاضی کے کُلیے کی طرح تھی۔عشق ومحبت اور ہوس کی کہانیاں بھی اسی قبیل کی لگتیں اُن کو حل کرنا چاہتی لیکن بغیراستاد کے یہ سبق سمجھ نہ آتا تھا۔ اسی دوران "علی پور کا ایلی" ایک دوست سے ملی ۔ یہ پہلا باقاعدہ عشق تھا جو کمرے میں داخل ہوا۔ بڑے اہتمام سے تکیے پر رکھ کر اسے پڑھتی ۔ عجیب کشمکش کے دن تھے کہ سمجھ آتی تھی یہ کتاب اورنہ ہی جان چھوڑتی تھی۔ ہر صفحے کے بعد لگتا شاید اب کوئی بہت انوکھی بات سامنے آئے گی لیکن جیسے جیسے صفحے پلٹتی دل بوجھل ہوا جاتا۔ زندگی کی یہ جھلک کبھی خواب میں بھی نہ سوچی تھی۔ یہ کتاب اچھی بھی نہ لگتی تھی اور چھوڑنے کو بھی جی نہ چاہتا۔ خیر کتاب  پوری پڑھنے کے بعد اس کے چیدہ چیدہ صفحات  میں سے نوٹ کیے اقتباسات  ڈائری پر اتارے اور لتاب  واپس کر دی۔ مفتی صاحب سے پہلی ملاقات نے ایک اٹھارہ سالہ بچی پرکچھ اچھا تاثر نہیں چھوڑا۔ بہت بعد میں پتہ چلا جو ہوا منطقی طورپردرست تھا کہ مفتی صاحب نے ہمیشہ عورت کی بات کی ۔ وہ عورت کے دل کے تاروں کو چھو کراپنے حرفوں میں گنگناتے تھے۔ وقت کا پہیہ آگے سرکا،رشتوں نے گھیراؤ کیا اور جب ایک سنہرے بندھن میں اپنے آپ کو سمیٹا تو بہت کچھ واضح ہوا۔ پھر اپنی ڈائری سے ممتاز مفتی کو پڑھتی تو یوں لگتا جیسے سب اس کے لیے ہی لکھا گیا ہے۔ وہ اُسی کے شہر کے باسی تھے ۔ دل ان سے ملاقات کے لیے ضدیں کرنے لگا تواپنے پڑوسی انکل جناب محترم ضمیرجعفری صاحب کے گھر گئی،انہوں نے فون ملایا جناب ممتازمفتی سے بات کرائی اور مفتی صاحب نے اپنے مخصوص لہجے میں کہا کہ "کڑئیے ملنا چاہندی اے تے فیر مل لے، ڈردی کیوں اے ، کوئی کج نئیں آکھے گا اک اٹھاسی سال دے بابے نال ملنے توں"۔لیکن اس کا ڈرنہیں گیا اوروہ پھر کبھی نہ ملی اس شخص سے جو نہ صرف دلوں کوچھوتا تھا بلکہ اس کے گھر کے قریب بھی رہتا تھا۔ اس کے بعد دو برس بیت گئے اورممتاز مفتی صاحب اپنے آخری ٹھکانے کو روانہ ہو گئے۔ کون جانتا تھا کہ وہ اٹھارہ سال کی لڑکی جو"علی پورکا ایلی"پڑھ کر مفتی صاحب سے خفا ہو گئی تھی اور پھربعد میں ان سے بات کر کے ڈر گئی تھی ۔ اُن کے جانے کے دوعشروں بعد برملا اعتراف کرے گی کہ "ایلی"  تو اُسی وقت اس کے اندر کنڈلی مارکر بیٹھ گیا اوروہ ممتازمفتی کی کتاب کا ایک ورق بن گئی تھی۔
عورت کے متعلق مفتی صاحب کا جوتجزیہ تھا اس کے رنگ ہرعورت کی ذات میں کسی نہ کسی حد تک جھلکتے ہیں۔ جنس عورت کی ذات کا ایک اہم پرتوضرور ہے لیکن عورت کی اہلیت کو اس کی اوٹ میں فراموش کر دینا اُس کے ساتھ صریح ناانصافی ہے۔ ممتاز مفتی نے بےشک عورت کے اس روپ اور اس رویے کی حقیقت سے قریب تر تصویرکشی کی،اس کی نفسیاتی گرہوں کو دھیرے دھیرے کھولنے کی سعی کی لیکن بحیثیت مجموعی ممتاز مفتی کی تحاریر میں عورت کی نسوانی کشش اُس کی قابلیت پر حاوی دکھائی دیتی ہےاور یہیں اُن سے اختلاف پیداہوتا ہے۔ ممتاز مفتی کا کمال یہ ہے کہ جب انہوں نے عورت کے جذبات واحساسات کی اتھاہ گہرائیوں تک رسائی حاصل کر لی تو پھر رُکے نہیں اوردوسری دُنیاؤں کے سفر میں "الکھ نگری ،لبیک اور تلاش " جیسی معرکہ آرا تصانیف منطرِعام پر آئیں۔ قلم کو اس طرح یکدم تین سوساٹھ درجے کے زاویے پر موڑ دینا اُردو ادب میں صرف اور صرف جناب ممتاز مفتی کا ہی خاصہ ہے اور ہمیشہ رہےگا ۔اللہ ان کی آخرت کی منزلیں آسان کرے آمین۔
۔۔۔۔۔۔
جناب ممتاز مفتی کی رُخصتی کے دوعشرے گزرنے پر میں نے اپنےاحساسات قلم بند کیے۔یہ میرے ذمے اُن کا قرض تھا کہ ان کی تحاریر سے جو کچھ حاصل کیا اُسے اپنے پڑھنے والوں کے سپرد کر دوں۔اُن کے لفظ کی تازگی جو آج بھی میرے ہمراہ ہے اُسے آگے پھیلاؤں۔ممتاز مفتی جگ کے مفتی تھے اُن کےلفظ کسی تعارف کے محتاج نہیں اُردو ادب سے ذرا سی بھی رغبت رکھنے والا اُن کے لفظ کی تاثیر سےمتاثرہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ میرا مقصد صرف اور صرف نئے پڑھنے والوں کو ہماری زبان وادب کے بڑے لکھاری کی ایک جھلک دکھانا تھا۔اُن کے لفظ لازوال ہیں اوراُن کا حق بھی تھا کہ انہیں سراہا جائے،ان کو یاد کیا جائے۔ یہ نوشتہ دیوارتو ہے کہ ہم مردہ پرست قوم ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ہم جانے کے بعد بھی کسی کی قدر کرنا بھولتے جا رہے ہیں۔ ہم "آج "کی خواہشات کے حصول میں ماضی کے خزینے فراموش کرتے جا رہے ہیں اور مستقبل کی عمارت کھوکھلی بنیادوں پر تعمیر کر رہے ہیں۔ اپنے حصے کا دیا جلاتے جائیں جہاں تک ہو سکے۔ یہ جگنو سی چمک منزل کی نشاندہی تو نہیں لیکن سمت واضح ضرور کر دے گی۔
مفتی صاحب نے "الکھ نگری" میں لکھا تھا "چھوٹا منہ بڑی بات" اور میں مفتی صاحب کے بارے میں بس اتنا کہوں گی کہ "جتنے منہ اتنی بات "۔ان کے افعال وکردار کی بحث سے قطع نظر میرے نزدیک وہ ایک ایسے گلاس کی طرح تھے جو آدھا بھرا ہوا ہوتا ہے اب یہ دیکھنے والی آنکھ پر ہے کہ کسی کو وہ آدھا خالی دکھتا ہے تو کسی کو آدھا بھرا ہوا۔ ہر کوئی اپنے ظرف سے فیصلہ کرتا ہے۔کوئی اسے نامکمل دیکھ کر لوٹ جاتا ہے اور کسی کو جتنا بھی ملتا ہے وہ اس میں سے اصل کشید کرنے کی سعی کرتا ہے۔
ایک اعتراف کہ میں نے ممتاز مفتی کی ساری کتابیں نہیں پڑھیں۔ لیکن کسی کوجاننےکے لیے خواہ وہ کتاب ہو یا انسان اُس کا 
حرف بہ حرف حفظ کرلینا قطعاً ضروری نہیں۔کبھی ایک نکتہ سب راز کھول دیتا ہے یا ایک جھلک ہماری نگاہ کو اُس کےقدموں میں سجدہ ریز کر دیتی ہے۔
بسااوقات زیادہ نہ جاننا ہی ہمارے لیے نعمت ہوتا ہے کہ اگر ہم کسی کو مکمل جان جائیں،اُس  کی رگ رگ سے واقف ہو جائیں تو پھر عشق کی اُن منزلوں تک رسائی دُور نہیں ہوتی جوعقل وخرد سے پرے اورجنوں کی  وادیوں کے قریب ہوتی ہیں۔
  ڈائری  سے  بلاگ تک ۔۔۔
ایک اٹھارہ سالہ لڑکی کی ڈائری سے جناب ممتاز مفتی کی "علی پور کا ایلی" سے چند اقتباسات جواس وقت نوٹ کیے جب وہ خود بھی ان کے اصل مفہوم سے ناآشنا تھی۔
" علی پور کا ایلی" 
ممتاز مفتی 
سال اشاعت۔۔۔۔ 1962کتاب پڑھی ۔۔۔۔۔ 1985 
۔۔۔۔۔
پیش لفظ۔۔۔
یہ روئیداد ہے
ایک ایسے شخص کی جس کا تعلیم کچھ نہ بگاڑ سکی۔ 
جس نے تجربے سے کچھ نہ سیکھا۔ 
جس کا ذہن اور دل ایک دوسرے سے اجنبی رہے۔ 
جو پروان چڑھا اور باپ بننے کے باوجود بچہ ہی رہا۔ 
جس نے کئی ایک محبتیں کیں لیکن محبت نہ کر سکا جس نے محبت کی پھلجڑیاں اپنی انا کی تسکین کے لیے چلائیں لیکن سپردگی کے عظیم جذبے سے بیگانہ رہا اور شعلہ جوالہ پیدا نہ کر سکا جو زندگی بھر اپنی انا کی دھندلی بھول بھلیوں میں کھویا رہا حتٰی کہ بالاآخر نہ جانے کہاں سے ایک کرن چمکی اور اسے نہ جانے کدھر کو لے جانے والا ایک راستہ مل گیا۔
صفحہ 343 ۔۔۔۔۔ 
ان دنوں ایلی یہ نہ جانتا تھا کہ عورت کے لیے محبت محض ایک ماحول ہے چرن تپسیہ بھری نگاہوں اور رومان بھرے خوابوں سے بنا ہوا ماحول ۔ اُسے یہ معلوم نہ تھا کہ عورت کو مردانہ جسم کی خواہش ضمنی ہوتی ہے اس کے نزدیک محبت ایک ذہنی تاثر ہے جسم کو وہ صرف اس لیے برداشت کرتی ہے کہ وہ طلسم نہ ٹوٹے ،وہ تپسیہ بھری نگاہیں گم نہ ہو جائیں۔ 
صفحہ488 ۔۔۔۔۔۔
اب وہ محسوس کرنے لگا تھا کہ محبت میں ذہنی بے تعلقی کامیابی کی ضامن ہوتی ہے اورانسان جس قدر متاثر ہوتا ہے اسی قدر ناکام رہتا ہے شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ عورت فطری طور پر اس مرد کی تسخیر پر شدت سے آمادہ ہوتی ہے جو ناقابل ِ تسخیر نظر آئے اور جو دل وجان سے اس کا ہو چکا ہو اس میں کوئی دلچسبی محسوس نہیں کرتی ۔
صفحہ 584۔۔۔۔ 
ایلی کو ابھی تک یہ علم نہ تھا کہ عشق میں ازلی طور پر خود کشی کا عنصر ہوتا ہے۔عشق بذات ِخود عاشق کو محبوب
کے وصال سے محروم کر دیتا ہے،اس علم نہ تھا کہ محبت محبوب کا حصہ ہے عاشق کا نہیں اوراگر کسی کی محبت حاصل کرنا مقصود ہو تو اسے محبوب بننے کی کوشش کرنا چاہیے نہ کہ عاشق اور بے نیازی محبوب کی بنیادی خصوصیت ہے۔ 
صفحہ 891۔۔۔۔۔ 
شرارت وہ لوگ کرتے ہیں جن پر شبہ نہ کیا جاسکے یا جن کا اعمال نامہ صاف ہو اوران پر حرف نہ آسکے۔ بدنام آدمی تو اپنا جائز تحفظ بھی نہیں کر سکتا وہ تو کانچ کے گلاس کی طرح ہوتا ہے ذرا ضرب لگی اورٹوٹ گیا۔
جھوٹ - سچ ۔۔۔۔۔ ایلی نے زندگی میں نئی بات سیکھی تھی وہ سچ کے ذریعے جھوٹ بولتا تھا ،اس نے تجربے کے زور پر اس حقیقت کو پا لیا تھا کہ سچی بات کہہ دی جائے تو سننے والا حیران رہ جاتا ہے اسکے دل میں نفرت کی بجائے دلچسپی اور ہمدردی پیدا ہو جاتی ہے اور کبھی کبھی احترام بھی - اس کے علاوہ کہنے والے کے دل پر بوجھ نہیں رہتا اور بات کہہ دی جائے تو وہ پھوڑا نہیں بنتی ،اس میں پیپ نہیں پڑتی ،اکثر اوقات لوگ سمجھتے ہیں کہ مذاق کر رہا ہے انہیں یقین ہی نہیں آتا ۔ 
صفحہ 894۔۔۔۔
ایلی جذباتی طور پر ڈرا ہوا بچہ تھا اور ذہنی طور پر ایک نڈر مفکر۔
صفحہ 1010۔۔۔۔۔۔۔۔
شادی کے متعلق ایلی اب سوچنے سمجھنے اور پرکھنے کا قائل نہ رہا تھا ۔ زندگی میں بہت سی باتیں جو اس نے سوچ سمجھ کر کی تھیں ان کا انجام اچھا نہ ہوا تھا ۔ عورت کے متعلق تو اسے یقین ہو چکا تھا کہ وہ چاند کی طرح ایک مخصوص پہلو آپ کے سامنے پیش کرتی ہے اورعورت کے کئی ایک پہلو ہیں ، متبسم پہلو ، متذبذب پہلو ،'مجھے کیا ' پہلو ۔ 
ایلی سمجھنے لگا تھا کہ شادی ایک جوا ہے چاہے آنکھیں پھاڑ کر کھیلو یا آنکھیں بند کر کے۔
صفحہ 1018۔۔۔۔۔۔
اس روز ایلی نے محسوس کیا کہ وہ مسلمان تھا ۔ سیاسی خیالات کا سوال نہ تھا ،مسلم لیگی اور کانگرسی کا سوال نہ تھا، یہ سوال نہ تھا کہ آیا وہ اسلام سے واقف ہے آیا وہ شریعت کا پابند ہے یہ سوال نہ تھا کہ آیا رام دین سا مسلمان ہے یا محمدعلی سا۔۔۔۔
سوال صرف یہ تھا کہ وہ مسلمان ہے یا ہندو ۔ ایلی نے محسوس کیا کہ وہ مسلمان ہی نہیں بذات ِخود پاکستان ہے چاہے وہ پاکستان کے حق میں تھا یا خلاف ۔۔ چاہے وہ اسلام سے بیگانہ تھا ۔۔ چاہے وہ مذہبی تعصب سے بےنیاز تھا وہ بذات ِخود پاکستان تھا۔ اس کے دل میں کوئی چلا رہا تھا ۔۔۔۔ پاکستان زندہ باد ۔۔۔۔ پاکستان زندہ باد
صفحہ 1019۔۔۔۔۔۔۔
ایلی کے تمام خیالات درہم برہم ہورہے تھے اس کا ذہن گویا ازسرِنو ترتیب پا رہا تھا ،پرانے خیالات کی اینٹیں اُکھڑی جا رہی تھیں ،نئی اینٹیں نہ جانے کہاں سے آ گئی تھیں اور اس کے ذہن میں آپ ہی آپ لگی جا رہی تھیں ۔
صفحہ 1029۔۔۔۔۔۔۔۔
ریڈیو پاکستان ۔۔۔ ایلی ریڈیو کھول کر بیٹھا تھا ۔ گھڑی نے بارہ بجا دئیے،ایلی کا دل دھک سے رہ گیا ۔ بارہ بجے اعلان ہونے والا تھا ۔آج وہ محسوس کر رہا تھا جیسے وہ اعلان اس کی زندگی کا اہم ترین واقعہ ہو جیسےآج اس کی قسمت کا فیصلہ ہونے والا ہو۔ وہ یہ بھول چکا تھا کہ وہ مذہبی تعصب سے بلندوبالا ہے وہ یہ بھول چکا تھا کہ قیام ِپاکستان سے بیگانہ ہے وہ ہندوستان اورعوام کی بہتری کے فلسفے کو فراموش کرچکا تھا وہ محسوس کر رہا تھا کہ وہ بذات ِخود پاکستان ہے اور اس روز اس کی حدود طے ہونے والی تھیں وہ محسوس کر رہا تھا جیسے وہ ایک بادشاہ ہو اور پاکستان کے قیام کا اعلان دراصل اس کی رسمِ تاجپوشی کا اعلان تھا ۔اسے معلوم ہونا تھا کہ اس کی قلمرو کہاں سے کہاں تک ہو گی لیکن وہ خوش نہ تھا ایک انجانی اُداسی اور پریشانی اس پر مسلط تھی جیسے اسے یقین نہ ہو کہ اس کی قلمرو اسے مل جائے گی وہ مضطرب تھا بے حد مضطرب ۔۔۔۔

"علی پور کا ایلی"

ایک اٹھارہ سالہ لڑکی کی ڈائری سے جناب ممتاز مفتی کی "علی پور کا ایلی" سے چند اقتباسات جواس وقت نوٹ کیے جب وہ خود
بھی ان کے اصل مفہوم سے ناآشنا تھی۔
" علی پور کا ایلی" 
ممتاز مفتی 
سال اشاعت۔۔۔۔ 1962کتاب پڑھی ۔۔۔۔۔ 1985 
۔۔۔۔۔
پیش لفظ۔۔۔
یہ روئیداد ہے
ایک ایسے شخص کی جس کا تعلیم کچھ نہ بگاڑ سکی۔ 
جس نے تجربے سے کچھ نہ سیکھا۔ 
جس کا ذہن اور دل ایک دوسرے سے اجنبی رہے۔ 
جو پروان چڑھا اور باپ بننے کے باوجود بچہ ہی رہا۔ 
جس نے کئی ایک محبتیں کیں لیکن محبت نہ کر سکا جس نے محبت کی پھلجڑیاں اپنی انا کی تسکین کے لیے چلائیں لیکن سپردگی کے عظیم جذبے سے بیگانہ رہا اور شعلہ جوالہ پیدا نہ کر سکا جو زندگی بھر اپنی انا کی دھندلی بھول بھلیوں میں کھویا رہا حتٰی کہ بالاآخر نہ جانے کہاں سے ایک کرن چمکی اور اسے نہ جانے کدھر کو لے جانے والا ایک راستہ مل گیا۔
صفحہ 343 ۔۔۔۔۔ 
ان دنوں ایلی یہ نہ جانتا تھا کہ عورت کے لیے محبت محض ایک ماحول ہے چرن تپسیہ بھری نگاہوں اور رومان بھرے خوابوں سے بنا ہوا ماحول ۔ اُسے یہ معلوم نہ تھا کہ عورت کو مردانہ جسم کی خواہش ضمنی ہوتی ہے اس کے نزدیک محبت ایک ذہنی تاثر ہے جسم کو وہ صرف اس لیے برداشت کرتی ہے کہ وہ طلسم نہ ٹوٹے ،وہ تپسیہ بھری نگاہیں گم نہ ہو جائیں۔ 
صفحہ488 ۔۔۔۔۔۔
اب وہ محسوس کرنے لگا تھا کہ محبت میں ذہنی بے تعلقی کامیابی کی ضامن ہوتی ہے اورانسان جس قدر متاثر ہوتا ہے اسی قدر ناکام رہتا ہے شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ عورت فطری طور پر اس مرد کی تسخیر پر شدت سے آمادہ ہوتی ہے جو ناقابل ِ تسخیر نظر آئے اور جو دل وجان سے اس کا ہو چکا ہو اس میں کوئی دلچسبی محسوس نہیں کرتی ۔
صفحہ 584۔۔۔۔ 
ایلی کو ابھی تک یہ علم نہ تھا کہ عشق میں ازلی طور پر خود کشی کا عنصر ہوتا ہے۔عشق بذات ِخود عاشق کو محبوب
کے وصال سے محروم کر دیتا ہے،اس علم نہ تھا کہ محبت محبوب کا حصہ ہے عاشق کا نہیں اوراگر کسی کی محبت حاصل کرنا مقصود ہو تو اسے محبوب بننے کی کوشش کرنا چاہیے نہ کہ عاشق اور بے نیازی محبوب کی بنیادی خصوصیت ہے۔ 
صفحہ 891۔۔۔۔۔ 
شرارت وہ لوگ کرتے ہیں جن پر شبہ نہ کیا جاسکے یا جن کا اعمال نامہ صاف ہو اوران پر حرف نہ آسکے۔ بدنام آدمی تو اپنا جائز تحفظ بھی نہیں کر سکتا وہ تو کانچ کے گلاس کی طرح ہوتا ہے ذرا ضرب لگی اورٹوٹ گیا۔
جھوٹ - سچ ۔۔۔۔۔ ایلی نے زندگی میں نئی بات سیکھی تھی وہ سچ کے ذریعے جھوٹ بولتا تھا ،اس نے تجربے کے زور پر اس حقیقت کو پا لیا تھا کہ سچی بات کہہ دی جائے تو سننے والا حیران رہ جاتا ہے اسکے دل میں نفرت کی بجائے دلچسپی اور ہمدردی پیدا ہو جاتی ہے اور کبھی کبھی احترام بھی - اس کے علاوہ کہنے والے کے دل پر بوجھ نہیں رہتا اور بات کہہ دی جائے تو وہ پھوڑا نہیں بنتی ،اس میں پیپ نہیں پڑتی ،اکثر اوقات لوگ سمجھتے ہیں کہ مذاق کر رہا ہے انہیں یقین ہی نہیں آتا ۔ 
صفحہ 894۔۔۔۔
ایلی جذباتی طور پر ڈرا ہوا بچہ تھا اور ذہنی طور پر ایک نڈر مفکر۔
صفحہ 1010۔۔۔۔۔۔۔۔
شادی کے متعلق ایلی اب سوچنے سمجھنے اور پرکھنے کا قائل نہ رہا تھا ۔ زندگی میں بہت سی باتیں جو اس نے سوچ سمجھ کر کی تھیں ان کا انجام اچھا نہ ہوا تھا ۔ عورت کے متعلق تو اسے یقین ہو چکا تھا کہ وہ چاند کی طرح ایک مخصوص پہلو آپ کے سامنے پیش کرتی ہے اورعورت کے کئی ایک پہلو ہیں ، متبسم پہلو ، متذبذب پہلو ،'مجھے کیا ' پہلو ۔ 
ایلی سمجھنے لگا تھا کہ شادی ایک جوا ہے چاہے آنکھیں پھاڑ کر کھیلو یا آنکھیں بند کر کے۔
صفحہ 1018۔۔۔۔۔۔
اس روز ایلی نے محسوس کیا کہ وہ مسلمان تھا ۔ سیاسی خیالات کا سوال نہ تھا ،مسلم لیگی اور کانگرسی کا سوال نہ تھا، یہ سوال نہ تھا کہ آیا وہ اسلام سے واقف ہے آیا وہ شریعت کا پابند ہے یہ سوال نہ تھا کہ آیا رام دین سا مسلمان ہے یا محمدعلی سا۔۔۔۔
سوال صرف یہ تھا کہ وہ مسلمان ہے یا ہندو ۔ ایلی نے محسوس کیا کہ وہ مسلمان ہی نہیں بذات ِخود پاکستان ہے چاہے وہ پاکستان کے حق میں تھا یا خلاف ۔۔ چاہے وہ اسلام سے بیگانہ تھا ۔۔ چاہے وہ مذہبی تعصب سے بےنیاز تھا وہ بذات ِخود پاکستان تھا۔ اس کے دل میں کوئی چلا رہا تھا ۔۔۔۔ پاکستان زندہ باد ۔۔۔۔ پاکستان زندہ باد
صفحہ 1019۔۔۔۔۔۔۔
ایلی کے تمام خیالات درہم برہم ہورہے تھے اس کا ذہن گویا ازسرِنو ترتیب پا رہا تھا ،پرانے خیالات کی اینٹیں اُکھڑی جا رہی تھیں ،نئی اینٹیں نہ جانے کہاں سے آ گئی تھیں اور اس کے ذہن میں آپ ہی آپ لگی جا رہی تھیں ۔
صفحہ 1029۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لاہور شہر میں ویرانی چھائی ہوئی تھی۔ سڑکیں خالی پڑی ہوئی تھیں۔ لوگ اپنے اپنے گھروں میں چھپے بیٹھے تھے۔ رات کے وقت گولیاں چلنے کی آوازیں سنائی دیتیں اور پھر موت کی سی خاموشی چھا جاتی۔ صبح سڑکوں پر یہاں وہاں لاشیں دکھائی دیتیں۔ انہیں دیکھ کر اپنے قدم راہگیر اور تیز کر دیتے تھے۔ سپاہی واردات کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر منہ موڑ لیتے جیسے انہیں علم ہی نہ ہو کہ کیا ہورہا ہے۔
مسلمانوں کی بےتابی بڑھ رہی تھی۔ بڑھتی جارہی تھی کہ 14 اگست کا دن قریب آرہا تھا۔اس روز پاکستان کا قیام عمل میں آنے والا تھا اور ریڈکلف ایوارڈ کا اعلان ہونے والا تھا۔
اس شام شہر پر مکمل خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ بازار سنسان پڑے تھے۔ سڑکیں ویران تھیں۔ لوگ گھروں میں سہمے ہوئے 

بیٹھے تھے۔ بازاروں میں مسلح فوج ہاتھوں میں مشین گنیں لئے گھوم رہی تھی۔ سڑکوں پر فوجی ٹرک کھڑے تھے۔
ایلی ریڈیو کھول کر بیٹھا تھا۔
گھڑی نے بارہ بجا دئیے۔ ایلی کا دل دھک سے رہ گیا۔ بارہ بجے اعلان ہونے والا تھا۔
آج وہ محسوس کر رہا تھا جیسے وہ اعلان اس کی زندگی کا اہم تریں واقعہ ہو۔ جیسے آج اس کی قسمت کا فیصلہ ہونے والا ہو۔ وہ یہ بھول چکا تھا کہ وہ مذہبی تعصب سے بلند و بالا ہے۔ وہ یہ بھول چکا تھا کہ قیام پاکستان سے بےگانہ ہے۔ وہ ہندوستان اور عوام کی بہتری کے فلسفے کو فراموش کرچکا تھا۔ وہ محسوس کررہا تھا جیسے وہ ایک بادشاہ ہو اور پاکستان کے قیام کا اعلان دراصل اس کی رسم تاج پوشی کا اعلان تھا۔ اس روز اسے معلوم ہونا تھا کہ اس کی قلمرو کہاں سے کہاں تک ہوگی۔ لیکن وہ خوش نہ تھا۔ ایک ان جانی اداسی اور پریشانی اس پر مسلط تھی جیسے اسے یقین نہ ہو کہ اس کی قلمرو اسے مل جائے گی۔ وہ مضطرب تھا۔ بے حد مضطرب۔
دفعتاََ حاجی صاحب اس کے روبرو آ کھڑے ہوئے۔ ان کی گردن ہل رہی تھی۔
" وقت آئے گا "۔ وہ مسکرائے۔ " انشاء اللہ "۔ وہ بولے۔
پاگ بابا چلانے لگا:" وہی کرنے والا ہے۔ وہی کرتا ہے۔ اسی کا کام ہے۔ وہ جانے۔ میں کون ہوں۔ میں تو کچھ بھی نہیں "۔
پھر ایک رومی ٹوپی ابھر رہی تھی۔ ابھر رہی تھی۔ ان کے پیچھے کنواں گڑ گڑا رہا تھا۔ سفید چادر میں لپیٹی ہوئی مسجد سجدے میں پڑی تھی۔
رومی ٹوپی والے نے مڑ کر دیکھا۔ اس کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل رہی تھی۔ اس پھیلتی ہو مسکراہٹ کو دیکھ کر دراز قد نے آنکھیں بند کر لیں۔
" الحمد اللہ۔ الحمد اللہ "۔ مدھم سی سر گوشی ابھری۔
ریڈیو نے مہر سکوت توڑ دی۔
طبل بجنے لگا۔
جیسے دور بہت دور ایک دل دھڑک رہا ہو۔
وہ مدھم دھڑکن قریب آرہی تھی۔ اور قریب۔ اور قریب۔
" ہم ریڈیو پاکستان سے بول رہے ہیں "۔
اعلان ایلی کے بند بند میں گونجا۔
پھر دھڑکن بن کر اس کے دل کی گہرائیوں میں اتر گیا۔ اس کا سر بھن سے اڑ گیا۔ جیسے کسی نے بارود کو آگ دکھا دی ہو۔
پھر اس کے بدن پر چیونٹے رینگ رہے تھے۔ چیونٹے ہی چیونٹے۔
پھر کسی نے اس کے سر پر تاج رکھ دیا۔
" پاکستان زندہ باد "۔ کوئی چلایا۔
اس کے روبرو دنیا بھر کے مسلمان قطاروں میں کھڑے تھے اور ہر مسلمان کے سر پر تاج تھا۔
۔۔۔

منگل, اکتوبر 22, 2013

" ایک صبح ایک کہانی "

اس گھرمیں ایسا منظراُس کی آنکھوں پر پہلے کبھی نہ اترا تھا ۔ وہ خواب لمحوں میں رہنے والی اور خوابوں کے ہر رنگ کو محسوس کرنے والی ایک بھٹکتے خواب کی مانند تھی ۔ اُس کے خیال کا کینوس بہت وسیع تھا جب چاہتی اپنی مرضی سے کہیں بھی سوچ کے رنگوں سے کھیل کر تصویرکشی شروع کر دیتی ۔ کبھی اداس،کبھی شوخ توکبھی تن من شرابور کرتے رنگ اُس کے دوست تھے،ساتھی تھے جو اپنی آغوش میں اُس کے آنسو اُس کی سرگوشیاں سب سمیٹ لیتے۔
 یہ عید کے پانچوں روز کی خاموشی اور ملگجے اندھیرے میں ڈوبی ایک صبح تھی۔ رات ہی تووہ ایک ڈھولکی سے آئی تھی ۔ اگلے روز نکاح تھا اور اہلِ خانہ نے نیک شگون کے طور پر اللہ کے نام سے ابتدا کی تھی اب دلہن کی سکھیاں اُس کے مہندی لگا رہی تھیں ،خوب ہلہ گلہ تھا۔ وہ چہروں کو پڑھتی اُن سے باتیں کرتی تھی ۔ مہمان جو دور سے آئے تھے اُن کا حال احوال پوچھتی تھی ۔ کچھ قریبی عزیز دیرسے پہنچے پتہ چلا کہ گاؤں میں فوتیگی ہو گئی ہے۔ اُن کے اداس چہرے دیکھے تو تفصیل اداس کرگئی ۔ ایک جوان بچہ جس کی عید کے فوراً بعد شادی طے تھی عید سےمحض ایک روز قبل بسترپرپڑا اوربظاہر کالے یرقان یا ڈینگی کے ہاتھوں محض چارپانچ روزمیں ہی جان کی بازی ہار گیا۔ عید پرقربانی کی غرض سے فروخت کے لیے اس نے جانور پالے تھےاورشادی اور زیورات کے لیے پیسے جمع کر رہا تھا۔ یہ بات اس نے خود کسی جاننے والے کو بکرا فروخت کرتے ہوئے بتائی تھی۔ اب اس کا بوڑھا باپ پلنگ کی پائینتی سے نہ اُٹھتا تھا کہ جانے کی عمر میری تھی یہ کیسے چلا گیا۔
اُس نے خاص طور پرماں کا پوچھا تو پتہ چلا کہ ماں کا چند برس پہلے انتقال ہو چکا ہے۔ پتہ نہیں یہ اُس کی کیسی عادت تھی کہ جب کسی ایسی ناگہانی موت کا سنتی تو پہلا خیال ماں کی طرف جاتا۔
جیسے عید کے روز پنڈی میں  پیچھے کھڑا بیس سالہ لڑکا جانور بدکنے کے بعد ذبح کرنے والے کی چھری کی نوک لگنے سے جاں بحق ہو گیا تھا۔ وہ بھی اُس کے عزیزوں کے محلے میں اوران کے جاننے والے تھے۔ یہ لڑکا جانور ذبح ہوتے نہ دیکھ سکتا تھا اوراس سے پہلے کبھی اتنا نزدیک گیا بھی نہیں تھا لیکن اس روز موت کا فرشتہ اسے اتنا قریب لے آیا کہ جانور کی شہ رگ سے پہلے چھری اسکی شہ رگ پر چل گئی ۔ اس وقت اُسے برائے نام چُبھن محسوس ہوئی غیر ارادی طور پر اپنا ہاتھ رکھا اور کسی کو پتہ بھی نہ چلا کہ کیا ہوا لیکن کچھ دیر بعد جب ہاتھ اُٹھایا پھرجو خون کا فوارہ اُبلا ہے تورُکنے میں نہ آیا۔
عید کے روز یہ منظر جب اُس کے کانوں نے سنا تویوں لگا جیسے وہ خود وہاں تھی ۔ اُس  نے سر سے پیر تک اپنے ہی خون میں نہایا ہوا اُس کا وجود دیکھا اورپھراُسے کسی طرح موٹر سائیکل پر بٹھا کر ہسپتال کے لیے روانہ ہوئے تو اُس کی ٹانگوں نے وزن سہارنے سے انکار کردیا اورپتہ نہیں کس طرح سڑک کے ساتھ گھسٹتا اس کاخونی جسم ہسپتال پہنچا اورایمرجنسی میں موجود ڈاکٹروں نے جانے کس حوصلے کا مظاہرہ کرتے ہوئے اُس کو دیکھا ہو گا ۔ خون اتنا بہہ چکا تھا کہ وہ جاں برنہ ہوسکا۔ رات ہی اُس نے بہن سے کہا تھا کہ کل قربانی کے بعد میں نے لمبی نیند سونا ہے۔
اُس کا کہا حرف بہ حرف ثابت ہوا،پروہ بےخبر نہیں جانتا تھا کہ جانور کی قربانی سے پہلے کس کی قضا لکھی ہے۔ 
اُس کی ماں اُس سے پہلے دنیا سے جا چکی تھی "۔"
 بڑی عید کے دنوں میں مہمانوں کے ساتھ عید کی خوشیاں بانٹنے کا سب سے بڑا ذریعہ جہاں اپنی اپنی قربانیوں سے جڑے دلچسپ وعجیب واقعات ایک دوسرے کو بتانے کا ہوتا ہے وہیں اس طرح کے دل گرفتہ سانحات بھی عید کا خاصہ ہیں جو ایک پل کو دل کی دھڑکن روک لیتے ہیں۔
بات کہاں سے کہاں چلی گئی ۔ تو اُس رات وہ خوشیوں اور دکھوں کی پوٹلیاں پرول رہی تھی ۔ یہ خوشیاں جو اُس گھرکے آنگن میں پہلی بار اتری تھیں۔ رات گئے گھر آئے تو سب صبح کی تیاریوں میں لگے ہوئے تھےاُس نےبھی تھوڑا بہت حصہ لیا پھرسو گئی ۔ صبح سویرے اُٹھنے کے بعد عید کے پانچویں روز کی خاموش صبح اب پرندوں کی چہچہاہٹ اور نکلتے سورج کی روشنی سبزہ زارکا منظر واضح کر رہی تھی جو اس وقت صرف اُس کی آنکھوں پر اپنی سچائی کے ساتھ عیاں تھا۔ وہ تقریبِ نکاح اُس کے اپنے گھر میں ہی تھی ۔ یہ اس بچی کی نانی کا گھر تھا اوروہ اللہ کی عنایتوں پر حیرت کے ساتھ شکر ادا کرتی تھی ۔
تیس برس پہلے اس گھر کے سبزہ زار میں  گھر کی سب سے بڑی بیٹی کی بارات اتری تھی۔وہ شاید پرانا زمانہ تھا جب گھروں میں شادی کی تقاریب کرنے کا رواج تھا ۔ جن کے گھر چھوٹے ہوتے تھے وہ گلی محلے میں قنات لگا کر اپنی خوشی میں سب کو شریک کرتے تھے۔ شادی ہالوں یا ہوٹلوں تک رسائی عام آدمی کی پہنچ میں نہ تھی بلکہ عام لوگ اسے اچھا بھی نہ سمجھتے تھے۔ اب تیس برس کے عرصے میں اس گھر کے سب بچوں کی شادیاں ہوئیں لیکن گھر صرف مہندی کی رونق تک ہی محدود رہا۔ یہ ایک عجیب اتفاق تھا کہ تیس برس پہلے پانچ اکتوبر 1983 کو اس گھر میں جس لڑکی کی بارات آئی تھی اب بیس اکتوبر 2013 کو دوسری بارات اُسی کی  بیٹی  کی تھی ۔
یہ قصہ کہانی بیان کرنے والی کی  اپنی ذات کے حوالے سے یہ منظر اس لیے بہت خاص تھا کہ برسوں قبل  آخری بار اس گھرمیں نہایت شاندارمہندی کی تقریب جو ہوئی تھی وہ اُس کی اپنی شادی کی تھی۔وہ اُس لمحے یہاں نہیں تھی لیکن نہ ہوتے ہوئے بھی خاص مہمان تھی۔
 اہم بات یہ ہے کہ پچیس برس کے عرصے میں اُس کی آنکھوں نے اس گھر کے درودیوارمیں غم کی سسکیاں تک محسوس نہیں کیں,یہ اللہ کا بہت بڑا انعام ہے۔ وہ شخص جس نے اس گھر کی بنیاد رکھی تھی اُس کے آنے سے پہلے چار سال قبل اپنے آخری ٹھکانے کو جا چکے تھے۔
گھر کی بنیاد کہانی بھی عجیب ہے۔ تقریباً پچاس سال پہلے پی او ایف فیکٹری نے اپنے ملازمین کو سہولت دی کہ وہ قسطوں پر پیسے جمع کرا کر اپنی مرضی سے گھر کی بکنگ کرا لیں تو اس گھر کے مالک نے اپنی جیب دیکھ کر ایک چھوٹے پلاٹ پر گھر کے لیے پیسے جمع کرائے تو اُن کے ایک مخلص ساتھی نے بنا پوچھے اپنے پاس سے پیسے پورے کر کے بڑے گھر کے لیے بکنگ کرا دی بعد میں کہہ دیا کہ یہ قرض ہے جب سہولت ہو دے دینا ۔۔۔اس بڑے گھر میں وہ اپنے آٹھ بچوں میں سے صرف دو کی خوشیاں ہی دیکھ سکے ۔
۔"یہ دنیا واقعی  مٹی کی دنیا ہے جس میں خواہشوں کے بیج کوئی ڈالتا ہے اورخوشیوں کی فصل کوئی اورکاٹتا ہے۔ ہمیں صرف اپنے حصے کا کام کرنا ہے بیج ڈالتے رہنا ہے ورنہ بنجر زمینوں کے دکھ نسلوں کو کاٹنا پڑجاتے ہیں"۔
!آخری بات 
دنیا محض ایک میلہ ہے اور میلہ خانہ بدوشوں کے قبیلے کی طرح ہوتا ہے جو کسی بھی وقت کوچ کر سکتا ہے۔اللہ کے کرم،اس کی نوازشات اوراُس کے"شکر" کا ادراک جس لمحے ہو جائے،اُس لمحے کو اپنا لیں،مٹھی میں قید کر لیں تو بہت سی گرہیں کھلتی چلی جاتی ہیں۔حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ "لمحے تو تتلی کی طرح ہوتے ہیں یا تو گرفت میں آتے نہیں اور آجائیں توبےجان وجود کی صورت مٹھی سے پھسل پھسل جاتے ہیں"۔

سوموار, اکتوبر 14, 2013

"ایک برس اور"


"ایک برس اور"
اکتوبر13۔۔۔۔2012 تا اکتوبر 13 ۔۔۔2013
قلم سے کی بورڈ تک کے سفر میں بلاگ لکھتے ہوئے ایک سال مکمل ہوا۔پیچھے مڑ کر دیکھوں تو اس دوران دوسروں کی نظروں سے اپنا آپ پڑھ کر نہ صرف خود کو دریافت کیا بلکہ اپنے اندر بھی بہت سی ایسے رنگوں کو کھوجا جن سے پہلے ناواقف تھی۔اتنا زیادہ لکھنا اورپھر وہ کسی کے پڑھے جانے کے قابل بھی ہو اس کا خواب تو کیا کبھی خواب میں بھی تصور نہ کیا تھا۔لکھتی تو برسوں سے تھی لیکن کبھی کبھار سال میں ایک آدھ بار چند سطریں ۔۔۔ شاعری کی صورت یا پھر کچھ بےترتیب جملے۔ 31 مارچ کو فیس بک اکاؤنٹ بنایا۔ بدیسی اردو میں لکھتے ہوئے ادھورے پن کا احساس ہوتااورمیں فقط اس نرالی دنیا کے رنگ ڈھنگ ہی دیکھتی جاتی ۔تین ماہ تک کسی کو بھی ایڈ نہ کیا اسی دوران کسی لنک پر جناب ایم بلال ایم کی اردو کاوشوں پر نظر پڑی تو جھٹ رابطہ کیا اوریوں اُنیس ستمبر 2012کی شام پہلا اُردو لفظ اپنی وال پر لکھا تو دل خوشی سے جھوم گیا۔
میرا آخری رومن اردواور پہلا اردو فیس بک اسٹیٹس ۔
۔۔۔۔

بس یہی میری منزل تھی لیکن پھر بھی جانےکیوں تسلی نہ تھی۔اوائل اکتوبر کی کسی تاریخ کو ایم بلال ایم کی بلاگ کے حوالے سے ایک پوسٹ "اپنے قیمتی الفاظ ضائع  مت کیجئیے" پڑھ کرچونک گئی تو پھر پتہ چلا کہ بلاگ کیا ہوتا ہے لیکن بنانے کا طریقہ معلوم نہ تھا۔
ایم بلال ایم کے مجوزہ بلاگ "اپنے قیمتی الفاظ ضائع نہ کریں" پر میرا تبصرہ ۔۔۔ جو کسی بھی بلاگ پر پہلا اظہارِ خیال بھی ہے۔
بلال صاحب کی مدد لی اور یوں 13 اکتوبر کی شام پہلا بلاگ لکھا۔ بس اس کے بعد تو ایک نشہ تھا کہ جس کی طلب بڑھتی تھی جتنا چڑھتا جاتا تھا۔ نہ صرف کاغذوں پر لکھے ہوئے پچھلے احساسات کو بلاگ کی صورت قلمبند کرتی بلکہ اب تو زیادہ تر روز کا روز ہی کچھ نیا بلاگ میں لکھنا اچھا لگتا۔بلاگ کا نام "گلیکسی آف تھاٹس"ایک دم ہی ذہن میں آیا یہ تو بعد میں دیکھا کہ اس نام سے کئی ایک گروپ گوگل اور فیس بک پر موجود تھے۔ 
پانچ ماہ بعد جب میں نے اپنا انگریزی بلاگ الگ سے بنایا تو اُردو بلاگ کو "کائناتِ تخیل" کا جامہ پہنا دیا۔بس اب میں اپنی سلطنت کی شہزادی تھی جو سوچتی فوراً لکھ کرپوسٹ کر دیتی اوراسی لمحے کسی ایک کا کلک بھی اپنی ذات پرمیرا یقین بڑھا دیتا۔ سب سے یاد گار لمحہ وہ تھا جب ایک بلاگ"بیٹے کے نام " لکھ کر جیسے ہی پوسٹ کیا تو منٹوں میں جناب "اوریا مقبول جان" کا کلک آیا اورانہوں نے کمالِ مہربانی سے مجھے اپنے گوگل پلس سرکل میں نہ صرف شامل کیا بلکہ اسی وقت  گوگل چیٹ (بات) بھی کی۔ اسی طرح  چند ماہ پہلے میرے ایک خاصے مختلف بلاگ "دائرہ" کو پڑھ کرجناب "رضا علی عابدی" نے نہ صرف اپنے حلقے میں شامل کیا بلکہ لفظ کے دشت میں چلتے رہنے کا حوصلہ بھی دیا۔ سوچنے لکھنے اور پھر کہہ دینے کے اس سفر میں میرے ساتھ میرے ہی جیسے عام گمنام لوگ تھے۔ میں نے کبھی اپنے آپ کو کسی فہرست کے قابل نہیں جانا۔سچی بات یہ ہے کہ نہ ہی میرے لفظ اس قابل تھے۔ پر مجھے پروا بھی نہیں تھی کہ میرے رنگ خالص میرے اپنے تھے، سچے تھے، یہی بہت تھا۔ میرا سب سے خوبصورت بلاگ وہ تھا جب لفظ موتیوں کی طرح میرے سامنے بکھرتےتھے اورمیں بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اُن کو اسی طور لفظوں میں پروئےجاتی تھی ۔ لکھنے کے حوالے سے یہ میری زندگی کے یادگار لمحات تھے۔ وقت کم پڑ گیا لفظ ختم نہیں ہوئے اور یوں تین حصوں میں میرا بلاگ " میکن ایک تاثر" مکمل پوسٹ ہو سکا ۔  اس کا دوسرا اور تیسرا حصہ بھی ایک مکمل کہانی سموئے ہوئے تھا ۔
لکھنے کاسفر جاری ہے۔ میرا بلاگ میری ڈائری کی طرح ہے۔ بےساختہ احساسات گزرتے ماہ وسال جو ہم صرف اپنے لیے لکھتے ہیں اپنی مرضی سے جب دل چاہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ میں اب یہ ڈائری لکھ کرہوا میں بکھیر دیتی ہوں اورحیرانی کی بات یہ ہے نامعلوم چہرے اوراجنبی زبان بولتے لوگ بھی اسے پڑھ کر اپنی سوچ اپنی زندگی سے قریب محسوس کرتے ہیں۔
            

گوگل اورگاڈ - مجیب الحق حقی

گوگل اورگاڈ - مجیب الحق حقی بشکریہ۔۔دلیل ویب سائیٹ۔۔اشاعت۔۔11نومبر 2017۔ خدا کی قدرت اتنی ہمہ گیر کس طرح کی ہوسکتی ہے کہ کائنات کے ہر ...