صفحہِ اول

بدھ, ستمبر 18, 2013

"موم کی گڑیا "

"موم کی گڑیا "
وہ عورتیں جو ہم مردوں کی زندگی میں جیون ساتھی کے روپ میں آتی ہیں موم کی طرح ہوتی ہیں۔ ہم اُنہیں اپنی مرضی سے جس روپ میں چاہیں ڈھالتے اور استعمال کرتے ہیں۔دُنیا سے ملنے والے ہر سبق کو ان کے جسم اور روح کی کوری سلیٹ پر لکھتے ہیں۔اپنی مایوسیوں ،محرومیوں ،خواہشوں اور چاہتوں کی ساری کترنیں اُن کے وجود کے ڈسٹ بن میں اُتار دیتے ہیں۔کبھی کچھ نہ بھی کر سکیں تو باکسنگ پیڈ کی صورت اپنی بھڑاس تو نکال ہی لیتے ہیں۔نہ ختم ہونے والا اور نہ تھکنے والا یہ موم ہمارے ہاتھوں کے لمس   سے اپنی شناخت بدلتا رہتا ہے یہاں تک کہ ہم اس موم کی آنچ سے پگھل کر خود بھی موم بن جاتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ کوئی ہمیں بھی اسی طرح اپنے رنگ میں رنگ لے۔ لیکن یہ وہ وقت ہوتا ہے جب موم پتھر بن چکا ہوتا ہے۔بھربھری مٹی سے بنا پتھر کا مجسمہ جو آثارِ قدیمہ کی طرح نایاب تو ہوتا ہے۔ پُرکشش اور حسین تو دکھتا ہے لیکن قریب جانے سے چھونے سے ریزہ ریزہ ہو کر بکھر جاتا ہے۔ ہم مرد کبھی نہیں جان سکتے کہ عورت کو صرف ذرا سی زمین ہی تو درکار ہوتی ہے قدم رکھنے کے لیے۔۔۔ اپنے آپ کو کسی پیکر میں ڈھالنے کے لیے۔ یہ زمین چاہے دُنیا جیسے کسی بارونق بازار میں ملے یا کہیں کسی دل کے ویران کونے میں ۔
!حرفِ آخر
یہ بندھن عجیب بندھن ہے اس میں کوئی حرف ِآخر نہیں کہ کب کون موم بن جائے اور کون پتھر۔یہ تقدیر کے فیصلے ہیں اور موم بننا یا موم کا گڈا بنانا اس رشتے میں بُری بات نہیں اگر ایک حد میں ہو۔ اپنی حدود پہچان لیں توزندگی آسان ہو جاتی ہے۔

سوموار, ستمبر 16, 2013

"شیطان کہانی"

"انسان اور شیطان "
٭عمل شیطان کا  بھی قابلِ غور ہےقابلِ تقلید نہیں اورتقلید فرشتوں کی بھی قابل غور ہےقابلِ عمل نہیں۔
٭ شیطان کا عمل "اس کی نافرمانی" آدم اور ابنِ آدم کا پہلا سبق ہے۔انسان کے تمام اعمال اور افعال کی جزاوسزا کا دارومدار صرف پہلا سبق یاد کرنے اور آخری سانس تک یاد رکھنے میں مضمر ہے۔ وہ پہلا سبق جو آدم کے کسی بھی عمل سے پہلے اُس کے سامنےعیاں ہوا جسے آنکھ بند ہونے سے پہلے سمجھنے اور اس سے بچنے میں ہی ہمیشہ کی کامیابی ہے۔
٭انسان اس وقت تک انسان کہلانے کا اہل ہے جب تک وہ نہ صرف اپنے آپ کو بلکہ دوسرے کو بھی انسان سمجھتا رہے۔ جیسے ہی ہم اپنے آپ کو فرشتہ اور دوسرے کو شیطان سمجھنا شروع کرتے ہیں۔ فخروغرور کے پہلے پائیدان کو چھو لیتے ہیں۔ اسی طرح جب اپنے آس پاس فرشتوں کی موجودگی کے احساس سے تنہائی اور گھٹن کا شکار ہو جائیں تو شیطانی وسوسے سے بھی ایک قدم آگے بڑھ جاتے ہیں کہ شیطان بھی راندہءدرگاہ ہونے کے باوجود مایوسی کا شکار نہیں ہوا، اس نے مہلت مانگی جو عطا کی گئی۔
٭شیطان اور فرشتے کے درمیان سے گزر کر اپنا راستہ تلاش کرنا اور اپنے اعمال پر غور کرنا عین انسانیت ہے۔
٭انسان وہی ہے جو اپنے ہر اچھے اور برے فعل پر غور کرے۔۔۔اچھائی پر شکرگزار ہو اور برائی پر نادم ہو۔
٭انسان ہی شیطان کو پہچانتا ہےورنہ شیطان تو اپنی اصلیت چھپاتا ہی ہے۔
٭انسان مر جاتا ہے شیطان نہیں مرتا۔
٭انسان جانے کے لیے اور شیطان رہنے کے لیے ہے۔
٭انسان وہ ہے جو شیطان کو دھتکارتا ہے اور شیطان وہ ہے جو انسان کو شیطان بنا دیتا ہے۔
٭نیک انسان چراغ کی مانند ہے،وقتِ مقرر کے بعد اس نے بُجھنا ہی جانا ہے لیکن جانے سے پہلے اپنے حصے کی روشنی آگے منتقل کر کے چلا جاتا ہے جبکہ شیطان قیامت کا وہ جلتا سورج ہے جو ہمیشہ سوا نیزے پر رہتا ہے۔
٭آگ کبھی مٹی نہیں بن سکتی اس کے برعکس مٹی اپنے وجود میں آگ کی پرورش کرتی ہے۔
٭شیطان کبھی انسان نہیں بن سکتا لیکن انسان اکثر اوقات شیطان سے بڑھ کر شیطان بن جاتا ہے۔
٭انسان کو موت ہے،شیطان کو موت نہیں ۔
٭انسان ایک عالم سے دوسرے عالم میں چلا جاتا ہے لیکن شیطان سدا سے ایک ہی عالم میں ہے۔
٭شیطان کو سانپ کے مماثل کہا جاتا ہے جو اپنے بچوں کو بھی نہیں چھوڑتا۔اُس انسان کو کیا کہیں!شیطان یا سانپ جو زندگی کی کڑی دھوپ میں بچوں کے سر سے چھت اور پاؤں سے زمین نکالنے پر تُل جائے۔
٭زندگی صرف شیطان کو کنکریاں مارنے کا نام ہے۔رمی کا پورا عمل زندگی کہانی ہی تو ہے۔۔چلتے جاؤ آگے ہی آگے۔۔۔ذرا دیر کو رُکنے یا مڑنے کی گنجائش نہیں ۔۔۔ایک ہجوم ہے ایک بھگدڑ ہے۔اس میں بڑے کرم کی بات ہے کہ کسی عام کو کائناتِ وقت میں کچھ خاص لمحے عنایت ہوجائیں جب وہ محنت سے جمع کیے خواہشوں اور حسرتوں کے سنگریزے رب کے فرمان پر دھتکارنے کو تیار ہوجائے۔بند مٹھی میں قید بےقیمت حسرتیں پل میں یوں دان کر دے کہ پلٹ کر دیکھنے کی بھی خواہش نہ رہے۔رمی فقط اندرونی اور بیرونی کیفیت کے اظہار کا نام ہے۔۔۔۔"اندر نفس باہر شیطان"۔
آخری بات
انسان سیکھنا چاہے تو شیطان بھی بہت کچھ سکھا دیتا ہے۔ اور مہرلگ جائے تو ولی اللہ کا قرب بھی کھائی میں گرنے سے نہیں بچا سکتا۔

ہفتہ, ستمبر 07, 2013

" بابا صاحبا۔۔۔راہِ رواں "

 







 

بابا صاحبا۔۔۔ اشفاق احمد
 راہِ رواں۔۔۔بانو قدسیہ 
راہ رواں اور بابا صاحبا   ایسی دو کتابیں ہیں کہ ان میں  سوچنے والے اذہان کے سوال کا جواب کسی حد تک دینے کی صلاحیت ہےکہ ہر سوال کا جواب تو کتاب اللہ سے بہتر کہیں سے نہیں مل سکتا۔یہ دونوں کتب محترمہ بانو قدسیہ کی جانب  سے مرتب کی گئیں اور جناب اشفاق احمد کی وفات(سات ستمبر 2004) کے بعد آنے والے سالوں میں شائع ہوئیں۔
۔'بابا صاحبا'   کے پہلے نصف میں  محترم اشفاق احمد  ارض رومِ    میں قیام کے دوران   حیران کن  واقعات ،تجربات اور  شخصیات سے
  ملواتے ہیں  تو اختتام تک آتے آتے ڈیروں اور باطنی سفر    کے مرحلوں میں قاری کو شریک کرتے ہیں۔"بابا صاحبا "میں دل کی ان کہی سرگوشیاں اورانمول یادوں کی ایسی سوغاتیں ہیں جنہیں وہ اپنی کسی کتاب کی جلد میں قید کر سکے اور نہ ہی کبھی"زاویہ" کی بیٹھک میں اپنے سامعین کے روبروبیان کیا۔
۔'  راہِ رواں 'دو انسانوں کے   ایک   تعلق    کے پہلے سانس سے آخری سانس تک کی داستان ہے۔ ایک چلا گیا اور دوسرا منتظر ہے بگل بجنے کا (4فروری 2017 کو محترمہ بانو قدسیہ انتقال فرما گئیں )۔ "باباصاحبا" جناب اشفاق احمد کی کتاب ہے تو "راہِ رواں" اشفاق احمد کو مرکز بنا کر لکھی جانے والی کتاب ہے۔ راہ رواں ایک عام کتاب نہیں بلکہ ا نمول ذاتی یادوں کی ایسی قیمتی  پٹاری ہے جسے پڑھتے ہوئے قاری ان دو محترم ہستیوں  کے سفرِزیست کی ریل گاڑی پر سوار ہو جاتا ہے،راستے میں ملتے اجنبی منظروں میں اپنائیت دکھتی ہے تو کہیں یہ منظراتنے قریب آ جاتے ہیں کہ    پڑھنے والے کے دل کو چھو کر اس کے اندر کا حال بیان کرنے لگتے ہیں۔ ان دو کتابوں کو پرانے زمانے کے "بہشتی زیور ّ کتاب کی طرح سے نئی زندگی شروع کرنے والے ہر انسان کو پڑھنا چاہیےاور جو اس بندھن میں بندھ کر بھی مطمئن نہ ہوں ان کے لیے بھی رہنمائی موجود ہے  
 ۔"راہ رواں ۔۔۔۔ بانو قدسیہ "۔۔۔یہ کتاب بانو قدسیہ اور اشفاق احمد کے ساتھ کی سفر کہانی ہے ، دونوں کی ساری کتب اور ہر تحریر کاعکس اس کتاب کے آئینے میں جھلکتا ہے، جس نے "راہِ رواں"نہیں پڑھی وہ بانو قدسیہ اور اشفاق احمد کے خیال کی گہرائی کو چھو نہیں سکا۔ اس بیش بہا کتاب میں ہر عمر اور ہر سوچ کے قاری کے ذہن میں اٹھنے والے زندگی کے پیچ وخم کے بہت سے راز کھلتے ہیں۔
رشتوں اور تعلقات کے رکھ رکھاؤ اور محبتعشق کی بھول بھلیوں کے ساتھ ساتھ دین اور دنیا کے اسرارورموز اپنی ذہنی سطح کے مطابق سمجھنے کے لیے میں نے آج تک اس سے بہتر تخلیق نہیں پڑھی ، اس کتاب کا ہر لفظ بار بار پڑھے جانےکے قابل ہے۔ 620 صفحات اور 1200 روپے قیمت کے ساتھ آج کے اس تیز رفتار دور میں یہ کتاب  ہر کسی کی پہنچ میں نہیں لیکن ٹیکنالوجی کا شکریہ کہ اب نیٹ سے ڈاؤن لوڈ کر کےپڑھی جا سکتی ہے۔

ڈاؤن لوڈ کا لنک۔۔۔۔

*http://www.novelshouse.com/rahe-rawan-urdu-book-by-bano-qudsia/
  *http://zubiweb.net/read-rahe-rawan-bano-qudsia/
  "راہ ِرواں"
صرف ایک راہ ہی نہیں  ایک مکمل شاہراہ ہے ۔زندگی کو جاننے کی ،رشتوں کو برتنے کی ،تعلقات کو سمجھنے کی ،بندھن کو پرکھنے کی ۔ یہ وہ داستان الف لیلٰی ہے جو پڑھنے والے کی اُس کے معیار،اُس کے مزاج پرآ کر تسکین کرتی ہے،چاہے کوئی تاریخ کا طالب ِعلم ہو یا محبت کے مدرسے کا طُفل ِمکتب اور یا پھر زندگی کے اسباق بار بار پڑھ کر اُکتا چکا ہو  ۔یہ کتاب ہر ایک کو ماں کی آغوش کی طرح اپنے دامن میں سمیٹ لیتی ہے۔ کتاب کے فنی اور ادبی محاسن سے قطع نظر اس کی خوشبو اتنی دل آویز ہے کہ اس پر بات کرنے کے لیے صفحات بھی کم پڑتے ہیں ۔
راہ رواں از بانو قدسیہ  سے   کچھ اقتباسات اور ساتھ ساتھ ان شخصیات  اور اہم واقعات کا حوالہ بھی جو جناب اشفاق احمد  اور بانو قدسیہ  کی زندگی کہانی میں اہم مقام رکھتے ہیں۔۔۔
 پہلا صفحہ : 7 ۔۔۔
گھر سے گھر تک ( آغاز ِکتاب) ۔
ساتھ رہتے ہوئے بھی خاں صاحب ہر انسان کی طرح  میرے لیے  مانوس اجنبی تھے۔ میں انہیں کالج میں ملی ۔ پھر ہم نے گھر بسایا ۔ کرائے کے مکان بدلے اورآخری مرحلے میں اپنا گھر 121- سی ،ماڈل ٹاؤن میں بنا لیا ۔جہاں سے وہ اپنے اصلی گھر کو روانہ ہو گئے۔ یہ گھر اُن کی رُخصتی کے بعد گھر نہ رہا ،شہرت مابعد کا خزینہ بن گیا۔
صفحہ 9۔۔۔۔۔
ہمارے بابا جی نوروالے کہا کرتے تھے کہ جس درجے کی توفیق نہ ہو اُس کا اعلان نہیں کرنا چاہیے۔یہ بات عمر کے آخری حصے میں سمجھ آئی لیکن اُس وقت خاں صاحب کو خط لکھ کر،خط پا کر کچھ ایسا سرور ملتا تھا کہ اس شغل سے چھٹکارا ممکن نہ تھا۔محبت کا دماغ میں وہیں وقوف ہے جہاں عادت،نشہ ،اُکساہٹ اور لذت کا مقام ہے۔ سگریٹ،ہیروئن،چرس،بھنگ،افیون یہ سارے شوق 'ھل من مزید' کا نعرہ لگاتے ہیں۔کچھ ایسی ہی کیفیت محبت کی بھی ہے۔۔۔یہ آخری بار مل لوں۔۔۔آخری باردیکھ لوں۔۔۔بس یہی آخری لمس ہوگا۔غالباً جنس اور محبت دو علیحٰدہ دماغی حصوں میں بسرام کرتے ہیں۔محبت تسلسل کی آروز مند ہے جبکہ  سیکس اُبال کی شکل میں گھیرا ڈالتی ہے۔۔۔محبت کا متلاشی کبھی کبھی جان سے گزر جانے کو بھی کھیل سمجھتا ہے،مشکل تب پیش آتی ہے جب محبت میں اعتراف کی گانٹھ دونوں رسیوں میں مضبوط ہو جاتی  ہے ۔
اب اس محبت کو دائمی بنانے کی اُلجھن شادی کا کہا اور اُن کہاوعدہ بن جاتی ہے۔۔۔۔روز ازل سے مرد اور عورت جب کبھی محبت کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں،اُنہیں معلوم نہیں ہوتا کہ یہ سفر جو اُنہیں ایک دوسرے سے کمٹ کر رہا ہے،لمبا بھی ہے اور پُرخطر بھی۔اس میں وعدے کا پاس بسااوقات گلے کا پھندا بن جاتا ہے۔جس طرح کبھی کبھی منشیات بڑی قیمت وصول کرتی ہیں۔ایسے ہی محبت اور شادی پر منتج ہونے والی محبت ایک بہت بڑا چیلنج بن کر زندگی میں داخل ہوتی ہے۔۔۔۔۔
جس درجے کی توفیق نہ ہو اُس کا اعلان کر چکنے کے بعد آدمی کو یہ سمجھ نہیں  آتا کہ روزمرہ زندگی میں نشہ آور سرور کہاں گم ہو گیا؟ وہ ربط باہمی کس مقام پر کیوں اور کیسےکل ایش میں بدل گیا۔۔۔انسان چونکہ فطرتاً آزاد ہے۔اس شادی کے بندھن میں جو سب سے بڑا چیلنج اُسے پیش آتا ہے ۔وہ یہی فری ول کی آزادی ہے۔
...... free will...... clash..... commit.
صفحہ :13 تا 31۔۔۔۔۔۔۔
: اشفاق صاحب ۔۔۔۔ خاندان تعارف
مہمند پٹھان ۔۔۔ پنجاب میں ہوشیارپور آباء واجداد کا پہلا ٹھکانہ
پردادا ۔۔۔ معظم خان
 دادا۔۔۔۔۔ دوست محمد خان۔۔ ریاست حیدرآباد دکن ۔۔۔ دربار میں اپنی فضیلت ،فارسی دانی اورعلم دوستی کے باعث اتالیق کے عہدے پر فائز رہے۔
والد ۔۔۔ محمد خان۔۔۔ گورنمنٹ کالج سے ملحق موٹمورنسی کالج میں( جسے عوام ڈنگر ہسپتال کہتے تھے) تعلیم حاصل کی بعد میں مُکستر مشرقی پنجاب کے ایک قصباتی گاؤں میں رہائش اختیار کی ۔
والدہ ۔۔۔۔ بی بی سردار بیگم 
صفحہ:19۔۔۔۔۔
 بابا محمد خاں کے گھر نو بچوں نے جنم لیا ۔عجیب سی بات ہے کہ سب بچے دو دو سال کے وقفے کے بعد 20 مئی کو پیدا ہوئے.صرف اشفاق صاحب 22 اگست1925ء میں اس دُنیا میں تشریف لائے ۔ سنا ہے اسی دن بابا دوست محمد خاں دُنیا سے رُخصت ہوئے تھے. سنا ہے خاں صاحب ہو بہو اپنے دادا سے مشابہ تھے۔
صفحہ :32۔۔۔۔۔ 
خاندان کا شجرۂ نسب
صفحہ :455 ۔۔۔۔۔ 
کھڑکی کے ساتھ لگ کر ایک نوجوان کھڑا تھا ۔ گورا چٹا خوبصورت لڑکا جس نے کھڑکی کے ساتھ کہنی ٹیک رکھی تھی۔ جس وقت میں وہاں پہنچی وہ فوراً مودب انداز میں ایک طرف ہو گیا ۔ نظریں نیچی رکھیں اور مجھ سے بات کرنے کی کوشش نہ کی ۔ جب میں فیس دے چکی تو برسر صاحب نے تعارف کے انداز میں کہا " بی بی یہ اشفاق صاحب ہیں۔ یہ آپ کے ساتھ ایم اے اُردو کریں گے۔ ان کی فیس میں نے ابھی جمع کی ہے"۔
یہ میرا خاں صاحب سے پہلا تعارف تھا ۔۔۔۔۔۔
صفحہ 47 ۔۔۔۔۔
ابھی کتابیں کاپیاں رکھ کر سیٹل ہو ہی رہی تھی کہ ایک خوبصورت گورا چٹا اطالوی شکل و صورت کا نوجون اندر داخل ہوا ۔ اس نے لٹھے کی شلوار،نیلی لکیروں والا سفید کُرتا اور پشاوری چپل پہن رکھی تھی ۔ وہ ملائمت کے ساتھ آگے بڑھا اورمردانہ قطار میں مولوی طوطا کے ساتھ بیٹھ گیا ۔
چند لمحے خاموشی رہی۔پھر نوجوان نےاپنا تعارف کرانے کے انداز میں کہا۔۔"خواتین وحضرات! میرا نام اشفاق احمد ہے۔ میں مشرقی پنجاب کے ضلع فیروز پور سے آیا ہوں ۔ ہمارے قصباتی شہر کا نام مکستر ہے۔ میرے والد وہاں ڈنگر ڈاکٹر تھے،پھر رفتہ رفتہ حیوان ِناطق کا علاج کرنے لگے ۔۔۔ ہم آٹھ بہن بھائی ہیں اوراس وقت موج ِدریا کے بالمقابل 1۔۔۔۔ مزنگ روڈ میں رہتا ہوں ۔ میرے پاس ایک سائیکل ہے جس پر اس وقت میں آیا ہوں" ۔
یہ کہہ کر اشفاق احمد نے کلاس کے لڑکے لڑکیوں پر نظر دوڑائی ۔سب خاموش تھے ،ابھی اورینٹیشن کی کلاسوں کا رواج نہ تھا ۔ لوگ اپنا تعارف ،حدود اربعہ ،ہسٹری بتاتے ہوئے شرماتے تھے، صرف اشفاق احمد نے سب کی سہولت کو مد ِنظر رکھ کر اپنا آپ تھالی میں رکھ کر پیش کر دیا۔
صفحہ :54 تا 62 ۔۔۔۔۔بڑھاپا ۔۔۔۔ از اشفاق احمد عمر 26 سال
صفحہ :79 ۔۔۔۔۔۔ہر انسان چالیس کے لگ بھگ پہنچ کر مڈل لائف کے کرائسس اور اس سے جنم لینے والی تبدیلیوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس عمر کو پختگی کی عمر کہہ لیجیے لیکن یہی عمر ہے جب عام آدمی بڑی بڑی غلطیاں کرتا ہے اور عمل میں ناپختگی کا ثبوت دیتا ہے۔ تبدیلی کو خاموشی سے قبول نہ کرنے کی وجہ سے کئی بار انسان کا امیج سوسائٹی میں بالکل برباد ہو جاتا ہے۔ پے درپے شادیاں، معاشقے، معیارزندگی کو بلند کرنے کے لیے دربدرکی ٹھوکریں، ماں باپ سے ہیجانی تصادم، اولاد سے بے توازن رابطہ، غرض یہ کہ اس عہد کی تبدیلی میں زلزلے کی سی کیفیت ہوتی ہے۔
صفحہ 80۔۔۔چاند کا سفر (گورنمنٹ کالج ) مضمون از اشفاق احمد
صفحہ :87 ۔۔۔۔ذاتی ڈائری ۔۔ اشفاق احمد 1951
٭جب زندگی کے سارے باب بند ہو جاتے ہیں اور فرار کی تمام راہیں مسدود ہو جاتی ہیں تو موت چور دروازے سے آکرکہتی ہے۔"آؤ بھاگ چلیں"۔
٭میرے لیے ماں کا وجود اُس ٹائم پیس کی طرح ہے جسے میں نے مدت سے چابی نہیں دی ،لیکن جسے میں کسی خاص صبح جاگنے کے لیے چلا بھی دیتا ہوں اور الارم بھی لگا دیتا ہوں ۔
صفحہ :92 ۔۔۔۔۔۔
پہلی باقاعدہ بےقاعدہ بات چیت
صفحہ :96 ۔۔۔۔بانو قدسیہ ۔۔۔۔ نام کہانی
::  ٭میری حیرانی کی انتہا نہ رہی جب میرا پہلا افسانہ "داماندگیء شوق" ادب لطیف میں چھپ گیا ۔ وہ یہ رسالہ لے کر دستی میرے پاس آئے ۔ لیجیے مبارک ہو۔ ادبی سفر شروع ہو گیا
" رسالے کے اوپر لکھا تھا "کاش میں بھی ایسا ایک افسانہ لکھ سکتا
کہانی پر میرا نام بانو قدسیہ لکھا تھا ۔ یہ نام خاں صاحب نے اپنی طرف سے عنایت کیا تھا ۔اس کے بعد رفتہ رفتہ میرا یہی نام شہرت پکڑتا گیا اور میں اپنا آبائی نام قدسیہ چٹھہ خود بھی بھول گئی۔
یہ 'نام' کی بھی عجیب کہانی ہے۔
میری والدہ نے کبھی مجھے قدسیہ کہہ کر نہ پکارا ۔ وہ مجھے کاکی اور ریزی بھائی کو کاکا کہتی تھیں۔ لیڈی میکلیگن میں میری سہیلیاں جمیلہ ظفر ،امینہ ملک، انورملک اورآپی اقبال ملک مجھے"کو" کہہ کر پکارتیں ۔ میں بھی اس نام پر خوش رہی ۔ مفتی صاحب مجھے قدسی پکارتے رہے لیکن شہاب صاحب نے جب مجھے بانو کہہ کر بلانا شروع کیا توہر نام ماند پڑ گیا۔اب تک یہی نام مستعمل ہے ۔ چھوٹے بڑے مجھے "بانو آپا" کہہ کر پکارتے ہیں ۔
٭"ہم آ گئے" ریڈیو پروگرام "تراڑکھیل۔۔۔۔۔۔98۔۔
٭نکاح،شادی۔24،25 ۔۔170 ۔171
۔16دسمبر 1956 ،455 این سمن آباد
 اس دن میں نے پرانا سفید شلوار قمیض پہنا، قمیض تھوڑی سی پھٹی ہوئی تھی اشفاق صاحب معمولی لکیروں والے کرتے میں ملبوس تھے۔ مفتی جی، محمد حسین آرٹسٹ اور ڈیڈی جی براتی تھے۔ ریزی اور محمودہ اصغر میری والدہ سمیت مائیکہ والے تھے۔ نہ کوئی ڈھولک بجی نہ کوئی مہندی کی رسم ہی ہوئی۔
 نکاح کے بعد اشفاق احمد خاں صاحب نے اپنی پاس بک میرے ہاتھوں میں چپ چاپ تھما دی۔ اس میں نو سو روپے جمع تھے۔
٭بچے۔176 تا 179
٭ فلم دھوپ سائے201،282۔۔
٭121سی کی بنیاد رکھی گئی290،293
٭شادی کا نظام۔۔۔287،290
٭اشفاق احمد اور پاکستان۔۔۔۔319
٭براڈ کاسٹر تلقین شاہ۔۔۔199۔200،201،341،349
۔٭برکلے ایکسچینج۔۔۔428
٭راجہ گدھ ۔۔۔437
٭ بلڈ کینسر بانوقدسیہ۔۔485،479
٭آخری ایام کی باتیں 491،494
٭آخری ایام،457
٭آخری وقت 466
۔۔۔۔۔ 
لوگ لوگ"۔۔"
٭قدرت اللہ شہاب۔۔۔۔230۔۔۔
۔۔مردِابریشم،۔۔۔۔187،188،352،353
٭ٹرائیکا۔۔۔مفتی،شہاب،اشفاق۔۔۔352
٭عفت شہاب۔۔۔۔382،419
٭سرفرازشاہ صاحب۔۔۔۔420،421
٭محمد یحیٰ خان(بابا یحیٰ۔۔۔500
٭میرزا ادیب،صوفی غلام معطر۔۔501
٭چچا غلام علی۔۔۔۔503
٭قرۂ العین حیدر۔۔۔۔508
٭ممتاز مفتی۔۔508،512
٭عکسی مفتی۔۔۔۔184،185
٭انورخاور۔۔533
٭واجدہ تبسم۔۔553
535 ٭عبدالرحٰمن چغتائی۔۔
٭ابنِ انشاء۔۔537
٭انتظار حسین۔۔۔541
٭احمد ندیم قاسمی۔۔۔546
٭آذر زوبی۔۔۔547
٭ڈاکٹر محمودالرحٰمن۔۔۔549 
٭الطاف فاطمہ۔۔۔۔551
٭محسن احسان،شفقت۔۔۔۔552
٭واجدہ تبسم۔۔۔553
٭احمد فراز۔۔۔۔555
٭سلیم اختر،وزیرآغا،انورسدید۔۔۔۔554
٭مسعود کھدرپوش۔۔۔556
٭خواجہ جی/ نیلم خواجہ۔۔۔۔557
٭اصغرندیم سید۔۔۔۔559
٭ احمدعلی۔۔۔۔۔558
٭ اجمل نیازی۔۔۔560
٭قاضی جاوید۔۔565
٭محمدطفیل،جاوید طفیل۔۔۔567
٭ بیپسی سدھوا٭ مینوبھنڈارا۔۔۔567،569
٭افضل توصیف۔۔۔570
٭مستنصرحسین تارڑ۔۔۔۔570،571
٭ افتخار عارف۔۔۔ 571
٭امجداسلام امجد،عطاءالحق قاسمی۔۔۔572
٭سیما پیروز،یاسمین حمید، رخشندہ نوید۔۔۔573
٭ احمدعقیل روبی۔۔۔۔574
٭ محمد یونس بٹ۔۔۔576
٭حنا بابرعلی۔۔۔580
٭محترمہ نصرت بی بی۔۔ 584
٭چہار درویش۔۔۔۔586
٭عبدالرحمٰن میاں ( خاوند لکھاری بشرٰی رحمٰن)۔225،224
٭بشرٰی رحمٰن۔۔۔554
٭جمیلہ ہاشمی۔۔۔۔191،192،193
٭انورسجاد۔۔۔۔167،522
٭نعیم طاہر۔۔۔۔۔183،222
٭ایلیسا باؤسانی۔۔۔۔222
٭منیرنیازی۔۔۔۔234
٭ڈاکٹرحسنات(لیڈی ڈیانا)۔۔۔۔251،30
٭طفیل نیازی۔۔۔۔233،231
٭ملکہ ترنم نورجہاں۔۔۔۔253
٭فیض احمد فیض۔۔۔279،289
٭صوفی تبسم۔۔۔۔355،356
٭باب ہیز۔۔۔۔165،431
٭ امریکن نژاد شمس۔۔۔۔397،387،407
٭ خالدہ حسین۔۔۔۔83،85
 ٭ریزی (پرویزچھٹہ،، بڑابھائی بانوقدسیہ)۔۔۔۔۔۔70،71،73،89،115،174،179،208،210
٭جاوید ،صدیقہ۔۔۔۔173،179،،207،226،227،
٭ڈاکٹرمحمد عامر۔۔۔۔588
٭عاصم بخاری، پروفیسر محمد اعجاز چوہدری۔۔۔۔589
ڈاکٹر محمد مسعود قریشی۔۔۔۔590
٭ڈاکٹرطیب(سروسزہسپتال)۔۔۔۔۔590،591
٭ڈاکٹرشاہد محمود۔۔۔۔592
٭ڈاکٹراحمدخان۔۔۔۔593
٭ڈاکٹرعاطف مرزا۔۔۔۔594
٭ ڈاکٹر اکرم زبیر۔۔۔۔۔595
٭ ڈاکٹر جاوید شیخ۔۔۔۔596
٭راشد لطیف۔۔۔۔۔597
٭نورالحسن۔۔۔۔598
٭مجیب الرحمٰن شامی، چوہدری سردار محمدِ حمیدصاحب۔۔۔۔601
٭ مسعود میاں۔۔۔۔۔602
٭مہمان لکھاری
تحریر: انیس احمد خان (بیٹا) 359
٭ایک گھر کے دو راستےاز اجمل نیازی561تا565
٭اشفاق احمد از نورالحسن۔۔۔496،498
٭اشفاق احمد از عاطف گوہیر۔۔۔459
٭اسلم کولسری۔۔۔269
٭ریاض محمود۔۔259
٭اقبال...آذر زوبی کی نظر میں از ڈاکٹرمحمودالرحمٰن۔۔۔549
٭اشفاق احمد کی یاد میں از مسعودمیاں ۔۔۔۔،605،613
٭راجہ گدھ ایک تاثر از مسعود میاں۔۔۔۔
٭ممتاز مفتی ایک ذاتی خاکہ۔۔۔517
٭داستان گو اور اشفاق احمد از ممتاز مفتی۔۔۔521
۔۔۔
بانو قدسیہکچھ خاص ویڈیوز جن میں محترم اشفاق احمد اور محترمہ بانو قدسیہ نے اپنی ذاتی زندگی کے حوالے سے جوابات دئیے۔
 ٭نعیم بخاری کا بانو قدسیہ اور اشفاق احمد سے سوال کہ آپ کو اِن میں کیا پسند آیا شادی سے پہلے؟ سُنیے دونوں کے دلچسپ 
جوابات۔۔۔۔ بانو آپا کی صاف گوئی بھی ملاحظہ ہو۔
https://www.facebook.com/kitabmela/videos/1656292197971277/
٭بانو قدسیہ کا اشفاق احمد سے ایک بہت انوکھا اور تلخ سوال
https://www.facebook.com/kitabmela/videos/1652938918306605 

سات ستمبر 2004 ، آخری روز ۔۔ اشفاق احمد


راہ رواں از بانو قدسیہ 
  صفحہ 466 ۔۔۔۔۔۔۔
خاں صاحب راضی بارضا بندے کی طرح مطمئن سیٹ سے کمر لگائےبیٹھے تھے۔ میں پچھلی سیٹ پر آگے ہو کر اُن کےکلے پر ہاتھ رکھے بیٹھی تھی ۔اُن کی آواز گودھیمی تھی لیکن نہ اُن کے حواس پراگندہ ہوئےنہ انہوں نے اپنے کسی انداز سے بچھڑنے ہی کا احساس دلایا۔
چھ ستمبر کی رات اُن کے صبر کی تصویر تھی ۔اُن کے درد کا یہ عالم تھا کہ بار بارچہرہ اس درد کا شاکی ہو جاتا۔آنکھوں میں اسی درد کے باعث خوف اور پریشانی لکھی تھی لیکن برداشت کا یہ عالم تھا کہ کسی حرکت ،آواز اور اشارے سے انہوں نے انداز کی حالت کا اظہار نہ کیا۔
 پاسپورٹ بن چکا تھا 
ویزہ لگ چکا تھا
 ٹکٹ بیگیج چیک ہو چکا تھا ۔
 انہیں شاید سیٹ نمبر بھی معلوم تھا،لیکن انہوں نے میرے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا اور پھر اُن کا سرذرا سا ڈھلک گیا ۔ وہ اپنے بےجان ہاتھ سے میرا ہاتھ تھپتھپاتے رہے ۔۔۔۔ وہ اپنے گھر جانے کا ارادہ کر چکے تھے۔
 داستان سرائے سے سائرہ ہسپتال تک کا راستہ دور نہ تھا ۔ راستے میں درخت ،پرندے،سڑک سب مل مل کر الوداع کہہ رہے تھے۔ جوں ہی کار رُکی ،وہیل چئیر پر اُنہیں بٹھایا گیا ۔۔۔۔۔ میں اُن کے ساتھ تھی ۔ پھر سسٹر مجھے ڈاکٹر صاحب کے حکم کے مطابق ڈاکٹر کے دفترمیں لے گئی ۔
" آپ پلیز یہاں بیٹھیں۔۔۔ ہم اُنہیں آکسیجن  لگانے لگے ہیں۔" 
اس وقت میں نے دو رکعت نفل پڑھے ۔۔۔ خاں صاحب کہتے تھے  "جب بھی کوئی لمبے سفر پر روآنہ ہو تو شکرانے کے دو نفل ضرور گزارنے چاہیں کہ اللہ  میاں کا مال واپس کرتے وقت نہ جھگڑا ہو نہ تقاضا ،نہ ندامت ہو نہ پچھتاوا ۔۔ حق کو حقدارکے سپرد کرنے کے بعد کسی قسم کا ملال نہ ہونا چاہیے۔
 ایسے ہی دو نفل میں نے اپنی ماں کی رُخصتی کے وقت پڑھے۔
 ایسے ہی دو نفل میں نے اپنے بھائی کے جانے کے وقت پڑھے تھے ۔ 
علیم ِمطلق جانتا ہے کب اور کس وقت کس کی روانگی موزوں، برحق اور پردہ پوش ہے۔
 دفتر میں سسٹر طاہرہ اندر آئی ۔ میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے ساتھ لے گئی ۔
 وہ ہمیشہ کی طرح آنکھیں موندے لیٹے تھے  اُن کی ڈرپ ایک طرف لٹکی ہوئی تھی ۔ انیس اور اثیر اُن کی پائینتی کھڑے تھے۔نہ جانے کب اور کیسے ڈاکٹر صاحب نے انہیں راستوں سے بلا لیا تھا۔مجھے خاں صاحب کی حاشیہ برداری سے چھٹی مل گئی تھی،انہوں نے مجھے برطرف کر دیا تھا اور کوئی سفارشی خط بھی لکھ کر نہیں دیا تھا کہ میں کسی اور جگہ اسامی ڈھونڈ لیتی۔
یوں لگتا تھا واپسی کےجہاز میں وہ اس وقت اپنی سیٹ بیلٹ باندھ رہے تھے،لاہور کا منظر چھوٹےچھوٹے گھروں ہرےبھرے قطعوں اور بےمصرف سوئی ہوئی سڑکوں سے اوپر جا رہا تھا،پچھلے منظر دھندلا رہے تھے۔
 شاید اُنہیں اس شہر ،اس کے رہنے والوں سے بچھڑنے کا اتنا غم نہ تھا جس قدرگھر جانے کی خوشی تھی۔

جمعہ, ستمبر 06, 2013

اشفاق احمد اور7 ستمبر،2004 ء کی رات

 صفحہ 457 ۔۔۔۔۔ 
چھ ستمبر کی رات عجیب بےکسی سے پا پیادہ چل رہی ہے۔ خاں صاحب کی ڈوبتی نبض اتنی دھیمی تھی کہ بار بار شُبہ ہوتا ابھی ہے ابھی نہیں ہے،سُرخ وسپید چہرہ جس تکیے پر دھرا تھا اُسی کی مانند سفید ہو چکا تھا ۔ بازوؤں کا گوشت جھالر صفت لٹک رہا تھا ۔ نہ بالوں میں آب وتاب باقی تھی نہ داڑھی میں چمک تھی ۔ درد مسلسل چھاپے مار رہا تھا ،لیکن اُن کی آواز میں ناصبوری ،نا شکیبائی یا رتی بھر شکایتی لہجہ در نہ آیا تھا ۔
 وہ بار بار اُٹھتے مجھے بلاتے ،میں اُٹھتی پاس جاتی وہ کمزور مدہم آواز میں کہتے "میں نے تمہیں بہت تنگ کر رکھا ہے "۔ میں جواب میں کچھ نہ کہہ پاتی ۔ کچھ دیر میں اُن کا ہاتھ پکڑ کر بیٹھتی ۔ پھر وہ بڑے تردد کے ساتھ مجھے کہتے "سو جاؤ اوراب میرے بلانے پر بھی نہ اُٹھنا۔" 
اُن کی تکلیف اس قدر زیادہ تھی کہ اندر ہی اندر یہ دکھ مجھے ستا رہا تھا کہ کاش وہ قوت ِبرداشت کا مظاہرہ کرنے کی بجائے روئیں ،چلائیں ،واویلا مچائیں  ۔لیکن خاموش شیرقالین تو صاحب ِفراش تھا ۔ ہم دونوں جاگ رہے تھے،دونوں ایک دوسرے کو سلانے کا مشغلہ اپنائے ہوئے تھے ۔
 رات قطرہ قطرہ گزر رہی تھی جیسے ڈرپ میں لگا خون ۔ 
کمرے میں ائیر کنڈیشنر کی آواز چہرے پر منڈلانے والی مکھی کی طرح بھنبھنا رہی تھی ۔کمرے میں لگا کلاک بڑی نحوست پھیلانے کے انداز میں سیکنڈ کی سوئی بجائے جا رہا تھا ۔آج اس کی آواز گویا کوچ کا نغمہ تھا ۔
 کمرے میں زیرو کا بلب روشن تھا ،جس کی روشنی پر یاس کا پیلا پن نمایاں تھا ۔
صفحہ 458۔۔۔۔ 
کتابوں سے لدی  الماریاں جامد  باسی اور پرانے کاغذوں کی بو باس کمرے میں سپرے کر رہی تھیں ۔ پتہ نہیں کیوں میری آنکھوں کو دھوکا ہو رہا تھا تھا کہ تمام خاکستری کتابیں زرد رنگ  کی ہو چکی ہیں اور اُن پر ہوائیاں اُڑ رہی ہیں ۔ کتابوں کے عنوانات جو خاں صاحب کی لکھائی میں کتابوں کے پشتوں پر تھے ،پڑھے نہ جاتے تھے۔ 
اُبھرنے والی صبح بچھڑنے والی رات سے گلے مل رہی تھی ۔ گویا مستقل وچھوڑے سے خوفزدہ ہو کر آنسوؤں سے بھیگ گئی ہو ۔
 قریباً چار بجے تھے جب  انہوں نے مجھے بلایا ۔
 "سنو انیس خاں کو فون کر دو ۔۔ وہ آ جائے ۔"
 میں نے پُراُمید ہونے کے انداز میں غلط جواب دیا ۔۔۔ "آپ فکر نہ کریں خاں صاحب! ابھی صبح ہونے والی ہے۔ وہ خواہ مخواہ پریشان ہوجائے گا ۔"
 "اچھا"۔انہوں نے  اپنی کربل کربل کرتی پریشانی کوبرداشت کے پتھر تلےدبا لیا۔ 
پھر چھ بجے کےقریب انہوں نےآواز دی "بانو ۔۔ سو گئیں؟"
" !میں جان بوجھ کر آنکھیں ملتی اُٹھی  "جی خاں جی 
" یہ ذرا میری نبض دیکھنا ۔"
 وہ بدھا روپی چہرہ لیے لیٹے تھے۔ چہرے پر رتی بھر پریشانی نہ تھی ۔ گرہ نیم باز کا قرض چکانے کے بعد مکمل اطمینان کی صورت۔
 
  سات ستمبر کا دن ابھی باقی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

سوموار, ستمبر 02, 2013

"بےنظیر، واہ زرداری، آہ زرداری "

اِک قطرۂ خوں سے نئی زندگی کی نوید دے کراور پھر اپنے جسم وجاں کی تمام ترتوانائی نچوڑنے کے بعد عورت کا خون اتنا ارزاں  اتنا بےمول کیوں ہو جاتا ہے کہ وہ جو اپنی تخلیق کاببانگ دہل اعلان کرتی ہے۔۔۔اُس کا اپناخون زمین پر گرنے کے بعد محض پانی کے فواروں سے یوں صفحۂ ہستی سےمٹا دیا جاتا ہے کہ ہاتھ کےنشانوں کو توچھوڑو اپنے چاہنے والوں اپنے جگر کے ٹکڑوں کے اذہان بھی بےحس ہو جاتے ہیں۔ 
عورت کہانی بس اتنی ہی ہے جتنی اُس کی زندگی ہے۔اُس کے رنگ ۔۔۔ اُس کی چمک۔۔۔اُس کا علم۔۔۔ اُس کی قابلیت کی چکاچوند زندگی بھر کسی کو رشک تو کسی کوحسد میں مبتلا رکھتی ہے لیکن اُس کی تلاش کا سفر جاری وساری رکھنے میں بھی معاون ثابت ہوتی ہے۔عورت کی جہدِمسلسل اُس کی 'گریس" ہے ورنہ ناقدری اورہوس زدہ رویوں کا کُھردراپن رگڑ کی صورت اُس کے وجود پرخراشیں ڈالتا رہتا ہے۔عورت ایک ری سائیکلڈ کاغذ کی طرح ہے لیکن اسے ٹشوپیپر بھی نہیں رول ٹشو کی طرح استعمال کیا جاتا ہے۔عورت بےنظیر ہےبخت آورہےچاہےوہ بگولوں کی زد میں کیوں نہ ہو۔
اُن کا جانا ٹھہر گیا ہے صبح گیا یا شام گیا(ستمبر 8... 2013)۔
( غالب سے معذرت کے ساتھ)
کہانی ختم ہو گئی یا کہانی شروع ہو گئی کوئی نہیں جانتا۔اور ہم یہ بھی نہیں جان سکتے کہ کہانی کب شروع ہوئی۔زندگی کی کتاب میں بکھری کہانیاں ہمیں کبھی سمجھ نہیں آتیں۔ ہم صرف اُن کے رنگ دیکھتے ہیں،ذائقے چکھتے ہیں،لمس محسوس کرتے ہیں،آوازیں سنتے ہیں اور اُن کی مہک اپنے اندر سموتے ہیں۔ہم صرف دیکھتے ہیں،نہیں جانتے کہ انمنٹ پھیکے بدنما رنگ،کڑوے ذائقے،کیکر لمس،کرخت آوازیں اور ناقابل ِبرداشت بھبھکے کسی کی مقدر کہانی میں کیوں لکھے جاتے ہیں؟ اورسدا بہار رنگوں سے سجی شیریں لذتیں ،ریشمی لمس،سریلی اور رسیلی چہکاروں سے مہکتے ماہ وسال کیوں دوسروں کو احساس ِکمتری میں مبتلا کردیتے ہیں؟ہم میں سے اکثر کی زندگی ساغر صدیقی کے اس شعر کی مانند گُزرتی چلی جاتی ہے۔
زندگی جبرِمسلسل کی طرح کاٹی ہے 
جانے کس جُرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں 
 دیکھتی آنکھوں کی بعض کہانیاں ایسی پُراسرار ہیں کہ سرتوڑ کوشش کے باوجود کوئی سرا کہیں سے بھی ہاتھ نہیں لگتا۔ ایسی ہی ایک کہانی سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہونے والے ایک گمنام امیرزادے کی بھی تھی جوایک چھوٹے سے شہرمیں بسنے والے خاندان کے پرآسائش ماحول میں سانس لیتا تھا۔دوستوں کے محدود حلقہ احباب میں مطمئن ومسرور،تعلیمی مدارج معمول کے انداز میں طے کرتا،بظاہر اُسے کسی چیز کی ہوس نہ تھی۔اُس کی خواہشات ضرورت کی سیڑھی پر پہنچنے سے پہلے ہی پوری ہوتی رہتیں۔نہ جانے اُس کی کون سی صفت کس کو بھائی کہ اُسے ایک شہزادی کے ہمسفر کے طور پر چُن لیا گیا۔وہ شہزادی!!! جو اس لمحے خود اپنی کھوئی ہوئی شناخت کی تلاش میں تھی۔کسی تعصب سے قطع نظر دیکھیں تو بندھن کہانی کے آغاز میں شہزادی کے پاس قابل ِفخر خاندانی پس منظر,شاندار ماضی ،اعلیٰ تعلیمی قابلیت اور تگ ودو کرتے حال کے سوا کیا تھا۔اُس کا مستقبل ابھی اُمیدوں اور اندیشوں کے بیچ ہلکورے لیتا تھا اوراس مرد ِبےنام کے پاس اپنے نام سے جُڑے زر کے سوا کچھ نہ تھا۔ان میں کوئی قدرمشترک نہ تھی۔۔۔
شہزادی سےاگرایک زمانہ آشنا تھا تویہ شہزادہ شاید ابھی خود شناسائی کی منزل سے بھی بہت دور تھا۔اسی تضاد کے ساتھ ایک رشتے کی بنیاد رکھی گئی تو کہانی اتنی تیزی سے آگے بڑھی کہ عام عوام تو کیا اُس کے کرداروں نے بھی کبھی اس کا تصورنہ کیا ہوگا۔ اقتدارکی مسند میں شراکت داری کے بعد پھر" اُس" نے پلٹ کر نہ دیکھا۔مسٹر ٹین پرسنٹ سے ہنڈرڈ پرسنٹ تک کے سفر میں قوم نے جو کھویا سو کھویا۔۔۔ لیکن اُس نے بھی بہت کچھ کھو کر کیا کچھ پایا یہ ہم کبھی نہیں جان سکے۔
 حاکمیت کی غلام گردشوں کی چکاچوند میں رہ کر بھی اُس کی ذات،اُس کے افعال پر دبیز پردے ہی پڑے رہے،ڈھونڈنے والےلاکھ کوشش کے باوجود کہیں بھی اس پتھر صورت میں خون ِناحق کا ایک قطرہ تلاش نہ کرسکے۔معذرت کے ساتھ یہ اُس کی فتح نہیں ساری دُنیا کی نا اہلی تھی۔۔صرف ہم پاکستانی نہیں،اقوام ِعالم کے انسانی حقوق کے علم برداروں میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہ ہوا کہ جو اس کھلے راز کا پردہ چاک کر سکا ہو۔
 آنکھوں دیکھا کانوں سنا سب سچ ہے تو پھر یہ بھی حق ہے کہ پاکستان میں رہنے والے اٹھارہ کروڑ پاکستانیوں اور دیارِغیر میں بسنے والے محب ِوطن پاکستانیوں میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہ ہوا جو اصل حقیقت جاننے کے بعد اسے سامنے لانے کی جۂرات بھی رکھتا ہو۔
 پاکستان کا امیر ترین اور سب سے کرپٹ شخص ہونے کے تمغے سے لے کر، اپنے بچوں کی ماں اور ہماری قومی لیڈر کے سرِعام بہنے والے خون کےخراج تک ہر قسم کا الزام اُس پر لگ چکا ہے۔ لیکن پھر بھی وہ ہمارے ملک کےسب سے اعلیٰ عُہدے پر فائز رہا اور پیٹھ پیچھےاُسے رکیک سے رکیک الزامات سے نوازنے والے اُس کے سامنے "جناب ِصدر " کہتے کورنش بجا لاتے۔ وہ اپنی کرپشن کی چھڑی گھما کر یا ہلاکو خان کی طرح کھوپڑیوں کے مینارسجا کر اس تخت ِشاہی تک نہیں پہنچا تھا ہم عوام نے خود اُسے کاندھوں پراُٹھا کراس جگہ پر بٹھایا ۔اُس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے ہم ایک شخص کو اپنے گھر کے دروازے پر پہرے دار تعینات کریں اور نہ صرف گھر کے تمام کمروں بلکہ اُن کی خفیہ تجوریوں تک بھی رسائی دے دیں اور پھر آسمان سر پر اُٹھا لیں کہ وہ چور ہے،ڈاکو ہے ،قاتل ہے ،نااہل ہے۔
 دُکھ کی بات یہ نہیں کہ اُس نے ہمارے ملک کو اور ہمیں ناقابل ِتلافی نقصان پہنچایا۔ بلکہ دُکھ یہ ہے کہ ہم بحیثیت قوم فہم وفراست کے امتحان میں بری طرح ناکام ہو گئے۔ کوئی بھی عالم فاضل بڑی سے بڑی ڈگری لینے والا اُس کا بال بھی بیکا نہ کر سکا۔عام عوام کا تو کیا کہنا جتنی بددعائیں اور کوسنے اُسے پڑے۔۔۔اُس کی سات پشتیں بھی کم ہیں ان کے اثرات سے فیض یاب ہونے کے لیے۔افسوس کا مقام یہ ہے کہ اگر وہ واقعی وہی کچھ تھا جس کے چرچے زبان زد ِعام ہیں تو اپنی منصوبہ بندی اپنے ٹیلنٹ میں کمال کا آدمی تھا ۔ کاش اُس کی یہ جہت مثبت انداز میں ہوتی تو شاید ہم دُنیا کی سب سے بڑی سپر پاور بن جاتے۔ لیکن ہم عقل سے عاری جذباتی لوگوں کی وہ قوم ہیں۔ جو پہلے خود ہی کسی کواپنا مختارِکُل بناتے ہیں۔۔۔ اورجب وہ اپنی من مانی کرتا ہے تو نجس جانور سے تشبیہ دیتے یہ بھول جاتے ہیں کہ اس کیے دھرے میں ہمارا بھی حصہ ہے۔ جب وہ کرسی سے اُتر جاتا ہے یا اُتار دیا جاتا ہے تو اس کے جانے کے بعد اُس کے گن گانے لگ جاتے ہیں۔ یہ ہمارے سامنے کی مثالیں ہیں جو کھلی آنکھوں سے عیاں ہیں اوریہ وہ سبق ہے جو ہر پڑھا لکھا یا جاہل بخوبی جانتا ہے۔ ڈر ہے تو اُس وقت کا جب اُسے برا بھلا کہنے والے ہمیشہ کی طرح سر پر بٹھائیں گے کہ یہی ہمارا وطیرہ رہا ہے ۔ لیکن کیا ڈرنا۔
ہم ڈھیٹ قوم ہیں جس کا "ہاضمہ زبردست اورحافظہ کمزور" ہے۔
ڈرنا صرف اللہ کے عذاب سے چاہیے  کہ ابھی اس کی رسی دراز ہے۔ ہمارا مالک ہمیں گرنے کے بعد سنبھلنے کے مواقع دیے جا رہا ہے گناہوں میں لت پت ہونے کے باوجود توبہ کے دروازے کھلے ہیں ابھی ۔ گھٹا ٹوپ اندھیروں میں سے صبحِ نوکے اشارے مل رہے ہیں۔ وقت کی باگ دوڑ ابھی ہمارے ہاتھ سے نکلی نہیں ۔ ضرورت ہےتو صرف اس بات کی کہ اُس پرگرفت مضبوط رکھنی ہے اندھا دھند تو ریس کے گھوڑے بھی نہیں بھاگتے،اُن کے سامنے بھی ایک مقصد ہوتا ہے۔آنکھوں پر پٹی باندھ کر صرف وہ دوڑتے ہیں جن کو اپنے سواروں سے کوئی غرض نہیں ہوتی اورتماشائی اُن کی چیخوں سے حظ اُٹھاتے ہیں ۔
!آخری بات
سوچنے کا مقام یہ ہے کہ ایوریج تعلیمی معیار کا حامل "محض ایک شخص" ساری قوم کو تگنی کا ناچ نچا سکتا ہے(محض ایک شخص اس لیے کہ ہم نے ہمیشہ اس نام کو ہی ساری برائیوں کا گڑھ قرار دیا کبھی کسی نے اس کے پیچھے کسی لابی ،کسی سُپر پاور،کسی مافیا کا ذکر نہیں کیا)،پوری دُنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک سکتا ہے تو ہمارے بڑے بڑے دماغ اگر اپنی صلاحیتیں ملک وقوم کے لیے وقف کرنے کا تہیہ کر لیتے تو پھر ہم نہ جانےکہاں سے کہاں پہنچ جاتے۔افسوس ہم آج تک اپنی ذات کی بقا ،اپنے وجود کی شناخت کی جدوجُہد میں ہی لگے رہے۔ 
اللہ ہمارے حال پر رحم کرے اور ہمیں  مستقبل میں وہ فیصلے کرنے کی توفیق نہ دے جن پربعد میں پچھتانا پڑے