صفحہِ اول

بدھ, اگست 21, 2013

"میرے خوابوں کا پاکستان "

"میرے خوابوں کا پاکستان "
 خواب وہی دیکھنے چاہییں جن کی تعبیر پر اختیار ہو ۔ بظاہر یہ بات بےمعنی بلکہ لایعنی سی لگتی ہے غور کیا جائے تو ہمیں صرف اپنے خوابوں پر ہی اختیار ہوتا ہےزندگی پر نہیں ۔ خواب جو ہم جاگتی آنکھوں سے دیکھتے ہیں یا وہ خواب جو بند پلکوں پر اُترتے ہیں اور آنکھ کھل جائے تو دل بےاختیار انہیں حقیقت کا روپ دینے کو بےچین ہو جاتا ہے ۔ ایسے ہی کچھ خواب ہمارے قائدین کی آنکھوں کی زینت بنے اور ہر ایک نے اپنے طور پر ان کو تعبیر دینے کی سعی کی۔سرسید احمد خان کے دیدۂ بینا سے شروع ہونے والا یہ سفر قائد ِاعظم محمدعلی جناح کے عزم ِصمیم کی بدولت نوے برس بعد پایہ تکمیل کو پہنچا ۔ اس طویل جدوجُہد کو ایک لفظ میں قلم بند کیا جائے تو وہ ہے "آزادی "۔
 ہمارا وطن آج سے چھیاسٹھ برس قبل دُنیا کے نقشے پر تو ضرور نمودار ہو گیا تھا لیکن آزادی کا خواب جو ہمارے رہنماؤں نے دیکھا ابھی تک اپنی تعبیر کا منتظر ہے ، نصف صدی قبل آزادی سب سے بڑا جواز تھا نئے ملک کے قیام کا تو اب اس نئی صدی میں ہمارے وجود کی بقا آزادی میں ہے ۔ پاکستان نے ہمیں بہت کچھ دیا اتنا کچھ کہ شاید دُنیا میں کسی کو بھی اپنی دھرتی ماں سے نہ ملا ہو گا لیکن لوٹنے والوں نے آزادی کی قیمت پر سب گروی رکھ دیا ۔ میرے خوابوں کا پاکستان وہ ہے جس کا خواب قائد ِاعظم نے دیکھا اور قیام ِپاکستان کے بعد ایک سال ستائیس دنوں میں اپنے قول وفعل سے ہمارے لیڈروں،سیاست دانوں اور ہم عام عوام کے لیے راہ ِعمل متعیّن کر گئے۔ 
 ایک خواب "آزادی" کا ہے ۔ فرد کی آزادی ۔۔۔۔ معاشرے کی آزادی ۔۔۔ عمل کی آزادی ۔۔۔ اقدار کی آزادی ۔ یہ وہ خواب ہے جو بند آنکھوں سے تو اچھا لگتا ہے لیکن کھلی آنکھوں سے سوچا جائے تو اس آزادی سے پہلے اپنے وطن کے ہر فرد میں عقل وشعور کی چمک دیکھنے کی آرزو ہے وہ فہم جو انسان کو انسانیت کے منصب پر فائز کر دے ۔
آزادی کی نعمت سے کون واقف نہیں لیکن آزادی کا بھی اپنا ضابطۂ اخلاق ہے۔ جیسے۔۔۔
فرد کی آزادی لیکن تدبر کے ساتھ ۔۔۔۔ رشتوں کی آزادی احساس کے ساتھ۔۔۔۔
رویوں کی آزادی اپنا آپ پہچانتے ہوئے۔۔۔جذبوں کی آزادی دوسروں کے محسوسات کو سمجھتے ہوئے۔۔۔۔تعلقات کی آزادی لیکن اخلاقی اقدار کو مد ِنظر رکھتے ہوئے۔۔۔
اپنی بات کہنے کی آزادی لیکن اوروں کی بات برداشت کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوئے۔۔۔
اپنا راستہ آپ چُننے کی آزادی  لیکن آگے جانے والوں کے نشان ِراہ پر چلتے ہوئے اور اپنے بڑوں کی شفقت کے سائےتلے۔۔۔
۔صبر و برداشت اور محنت سے کام کرنے کی آزادی  پر اس اعتماد کے ساتھ کہ عزت ِنفس مجروح نہیں کی جائے گی۔۔۔۔
 ادب واحترام سے ایک دوسرے کی تعظیم کی آزادی بنا کسی کے رُتبے مقام کی جھجھک کے۔۔۔۔۔
خوف سے آزادی ماسوائے رب ِکائنات کے سامنے پیشی کے خوف سے۔۔۔
زندہ رہنے کی آزادی اس بھروسے پر کہ موت برحق ہے ۔
 خوابوں کی ایک طویل نہ ختم ہونے والی فہرست ہے جیسے کھلی ہوا میں سانس لینے کی آزادی ، ملاوٹوں سے پاک اللہ کا عطا کردہ رزق صبر وشکر سے کھانے کی آزادی ۔۔۔ غرض کہ
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے میرے ارماں لیکن پھر بھی کم نکلے 
خواب دیکھنا بہت آسان ہے۔ اب آتے ہیں اس بات کی جانب کہ اپنے خوابوں کو مجسم دیکھنے کے لیےکون سی تبدیلی یا اقدامات کی ضرورت ہے۔ قائد کے زریں اصولوں کو اپنا کر ہم عوام نے ہی پہلا قدم اٹھانا ہے۔ برس ہا برس سے نام نہاد قائدین کوآزمائے چلے جارہے ہیں اور مسلسل دھوکے کھارہے ہیں ۔ اگر ہم نے عزت ووقار کے ساتھ زندہ رہنا ہے تو پھر متحد ہونا ہے ہر محاذ پر ایکا کرنا ہے۔ مسلک،فرقے،عقیدے سے قطع نظر صرف ایک عام مسلمان کا سا طرز ِفکر اختیار کرنا ہے۔ برداشت کو فوقیت دینی ہے ۔دیانت داری اور محنت یہ دو ایسے ہتھیار ہیں جن پر تکیہ کیا جائے تو بڑے سےبڑا پہاڑ بھی سر کیا جا سکتا ہے ۔ہمارے خوابوں میں ایسا پاکستان ہے جہاں مزدور کو اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلےعزت کے ساتھ اُجرت ملے لیکن مزدور بھی دیانتداری سے کام کرے۔ خواب لامحدود ہیں لیکن ان کا مفہوم صرف "آزادی" ہے تو تعبیر بھی صرف ایک لفظ میں پنہاں ہے "خود احتسابی" ۔ ہمیں صرف اپنے حصے کا کام کرنا ہے خلوص ِنیت کے ساتھ ۔ ہر انسان اپنا محاسبہ کرے ۔فرد کی سوچ جب قوم کی سوچ میں ڈھلے گی تو انشاء اللہ یہ سوئی ہوئی قوم ایک نئے عزم اور ولولے سے انگڑائی لے کر بیدار ہو گی ۔
!آخری بات
خوابوں کی تعبیر انہی کا مقدر ہے جو خواب دیکھتے ہیں۔ بےخواب آنکھیں نہ خوابوں کی لذت سے آشنا ہوتی ہیں اور نہ ان کی تعبیروں سے واقف ۔ خواب دیکھنے والے خوابوں کی طرح ان کی تعبیروں پر بھی یقین رکھتے ہیں بلکہ ان کا پھل سہارنے کا حوصلہ بھی ۔ یہی ان کا ارادہ ہے جو گرنے کے بعد سنبھلنے اور پلٹنے کے بعد جھپٹنے کا فن سکھاتا ہے۔

منگل, اگست 13, 2013

"ہمارا قائد "

قائد ِ اعظم محمد علی جناح کے بارے میں  مہد سے لحد تک سطر سطر پڑھنے اور رٹنے کے باوجود ہم اُن کے بارے میں اپنی مرضی کی خود نوشت لکھ کرزیادہ فرحت محسوس کرتے ہیں۔ اپنے قائد کے متعلق ہرطرح کی ہرزہ رسائی کرنے کے بعد جب اُن کا بال بھی بیکا نہ کر سکےتو اُن کے آخری گوشۂ سکون کو بھی آگ لگا دی گئی۔جس کی بدولت نوے فیصد سے زائد عمارت راکھ کا ڈھیر بن گئی ۔ اگرچہ سال کے اندر اندر حکومتِ وقت نے اس تاریخی ورثے کو عین اسی حآلت میں بحال کرنے کی کامیاب کوشش کی لیکن بحیثیت قوم  ہمارے کردار پر لگا سیاہ دھبا دور نہ ہو سکا۔ 
وہ عارضی آرام گاہ۔۔۔ جس کا اُن کے آدرش سے کوئی واسطہ نہ تھا۔اُس پُرفضا مقام کےایک کمرے میں بسترپر زندگی کے آخری چند ایام گزارنےکا جرم شاید نام نہاد "لبرلز"کے لیے ناقابل ِمعافی تھا۔ وہ  صرف کچی لکڑی  سے بنی کمزور بنیادوں والی عمارت تھی ۔ اپنے قائد کی تصاویر بیدردی سے پھاڑ کر اور بعد میں نذر ِآتش کر کے نہ جانے کم عقلوں کے کون سے جذبۂ انتقام کی تسکین ہوسکی ہو۔
 نادان یہ نہیں جانتے وہ آہنی ارادوں اورمضبوط دلائل والا قائد تو ہمارے دلوں میں عزم وحوصلے کی اتنی  بلند عمارت قائم کر گیا کہ ہم چاہتے ہوئے بھی اس کی چار دیواری سے باہر نہیں نکل سکتے۔افسوس کی بات ہے ایک کڑوا سچ بھی ہے کہ بحیثیت مجموعی ہم ایک تماش بین قوم ہیں جو صرف تالیاں پیٹتی اور ڈھول بجاتی ہے۔ ڈھول بجاتے بجاتے ہم خود ایک  ڈھول بن گئے ہیں۔۔۔پُرشور۔۔۔اندر سے خالی۔ ہم تاریخ کیا بنائیں گے جو تاریخ بنانے والے تھے اور جو تاریخ بنائی گئی تھی اسکو ہی بدل دینے پر تُل گئے ہیں۔ ہم دور جدید کے لوگ ہیں ترقی یافتہ ۔۔۔اپنا مقدر آپ بنانے کے تمنائی۔۔۔ہمارے لیے دُنیا کے قدم سے قدم ملا کر چلنے کا واحد راستہ یہی ہے کہ اپنی تاریخ اور اپنے محسنوں کو حرف غلط کی طرح مٹا کر صرف آج میں جیا جائےَ۔ ماضی سے نہ تو سبق سیکھا جائے اورنہ ہی اس کا احترام کیا جائے۔
 لیکن ابھی بھی اس مٹی میں نمی باقی ہے۔ ہمارا قائد  ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گا اوران شاء اللہ جب تک دم میں دم ہے۔۔۔ ہم قائد سے محبت کے دیے جلاتے رہیں گے۔۔۔ چاہے ہمارے کم سن بچے 14 اگست  کو محض آتش بازی کا تہوار سمجھ کرمنائیں۔۔۔ہمارے نوجوان موٹر سائیکل کے سلنسر نکال کر جان کی بازی کھیلیں۔۔۔ مہنگے تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے چھوٹے بچےیہ بھی نہ جانتے ہوں کہ پاکستان کس نے بنایا تھا۔ ہمیں اپنے حصے کا چراغ جلانا ہے۔ کبھی تو روشنی ہو گی۔ آتش بازی ایک پل کی خوشی ہے اس کے بعد سب بھک کر کے اُڑ جاتا ہے۔ ایک ننھا سا دیا جگنو کی چمک کی طرح ہوتا ہے جو ایک پل کو ہی سہی لیکن راہ تو دکھا ہی دیتا ہے۔

" اب یا کبھی نہیں "

قدرت کا شاہکار ہو یا تخلیق ِانسانی جب تک اُسے کوئی نام نہ دیا جائے اس کی اہمیت صفر ہی رہتی ہے۔ شناخت کام سے پہلے نام سے ہوتی ہے۔۔۔ نام ہی جو شخصیت یا ادارے کی بھرپور ترجمانی کرتا ہے۔وہ بعد کی بات ہے کہ کام کی جگمگاہٹ نام روشن کر دیتی ہے۔ اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو معاشرے میں بہت کم ایسا دیکھا یا سنا گیا ہے کہ کسی معیوب نظر آنے والے نام نے دنیا میں قابل فخر کارنامہ سر انجام دیا ہو یا کسی ادارے کا نام اس کی پہچان نہ بنا ہو۔
ہمارا اپنا وطن پاکستان دنیا کے نقشے پر اُبھرنے والا واحد ملک ہے جو ایک نظریے کی بنیاد پر قائم ہوا۔اسلام ہماری پہچان ہے۔۔۔ ہماری بقا ہے۔۔۔ ہمارا نام ہے۔ اپنے نام سے ہٹ کر دیکھیں تو پھر پنجابی ، پختون، سندھی ، بلوچ اور مہاجر ہمارے بکھرے ٹکڑے ہیں۔ ایک بچہ بھی یہ بات جانتا ہے کہ عام سی پزل کا ایک ٹکڑا نہ ملے تو تصویر ادھوری رہتی ہے۔۔۔اور پزل کا محض ایک ٹکڑا کہیں بھی اپنے طور پر جگہ نہیں بنا سکتا۔
ہمارے پیارے وطن کا پیارا اور بامعنی نام ہمارے عظیم رہنماؤں  کی نکھری سوچ کا ترجمان ہے۔ 28 جنوری 1933 میں جناب چوہدری رحمت علی نے دُنیا کے سامنے لفظ " پاکستان" اپنے کتابچے ( ناؤ اور نیور) میں سب سے پہلے استعمال کیا۔ تاریخ کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ لفظ پاکستان اگرچہ چوہدری رحمت علی نے ہی پہلی بار تقسیم ہندوستان کے تناضر میں استعمال کیا لیکن اسے پانچ برس پہلے "غلام حسن شاہ کاظمی " اپنے اخبار ' پاکستان" کے اجراء کے لیے دی گئی درخواست میں استعمال کر چکے تھے۔اس وقت وہ درخواست منظور نہ ہوئی ۔تاریخ میں ایک نام " خواجہ عبدالرحیم " کا بھی سامنے آتا ہے کیمریج میں چوہدری رحمت علی کے ساتھ برِصغیر کے مسلمانوں کےمستقبل پر تبادلہ خیال کرتے رہے اور"پاکستان" نام بھی دوران ِگفتگو انہوں نے ہی تجویز کیا۔
اپنے نام کے ساتھ "پاکستانی" لکھنے کا پہلا نام جناب عبدالعزیز کا ملتا ہے۔ جناب عبدالعزیز کی زندگی کہانی کالم نگار اصغرعبداللہ  کے  12 اگست 2013 کے کالم "تحریکِ پاکستان کا خاموش مجاہد"سے پڑھی جا سکتی ہے۔
 جالندھر سے تعلق رکھنے والے عبدالعزیز محکمہ ریلوے کلکتہ میں ملازم تھے۔وہ"آزاد ہند" کے نام سےایک پرچہ بھی نکالتے رہے۔اُنہوں نے36۔1935 سے ہی اپنے مضامین میں اپنا نام"عبدالعزیزپاکستانی" لکھنا شروع کیا۔پاکستان کے حق میں لکھنے کا جرم قبول کر کےانگریز سرکار کی نوکری ٹھکرانے والا یہ پہلا اسم بامسمٰی پاکستانی قیام پاکستان کے بعد سخت نامساعد حالات کا شکار رہا۔ٹی بی جیسے مہلک مرض میں مبتلا ہونے کے بعد 1961 میں ایبٹ آباد کے سینی ٹوریم میں وفات پائی اور ایبٹ آباد کی مسجد صدیقیہ کے قبرستان میں فوراً دفنا دیے گئے۔اُن کے بیٹے کو باپ کا آخری دیداربھی نہ مل سکا۔
اصغرعبداللہ  یکم اپریل 2015 کے کالم " میں ایسا کہاں تھا پہلے" میں  ُان کے بیٹے معروف  براڈکاسٹر"جناب طارق عزیز" کی کیفیت اُن کی زبانی کچھ یوں  لکھتے ہیں۔۔۔
پھر یکبارگی ا ن کے چہرے پر گہری افسردگی چھا گئی۔ان کی آواز بھرا گئی۔’’ میرا باپ میاں عبدالعزیز اگست 1947 میں جالندھر سے اپنا بھرا پُرا گھر چھوڑ کر نکلا تھا ۔ ماں اور بہن بھائیوں کے ساتھ ، میں بھی اس کے ہمراہ تھا ۔ پاکستان آکے اس نے بڑی ہی کسمپرسی کی زندگی گزاری، اور پھر ایک روز ایبٹ آباد کے سینیٹوریم میں بیماری اور غربت سے لڑتے لڑتے مرگیا ۔ ان دنوں میری بڑی عجیب حالت تھی ۔ اس شعر میں انھی دنوں کی کیفیت ہے ؎
شب دیر تک وہ روتا رہا ، صبح مر گیا
 مجھ کو تو یہ عجیب لگا ، جو وہ کر گیا۔
وہ بیٹا جو باپ کی ہدایت پرایک رات قبل لاہور پہنچا تھا۔عبدالعزیز پاکستانی کا  بیٹا "طارق عزیز" چند برس بعد پاکستان ٹیلی وژن کا پہلا نیوز کاسڑبنا اور اب پاکستان کا ایک قابل فخراثاثہ ہے۔ 
یہ تو تھے تاریخی حوالے۔۔۔ذکر ضروری تھا لیکن یہ نفسِ مضمون قطعی نہیں۔ یہ قرض تھا ان ہستوں کا جو ایک دیا جلا کرخود گمنامی کے اندھیروں میں چلی گئیں۔ پہلا جئرات مندانہ قدم تنہا "چوہدری رحمت علی " نے اُٹھایا اور جس کی سزا بھی ان کے حصے میں آئی۔ ایسی سزا جس کی گرفت سے موت نے تو انہیں آزاد کر دیا لیکن ہم پاکستانیوں پرایک نہ ختم ہونے والا قرض چھوڑ گئے۔۔۔ جو شاید رہتی دنیا تک سود سمیت بڑھتا ہی رہے گا۔
درج ذیل گوگل سےکاپی پیسٹ "چوہدری رحمت علی" کا احوال ۔۔۔۔
 ۔ "قیام ِ پاکستان کے بعد آپ دو بار پاکستان تشریف لائے مگر نامناسب حالات اور رویوں کے باعث دل برداشتہ ہو کر دوبارہ برطانیہ چلے گئے اسی دوران آپ کا 20 مئی 1948 کو پاکستان ٹائمز میں انٹرویو بھی شائع ہوا ۔آپ کا آخری پتہ 114 ہیری ہیٹن روڈ تھا اور آپ مسٹر ایم سی کرین کے کرایہ دار تھے، مسٹر کرین کی بیوہ کے مطابق چوہدری رحمت علی اپنا خیال ٹھیک سے نہیں رکھتے تھے ، جنوری کے مہینے میں سخت سردی کے دوران ایک رات آپ ضرورت کے کپڑے پہنے بغیر باہر چلے 
گئے اور واپسی پر بیمار ہوگئے ، آپ کو ایولائن کے نرسنگ ہوم میں داخل کرایا گیا جہاں ہفتے کی صبح انتقال ہوا "۔
ایمنوئیل کالج ،کیمریج شہر کے قبرستان اور کیمریج کے پیدائش واموات کے ریکارڈ کے مطابق3 فروری 1951 بروز ہفتےکی صبح آپ کا انتقال ہوا،17روز تک کولڈ سٹوریج میں ہم وطنوں، ہم عقیدوں اور ہم مذہبوں کا انتظار کرتے کرتے بالاآخر دو مصری طلبہ کے ہاتھوں اس غریب الوطن کو قبرنمبر بی۔۔8330 میں دفن کر دیا گیا ( کیمریج سمیٹری۔مارکیٹ روڈ،برطانیہ)۔
وزارتوں،الاٹمنٹوں،کلیموں اورہوس ِاقتدار کے ماروں کو خبربھی نہ ہوئی کہ صف ِاول کا مجاہد 200 پونڈ کا قرض اپنی تجہیز وتکفین کی مد میں کندھوں پر لے کر چلا ہے مگر چھ دہائیوں بعد بھی امانتاً دفن کیا گیا۔ اس مجاہد کا جسد ِخاکی جس نے مسلمانانِ برِصغیر کے لیے نہ صرف خواب دیکھے بلکہ ان کی تعبیر کے لیے اپنا تن من دھن سب کچھ لٹا دیا۔ یوں ہی دیارِغیر میں چند گمنام قبروں کے بیچ سال بہ سال جمنے والی دھول میں غائب ہو جائے گا کہ ہماری آنے والی نسلیں اس کے نام تک سے ناآشنا ہوں گی ؟ کیا زندہ قوموں کا یہی طریقہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے محسنوں سے اس قدر بےرحمی سے پیش آیا کرتی ہیں۔

۔۔۔۔۔۔
تئیس مارچ 2015۔۔۔جناب خرم بقا کا اظہارِخیال۔۔۔۔
 بہت متنازع موضوع چنا آپ نے۔ شاید آپ کو معلوم نہ ہو کہ چوہدری رحمت علی کا تجویز کردہ نام پاکستان، متحدہ ہندوستان میں کسی چوٹی کے لیڈر کی تائید نہیں حاصل کر سکا۔ قائد اعظم نے اسے دیوانے کا خواب کہا اور علامہ اقبال نے بھی اپنے ایک خط میں اس نام سے لاتعلقی کا اعلان کیا۔ ستم بالائے ستم، جن اشخاص نے اس پمفلٹ پر سائن کیے تھے انہوں نے بھی بعدازاں اس سے لاتعلقی کا اعلان کیا۔ چوہدری رحمت علی اور مسلم لیگ کی ہائی کمان کے درمیان اختلافات آخری دم تک قائم رہے۔1948 میں جب چوہدری رحمت علی پاکستان آئے تو انہں پاسپورٹ جاری نہیں کیا بلکہ پنجاب حکومت کے ایک دبنگ افسر سے انہیں دھمکی دلوائی گئی کہ انہیں سیکورٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کر لیا جائے گا۔ اس سے بیشتر انہیں قائد اعظم کی عیادت سے بھی منع کر دیا گیا تھا جبکہ قائد تیار تھے اس کے لیے۔ 1940 میں بھی جب چوہدری صاحب کراچی اترے تو انہیں پنجاب میں یونینسٹ حکومت کی طرف سے احکامات وصول ہوئے کہ وہ صوبہ پنجاب میں داخل نہیں ہو سکتے۔
 اب رہ گئی یہ بحث،لاحاصل بحث، کہ لفظ پاکستان کے اصلی خالق کون تھے۔چوہدری رحمت علی، خواجہ عبدالرحیم یا علامہ سید غلام حسین شاہ۔ تاریخی ثبوت بہرحال سید صاحب کے حق میں جاتے ہیں کہ انہوں نے 1928 میں ہفت روزہ اخبار پاکستان کے ڈیکلریشن کے لیے درخواست دائر کی تھی جو رد ہو گئی تھی۔ ریفرنس، برج آف ورڈز از خالد احمد
 قطع نظر اس کے کہ انہوں نے نام تجویز کیا تھا یا نہیں، ہندوستانی مسلمانوں کے لیے ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ انہوں‌ نے 1948 میں ہندوستان میں رہ جانے والے مسلمانوں کے حقوق کے لیے اقوام متحدہ کو خط لکھا۔ وہ واحد لیڈر تھے جو بحری جہازوں پرکبھی امریکہ،کبھی جاپان،کبھی ہانگ کانگ جا کر ہندوستانی مسلمانوں کے لیے لابی بناتے کہ انہیں ادراک تھا کہ غلام ہندو اور حاکم ہندو میں بہت فرق ہےل ان کے خیال میں جہاں جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں وہاں الگ ریاست بنا کر اسے ایک فیڈریشن کے تحت رکھا جائے۔آج کے ہندوستان کےحالات دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں مستقبل کا  
ادراک کہیں زیادہ تھا"۔بشکریہ۔۔۔۔جناب عقیل عباس جعفری ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
چوہدری رحمت علی۔۔۔ نقاش پاکستان
۔۔۔۔۔۔
جناب اصغر عبداللہ ۔۔۔۔
٭تحریک پاکستان کا خاموش مجاہد۔۔۔12 اگست 2013۔۔۔ روزنامہ ایکسپریس اسلام آباد

٭میں ایسا کہاں تھا پہلے۔۔۔۔۔یکم اپریل 2015۔۔۔۔۔روزنامہ ایکسپریس اسلام آباد

"بتی"

کتنے کچے رشتے ہیں
بتی کے نہ جلنے سے 
بدگمانی کی فصل 
یوں کاشت ہوتی ہے
جیسے رات کی بارش کے بعد
سڑک کنارے
  کھمبیاں اُگ آئیں
 جابجا بے فیض بے موسم 
لیکن اپنا اختیار کب ہوتا ہے 
بے موسم کی بارش پر
 خواہشوں کی یورش پر 
کتنے کچے رشتے ہیں
 پھر بھی  
سچےلگتے ہیں 
 اپنے اپنے لگتے ہیں  
رات کی بارش تن پہ جب برستی ہے
 ہم فصلیں کاشت کرتے ہیں 
اور 
زندگی عذاب کرتے ہیں

" قیدی "

ہم سب قیدی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنے خیال میں۔۔۔ اپنے دام میں۔۔۔ اپنے جسم میں۔۔۔ اپنی روح میں۔۔۔ اپنے دفتروں میں اور اپنے گھروں میں بھی ۔
بہت سے سوال سراٹھاتے ہیں کہ قیدی کون ہوتا ہے؟ قیدی کیوں قیدی ہوتا ہے؟ قیدی کیا کرسکتا ہے؟ اور قید کی مدت کیا ہے یا کتنی ہوسکتی ہے؟۔ ان سوالوں کے جواب کوئی گہرا فلسفہ نہیں بلکہ عام انسانوں کی عام کہانی ہے۔اپنی ذات پر غور کریں جواب ملتےچلے جائیں گے۔
سب سے پہلے قیدی وہ ہوتا ہے جو کسی جیل میں رہتا ہے۔اُس کی اپنی کوئی مرضی کوئی راستہ نہیں ہوتا۔ایک لگے بندھے شیڈول پراُس کا دن گزرتا ہے۔۔۔ کھانے پینے، ملنے ملانے۔ سونے جاگنے میں دوسروں کا دست ِنگر۔۔۔ ملاقاتی وقت لے کر ہی اُس سے مل سکتے ہیں وہ بھی کڑے پہرے میں وقت کی زنجیروں میں جکڑے۔۔۔ محنت مشقت سب طے شدہ۔۔۔ اُسے کولہو کا بیل کہہ لیں یا بوجھ اُٹھانے والا گدھا بس اپنے کام سے کام رکھنا ہی اُس کا مقصدِ حیات ہے۔۔۔ کوئی چوں چرا نہیں کہ بھاگنا بس میں نہیں۔۔۔اگرناکام کوشش بھی کی بھاگنے کی تو پابندیاں مزید سخت ہو جاتی ہیں سر پرنظر آنے والاآسمان دیکھنے کو نگاہیں ترس جاتی ہیں۔ اس چکی سے وہ ٹارچرسیل جنت دکھتا ہے جہاں تازہ ہوا تو میسر تھی۔بس آس ہے تو فقط یہ کہ سزا کب ختم ہو گی ۔ نہیں جانتا کہ یہ تو چھوٹی جیل ہے باہرنکل کر ایک بڑی جیل بڑی سزا منتظر ہے۔
اب سوال یہ اُٹھتا ہے کہ قیدی کیوں قیدی ہوتا ہے؟۔ اس میں بھی اس کا کوئی دوش نہیں۔ کبھی نادانی کا کوئی لمحہ اُس پر ایسا حاوی ہو جاتا ہے کہ ساری زندگی کی نیک نامی ساری کمائی لُٹ جاتی ہے اور وہ ذلت ومعصیت کی پکڑ میں آجاتا ہے۔۔۔ کبھی خواہش نفسانی عارضی خوشی کے حصول میں وہ ان جان ہمیشہ کی لذت سے محروم ہو جاتا ہے۔ لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ بحُز کسی ارادے کسی ترغیب کے وہ بے گناہ بھی قید میں آ جاتا ہے۔۔۔ کسی اور کے کیے کی سزا بُھگتا ہے۔۔۔ وہ ہوا میں اُڑتا پنچھی ڈال ڈال مہکتی تتلی کی طرح ہوتا ہے کہ وقت کے کرخت ہاتھ اسے اپنی مٹھی میں یوں بھینچ لیتے ہیں کہ طاقت ِپروازتو جانے دو اُس کا وجود بھی شناخت کھو بیٹھتا ہے۔ شکاری کسی اور کی قضا کے منتظر ہوتے ہیں لیکن وہ اپنی تقدیر کے چکر کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔
 سوال یہ ہے کہ قیدی کیا کر سکتا ہے اور کیا کرتا ہے؟۔ یہ اہم سوال ہے کہ جب وہ اپنے آپ کو مجبور سمجھنے لگ جائے تو پھر اُس کی عمرقید اور قید ِبامشقت میں کوئی کمی نہیں کر سکتا یہاں تک کہ وہ سزائے موت کے سیل میں ڈال دیا جاتا ہے پھر وقت ہی فیصلہ کرتا ہے۔اوران فیصلوں پرعمل درآمد میں بھی سالوں بیت جاتے ہیں ۔انسان مرمر کے جیتا ہے اور ہر پل مرتا ہے۔
قیدی وہ بھی ہے جو کوئی وسائل نہ ہونے کے باوجود اپنا مقدمہ خود لڑتا ہے آگے بڑھ کر جیل کے دروازوں پر آنےوالی روشنی کی کرن محسوس کرتا ہے جو قید وبند سے آزاد۔۔۔صرف دیکھنے والی آنکھ کا مقدر ہے۔ وہ دُنیا کے بدبو دار جوہڑ میں رہ کر خوشبو کا لمس چھونے پر یقین رکھتا ہے۔ وہ آخری سانس آخری لمحے تک ہار نہیں مانتا وہ اپنے دائرے کو جان جاتا ہے۔۔۔ وہ مان جاتا ہے کہ فرار کے راستے مسدود ہیں لیکن سانس کے راستے کھلے ہیں اور جب تک سانس ہو آس باقی رہتی ہے۔ وہ کچھوے کی طرح چپ چاپ اپنے راستے چلتا جاتا ہے۔۔۔ کبھی یوں ہوتا ہے کہ اُس کی خاموشی اُس کی تنہائی اُس کی لگن ایسے جگمگا اٹھتی ہے کہ آزاد دُنیا کے باسی اُس پر رشک کرتے ہیں کہ قید میں اتنی روشنی ہے تو اگر یہ روشنی کی قید میں ہوتا تو یقیناً اس کی چمک جگ کو خیرہ کر دیتی ۔
قیدی کی خواہشات کی کوئی انتہا نہیں۔ خواہش پر پاپندی بھی ممکن نہیں۔ اس کی خواہش نشہ ہوتی ہے۔۔۔ جس کی وقتی لذت میں وہ سب بھلا دیتا ہے۔ خواہش جینے کا۔۔۔ وقت گزارنے کا۔۔۔ حوصلہ دیتی ہے اگر دوستی کر لو۔ لیکن فاصلہ رکھنا بےحد ضروری ہے۔خواہش کو اپنی ذات کے اندر نہ اُترنے دو ورنہ دیمک کی طرح چاٹ جاتی ہے۔۔۔ کھوکھلا کر کے کسی قابل نہیں چھوڑتی ۔۔۔ چوری چوری اس کا حصول سزا میں اضافے کا باعث بنتا ہے تو! لذت زحمت میں بدل جاتی ہے محبت ذلت بن جاتی ہے اورعادت مجبوری ۔
!حرف ِآخر
رب نے جس نفس کو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت عطا کی ہے۔۔۔اس کے لیے ہر قید اختیاری ہےجو وہ بقائمی ہوش وحواس قبول کرتا ہے۔" بےاختیاری" کا خودساختہ دکھ صرف راہ فرار کا ایک راستہ ہے جو بند گلی پر ختم ہوتا ہے۔ 
زندگی ایک قید ہے یہ قید بھی صرف ان کا مقدر ہے جو غور کرتے ہیں ورنہ زندگی کے رنگوں سے رس کشید کرتے بے پروا لوگوں کے لیے زندگی ایک نہ ختم ہونے والا خوبصورت باغ ہے اور زندگی کی محرومیوں اور ناکامیوں کو سمیٹنے والوں کے لیے محض ایک بوجھ اور دوزخ کا سدا رہنے والا عذاب۔ اس قید کو محسوس کرو تو یہ ایک دائرہ ہے اس کو جان لو اور مان لو کہ دائرے پھیلنے کے لیے ہوتے ہیں جتنا آگے بڑھو گے دائرہ بڑھتا چلا جائے گا ۔
وسعت ِنظر سے بڑھ کرایک قیدی کا انعام اورکوئی نہیں

سوموار, اگست 12, 2013

"عورت کا مقدمہ ۔۔۔۔۔۔۔ غلام اکبر ملک "

"عورت کا مقدمہ ۔۔۔۔۔۔۔ غلام اکبر ملک "
 الحمدّللہ ! مجھے فخر ہے کہ میں عورت ذات کے متعلق کسی بھی قسم کے تحقیر آمیز نظریات نہیں رکھتا۔
اُس نے مجھے زندگی دی ہے اور میں اُس سے زندہ رہنے کا حق نہیں چھین سکتا۔
وہ میرا لباس ہے لہذٰا میں اُسے ننگِ انسانیت ہونے کا طعنہ نہیں دے سکتا۔
اُس نے میری نجاستیں دھو کر مجھے پاک صاف رکھا لہذٰا میں اُسے نجس مخلوق قرار نہیں دے سکتا۔
اُس نے مجھے انگلی پکڑ کر زمین پر چلنے کا طریقہ سکھایا،لہذٰا میں اُس کے پاؤں سے زمین نہیں کھینچ سکتا۔
اُس نے میری تربیت کرکے مجھے انسان بنایا لہذٰا میں اُسے ناقص العقل نہیں کہہ سکتا۔
اُس کا ودیعت کردہ خون میری رگوں میں دوڑ رہا ہے،لہذٰا میں اُسے شیطان کا دروازہ یا لغزش کا محل نہیں کہہ سکتا۔
اُس نے مجھے گھر کی پُر آسائش و پُرسکون زندگی عطا کی ہے،لہذٰا میں اُسے فتنہ وفساد کی جڑ قرار نہیں دے سکتا۔
اُس نے مجھے کامل بنایا لہذٰا میں اُسے ناقص نہیں کہہ سکتا۔
اُس نے مجھے انسان بنایا ، لہذٰا میں اُسے آدھا انسان قرار نہیں دے سکتا۔
 اُس نے اپنی زندگی کی ہر سانس کے ساتھ مجھے اپنی دعاؤں سے نوازا ہے،لہذٰا میں اُسے حقارت آمیز گالیاں نہیں دے سکتا۔
اگر میں ایسا کروں تو میری اپنی ہی ذات کی تحقیر تذلیل اور نفی ہوتی ہے۔
اللہ کا شکر ہے کہ میں عورت ذات کے متعلق ہر طرح کا حُسنِ ظن رکھتا ہوں"۔ "
 " عورت کا مقدمہ “ (غلام اکبر ملک) سے اقتباس

"سیاسی حمام اور لولی پاپ کی سیاست "

رزق کی تعریف بہت وسیع ہے۔رزق حلال بھی ہوتا ہےاورحرام بھی۔ رزق محنت سے کمایا جاتا ہے تو مال مفت یا مالِ غنیمت کی طرح بےدریغ لٹایا بھی جاتا ہے۔ جو مل جائے اس پر قانع بھی رہا جاتا ہے اور جتنا ملتاجائے اس کی طلب  کبھی کم نہیں ہوتی جو ہوس کا روپ دھار لیتی ہے۔
رزق مالک کی عطا ہے تو بھوک انسان کے کردار اور اُس کی حیثیت کا تعین کرتی ہے.زیادہ تر بھوکے ایسے ہیں جن کے پیٹ بھرے ہیں۔اور سب سے زیادہ غریب وہی ہیں پیسہ جن کے ہاتھ کا میل ہے۔یہی تضاد اکثرکون امیر؟کون غریب؟ کی الجھن میں مبتلا بھی کر دیتا ہے۔
بحیثیت قوم خالی پیٹ۔۔ننگے۔۔جاہل۔۔۔عوام کی بھوک ہمارا مسئلہ نہیں۔ بلکہ بھرے پیٹ کے پڑھے لکھے افراد کی ہوس اصل فساد کی جڑ ہے۔عام عوام کی بھوک اگراخلاقی گراوٹ کی حدوں کو چھو کر قابلِ نفرین اور خلاف خرق اعمال وعادات کو جنم دیتی ہے۔۔۔ تو طبقۂ اشرافیہ کی بےمہار لوٹ ماراُن کی اپنی نسلوں کوحرام کی کمائی وراثت میں دے کر اُن کی رگوں میں  نُطفۂ حرام داخل کر دیتی ہے۔ناسمجھ لوگ نہیں جانتے کہ حرام کا لقمہ وہ گناہ ِجاریہ ہے جو خون میں گردش کر کے اُس کے ثمرات نسلوں تک پھیلا دیتا ہے۔مہذب اقدار کے حامل بھی اپنی 'عقل' کی شہادت کی بنیاد پر اس بہتی گنگا سے ہاتھ دھوئے بغیر نہیں رہ پاتے۔
یہ سیاست دان سب کے سب ہر قسم کی شرم یا کسی بھی قسم کے ڈر خوف کا لباس اتار کر ہی سیاست کے اس شرم ناک حمام میں داخل ہوتے ہیں۔ اور بخوبی جانتے ہی کہ ہم عام عوام ہوں یا پڑھے لکھے دانشور سب کی آنکھوں پر پٹیاں بندھی ہیں۔۔۔ بس ان کا رنگ اور ڈھنگ مختلف  ہے کسی کی آنکھ پر جہالت کی ہے تو کہیں مصلحت کی۔ کسی کی آنکھ لالچ و ہوس کی چکاچوند سے بند ہوتی ہے تو کوئی اپنی بزدلی کو قناعت کی بوسیدہ کترنوں میں چھپاتا ہے۔اور میڈیا " سیاہ ست" دانوں کے لیے ان پٹیوں کی فروخت کا قابل اعتماد چرب زبان۔"۔۔۔۔"ہے۔اس خالی جگہ کے لفظ  کے لیے کسی "دلیل" کی ضرورت نہیں۔روٹی روزی کی خواری میں ریٹنگ کا عذاب جھیلتے چرب زبان اینکرز عوام کے سامنے لفظوں  کی بُل فائٹنگ میں مصروف ہیں۔آنکھیں پھاڑے عام عوام نہیں جانتے کہ وہ تماش بین نہیں تماشا ہیں،کٹھ پُتلیاں ہیں اور  اُن کے ہاتھوں میں جن کی  اپنی ڈوریاں کسی اور کے پاس  ہیں۔آج کل کی میڈیا سیاست میں نئے سے نئے الفاظ میں مخالف کو زیر کرنا شام کی سب سے بڑی تفریح ہے۔ ایسا ہی ایک لفظ "سونامی" ہے۔۔۔ جو بظاہر ایک استعارے کے طورپرلیا جا رہا ہے جبکہ حقیقی معنوں میں سونامی ایک بھیانک سمندری طوفان ہے جوجمی جمائی بستیاں پل میں اُجاڑ دیتا ہے۔ ہمارے یہاں سونامی کے آنے جانے کا یوں ذکر ہوتا ہے جیسے کوئی معزز مہمان آنے والا ہے جو ہمارے سارے دکھ درد دورکر دے گا۔ دکھ ہے تو صرف یہ کہ آج ہم اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ معاشی معاشرتی استحصال تو برسوں سے جاری تھا اب ہمارا جذباتی استحصال بھی شروع ہو چکا ہے بلکہ استحصال تو بہت معمولی لفظ ہے یہ سیاست دانوں اور اہلِ اقتدار کی ہم عوام کے ساتھ ایک ایسی "اجتماعی زیارتی" ہے جس نے   نہ صرف ہم عوام  بلکہ ہر طبقے  میں سے باشعور اور پڑھے لکھے مراعات یافتہ، قانون دانوں اور وردی والوں کو بھی چپ لگا دی ہے ۔ درد مند لکھنے والوں کو پڑھ کر وہ فلسطینی یاد آتے ہیں جو  پتھر مار کرٹینک کا مقابلہ کرتے دکھائی دیتے تھے اورکبھی کتابوں میں پڑھے بھاپ اڑاتے مشترکہ حمام  کی مثال  صادق آتی ہےجہاںجسمانی غلاظت جتنی اُترتی ہے اُس سے دُگنا جذب ہو جاتی ہے۔
ایک سوال اکثر پوچھا جاتا ہے کہ  سیاسی شخصیت نے قوم کو اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کا شعور دیا؟  اس کے جواب میں بےساختہ  دل سے نکلتا ہے کہملک کو بری طرح لوٹنے والا ہر "برا" سیاست دان قوم کو اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کا شعور دیتا ہے لیکن یہ آواز ہم عام عوام کے اپنے کانوں تک بازگشت کی صورت چکر کاٹ کر مایوسی کے بھنور میں ڈوب جاتی ہے۔ ستم یہ ہے کہ "اچھا" سیاست دان اس آواز کو کیچ کر لیتا ہے اور اسے اپنے ذاتی ریڈیو کی فریکوئنسی پر سیٹ کر کے "دمادم مست قلندر" کے نعرے بلند کرتا ہے ۔ اور پھر اُڑن چھو ہو جاتا ہے ۔ اور ہم بعد میں ایک دوسرے سے یہی سوال پوچھتے رہ جاتے ہیں۔۔۔۔۔
"کس سیاسی شخصیت نے قوم کو اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کا شعور دیا ؟؟؟
ہم عوام ہمیشہ سیاست دانوں کی لچھے دار باتوں میں آ جاتے ہیں۔ اُن کے دعوے ریت کی دیوار ہی ثابت ہوئے ہیں، ترقی و خوشحالی کے لولی پاپ دکھاتے ضرور ہیں لیکن اقتدار میں آ کر صرف ان کے ریپرز ہی بانٹتے ہیں اپنے پوسٹرز کی طرح ۔ ستم یہ ہے کہ ہمارے سامنے بڑے مزے لے کر یہ لولی پاپ نہ صرف ہضم کر جاتے ہیں بلکہ اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ہمارا سرمایہ چھین کر محفوظ کر لیتے ہیں، نہ جانے کس کس قماش کے سوئس بنکوں میں کہ جن کے پاس ورڈ اکثر یہ خود بھی بھول جاتے ہیں.آنکھ کے اندھوں کے پاس تو پھر بھی ایک عذرِلنگ ہو لیکن اصل پکڑ دل کے اندھوں کی ہو گی۔ جو صرف اور صرف پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے وہ بھی صرف "چند گھنٹوں" کی ناکام کوشش کی خاطر ہمیشہ کے خسارے کا سودا کرتے   ہیں ۔ دُکھ لوٹنے والوں کا نہیں بلکہ افسوس یا  جھنجھلاہٹ  بحیثیت عوام اپنے کردار پر بھی  ہے ۔ان لٹیروں کو ہم خود ہی تو آگے آنے کا موقع دیتے ہیں۔کہنے کی حد تک ہم تماش بین قوم تھےلیکن اب ثابت  ہو گیا کہ ہمارے سیاہ ست دان تو تماش بین سے بھی ایک درجہ بڑھ گئے۔تماش بین تو پھر بھی"مرد"ہوتے ہیں جوسیڑھیاں چڑھ کر وقتی لذت کی تلاش میں جاتے ہیں۔ہمارے کرتا دھرتا  تو پیٹ کی آگ بجھانے کی خاطر"تالیاں پیٹنے والوں" سے بھی گئے گزرے نکلے ۔اُن کا ہاضمہ تو مردار خوروں اور ویمپائر سے بھی بڑھ کر ہے، دنوں میں سب بنا ڈکار کے اندر اتر کر غائب لیکن غلاظت کا نکاس نہ ہونا سب اچھا ہے کی دلیل ہرگز نہیں، یہ آنے والی نسل کی ذہنی بلوغت کے لیے لمحۂ فکریہ ہےجس سے ہم نے کبوتر کی طرح آنکھ بند کر رکھیہے۔
 سیاسی قلابازیاں اور بیماریاں۔۔۔
  سیاسی حمام  میں"غسلِ صحت "کے مزے لوٹنے والے جب طاقت کے حصار سے نکلتے ہیں یا نکال دیئے جاتے ہیں تو فوراً ہی   ایسے جان لیوا  روگ میں مبتلا ہو جاتے ہیں جس کا علاج  وطنِ عزیز  میں ممکن نہیں ہوتا۔ستم یہ کہ ملی بھگت سے جیسے ہی باہر  قدم رکھتے ہیں،بیماری کا نام ونشان تک غائب ہو جاتا ہے۔بیماری چاہے ذہنی ہو یا جسمانی انسان کی سوچ پر اثر انداز ہوتی ہے اور بیمار شخص اس بیماری کے ہاتھوں مجبور ہو جاتا ہے کہ اسے اس سے آگے کچھ نہیں دکھتا۔ پھر ہم کیوں اپنے "را ہ نماؤں" کو الزام دیتے ہیں۔جائز ناجائز سے قطع نظر اپنی زندگی کی خواہش سے ہی تو دوسری زندگیوں سےاُن کا آب حیات کشید کرنے کی خواہش جنم لیتی ہے۔کوئی اس کے لیے اپنی نسل میں حرام کے تخم کی آمیزش کرتا ہے تو کوئی خاموشی سےعلم وآگہی کی خوشبو رگوں میں آتار کر آنے والوں کے لیے نشان منزل کی بناء رکھتا ہے۔
آج تم یاد آئے اور بےحساب یاد آئے۔۔۔۔
۔"پاکستان کو جاہلوں سے زیادہ پڑھےلکھوں نے نقصان پہنچایا ہے" جناب اشفاق احمد کی یہ بات جی چاہتا ہے بڑے بڑے چوراہوں پر آویزاں کی جائے۔

اتوار, اگست 11, 2013

" گناہ اور معافی"

" گناہ گناہ ہوتا ہے"
گناہ کی پکڑ لازم ہے ،یہاں تک کے گناہ کے امکان کی بھی پکڑ ہے لیکن اس فیصلے کا اختیار مالک کے پاس ہے کہ کب پکڑ ہے اور کس انداز میں ہے۔ بے شک مالک کی رحمت اُس کے غضب پر حاوی ہے لیکن خطاکار اُس کی نظر میں برابر ہے چاہے دین دار ہو یا دنیا دار۔ کسی نمازی کو اس کی خطا پر اس لیے چھوٹ نہیں کہ وہ پانچ وقت ماتھا زمین پر رکھتا ہے اور کسی بھٹکے ہوئے کی نیکی صرف اس لیے قبولیت کی منزل سے دور نہیں کہ وہ گناہ میں لپٹی ہوئی ہے۔
ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم ڈھٹائی سے اپنی سوچ پر  اڑے رہتے ہیں۔ اگر اللہ کے راستے پر چلتے ہیں تو اپنے آپ کو پاک صاف جان کر لاشعوری طور پر تفاخر اور تدبر کا راستہ چن لیتے ہیں ۔ گناہ کے نام سے دور بھاگتے ہیں اور اس کے امکان کو بھی رد کر دیتے ہیں یہ سوچے بغیر کہ ہم ایک انسان ہیں جس نے دنیا میں رہنا ہے اس کو برتنا ہے ۔ ہم فرشتہ نہیں کہ سوائے عبادت کے جس کا کوئی مقصد ِحیات نہ ہو، اسی لیے ہمیں اپنی ذات کو چھوڑ کر ہر جگہ برائی نظر آتی ہے۔خطا کار کے پاس بھی اپنے رویے کی جائز وجوہات ہوتی ہیں۔ دنیا نے اس کے ساتھ ناانصافیاں کی ہوتی ہیں۔ کسی کا گھربار لُٹ جاتا ہے تو وہ خود لٹیرا بن جاتا ہے کسی کا پیارا ناحق مارا جائے تو وہ بندوق اٹھا کر قاتلوں کی فہرست میں شامل ہوجاتا ہے ۔ غربت کی چکی میں پستے پستے جب کسی کے ہاتھ قارون کا خزانہ لگتا ہےتو وہ اس پرسانپ بن کر بیٹھ جاتا ہے یا پھر غربت اور مایوسی کا اندھیرا اسے بددیانتی کی دلدل میں گرا دیتا ہے جو اسے اس وقت روشن مستقبل دکھائی دیتا ہے ۔ پیٹ کی آگ برداشت کرتے کرتے وہ اپنے بچوں کے لیے حرام لقمے جمع کرتا ہے اور اپنے آپ کو صفائی بھی پیش کرتا ہے کہ بھوک میں مردار جائز ہے۔ قسمت کے الٹ پھیر میں جب پکڑ آتی ہے ، یا آزمائش کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو دین دار اللہ سے یوں فریاد کرتا ہے کہ میں نے تو کچھ بھی نہیں کیا ،بے گناہ مجھ پہ یہ کیا افتاد آن پڑی اور گناہ گار کسی حد تک اپنے آپ کوبہلاتا ہے کہ ظلم و زیارتی کا جواب ہی تو دیا تھا۔ساری بات غور وفکر کی ہے دین دار کو احساس ہو جائے کہ اس سے گناہ سرزد ہو سکتا ہے یا ہو گیا ہے اور گناہ گار گناہ کرتے ہوئے یہ سوچ لے کہ وہ برا کام کر رہا ہے جس کا حساب بہر حال دینا ہو گا تو مالک کا کرم ہرپل صراط پار کرا دیتا ہے۔
جب وقتِ نزع سے پہلے زندگی کی آخری پائیدارسانس تک توبہ کی گنجائش موجود ہے تو زندگی کا ایک منطقی اُصول یہ سمجھ آتا ہے کہ کوئی غلطی سرزد ہوجائے تواُس کو درست کر سکتے ہیں۔۔۔ کوئی بھی نقصان ہو اُس کا ازالہ کیا جا سکتا ہے۔ انسان میں اتنی صلاحیت ہے کہ کمان سے نکلا تیر بھی واپس لا سکتا ہے۔کہا جاتا ہےگیا وقت ہاتھ نہیں آتا لیکن انسان جُہدِمسلسل سے اپنے موجودہ وقت کواُس قابل بنا سکتا ہے کہ گُزرا ہوا زمانہ محض ایک عالمِ خواب سے زیادہ محسوس نہ ہو۔اس کے لیے شرط صرف یہ ہے کہ انسان کواحساس ہو اُس سے واقعی کوئی غلطی ہوئی ہے۔گناہ کا احساس ہوگا تو ہی انسان توبہ کا طلب گار ہوگا۔ 
اللہ انسان کے سب گناہ جانتا ہے ۔قران کے راستے فرد ِجرم عائد کر کے سزا بھی سنا دیتا ہے لیکن اللہ انسان کا بڑے سے بڑا گناہ ندامت کے آنسواور توبہ کی تسبیح سے معاف بھی کر دیتا ہے۔تلخ سچائی یہ ہے کہ انسان انسانوں کے گناہ کبھی ذرہ برابر بھی نہیں جان سکتے۔ نہ جانتے ہوئے بھی فرد ِجرم لگا کر قید میں ڈال دیتے ہیں اور  انسان کی چھوٹی سے چھوٹی خطا کسی  طورکبھی معاف نہیں کرتے۔
مقدر کے بنے خونی رشتوں میں معاف کرنا ہی پڑتا ہے۔ لیکن اصل حوصلہ تعلقات میں زیارتی کو معاف کرنا ہے۔ وہ تعلق جس کی بنیاد پر رشتے تخلیق پاتے ہیں۔اگر بنیاد میں معافی کا عنصر شامل نہ کیا جائے توعمارت بلند نہیں ہو سکتی۔
عمارت کھڑی ہو بھی جائے توسمجھوتے کی کمی اس میں دراڑیں ڈال دیتی ہے،پھررفتہ رفتہ تعلق رہتا ہے اور نہ ہی اس کی بنیاد پر بننے والے رشتوں کی مضبوطی ۔۔۔سب بکھر بکھر جاتا ہے۔جب پیروں تلے زمین ہی نہ ہو تو عالی شان سکائی سکریپرز سائنس کی ترقی کا شاہکارتو بن سکتے ہیں لیکن اُن میں فطرت کا حُسن کبھی نہیں جھلک دکھلا پاتا۔
آخری بات 
"اللہ سے معافی مل سکتی ہے لیکن بندوں سے معافی کی اُمید بھی نہیں رکھی جا سکتی "
دسمبر 2011

جمعہ, اگست 09, 2013

" تّحفۂ زندگی "



جان دی دی ہوئی اُسی کی تھی" 
حق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا"۔
(غالب)
 "زندگی ہمیں ہر وقت ہر لمحہ کچھ نہ کچھ دیتی رہتی ہے ہم زندگی کو کبھی کچھ نہیں دے سکتے "
پیدائش کے روز ِاوّل سے زندگی کے آخری سانس تک حیات ِانسانی کو دیکھا جائے تو حقیقت سامنے آ جاتی ہے۔
 انسان ایک ایسا پیراسائیٹ ہے جو کائنات کی ہر شے کا محتاج ہے اُس کے پاس تو اتنی اہلیت بھی نہیں کہ بوقت ِضرورت اپنے اندر سے خوراک لے کر جسم وجاں کا رشتہ برقرار رکھ سکے۔ سانس کے لیے آکسیجن چاہیے،بھوک کے لیے خوراک اور پیاس کے لیے پانی ۔ یہ تو وہ نعمتیں ہیں جو ہرانسان کی لاشعوری اورلازمی ضروریات ہیں ۔ اس کے جواب میں ذرا سوچیں تو ہم کیا دیتے ہیں کاربن ڈائی آکسائیڈ اورایسا مواد جسے ہماراجسم ایک پل کے لیے بھی برداشت نہیں کر سکتا۔ یہ سوچیں کہ ہمارا جسم تو ناشکرگُزاری کے خمیر سے بنا ہے جب ہم لاشعوری طور پر کچھ اچھا نہیں دے سکتے تو شعوری طور پرکیسے اچھے ہو سکتے ہیں؟ پھر انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ کیوں دیا گیا؟ انسان ایک بےحقیقت شے ہے تو پھر انسان کی اصلیت کیا ہے؟.یہ اصل سوال ہے جس کا جواب ہمیں تلاش کرنا ہے۔
انسان جسم اور روح سے مل کر بنا ہے اگر جسم کی ضروریات ہیں تویقیناً روح کی بھی ہوں گی ،جسم کی مانگ ہے تو روح کوبھی خوراک چاہیے۔ جسم دِکھتا ہے اس کی طلب نگاہوں کے سامنے ہے تو روح کی طلب نگاہوں سے پرے ہو گی ۔ جسم اگر بھوک سے تڑپتا ہے تو روح کو بھی قرارنہ ہوگا۔ ہماری تمام عمر جسم کو ضروریات کی فراہمی پر ہی خرچ ہو جاتی ہے۔ یہی سب سے بڑا کارنامہ ہوتا ہے۔ ہماری شکر گزاری کی انتہا بھی جسم سے شروع ہو کر جسم پر ہی ختم ہوتی ہے ۔آنکھوں سے دُنیا دیکھتے ہیں،کانوں سے سنتے ہیں، زبان سے چکھتے ہیں،ناک سے سونگھتے ہیں،ہاتھوں سے محسوس کرتے ہیں،دماغ سے سوچتے ہیں،عقل سے پرکھتے ہیں،دل سے جذبات نگاری کرتے ہیں،اِسی جسمانی مشقت میں اپنے تئیں شانت ہو کر راہیءمُلکِ عدم ہوتے ہیں ۔اپنے ہم زاد کے بارے میں کبھی سوچنے کی فرصت ہی نہیں ملتی جو جسم ِانسانی کی اصل ہے۔
جسم تو ایسا غبارہ ہے جو ہوا میں ادھر ادھر بڑا اتراتا پھرتا ہے اپنے رنگ ڈھنگ اور جسامت سے دوسروں کو متاثر کرتا ہے ،اپنی اُڑان سے لوگوں کو دم بخود کر دیتا ہے۔ یہ وہ تتلی ہے جو اپنے دلفریب رنگوں اورسُبک اُڑان سے نظروں کو مائل کرتی ہے جسے چھونے اور پانے کی خواہش دیکھتے ہی پیدا ہو جاتی ہے لیکن جیسے ہی وہ تتلی وہ غبارہ قضا کی دسترس میں آتے ہیں اور اُس کے نوکیلے کھردرے لمس سے اُن کا جو حشر ہوتا ہے وہی ہمارے لیے زندگی کی حقیقت جاننے کو کافی ہے ۔ جسم کی شان جسم کی آن روح سے ہے . جسم سے روح جُدا ہوتی ہے تو وہ مٹی کے بدبودارڈھیر کے سوا کچھ نہیں رہتا ۔انسان کے دُنیا سے سارے رشتے ساری محبتیں سارے بھروسے صرف اور صرف اس وقت تک باقی ہیں جب تک روح جسم کا ساتھ دیتی ہے۔ روح کے نکلتے ہیں گوشت پوست کے انسان اُسے صرف مٹی جانتے ہوئےجلد از جلد مٹی کے حوالے کرنے کو ہی سب سے بڑی نیکی اور اپنی محبت کی معراج سمجھتے ہیں۔ ستم تو یہ ہے کہ ہمارے وہ ساتھی وہ دوست جو ہمیں محسوس کرتے ہیں جو ہمارے کہے بغیر ہمیں فیض پہچاتے ہیں جن سے ہمارے خیال میں روح کا رشتہ ہوتا ہے جن سے ہماری ریز ٹکراتی ہیں تو ہماری اور اُن کی ویو لینتھ ایک ہو جاتی ہے ۔اُن کا اور ہمارا ساتھ بھی اسی دُنیا تک ہی رہتا ہے۔ 
کچھ "بانصیب " بدنصیب ایسے ہوتے ہیں جن کےلیے جسم کی خوراک  کوئی معنی نہیں رکھتی وہ جسم کو ثانوی حیثیت دیتے ہیں ۔ روح کی خوراک کی تلاش میں رہتے ہیں اور نوازنے والا عطا کرتا جاتا ہے ۔خواہش ابھی خیال کی پہلی سیڑھی پر ہی آتی ہے کہ مالا مال کردیا جاتا ہے ۔ دینے والا صدا لگاتا ہے اور تمہیں کیا چاہیے ۔اس کے دینے کی حد ختم نہیں ہوتی ہمارا دامن چھوٹا پڑ جاتا ہے ،ہم روپے دو روپے مانگتے ہیں تو وہ ان داتا پورے خزانے پر بٹھا دیتا ہےیہاں تک کہ ہماری طلب ختم ہو جاتی ہے اس کی عطا جاری رہتی ہے۔ اس رام کہانی میں جب احساس ہوتا ہے کہ یہ جسم کے رشتے یہ روح کے رشتے ،یہ جسم کی طلب یہ روح کی ضروریات صرف اور صرف ایک اچھی اور بھرپور زندگی کا لُطف اٹھانے کے لیے ہی ہیں ۔ انسان کی بھوک ایسا طاقتور شکنجہ ہے جس کی گرفت میں جسم اور روح برابر کسے جاتے ہیں ، جسم کی بھوک کے سامنے انسان کی ساری اخلاقیات سب تہذیب دھری کی دھری رہ جاتی ہے ساری محبتیں ساری نفرتیں فقط روٹی کے ایک نوالے کی محتاج ہیں،انسان اپنی عمر بھر کی کمائی ،دنیا جہان کی بادشاہت پانی کے ایک گھونٹ کے لیے قربان کرنے کو تیار ہو جاتا ہے۔ایمان اور دین داری بھوک پیاس کی شدت کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑی نظر آتی ہے۔ روح کی بھوک بظاہر محسوس تو نہیں ہوتی لیکن ایک مدہم سی خلش ساتھ چلتی ہے- اللہ کے کرم سے جب یہ احساس بیدار ہو جائے کہ کیا اللہ نے ہمیں اشرف المخلوقات کا درجہ محض اس وجہ سے دیا ہے کہ ہم دنیا کی زندگی میں آخرت کی فکر کریں جسمانی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے روح کی پکار بھی سنیں کیا حیوان اور انسان میں بس یہی فرق ہے کہ وہ جسم ہے اور ہم جسم کے ساتھ روح سے بھی واقف ہیں؟ کیادُنیا داری کے ساتھ دین داری احسن طریقے سے ادا کرنا ہی ہمارا اول وآخر ہے؟ حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد ادا کر کے ہم اللہ سے اپنی مزدوری کی قیمت بڑے فخر سے مانگیں کیا یہی ہماری کامیابی ہے ؟ تخلیق ِانسانی کا مقصد بس یہی ہے کیا ؟ ایسا بالکل بھی نہیں اس سوال کا جواب شکر گزار لوگ ہی دے سکتے ہیں ۔
انسان کے شرف کی سب سے بڑی خوبی سب سے بڑی وجہ شُکر کا جذبہ ہے۔ شُکر کیا ہے ؟
 اللہ نے آپ کو بہتر سے بہترین نوازا ،جو مانگا ملا، جو چاہا پا لیا ،جس سےبھاگے پلٹ گیا ، دین و دنیا کی دولت ملی تو رب کے حضور جھک گئے۔
نہیں!!! بلکہ شکر کی اصل یہ ہے کہ اللہ نے جو دیا جیسا دیا جس حال میں رکھا جس سے محروم رکھا ِجس خواہش کو کسک بنا دیا ،نعمت دے کر واپس لے لی َغرض ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کیا جائے۔ کیا یہ وہی بات ہے جو خالق نے مخلوق کے خمیر میں سب سے پہلے شامل کی ؟ یہ بھی ہمارےسوال کا جواب نہیں ۔ تو پھر ہمارا سب سے پہلا سبق ،ہمارے نصاب کا پہلا حرف کیا ہے ؟ ذرا غور کریں تو بات سمجھ آتی ہے۔ ہماری عقل کی معراج ہمارے مسائل کا حل صرف "الف" میں ہے ہم 'الف' چھوڑ کر 'ے' تک تمام اسباق حفظ کرنے میں عمر گزار دیتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ جو اس راز کو پا گیا وہ دنیا کی نظر میں ہوش وخرد سے بیگانہ ہو گیا۔ اللہ نے اسے اتنے واضح طور پر بتا دیا کہ سمجھ آجائے تو اپنی عقل پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے کہ اتنی روشنی کے باوجود دکھائی کیوں نہ دیا۔
اللہ نے انسان کو بندگی کے لیے کوئی لمبی چوڑی فہرست نہیں تھمائی صرف اور صرف ایک بنیادی بات قرآن پاک کے راستے ہمیں یہ بتائی ہے کہ انسان کا سب سے بڑا گناہ شرک ہے جسے ظلم ِعظیم کہا گیا۔ ہم مسلمان اس بات کو اپنے ایمان کا حصہ جانتے ہیں لیکن اس زعم میں بھی مبتلا ہیں کہ یہ پرانے دور کی بات ہے جب بت پرستی ہوتی تھی ہم تو بہت عقل مند ہیں بھلا بُت بھی خدا ہو سکتے ہیں یہ سب دور ِجاہلیت کے قصے ہیں ہم تو جدی پشتی مسلمان ہیں شرک کا سوچ بھی نہیں سکتے لہذا سب سے بڑے گناہ سے ہمیشہ کے لیے بچ گئےلیکن ذرا سوچیں کہ اللہ نے زندگی کے امتحان میں پاس ہونے کے لیے اتنا آسان سوال کیوں رکھا جس کا جواب ہرجاہل وعالم بخوبی جانتا ہے اور جس کے جواب کے لیے کوئی بھاگ دوڑ نہیں کرنی بس دل ہی دل میں اللہ اللہ کہہ دیا اور بیڑہ پار۔ ایسا نہیں ہے۔
 ہمیں لفظ شرک پر غور کرنا چاہیے۔ یہ وہ الف ہے جس کے بارے میں سوچنے لگیں تو خیال کی پرواز کائنات کے گرد گھومنے لگتی ہے۔اپنے آپ سے شروع کریں تو پتہ چلتا ہے کہ شرک سے بچاؤ بس یہی ہے کہ اللہ کے علاوہ اور کچھ نہ سوچا جائے۔اپنے ہر سانس ہر سوچ ہر عمل ہر رشتے ہر طلب ہر جزا ہر سزا میں اللہ کے سوا کسی اور چیز کا شائبہ تک نہ ہو جو مانگیں اللہ سے مانگیں ۔ ہمیں اپنے خون کی روانی میں اللہ کو شامل کرنا ہے۔اللہ کی رضا ہر حال میں ہر خیال میں سامنے رکھنی ہے۔اپنی ہر خواہش ہر کسک کو اپنے رب کے سامنے جھکانا ہے۔
 شرک کیا ہے --- شریک کرنا -- شئیر کرنا -- اگر اپنے نفس کی بات ماننا بھی شرک ہے ---اپنی عقل پر بھروسہ کرنا بھی شرک ہے--- اپنے دل کی سننا بھی شرک ہے تو پھر انسانوں کے ساتھ اپنی سوچ شئیر کرنا تو ہماری ہلاکت کے سوا کچھ نہ ہو گا ۔ اتنی گھٹن میں پھر ہم کیا کریں -- اس کے لیے اللہ سے رجوع کریں تو جواب مل جاتا ہے۔
 ہم جانتے ہیں اللہ شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔اتنی سی بات اگر مان بھی لیں تو مشکل آسان ہو جاتی ہے۔ ہمارا کوئی قول کوئی فعل اللہ سے پوشیدہ نہیں ،وہ دلوں کے راز خوب جانتا ہے-یہ آیات ہم پڑھتے رہتے ہیں لیکن غور نہیں کرتے ۔ جس روز قرآن پڑھنے کی بجائے ہمارے اندر جذب ہونے لگ جائے گا اُس دن سے ہمارے اندر کی کشمکش کو قرار مل جائے گا ہمارا اپنے نفس کے ساتھ جھگڑا ختم ہوجائے گا۔ ہم نے صرف ایک کام کرنا ہے اور ایک کام چھوڑنا ہے۔ ہر حال میں شرک سے بچنا ہےاور ہر وقت رب کا شکر ادا کرنا ہے۔
یہ کیا عجیب بات ہے کہ انہی تین حروف میں ہماری سزا وجزا ہے اورانعام  بھی انہی میں چھپا ہے۔ "شرک " کا انکار کرنا ہے اور"شکر" کا اقرار کرنا ہے اگر یہ مرحلہ طے کر لیا تو قابل َ"رشک " دنیاوی اور اللہ سے امید کرتے ہیں کہ آخرت میں نجات کا ذریعہ بھی یہی ہو گا ۔
 دریا کو کوزے میں بند کریں تو شرک کو اپنی زندگی سے نکالنا ہے اور شکر کو ساتھی بنانا ہے تب ہی ہم اپنے اشرف المخلوقات ہونے پر رشک کرنے کے قابل ہو سکیں گے۔
شرک کا انکار کرنا ہے "
 شکر کا اظہار کرنا ہے 
"رشک کے قابل ابدی زندگی کی امید رکھنا ہے
2011،18 جنوری
 ۔(تّحفۂ زندگی " ...بانچ برس پہلے کی ایک تحریر۔۔۔۔ جو صرف "میں اور تو" ہے اس میں اترے لفظ اور ان کی روانی دنیا کے کسی بھی انسان کی نظر کی توجہ سے بےغرض صرف خودکلامی کے احساس کی شدت کا اثر تھے)۔

جمعہ, اگست 02, 2013

" شناسائی سے آشنائی تک "

شناسائی سے آشنائی تک "
 خدا شناسی کی منزل خود شناسی کے راستے سے گُزر کر ہی قریب آتی ہے اور خودشناسی اپنےاندر کی تنہائی میں می رقصم ہونے کا نام نہیں ۔یہ انسان شناسی کی پتھریلی راہگزر پر برہنہ پا چلنے کا نام ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس راستے پر پہلا قدم زمانۂ قدیم سے جاری اس رسم کے برابر دکھتا ہے جب جھوٹ سچ کا فیصلہ انگاروں پر چلنے سے کیا جاتا تھا۔تماش بین سپاٹ چہروں اورخالی ذہن کے ساتھ بظاہر لاتعلقی کا سا انداز اپنائے مجمع لگاتے ۔ ہر الزام سے پاک اپنا آپ بچاتے ہوئے اس بات سے بےخبر کہ  چلنے والے پر کیا بیت رہی ہے ۔بڑی عدالت میں شنوائی سے پہلے خود ساختہ قائم کردہ اس پنچائت میں اپنے کردہ ناکردہ گناہوں کی سزا پانے کے لیے خود پیش ہونے کا جرم شاید قابل ِمعافی نہیں ۔ خود شناسی کے لیے انسان شناسی کے انگاروں پر چلنا لازم ٹھہرا۔ وقت کا فیصلہ اکثر خلاف ہی آتا ہے کہ انگارے جلانے کے لیے ہوتے ہیں تاوقت یہ کہ خدا شناسی کی اس منزل تک رسائی ممکن ہوسکی ہو جب آگ بھی گل وگلزار بن جایا کرتی ہے ورنہ وقت کے فرعون تو جلتے انگارے زبان پر رکھ کر بھی مطمئن نہیں ہو پاتے۔ یہ ممکن نہیں کہ جلتے انگاروں پر سے سبک رفتار گزر جانے کے باوجود قید سے رہائی مل سکے کہ چند قدم کے فاصلے پراور آتش فشاں ملتے جاتے ہیں ۔یہ راستہ بھی ہر کسی کا مقدر نہیں صرف آنکھ کھولنے والے ہی انگاروں سے آشنائی اور ان کی جلن سے واقف ہو پاتے ہیں ۔ آنکھ بند ہو تو یہی راستے کہیں پھولوں کی راہ گزر ہیں۔ کہیں برہنہ پاؤں خود فریبی کی چادر سے ڈھانپ کر دوسروں کی آنکھ میں دھول جھونک کر گزر جانے سے بھی سفر طے ہو جاتا ہے۔
!آخری بات
آنکھ کُھلنا آنکھ بند ہونا اپنے اختیار میں نہیں ۔اپنے اختیار میں صرف احساس ہے جسے اگر مثبت طور پر لیا جائے تو جابجا بکھرے انگاروں پر چلنے کا حوصلہ مل جاتا ہے ورنہ اکثر اس احساس کی گرفت آکٹوپس کی طرح شکنجے میں جکڑ کر اپنی ذات کے اندر قید کر دیتی ہے