صفحہِ اول

جمعہ, جولائی 26, 2013

" رمضان 1434 ہجری "

روزہ روزہ ہوتا ہے"۔ "
 سورۂ المائدہ (5) ۔۔ آیت ۔۔3 
!ترجمہ
 آج ہم نے تمہارےلیے تمہارا دین مکمل کر دیا اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کر دیں اور تمہارے لیے اسلام کو دین پسند کیا۔ہاں جو بھوک میں لاچار ہو جائے  بشرطیکہ گناہ کی طرف مائل نہ ہو تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔
 اس میں شک نہیں کہ روزہ روزہ ہوتا ہے چاہے "سو سو کر جاگا جائے" یا جاگ جاگ کر سویا جائے۔ کیا دور آگیا ہے کہ وہ محاورے ماضی میں  جن کی وضاحت کرنا پڑتی تھی آج من وعن اُسی طرح برتے جا رہے ہیں ۔ رمضان کا مہینہ سال کے گیارہ ماہ گزرنے کے بعد آنے والا وہ بارہواں مہینہ  ہے جو ہر نام نہاد پیدائشی مسلمان کو ایک بار تو نہ چاہتے ہوئے بھی اپنی دینی حمیّت جانچنے پر مجبور کر دیتا ہے ۔ کوئی کتنا ہی "موڈریٹ" مسلمان ہو یا نعوذ باللہ اسلام کی فرسودہ تعلیمات و پیغام کا زمانۂ حال کے مطابق پرچار کرنے والا لبرل عالم ِدین۔ اس ماہ کم ازکم ایک پل کو دل میں ہی سہی سوچتا ضرور ہے کہ وہ کہاں کھڑا ہے۔
 بات ہو رہی تھی سو سو کر جاگنے کی تو وہ محاروتاً ایسے ہی مسلمانوں پر صادق آتا ہے لیکن اس کا عملی ثبوت ہمیں اپنی زندگیوں میں یوں اُمڈ اُمڈ کر ملتا ہے جب راتوں کو جاگنے والے صبح دم   گھوڑے گدھے بیچ کر سوتے ہیں ۔ راتیں خواہ لوڈ شیڈنگ کے عذاب میں کٹیں یا محب الوطنی کے اکلوتے ٹریڈ مارک  پاکستانی ٹیم کو کھیلتے دیکھ کر یا قبلہ وکعبہ جناب میڈیا دامت اللہ برکاتہم کے سامنے عقیدت کی چادر چڑھاتے ہوئے ۔ اور تو اور وہ پہلے دور کے قصے تھے جب محض اپنے گریبان میں جھانک کر شرم آتی تھی اب  ساری دُنیا کے گریبان میں دیکھ لو ہر بات جائز اور منطقی ہے۔اور کیا فرق پڑتا ہے کہ روزہ روزہ ہوتا ہے چاہے قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے گزرے یا دین کی باتیں اپنے من پسند ریپرز میں لولی پاپ کی طرح چوستے ۔ وہ دور گیا جب روزہ صرف بندے اور مالک کا معاملہ تھا  اب تو یہ بندوں اور چینلز یا پھر انسان اور بٹنز کے درمیان ہو کر رہ گیا ہے ۔ حد ہو گئی ریموٹ کے بٹن ہوں یا ماؤس کا کلک اور یا پھر موبائل فون کے  پیکجز ہر طرف عجب انہماک کا عالم ہے ۔ قرآن کا نسخہ جو رمضان میں اونچے طاقوں سے اُتر کر بڑے ذوق وشوق سے ہماری زندگی میں شامل ہوتا تھا  اور دل میں تہیہ کرتے تھے کہ قرآن پڑھنا ہے خواہ ایک سے زیادہ بار مکمل  پڑھیں یا ایک بار ہی سمجھ کر پڑھیں  اب تو ٹرانسمیشن اشد ضروری ہے کہ "لائیو" ہے جو گزر گئی تو ریکارڈنگ بھی نہ ملے گی  بس ابھی وقت ہے اس کی "نیکیاں" لوٹنے کا ۔ قرآن تو چودہ سو سال سے ہمارے پاس ہے اور محفوظ ہے اور ہم کونسا برا کام کر رہے ہیں  یہ تو عین دین داری ہے دین کی باریکیوں کو جاننا ۔ دُکھ اس بات کا ہے کہ میڈیا کی چکا چوند ہمارے اندر کی روشنی سلب کر کے ہماری آنکھیں چندھیائے دے رہی ہے اور ہم سوچنے سمجھنے سے عاری روبوٹ بنتے جارہے ہیں ۔ کسی تعصب سے قطع نظریہ بھی سچ ہےکہ سال کے گیارہ مہینے اگر چینلز پر خرافات دکھائی دیتے ہیں تو وہ اس ماہ مشرف بہ اسلام تو ہو جاتے ہیں ۔اب یہ اور بات کہ چاند رات کو پھر اپنی اوقات پر آ جاتے ہیں۔ اہم یہ ہے کہ زہر زہر ہوتا ہے چاہے اسے شہد میں ملا کر دیا جائے اور یہی ہمارے ساتھ ہو رہا ہے ۔اس ایک ماہ میں میڈیا سے محبت کا ایسا بیج بو دیا جاتا ہے جو بانس کے درخت کی طرح خاموشی سے  یوں پروان چڑھتا ہے  کہ گھر کے بڑے جو دینی ذوق سے  یہ نشریات دیکھتے ہیں بعد میں اپنے بچوں کو  روکنے ٹوکنے کے قابل بھی نہیں رہتے ۔ جدید ہتھیاروں سے لیس ہو  کر دین کو پھیلانا بلاشبہ جہاد کا مقام رکھتا ہے لیکن کیا صرف  اس ایک ماہ ہمارے جیّد عالم ِدین اور درد مند دل رکھنے والے اسلامی اسکالر پورے سال کا قرض چکا دیتے ہیں کیا یہ محض مسلمان ہونے کی زکٰوۃ ہے جو سال گزرنے پر فرض ہو جاتی ہے ۔ ایسا بالکل بھی نہیں ہونا چاہیے ۔ ہمارا دینی شعور ہماری اسلام سے محبت ہماری قرآن سے دوستی سال کے گیارہ ماہ بھی برقرار رہنی چاہیے  اس پورے بینڈ باجے کے ساتھ نہ سہی یا پھر گھڑی کا الارم بھی نہ ہو جو ہڑبڑا کر جگا دے بلکہ اس چاہت کو دل کی دھڑکن کے ساتھ جڑی اس مدہم سی خاموشی کی طرح ہونا چاہیے جو سوتے جاگتے زندگی کی نوید دیتی ہے۔ سب سے پہلے اپنا محاسبہ کریں پھر چینلز کو بھی چاہیے اگر اسلام   سے اتنی عقیدت ہے  تو سال کے  باقی مہینوں میں کیوں نہیں۔ اپنے "پیک آورز" نہ سہی دن یا رات کا کچھ وقت  ہر روز ایسے ہی "لائیو" پروگرام کیوں نہیں کرتے۔ حاصل ِ کلام یہ ہے کہ ہر شے کو اس کا جائز مقام دیا جائے اور نفسا نفسی کے اس دور میں اپنے آپ کو ایمان کے سب سے نچلے درجے پر کسی طرح برقرار رکھنے کی کوشش ضرور کریں کہ جو برائی ہے اس کو برائی جانا جائے اورعارضی چمک دمک کے پیچھے ابدی اندھیروں کا سودا نہ کیا جائے ۔

جمعرات, جولائی 18, 2013

"ستون"


 ستون وہ عظیم حقیقت ہے جس کے بارے میں سوچنے لگیں تو طاقت ِپرواز کبھی حرم ِکعبہ تک جاتی ہے تو کبھی روضۂ رسول ﷺ کے سائے میں ۔ حرم کعبہ میں وہ ستون آج بھی  سانس لیتا ہے اور کہنے والے کہتے ہیں کہ اُس میں سےاب بھی اُس رات کی مہک آتی  ہے جب پروردگار نے اپنے محبوب کو معراج عطا کی ۔ خواہ یہ  محبت ہوعقیدت ہو یا رفعت ِنظر بہرحال یہ امر یقینی ہے۔ حرم کعبہ کے درودیوار کے بیچ  میں ایستادہ ستون ہی ہیں جن سے نکلتی ٹھنڈک کی لہریں متوالوں کو خوش آمدید کہتی ہیں اور وہ اُن سے ٹیک لگا کر ذرا دیر کو ٹھہر جاتے ہیں ورنہ وہاں ایسی کوئی جگہ نہیں  ۔ ایک سفر ہے جو جاری ہے ۔ اب تو مطاف میں بھی ستونوں کی بہار دِکھنے لگی ہے صرف محبت کرنے والوں کی چاہ کو سمجھتے ہوئے ورنہ دیکھا جائے تو یہ مطاف کی  سدابہار خوبصورتی اور کعبہ کے نظر سے لمس میں حائل ہو رہے ہیں  ۔ دل ابھی اس دوری کو ماننے پر آمادہ نہیں کہ کعبہ سامنے ہو اور جابجا پیوست ستون اُسے دل میں سمونے کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہوں ۔ شاید وقت ان ستونوں کے راز کھول دے اور انہیں بنانے والوں کی فہم آگے چل کر جان پائیں۔  ان پر قائم ہونے والی چھت پر طواف ایک  نرالا منظر ہے ۔
روضہ رسول میں تو ستون زمانے کی قید سے آزاد اب بھی جاوداں ہیں ، بنانے والوں نے بے ستون کی چھتیں تو بنا دیں جن پر سرکتے گنبد انسانی ترقی اور انسان کی محنت وعظمت کو سلام کرتے ہیں ۔ حرم ِنبیﷺ کے صحن میں جدید ٹیکنالوجی کے حامل ستون  دل کولبھاتے ہیں جن پر بوقت ِضرورت چھت سایہ فگن ہو کر مہمانوں کی تکریم کرتی ہے لیکن مسجد ِنبوی کی اصل پہچان وہ ستون ہیں جو اس دور کی پوری تاریخ بیان کرتے ہیں اور چاہنے والوں کے لیے ان کا لمس کارِثواب ہے۔ ہرستون الگ کہانی ہے اور ہرکہانی ہماری زندگی کہانی پر منطبق ہوتی ہے۔ کسی ستون سے اگرتوبہ کا در کھلتا ہے ( اسطوانہ التوبہ) تو کسی ستون سے جھلکتی  آنسوؤں کی فریاد آج بھی سنائی دیتی ہے  ( اُسطوانہ حنانہ ) ۔ 
بے شک  اپنی زندگی کے ہر پہلو ہر جذبے میں  رہنمائی  رب کا فضل  ہے ۔ مالک آنکھ کو وہ منظر عطا کرتا  ہے جو ہماری زندگی کے الجھے سوالوں کو عیاں کر دیتا ہے۔ اللہ کا قرب اُس کے نبیﷺ کی محبت وہ نادیدہ ستون ہے جو زندگی کی خوبصورت سرکتے گنبدوں والی چھت میں بھی اپنے ہونے کا احساس دلاتی ہے اور ٹوٹنے کے بعد بکھرنے سے پہلے جُڑنے کا حوصلہ بخشتی ہے ۔

بدھ, جولائی 17, 2013

" اعراب القرآن "

"اعراب "
کلام ِالٰہی کی تلاوت کرتے ہوئے اعراب کا خیال رکھنا بےحد ضروری ہے۔کہیں پر رُکنا ہوتا ہے۔۔۔کہیں ملا کر پڑھنا پڑتا ہے۔۔کہیں لفظ پر زور ڈال کے پڑھا جاتا ہے۔۔۔کسی جگہ پر ضرور ٹھہرنا چاہیے ورنہ معانی میں ابہام پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔یہ رموز اوقاف کہلاتے ہیں۔قرآن پاک میں سترہ یا  بیس ایسے مقامات " بتائے گئے ہیں جہاں اعراب وحرکات ( زیر،زبر ،پیش ) کی تبدیلی سے آیات کا مطلب اس حد تک بدل جاتا ہےکہ نوبت کلمۂ کفر وشرک تک جا پہنچتی ہے۔
قرآن کا موضوع انسان ہے اور اس کا پیغام غور وفکرہے ۔اپنی زندگی کے حوالے سے ہم شش وپنج کا شکار رہتے ہیں کہ ہم کوئی بھی منصوبہ بندی (پلاننگ ) کر لیں ہوگا وہی جو اللہ چاہے گا ہم مجبور ہیں اوریوں خود ترسی میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔قرآن پاک کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی زندگی پر غور کریں تو بھید یوں کھلتا ہے کہ ہمارے ذمے اپنی زندگی کی تحریر لکھتے چلے جانا ہے کسی رموز واوقاف کے بغیر ،اعراب سے ماورا ۔فقط لکھائی میں روانی ہو کوئی کانٹ چھانٹ نہ ہو ،اُسے دوبارہ پڑھنے میں وقت ضائع نہ کریں ،اُس کی خوبصورتی میں اضافے کے لیے بلا وجہ بیل بوٹے نہ بنائیں ،جیسی ملی ہے جس حال میں رکھا گیا ہے آنکھیں بند کر کے صبروشکر سے راضی برضا رہنا ہے ۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ رموز اوقاف ،اعراب ہی تو تحریر کا اصل ہیں،اِن کے بغیر تو معانی سمجھنا دُشوار ہے۔غور کریں تو بات یوں سمجھ آتی ہے کہ ہمارے ذمے لکھنا اور لکھتے  چلے جانا ہے۔پڑھنا اور سمجھنا جب ہم اپنے اوپر فرض کر لیتے ہیں تب ہی پریشانی اور خوف طاری ہو جاتا ہے۔
رموزاوقاف اور اعراب ڈالنا کاتب ِتقدیر کا کام ہے کب کس جگہ پر وقف کرنا ہے ،کس حرف پر زورڈالنا ہے ،کس جگہ بغیر رُکے گزرجانا ہے یہ سب سوچنا اور عمل کرنا ہمارا کام نہیں۔زندگی کے مسائل میں اضافہ اس وقت ہوتا ہے جب ہم اپنی مرضی سے اپنے آپ کو عقل ِکُل جان کر اعراب لگاتے جاتے ہیں۔جہاں رُکے بغیر گزرنا ہے وہاں اپنی برداشت کے ختم ہونے کا فل اسٹاپ لگا دیتے ہیں۔جہاں ٹھہرنا لازم ہے وہاں بےصبری سے آنکھیں بند کر کے گزر جاتے ہیں یوں خود ہی اپنی زندگی میں اُلجھاؤ پیدا کرتے ہیں۔یہ پرچہ حل کرنے کا وہ بنیادی اصول ہے جو جتنا جلد آ جائے اُتنی  جلدی زندگی کی تحریر میں رضا کی روانی اور پرچے میں سکون کی خوبصورتی پیدا ہوتی چلی جائے گی۔
"اللہ دُنیا اور آخرت کے ہر امتحان میں کامیاب کرے "

سوموار, جولائی 15, 2013

" نشہ نشہ ہوتا ہے "

رمضان 1434 ہجری
نشہ نشہ ہوتا ہے چاہے جیسا بھی ہو ۔ بہت ہو گیا ۔ پانچ سحریاں لشتم پشتم بھگتانے کے بعد  بات کسی حد تک سمجھ آ ہی گئی ۔ایک سال پیچھے جاؤں تو جولائی کے یہی دن تھے جب ایک ماہ کے لیے نیٹ سے رخصت لی ۔ یہ  وہ دور تھا کہ جب نشہ خود بخود مل رہا تھا بغیر چاہ کیے بنا کسی طلب کے ایک مخلص دوست کے بہروپ میں۔ اسی لیے خاص رغبت بھی نہ تھی  کہ یہ دُنیا میری زبان سے  ناواقف میری اپنی نہ تھی  ۔ میں اپنی زبان کی چاشنی جانتے ہوئے بھی اسے اس بازار میں سجانے سے قاصر تھی۔ کوئی راستہ بھی تو نہ دکھتا تھا ۔ راہ پوچھنے کا شوق نہ پہلے کبھی تھا اور نہ اب ہوا تھاکہ مجھے ان دیکھے راستوں کو خود دریافت کرنے کی لگن ہمیشہ  سے رہی تھی ۔ دوستی میں پہل کرنا بھی میری عادت نہ تھی تو اب کیسے اپنی عادتیں بدل لیتی بلکہ اس دنیا میں مجھے پرانی رفاقتیں بھی گوارا نہ تھیں ۔ یہی وجہ ہے کہ تین ماہ کے عرصے میں باہر کا کوئی فرد تو دور کی بات قریبی جاننے والے بھی حلقے میں نہ تھے جو ہنستے تھے کہ شاید فیس بک میرے لیے محض ایک "بک" ہی ہے۔ مجھے کسی کی پرواہ نہ تھی کہ یہ وہ نشہ تھا جس سے میں ابھی واقف ہوئی تھی جب وال پر لکھا آتا "وٹس آن یور مائنڈ " اور یہی بات مجھے مسحور کر دیتی ۔ میں تنہا دنیا کی سیر کرتی وہ  جزیرے کھوجتی جو برسوں کتابیں پڑھ کر بھی عیاں نہ ہوئے تھے یا کتابوں کی باتیں نظروں کے سامنے جگمگاتی دیکھ کر ان میں ڈوب ڈوب جاتی۔۔ نشہ نشہ ہوتا ہے جب اسے چھوڑنے کا ارادہ کیا تو پھر چھوڑ دیا کہ کوئی پلو پکڑنے والا بھی تو نہ تھا۔ پر اب ایک سال بعد جب بہت زور وشور سے اپنا عہد دہرایا تو پتہ چلا پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ گیا لیکن میں وہیں کی وہیں کھڑی ہوں ۔ محبتوں کا ایک نشہ تھا جو قدم قدم پرجکڑتا تھا۔ ایسی محبتیں جو جان کا روگ بن جاتی ہے اور ہم اپنے آپ کو نہ جانے کس بلند مقام پر دیکھنے لگ جاتے ہیں ۔ ستم بالائے ستم کہ عین رمضان سے پہلے ایک سوال نامہ میری انا کےغبارے میں ہوا بھرنے کو مل گیا۔
http://www.manzarnamah.com/2013/07/blog-post.html#.Ud0aVb8lVbo.facebook
 لیکن جو ہوا اچھا ہی ہوا کہ آئینے میں چہرہ نظر آیا تو خود ساختہ فہم وفراست کا میک اپ اتر گیا ۔ بار بار اپنے جواب پڑھ کر بھی کوئی  گہرائی  نظر نہ آئی ،دکھائی دی تو ایک نادان عورت جو تعریف کے دو بول سن کو بظاہرخوش تو ہوجاتی ہے لیکن مطمئن کبھی نہیں ہوتی ۔ تنقید سننے کو تیار رہتی ہے پر تنقید کردی جائے تو اپنی منطق سے رد بھی کر دیتی ہے۔ یہ تو مرد کی ازلی معاملہ فہمی اوربُرد باری ہے جو سب جان کر بھی آج میں جیتا ہےاور درگزرکرتاجاتا ہے۔ لیکن نشہ نشہ ہوتا ہے اوریہ اُتر ہی جاتا ہے چاہے وقت کی کڑوی دوا اثر کرے یا اپنے اندر کا عزم کام دکھائے۔ بظاہر سب ٹھیک دِکھ رہا تھالیکن کہیں کچھ غلط ضرور تھا ۔ دن بھر نشے سے توبہ اور روزہ کھولنے کے بعد ذرا  دیر آرام کر کے تراویح کے انتظار سے پہلے اپنے آپ کوبہلا کرصرف میسج دیکھنے کے بہانے نیٹ ان کرنا کہ فیس بک سے توبہ کی تھی بلاگ سے تو نہیں۔ پھر اپنے فیس بک کے بیج کو دیکھنا۔ کیا کیا جائے نشہ نشہ ہوتا ہے۔ پھر تراویح پڑھنے کے بعد ٹی وی پر
امام کعبہ شیخ عبد الرحمٰٰن السُدیس
 کی تراویح سننا بھی تو گویا روح کی تسکین کا باعث ہے اب بھلا کون اس کو چھوڑ کر نیند جیسا روٹین کا کام  کرے  اورسارا دن نیند کے خمار میں ہی تو گزرتا ہے کہ جولائی کے روزے  ہیں جن میں حَبس کے باعث سانس بھی ُرک کر آتا ہے۔ بچے ویک اینڈ میں نائٹ میچ اور پھر رات کو ٹی وی پر میچ دیکھ کر دو بجے سو جاتے ممی کو اُٹھا کر اور یہی وہ وقت ہوتا جب نیند کا نشہ سر چڑھ کر بولتا کہ نشہ نشہ ہوتا ہے وہ نہ وقت دیکھتا  ہے اورنہ ماحول ۔ پھر پونے تین بجے ہڑبڑا کر آنکھ کھلتی اور بھاگ دوڑ میں سحری کی تیاری ۔ بچے اور ان کے بابا نیند سے بےحال ان معصوموں کی طرح لگتے جن کا پہلا روزہ ہو  اور ان کو زبردستی اٹھا کر کھانا ان کے سامنے رکھنا ۔ دل ہی  دل میں اپنے آپ کو یہ سبق یاد کرانا کہ نشہ نشہ ہوتا ہے چاہے خوش فہمی کا ہو یاغلط فہمی کا   اس لیے جتنی جلد اس کے دام سے نکل آؤ اس سے چھٹکارا  مل سکتا ہے  ۔ ہاں یاد آیا اپنا چائے کا چھوٹا سانشہ بھی تو سحری کی بھاگ دوڑ میں   منہ دیکھتا رہ جاتا کہ ایک وہی تو اکلوتا سہارا ہوتا ہے دن بھر روزہ گزارنے کا ۔ زندگی کا پہلا رمضان ہے جو نشے کی حالت میں گزر رہا ہے لیکن وہ نشہ جو روزہ کھولنے کے بعد چڑھتا ہے اور صبح سحری کے بعد یوں اُترتا ہے کہ ساڑھے چار بجے سونے کے بعد چھ بجے دودھ والے کے موٹر سائیکل کا شور سب خمار اُتار دیتا ہے۔ نشہ کبھی اہم نہیں ہوتا کہ یہ ہماری قوت ِبرداشت کا امتحان ہے اہم یہ ہے کہ کتنی جلدی اُترتا ہے سب سے بڑا نشہ اپنے آپ  کو دھوکے میں رکھنا ہے۔
حاصل کلام یہ ٹھہرا کہ کوئی ساتھ بھی اپنا نہیں جب تک کہ ہم خود اپنے ساتھ نہ ہوں ۔اللہ ہم سب کو اپنے اپنے نشے اپنی اپنی طلب کی پہچان کا علم عطا فرمائے ورنہ بےخبری کا نشہ انسان کو دیمک کی طرح چاٹ کر یکدم عرش  سے فرش پر بھی گرا دیتا ہے اور کہیں کا نہیں رہنے دیتا نہ دین کا نہ دُنیا کا ۔

  

منگل, جولائی 09, 2013

"حدیث ِنبوی صلیٰ اللہ صلیہ وسلم "

 ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے فرمایا :اے ابو الحسن ! کئی مرتبہ آپ حضور ﷺ کی مجلس میں موجود ہوتے تھے اور ہم غائب ہوتے تھےاور کبھی ہم ہوتے تھے اورآپ غیرحاضر- تین باتیں آپ سے پوچھنا  چاہتا ہوں کیا وہ آپ کو
 معلوم  ہیں ـ
 دریافت کیا گیا وہ کیا تین باتیں ہیں  ؟
 پہلی یہ کہ ایک آدمی کو محبت ہوتی ہے حالانکہ اُس نے اس میں کوئی خیر کی بات نہیں دیکھی ہوتی اور ایک آدمی کو ایک سے دوری ہوتی ہے حالانکہ اس میں کوئی بُری بات نہیں دیکھی ہوتی- اس کی کیا وجہ ہے - فرمایا - ہاں اس کا جواب مجھے معلوم ہے - حضورﷺ نے  فرمایا کہ انسانوں کی روحیں ازل سے ایک جگہ اکٹھی رکھی ہوئی تھیں وہاں وہ ایک دوسرے کے قریب آ کر  دوسرے سے ملتی رہیں - جن میں وہاں آپس کا تعارف ہو گیا ان میں یہاں دُنیا میں اُلفت  ہو جاتی ہے اور جس میں وہاں اجنبیت رہی وہ یہاں دُنیا میں بھی  ایک دوسرے سے الگ رہتے ہیں ـ 
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ایک بات کا تو جواب مل گیاـ
 دوسری بات یہ ہے کہ آدمی کوئی بات بیان کرتا ہے  کبھی بھول جاتا ہے ،کبھی یاد آ جاتی ہے -اس کی کیا وجہ ہے ؟
 فرمایا حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے  میں نے اللہ کے نبیﷺ کو یہ فرماتے سُنا جیسے چاند کا بادل ہوتا ہے ایسے دل کا بھی بادل ہے - چاند خوب چمک رہا ہوتا ہے تو بادل اس کے سامنے آ جاتا ہے اور اندھیرا ہو جاتا ہے اور جب بادل چھٹ جاتا ہے چاند پھر چمکنے لگتا ہے ـ
ایسے ہی آدمی ایک بات بیان کرتا ہے وہ بادل اس پر چھا جاتا ہے تو وہ یہ بات بھول جاتا ہے اور جب اس سے یہ بادل ہٹ جاتا ہے تو اسے وہ بات یاد آ جاتی ہےـ
تیسری بات یہ ہےکہ آدمی خواب دیکھتا ہے توکوئی خواب سچا ہوتا ہے
اور کوئی جھوٹا اس کی کیا وجہ ہے ـ
  فرمایاحضرت علی کرم اللہ وجہہ نے-اس کا جواب بھی مجھے معلوم ہے- میں نے نبی ﷺ کو فرماتے سُنا جب انسان گہری نیند سو جاتا ہے تو اس کی روح کو عرش تک چڑھا لیا جاتا ہے جو روح عرش پرپہنچ کر جاگتی ہے اس کا خواب تو سچا ہوتا ہے اور جو اس سے پہلے جاگ جاتی ہے
 اس کا خواب جھوٹا ہوتا ہے ـ
 فرمایا  حضرت عمررضی اللہ عنہ نے  میں ان تین باتوں کی تلاش میں ایک عرصے سے لگا ہوا تھا -اللہ کا شکر ہے کہ میں نے مرنے سے پہلےان کو پا لیا ـ
 حوالہ
از امام ابن القیم رحمتہ الله علیہ کتاب الروح ترجمہ مولانا عبد المجید 

جمعہ, جولائی 05, 2013

"موسم کی پہلی بارش "

 خواب نگر میں 
آج
موسم کی پہلی بارش ہے
پر
  بارش کے برسنے سے موسم کب بدلتا ہے
راستے بدلنے سے کب کوئی سنبھلتا ہے 
  پھر بھی دھوکا ہوتا ہے                         
خواب میں ملنے سے من کب بہلتا ہے
بدن کے سمٹنے سے بدن کب بہکتا ہے 
پھر بھی دھوکا ہوتا ہے  
چاند کے نکلنے سے تارا کب چمکتا ہے 
رات کے آئینے سے چہرہ کب نکھرتا ہے 
پھر بھی دھوکا ہوتا ہے 

" ادھورا خواب "

 وہ خواب سی لڑکی
اِک خواب کی صورت 
 رات کے پچھلے پہر  
دل پر دستک دے کر 
سانس میں ہلچل لے کر
 اُسے  یاد کرتی ہے
 پھر ناشاد کرتی ہے 
کہانی آغاز کرتی ہے 
کہ برباد کرتی ہے 
وہ خواب سی لڑکی 
اِک سراب کی صورت

" بناؤسنگھار "


بناؤ سنگھار ہر عورت کی فطری ضرورت اور خواہش ہے ۔ چہرے کا میک اپ وقتی طور پر سب داغ چھپا کر خوبصورت بناتا ہے تو شخصیت کا میک اپ روح پر لگے دھبے مٹانے کی سعی کرتا ہے ۔ جتنا قیمتی میک اپ کا سامان ہو گا ،اُسے کرنے والے کی مہارت ہو گی چہرہ اور شخصیت اُتنی ہی حسین نظر آئے گی ۔ چہرے کا میک اپ ہو یا شخصیت کا قربت کا ایک پل سب قلعی اُتار دیتا ہے ۔ بناؤ سنگھار اِتنا ہی کرنا چاہیے کہ قربت کے لمحوں میں بھی خوبصورتی قائم رہےورنہ بدصورتی کا گھاؤ دلوں میں شگاف ڈال دیتا ہے ۔میک اپ عورت کا وہ لباس ہے جس نے وقتِ مقرر پر اتر ہی جانا ہوتا ہے تو پھر اس پر کیسا بھروسہ ۔ اصل لباس تو وہ ہونا چاہیے جو جسم کا حصہ بن جائے اور روح میں یوں سما جائے کہ انسان کے نظروں سے اوجھل ہونے کے بعد بھی اُس کے لباس کی چمک اور خوشبو نظروں میں تازگی اوردلوں میں مہک بن کر اترتی رہے۔
!حرف ِآخر
عورت کا مرد سے کوئی بھی رشتہ یا تعلق اُس کا میک اپ ہے اور کچھ بھی تو نہیں ۔ کہیں عزت کا کہیں محبت کا کبھی ہوس کا تو کبھی مجبوری کا ۔ یہ میک اپ عورت کی وہ خواہش ہے جو جتنی پوری ہوتی ہے اُتنی ہی اُس کی طلب بڑھتی جاتی ہے۔

جمعرات, جولائی 04, 2013

"سوندھی مٹی کی خوشبو"

مٹی تخلیق ِانسانی کی بنیاد ہے۔مٹی ہمیشہ ایک ہی ہوتی ہے۔اس کی خاصیت بھی کم وبیش یکساں ہے۔اپنی تکمیل کی خاطر مٹی مٹی کی طرف رجوع کرتی ہے ۔جب مٹی مٹی سے ملتی ہے تو مرد اور عورت دونوں اپنی جگہ اپنی شناخت برقرار رکھنے کی تگ ودو کرتے ہیں۔ وہ اپنا آپ بچانے کی جستجو لیے قریب آنا بھی چاہتے ہیں اور دور بھی بھاگتے ہیں۔چاہت اور گریز کا یہ عجیب امتزاج ہے کہ جتنا دور جاتے ہیں اُتنی ہی قربت کی تڑپ بڑھتی جاتی ہے۔
محبت کی بارش لمس کی پھوار کی صورت جب دلوں پر اثر کرتی ہے تو مرد ٹوٹ کر بکھر جاتا ہے اور عورت ٹوٹ کر پہلے سے بھی زیادہ مضبوطی سے جُڑ جاتی ہے۔اپنا آپ نچھاور کرتے کرتے عورت کے وجود کا کچا گھڑا خالی ہو جاتا ہے اور مرد سیراب ہو کر بھی تشنگی کے احساس کو جھٹک نہیں پاتا۔ یہی پیاس اُنہیں بار بار ملنے پر اُکساتی ہےمحبت کی بارش برستی رہے تو سوندھی مٹی مہکتی رہتی ہے۔امتحان اس وقت شروع ہوتا ہے جب بارشوں کا موسم گزر جائے۔انتظار کی تپش مرد کو جھلسا دیتی ہے اور وہ راہ فرار ڈھونڈتا ہے توکبھی اپنی ذات کے اندر قید ہو کر رہ جاتاہے جبکہ عورت کے لیے انتظار کی خزاں  زرخیزی  میں اضافہ کرتی ہے۔ ایسے منظر ایسے رنگ تخلیق ہوتے ہیں کہ قربت کے لمحے بھی رقیب بن کر ان اداس موسموں کے حصار میں آ جاتے ہیں۔کیا کیا جائے کہ مرد کی آنکھ ان موسموں کی رنگارنگی کو بے وفائی کا لباس پہنا کر اپنی ہی نگاہوں سے اوجھل کر دیتی ہے ۔وہ جیت کر بھی ہار کے خوف سے باہر نہیں نکل پاتا۔
عورت کو زمین کہا گیا ہے، کھیتی سے مثال دی گئی ہے۔ مٹی کی سرشت میں ہے بکھرنا،چاہت لگن اورمحبت کی پھوارسےگوندھ لوتواجل کے بے رحم ہاتھ اورتقدیرکی مضبوط گرفت ہی اُسے توڑ سکتی ہے۔ رم جھم نہ ہوتواتنی تشنگی اتنی پیاس روح میں اُتر
جاتی ہے کہ سمندروں کا پانی اور ہڈیوں کا گودا بھی خشک ہوجاتا ہے۔ پھرچاہےلاکھ کوشش کرلو مٹی بکھرتی جاتی ہے۔ اُسے سمیٹ کر،سینت کر ایک خوبصورت ڈبے میں تو محفوظ کیا جا سکتا ہے، اُس کے وجود کے گرد ایک نقشین حالہ چڑھا کراُس کا طواف تو ہو سکتا ہے۔ اُس کے قدم کے نشان کوراہِ منزل تو بنایا جا سکتا ہے۔ اُس میں اپنی ذات تو تلاش کی جا سکتی ہے، اُس کا ثمرتو چکھا جا سکتا ہے، اُس کو شیشے کے نازک برتن کی طرح برتا تو جا سکتا ہے، اُس پھول کی خوشبو تو قید ہوسکتی ہے۔ اُسے ایک "ممی"کی طرح حنوط کر کے صدیوں اس کا دیدار تو کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اس کے اندر اتر کر اس کا اپنا پن کبھی گرفت میں نہیں لیا جا سکتا کہ " وہ تو مٹی ہے بکھر گئی تو بکھر گئی"۔
عورت بھی عجب شے ہےکیسی سمجھ دارکتنی ہی عقلمند کیوں نہ ہو،قوسِ قزح کے رنگ دیکھ کراپنی زندگی کے کینوس پر بکھرے پھیکے رنگ فوراً بُھلا دیتی ہے یہ جانے بغیرکہ یہ تو رِم جھم کا کھیل ہے،ایک پل کی کہانی ہے۔ اپنے رنگ اپنے ہی ہوتے ہیں ۔چاہے جیسے بھی ہوں اُن میں کوئی تغیّرنہیں۔ لمحے کی بھول کب برسوں کے اعتماد کی جڑیں اُکھیڑ ڈالے کسے معلُوم۔

"پریوں کی وادی "

  "ناران کا سفر "
   ایک چھوٹا سا بچہ جو برسوں پہلے  انگلی پکڑ کر  پہاڑوں کی سیر کو جاتا تھا اب ان پہاڑوں میں خوشی سے گھومتا پھرتا ماں کو یاد کرتا ہے اور اپنے پل پل کی خبر دیتا ہے، محبت ایسی بھی ہوتی ہے جس میں دوری بہت قریب کر دیتی ہے لیکن کب تک ۔ جب تک کہ قسمت کے سگنل کام کرتے رہیں  اور پھر یہ خوبصورت پہاڑ، دلفریب نظارے اور بہتی آبشاریں قدم روک لیتے ہیں اور انسان نہ چاہتے ہوئے بھی پیچھے رہ جانے والی محبتوں کو چھوڑنے پر مجبور ہو جاتا ہےشاید اسی کا نام سفر ہے ورنہ دل اگر پیچھے رہ جائے تو نئی مسافتوں ان چھوئی سرزمینوں کے گلیشئیر پر قدم رکھتے ہوئے بھی خواہش کی حدّت سے آزادی نہیں ملتی  اور میٹھے مدھر پانیوں کی تسکین وجود میں ٹھہرے سمندر کو سیراب نہیں کر پاتی ۔ اُن وادیوں کے شور مچاتے دریا کنارے بکھرے خوبصورت پتھروں کے سامنے دُنیا کے سب جواہرات ماند پڑجاتے ہیں ۔ ایک عالمِ بےخودی میں دل کرتا ہے کہ ان پتھروں سے باتیں کریں ،ان کو سمیٹیں ،ان میں کہیں چھپ کر اپنا ایک چھوٹا سا گھر بنا لیں اور یوں ہی زندگی کی شام ڈھلتی جائے ، سانس روکتی پریوں کی جھیلیں جن کا جادو چاندنی رات میں اگر سر چڑھ کر بولتا ہے تو دن کی روشنی میں اُن کے دمکتے گلیشئیرز کی چکاچوند کہیں جانے کے قابل نہیں چھوڑتی ۔ شوق ِ سفر متوالوں کو اُن آنسو سمان جھیلوں کی چاہ پر بھی مجبور کرتا ہے جو صرف نظر کے لمس کی تڑپ میں صدیوں سے  منتظر ہیں بنا کسی خواہش کے ان چھوئی دُلہن کی طرح خاموش چُپ چاپ ۔ ان خواب وادیوں میں قصے کہانیوں کو سمیٹے ایسی غاریں بھی سانس لیتی ہیں جن میں وجود پتھروں سے اپنا آپ بانٹتے اور ایک عالم ِحیرت میں ڈوب جاتے۔
! آخری بات
جانا ضروری ہے نئی منزلوں کی تلاش میں لیکن اہم یہ ہے کہ واپسی کب ہوتی ہے اپنے پیاروں کے پاس ان چہروں کے قریب جن کے دل جانے والے ساتھ لے جاتے ہیں ۔ واپسی کا سفر صدیوں پر محیط ہو جائے تو منتظر چہرے زندگی کی جیل میں عمر قید کی سزا کاٹنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ،دل نکل جائے تو جسم پتھر بن جایا کرتا ہے۔ وقت سب سے بڑا مرہم ہے یہ دھیرے  دھیرے  سزا کاٹنے کا حوصلہ تو دے دیتا ہے  مگر دل کی خالی جگہ کبھی نہیں بھری جا سکتی ۔
اللہ تعالٰی سب گھروں کو آباد رکھے،  اور آزمائش کی ہر گھڑی میں ثابت قدم رکھے۔ 

بدھ, جولائی 03, 2013

" بھریا میلہ "

" ہر میلہ اُجڑنے کے لیے ہی ہوتا ہے چاہے وہ زندگی کا ہو یا خواہشوں کا"
جو آیا ہے اُس نے جانا ہی ہے ـ نہ آنے پر اختیار ہے اور نہ جانے پر۔ شکم ِمادر میں نئی کونپل کی نوید سےلے کر رو شنی میں اُس کی رونمائی تک کوئی حتمی رائے نہیں دی جا سکتی۔ صرف تجربات،حالات وواقعات کا تسلسل ہی وقت کا مجموعی طور پر تعین کرتا ہے۔اسی طرح جانے کا بھی کوئی بھروسہ نہیں۔آنے والے کل کے لیے تو پھر بھی اپنے طور پر بچ بچاؤ کا سوچا جا سکتا ہے۔ پر جب بلاوا آتا ہے سب دھرا کا دھرا رہ جاتا ہے۔ آ نے کا اور جانے کا پتہ نہیں تو پھر کیا روگ لگانا کیا سوچنا۔لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ہم دنیا میں آمد کے وقت تو اپنی سوچ کے زاویے سے ناواقف ہوتے ہیں لیکن جاتے وقت اس سے بخوبی آگاہ ہوتے ہیں۔ اور کسی حال میں اس دُنیا سے کوچ کرنا نہیں چاہتے۔ بہت کم بلکہ وہ ولی اللہ ہوتے ہیں جو اپنی جان جان ِآفرین کے سپرد یوں کرتے ہیں گویا قرض واپس کر رہے ہوں عاجزی انکساری کے ساتھ ۔ ہمارے فہم ہماری عقل کا امتحان اسی وقت ہوتا ہے جب بلاوا آ جائے۔ہمیشہ پہلے سے کی گئی تیاری کام نہیں آتی۔اصل ہنر اپنی مرضی سے بھریا میلہ چھوڑنے کا ہے۔ یہ ہنر آ جائے تو زندگی سے جُڑی دوسری خواہشات کو اپنانا اور چھوڑنا آسان ہو جاتا ہے۔کبھی کوئی میلہ کسی کے جانے سے نہیں اُجڑا۔ہم خود اپنے آپ کو اُس کا 'کُل' جان کر چھوڑنا نہیں چاہتے حالانکہ ہم تو اُس کے ایک جزو سے بھی کم تر ہیں۔یہ بات شاید ہمارے جانے کے بعد دوسروں کی آنکھوں میں ہمارے لیے اُترتی ہے جب وہ ہماری تمام عمر کی لاحاصل تپسّیا کا نچوڑ دیکھتے ہیں۔اس سے پہلے کہ دُنیا تمہیں چھوڑ دے تم خود اپنی رضا سے کسی بڑی چاہ کی خاطر اسے چھوڑ دو۔ اگر مہلت ملی لوٹ آنے کی اور کوئی منتظر رہا تو پھر وقت ہی وقت ہے۔ ورنہ اپنے راستے پر چلتے جاؤ اور دوسروں کو اُن کی راہ چلنے دو۔جھگڑا نہ کرو۔دل میلا نہ کرو۔
آخری بات
میلے میں جا کر میلہ چھوڑنا اورمیلہ چھوڑنے کا حوصلہ رکھنا ہی راز ِزندگی ہے۔

سوموار, جولائی 01, 2013

"ساتھ اور لباس کہانی"

تین اندھیروں میں سفرِدُنیا کا تنہا آغاز کرنے والے نفس کی "ساتھ" کہانی روشنی کی دنیا میں پہلے سانس سے ہی شروع ہو جاتی ہے۔زندگی کی شاہراہ پر بڑھتے قدم سے زندگی کے کینوس پر بکھرتے ہر رنگ تک اس ساتھ کی جہت،اہمیت،ضرورت اور کیفیت پل پل رنگ بدلتی ہے۔دُنیا میں پیدا ہونے والا ہر بچہ ایک رشتے کی قید میں جنم لیتا ہے۔یہ بعد کی بات ہے کہ وہ پیدائش کے اولین لمحے دُنیا کے کوڑے دان کی خوراک بن جائے یا مالِ غنیمت کی طرح اجنبی چہروں کے حوالے کر دیا جائے۔اسی طرح دُنیا سے جانے والا ہر انسان کسینہ کسی انسان کے سہارے کے بغیر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو ہی نہیں سکتاچاہے وہ اُس کا قاتل ہو یا پھر قبر پرمٹی ڈالنے والا کوئی اجنبی۔۔ یہ دُنیا کے اصول ہیں ۔۔۔طےشدہ ضابطے ہیں جو ازل سے چلے آ رہے ہیں۔
پہلی سانس اور آخری سانس کے بیچ دائرے کے اس سفر میں انسانی جان کی بقا کی بنیادی ضرورت حرارت ہے جو خوراک اور لباس کے خارجی وسیلوں کی محتاج ہوتی ہے۔۔جس کے لیے رشتوں ،تعلق اور جنس سے قطع نظر صرف اور صرف انسانیت بلکہ اکثر محض احساس کا رشتہ اولیت اختیار کر جاتا ہے۔۔۔اس لمحے کا احساس جو معجزانہ طور پر انسانی جان کے لیے جانوروں میں دیکھنے کو بھی مل جاتا ہے تو کبھی انسان کو خوف یا پھر بےحسی اور بےبسی کے پاتال میں دھکیلل کر اپنے شرف کا لباس اتارنے پر مجبور کر دیتا ہے۔کسی بھی عام انسان کا ایک کمزور جان کے ساتھ یہ تعلق سراسر یکطرفہ ہوتا ہے کہ اس کے جواب میں وہ ننھا وجود احساسِ تشکر توکیا بےنام مسکراہٹ بھی دینے کی طاقت نہیں رکھتا۔
زندگی کی گاڑی دھیمی رفتار سے سرکتی ہے تو شیرخوار کی معصومیت کی بدولت بڑے سے بڑے سخت جان کی مٹی میں بھی اُنسیت کی کونپلیں پھوٹ پڑتی ہیں۔ رفتہ رفتہ "میں اور تُو" کی اس کہانی میں ترجیہات جنم لیتی ہیں۔۔۔۔جبلی خواہشات اور جسمانی ضروریات کا دائرہ وسیع ہونے سے انسان دوسرے انسانوں کی جانب مائل ہوتا ہے۔عمر کے بڑھتے سالوں میں ہر رشتہ اور تعلق لین دین کے اُصول پر بنتا اور بڑھتا ہے۔ پھرجبلی اور فطری خواہشات،آسائشات،ترجیحات اور ترغیبات انسانی رویوں اور کردار کے رُخ کا تعین کرتی ہیں۔

دُنیا میں آنے کے بعد انسان کی پہلی ضرورت جس کا وہ دوسرے انسان سے تقاضا کرتا ہے لباس ہے۔ساری زندگی وہ اس محور کے گرد چکر لگاتا ہے یہی اُس کا دُنیا سے پہلا اورآخری تعلق بھی ہوتا ہے۔ سانس لیتے جسم کی ضرورت کبھی ایک کپڑے کے لباس سے پوری نہیں پڑتی۔۔اسے سر کے لیے ردا اور بدن کے لیے قبا بھی چاہیے۔ صرف مردہ جسم ہی ہر قسم کے احساس سے عاری ہو جاتا ہے۔۔۔ جسے مٹی میں ملنے کے لیے صرف ایک چادر کی اوٹ درکار ہوتی ہے۔ 
لباس کا تعلق بدن سے ہے اورتعلق لباس کی طرح ہوتا ہے۔یہ لباس ہی ہے جو ہر رشتہ بناتا ہے یا یوں کہہ لیں کہ آنکھ کھولنے کے بعد دُنیا میں ملنے والا ہر رشتہ فقط ایک لباس ہے جس میں ہماری مرضی اور پسند کا کوئی اختیار نہیں ہوتا جب پسند کا کوئی اختیار نہیں تو ناپسند کرنے کا حق کیسے ہمارے ہاتھ میں ہو سکتا ہے۔ جہاں ہے جیسا ہے کی بنیاد پر ہمیں رشتوں کو قبول کرنا چاہیے جیسے کپڑے کے لباس میں اگر کوئی مسئلہ ہو جائے تو اُسے اُتار کر پھینک نہیں دیا جاتا یا اُس کے مزید چیتھڑے نہیں اُڑائے جاتے،اپنے لباس کی برائیاں نہیں بیان کی جاتیں بلکہ اُسے ممکن حد تک سنوار کراپنے جسم کی پردہ پوشی کی جاتی ہے۔ اگر کوئی انسانوں کے درمیان تعلقات کو سمجھنا چاہے اُن کو مجسم شکل میں پرکھنا چاہے تو انسان اور لباس کے تعلق پر غور کرے۔ لباس وہ چیز ہے جس کے بغیر ہم سوچنے کا تصوربھی نہیں کر سکتے۔
چند لباس بنیادی ہیں جو کہ ہرحال میں نہ چاہتے ہوئے بھی ہم نے اپنانے ہیں اس میں ہماری پسند ناپسند کا کوئی دخل نہیں۔کچھ اس لیے ضروری ہیں کہ موسموں کی دست بُرد سے بچاتے ہیں ۔ چند ایسے ہیں کہ جب چاہا پہن لیا جب چاہا اُتار دیا۔
کچھ  لباس موسمی ہیں جو موسم کے مطابق تو متاع ِجاں ہیں لیکن بعد میں اِن سے چھٹکارا پا کر ہی سکون ملتا ہے۔
کبھی کوئی لباس بہت نازک ہوتے ہیں۔رنگ بھی کچے ہو سکتے ہیں اورکچھ برسوں دھلائی کے بعد بھی اپنی اُسی آب وتاب سے
نظر آتے ہیں ۔ کچھ کو ہم وزنی صندوقوں میں رکھ کر بھول جاتے ہیں ۔
کوئی لباس ہمارے لیے اور ہم اُس کے لیے ایسے لازم و ملزوم ہو جاتے ہیں کہ ہمارے جسم کا حصہ بن جاتا ہے۔ ایسے بھی 
ہیں کہ ہم پہنتے رہتے ہیں لیکن اُن سے ہمارا جی کبھی نہیں بھرتا۔
چند ایسے ہیں جو دُنیا کی نظر میں ہمارا بہترین لباس ہوتے ہیں پراُن کی چُبھن صرف ہمیں ہی محسوس ہوتی ہے کیونکہ باہر سے تو وہ اورہوتے ہیں اور ہمارا تعلق لباس کی اُلٹی طرف سے ہوتا ہے اس لیے شکوہ بےمعنی ہے۔۔۔لباس پہننا اوربات ہے اور
اُس کو محسوس کرنا اوربات۔
لباس وہ بھی ہوتا ہے جسے ہم سجی سجائی بیش قیمت دُکانوں کے ٹرائی روم میں بار بار پہنتے ہیں۔۔۔ آئینے میں دیکھتے ہیں۔۔۔ اپنے آپ کو سراہتے ہیں۔۔۔کبھی کسی دوست کی آنکھوں سے بھی پسندیدگی یا ناپسندیدگی کی جھلک تلاشتے ہیں۔ اپنی جیب کے مطابق اُسے خریدنے کی خواہش کرتے ہیں یا پھر کسی اور کے سپرد کر کے ہمیشہ کے لیے بھول جاتے ہیں۔
لباس وہی اپنا ہوتا ہے جو تن کے ساتھ من کو بھی سرشار کرے اور ہمارا دست ِطلب اُس کا دھن دینے کا اہل بھی ہو"۔"
کوئی لباس صرف دکھاوے کے لیے بھی پہنے جاتےہیں،بیش قیمت زرق برق لباس وقتی طور دیکھنے والے کو مرعوب کر سکتا ہے۔۔۔نگاہوں کو خیرہ کر سکتا ہے۔۔۔ پرجسم کا راز جسمکو جاننے سے ہی کُھلتا ہے۔اس کے لیے اپنے جسم کے اسرار سے آگاہی پہلی شرط ہے۔ لباس کی شکنیں رات کی کروٹوں کی غمازی کرتی ہیں تو بےداغ ،بےشکن لباس روزِروشن کی طرح اندر کی کہانی سناتا ہے۔ ذات کے بھید کھولتا ہے۔
 الغرض لباس کی جتنی بھی قسمیں جتنی بھی رنگا نگی ہے وہ سب ہمارے حسب ِحال ہے۔ پیدا ہونے سے لے کر وقتِ آخر تک ہم جتنے بھی لوگوں سے ملتے ہیں وہ صرف ہمارا لباس ہیں ایک ظاہری لبادہ۔ایک اٹل حقیقت۔ ہم جتنا بھی اس سے دور بھاگیں کتنے ہی آدم بیزار کیوں نہ بن جائیں اپنے آپ کو ان میں غیرمحسوس کریں پھر بھی اِن سے فرار ممکن نہیں ۔ یہ ایک ایسا بوجھ ہے جو کہ ہم نے پیدا ہوتے ہی اُٹھا لیا ہے اب چاہتے ہوئے یا نہ چاہتے ہوئے اسکا اور ہمارا سفر ایک ہی ہے۔ ہمیں اس کا خیال رکھنا پڑتا ہے.اس کی حفاظت ،اس کی مرمت ،اس کی دھلائی ،اس کی صفائی ،اس کی خوبصورتی کو برقرار رکھنا ایسے کام ہوتے ہیں کہ ان میں ہی عمر تمام ہو جاتی ہے پھر خیال آتا ہے کہ ہمارا آنے کا مقصد کیا تھا کہ ہم نے صبح شام اس فانی چیز کے لیے ایک کردیا ہے،ایسی فانی چیز جو ماں کی کوکھ کی طرح کچھ دیر تو اپنے بچھڑ جانے والے کا انتظار کرتی ہے پھر نئے مسافر کے لیے آراستہ ہو جاتی ہے۔
رشتوں اور لباس کی انہی بھول بھلیوں میں بھٹکتے ہوئے روشنی کی ایک کرن نظر آئی ۔ ایک ایسا سِرا ہاتھ آیا کہ اُلجھی ڈور جو کہ بس ہاتھ سے چھوٹنے ہی والی تھی اُس پر اعتماد بحال ہوا ۔ لباس کا تعلق فقط جسم سے ہے پھر ہم کیوں اپنی روح کا تعلق لباس سے جوڑتے ہیں ،اس طرح نہ صرف اپنے جسم بلکہ اپنی روح کو بھی بلا وجہ کی اذّیت اور پریشانی میں مبتلا کر دیتے ہیں ۔
روح کا تعلق صرف اور صرف اپنے خالق ومالک سے ہی جوڑ کر ہم ابدی اطمینان اور سکون حاصل کر سکتے ہیں ۔ لباس کے علاوہ بھی ایک تعلق ہے جو کہ ہماری ذات سے ہٹ کر ہے وہ ہے ہمارا سایہ۔ یہ وہ ساتھی ہے جو کہ ہر پل ہر آن ہمارے ہمراہ ہے ہم اس کا احساس کریں یا نہ کریں ہمیں اس کے لیے کوئی تردّد نہیں کرنا پڑتا۔ ہماری ذات پر اس کا کوئی بوجھ نہیں ہمیں اس کے لیے کوئی بھاگ دوڑ نہیں کرنی ۔ بس یہ ہمارا ہے ہمارے لیے ہے یہی بہت ہے۔ سائے کو عام حوالے سے دیکھیں تو یہ انسانی تعلقات میں ہمالہ کی طرح کھڑا ملتا ہے۔ سایہ بھی ہر وقت ہمارے ساتھ نظر نہیں آتا یہ صرف سفر کا ساتھی ہے۔ ہم رُک گئے تو یہ رک گیا۔ وقت کے ساتھ گھٹتا بڑھتا ہے۔ یوں سمجھیں کہ ہمارے سفر کو محسوس کرتا ہے بوجھ تو ہم نے خود ہی اُٹھانا ہے۔بات مختصر کروں تو " لباس رشتہ ہے اور سایہ تعلق ۔ یہ وہ ساتھی ہے جو دکھتا تو ہے پر چھوا نہیں جا سکتا"۔
لباس اگر جسم کی پہلی بنیادی ضرورت ہے تو سوچ روح کی غذا۔انسان جسم کی ضروریات دوسرے انسانوں کے ساتھ بانٹ سکتا ہے لیکن روح کی تسکین صرف اپنے آپ سے اپنے اندر سے ملتی ہے۔جسم کی ضرورت وقتی ہے جیسے برستی بارش میں ایک چھتری کے نیچے چند قدم کا ساتھ ۔۔۔جیسے موسموں کی شدت میں ذرا دیر کو کوئی مہربان آغوش۔۔جیسے آنکھ میں اُترنے والی نمی بن کہے کسی احساس میں جذب ہوجائےاور جیسے کوئی خاموش کاندھا۔
جسم کا لباس اور جسم کی طلب صرف وقت کے حساب کتاب تک ساتھ دیتی ہے اس کے بعد نئے موسم کی نئی ضرورتیں سب بھلا دیتی ہیں۔وقت بدلتا ہے اور ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ انسان جسم کی ہر طلب سے بےنیاز ہو جاتا ہےظاہری طور پر سانس کا رشتہ ٹوٹنے سے جسم کی تمام ضروریات فنا ہو جاتی ہیں۔مٹی کا جسم مٹی کے حوالے کرنے تک آخری ضرورت ان سلی سفید چادر رہ جاتی ہے۔۔۔ رہ جانے والوں کی طرف سے جانے والے کو آخری تحفہ اور آخری سلام۔۔۔
یوں انسان کے پہلے سانس کی کہانی جو لباس سے شروع ہوئی تو لباس پر ہی ختم ہو جاتی ہے۔ہوش وحواس کے درمیانی وقفے میں کتنے ہی لباس اُترتے چڑھتے رہے؟ کوئی لباس کب تک ساتھ دیتا رہا؟اور کس لباس نے کتنا سکھ دیا اور اس سے کتنے دکھ ملے؟ یہ سب سوچنے کی ہمارے پاس فرصت کہاں۔ہم تو اکثر بنا تشکر کے من چاہا لباس پہنتے رہتے ہیں تو بلا کسی افسوس کے ایک کے بعد ایک لباس اس اُمید پر بدلتے چلے جاتے ہیں کہ شاید کبھی کوئی ایک تو ہمارے بدن کی زیبائی جان سکےاور یا پھر بدنمائی ڈھانپ لے۔ اسی کشمکش میں زندگی گذر جاتی ہے اور جسم تختۂ مشق کی صورت وہیں رہ جاتا ہےیہاں تک کےایک تختے پر لٹا کر اکڑے ہوئے جسم کی کہانی کا ہر باب بند ہوجاتا ہے۔