صفحہِ اول

منگل, اپریل 30, 2013

" شفا "

سورۂ الشعرآء آیت 80 : 
" اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو مجھے شفا بخشتا ہے "
 تئیس برس پُرانا قصّہ ہے۔ رات کے دس گیارہ بجے کا وقت ہو گا۔ایک فکرمند باپ ،مصروف مسیحا  سُنسان راستوں پرتقریباً ایک گھنٹے کی مسافت سکوٹر پر طے کر کے اپنی بیٹی کے گھر پہنچا۔ جس کا نازک سا بچہ نمونیے کا شکار تھا۔باپ نے راز داری سے کسی سے کہے بغیر اپنے پاس موجود شیشی میں سے دوا نکالی اور اُس جاں بلب بچے کے حلق میں چند قطرے اُنڈیل دئیے پھر چُپ چاپ اپنا کام کر کے اُسی وقت واپس لوٹ گیا۔طبیب نے اپنے فہم  کے مطابق کام کیا وقت نے فیصلہ لکھا اوراللہ کی رضا سے بچہ  دنوں میں بھلا چنگا ہو گیا۔ اس میں کسی کی دوا یا دعا کا کمال نہ تھا۔بعد میں کسی نے پوچھا نہ دینے والے نے بتایا کہ وہ دوا کیا تھی۔ لیکن گمان یہی ہے وہ خُمارِممنوع تھا جس کا ایک گھونٹ چکھنا بھی حرام ہے۔ایسا تھا تو  کس نے اس باپ کو مجبورکیا کہ مشقت اُٹھا کروہ دوا تجویز کرے۔یہ رب کا حُکم ہے کہ جان پر بن آئے تو مُردار بھی کسی حد تک جائز ہے۔
برسوں پرانی یاد روشنی کے جھماکے کی طرح آج یوں ذہن میں کوندی کہ بحیثیت پاکستانی ہم بھی ایک جان لیوا مرض میں مبتلا ہیں۔ سب سے پہلے شناخت خطرے میں ہے کہ قوم ہیں یا ہجوم ،نہ صرف معاشی بلکہ اخلاقی طور پربھی دیوالیہ پن کی طرف گامزن۔ جس مسیحا کی طرف رجوع کیا اُس کی دوا نے بہتری کی بجائے ابتری کا سامان ہی پیدا کیا۔
اب پھر دوا کی ایک خوراک ملنے والی ہے۔۔۔شاید فیصلہ ہمارا  ہے یا پھرایک خوش فہمی ہمیشہ کی طرح۔ جو بھی ہے اب یہ دیکھنا ہے کہ اپنے آپ کو پُراُمید رکھتے ہوئے نئے عزم سے پھر وہی خوش رنگ دوا استعمال کی جائے جس کی پیکنگ مضبوط اور کمپنی مستند ہے۔۔۔ شاید اس بار وہ کوئی جادو دکھا دے یا پھر مایوسی کا شکار ہو کر اپنے آپ کو حالات کے دھارے پر چھوڑ دیں۔۔۔ کہ جب فنا ہی مقدر ہے تو کیا علاج کیا بھروسہ۔ یہ بھی کر سکتے ہیں کہ اپنی قوت ِارادی کے بل بوتے پر اپنی دوا خود تجویز کریں کہ اب تو ہم بھی اپنا علاج کرنے کے قابل ہو چکے ہیں اور بخوبی جانتے ہیں کہ دوا کی تبدیلی ہی بہترین حل ہے۔
 بظاہر ان میں سے ہر فیصلہ درست اور منطقی ہے۔ لیکن ہم ایک بات بھول رہے ہیں کہ شفا اللہ کے پاس  ہے ہم تو شفا کے
معنی سے ہی واقف نہیں تو علاج کیا کریں گے۔ اور جب اللہ نے واضح کہہ دیا کہ جان بچانا افضل ہےچاہے جو بھی طریق ہو۔تو اللہ کے حُکم کے مطابق وہ دوا کیوں نہ استعمال کی جائے جس کی پیکنگ مستند نہیں جس کے خواص سے بھی ہم ناواقف ہیں اور جو اس سے پہلے استعمال بھی نہیں کی ۔یہ نہ سوچیں کہ یہ ہمارے دُکھوں کا مداوا ہے۔ بس یہ ذہن میں رہے کہ ہم نہیں جانتے شفا کیا ہے۔ شفا صرف ایک بیماری کے ختم کرنے میں ہوتی ہے یا تمام بیماریوں سے نجات پا کر انسان ہمیشہ کے سکون میں چلا جاتا ہے۔تو نئی دوا بھی یہ سوچ کر استعمال کریں کہ  سابقہ دواؤں کے برعکس  شاید آرام دے  سکے باقی رب کی رضا ہے کہ ہمارے لیے کیا بہتر ہے اوراس دوا کا کیا ردِعمل ہو۔
راز کی بات یہ ہے کہ ابھی حالات اُس نہج پر نہیں پہنچے کہ مردار کھانے کی نوبت آ جائے اس لیے بہتری کی اُمید  رکھتے ہوئے  یہ آخری بازی دل سے کھیلیں کہ ہارے بھی تو بازی مات نہیں۔
 آخری بات !
نئی دوا جُگنو کی چمک کی مانند ہوتی ہے جو منزل کا پتہ تو نہیں دیتی پر ایک پل کو راستہ ضرور روشن کر دیتی ہے۔
 ۔۔۔۔
 نوٹ !
یہ بلاگ میں نے مئی  2013 کے الیکشن  کے حوالے سے لکھا  جب میں ایک نئے رہنما کو موقع دینے کے حق میں تھی۔۔۔۔ہرجذباتی پاکستانی کی طرح پُرامید ۔ افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ  اس الیکشن سے پہلے بحیثیت قوم ہمارا مالی معاشرتی اور ،معاشی لحاظ سے تو استحصال کیا جاتا رہا۔۔۔ لیکن اس کے بعد جس طرح جذباتی  طور پر ہم عام عوام کو اپنے ذاتی مقاصد کے  لیےاستعمال کیا گیا۔۔۔۔۔وہ انتہائی لائق نفرین اور حیرت انگیز بھی  ہے۔۔۔۔ اس طرح لٹنے والا  سب گنوا کر بھی یوں شاداں ہے جیسے اس پر احسان ِ عظیم ہوا ہے۔ پہلے والے لٹیرے تمام کے تمام  سیاست دان تو چلو ہماری نئی نسل کی عقل کا سودا تو نہیں کر کے گئے تھے لیکن اب ان خودساختہ سیاست دانوں نے ہماری نوجوان نسل ۔۔۔ ہمارے مستقبل کے معماروں۔۔ہمارے  پڑھے لکھے طبقے کی  بھی مت مار دی ہے۔ ایسے سبز باغ دکھائے اور ایسی جنتوں کی بشارتیں دیں کہ کیا مرد کیا عورت سب دُنیا تو کیا اپنا ایمان بھی گروی رکھنے پر خوشی خوشی آمادہ دکھائی دینے لگے۔
جہالت کے اس اندھیرے میں اللہ سے اس کے کرم کی دعا ہی کی جا سکتی ہے۔ اللہ ہم سب کو کھرے کھوٹے کی تمیز  اور اپنے پرائے کی پہچان عطا فرمائے ۔ آمین۔
 فروری 9 ۔۔2015

سوموار, اپریل 29, 2013

" محبوب اور ہمسفر "

" محبوب اور ہمسفر "
محبوب احساس ہے اور ہمسفر ہر احساس سے ماورا کر دیتا ہے۔ ہمسفر سر کی ردا اور بدن کی قبا ہے تو محبوب  آنکھ کا کاجل اور روپ کا کُندن ہے۔ ہمسفر کے سنگ وقت ایک خواب کی مانند گُزر جاتا ہےاورخواب تو خواب ہوتے ہیں اچھے بھی اور بُرے بھی اُن کی اپنی توضیح وتشریح ہوتی ہے بظاہر بُرا خواب بھی ایک اچھی تعبیر رکھتا ہے اور کبھی اچھا خواب کسی بھیانک تعبیر کی صورت سامنے آ جاتا ہے۔ تعبیریں کبھی لمحوں کبھی دنوں تو کبھی سالوں میں آشکار ہوتی ہیں ۔ محبوب ایک سچا خواب ہے جو لمس سے پرّے اور سوچ کے قریب ہوتا ہے اور ہمسفر ایک حقیقت جو پوروں کے لمس سے یقین کی منزل طے کرتا ہے اور خواب میں بھی اس حقیقت پر ایمان رکھتا ہے۔
محبوب کی قربت وقت کو لگام ڈال دیتی ہے وقت ایک مؤدب غلام کی طرح دروازے پربیٹھ جاتا ہے۔ یکجائی کا احساس ماہ وسال کا تغیر،زمان ومکاں کی پابندیاں،رُتبے منصب کا فرق سب بُھلا دیتا ہے۔
محبوب ہمیشہ دُور ہوتا ہے ہماری پہنچ سے دور اُس کی انفرادیت ہی اُس کی تلاش میں ہے۔ اس دُنیا میں وہ کبھی نہیں ملتا اس کی جھلک جابجا ملتی ہے اس کے رنگوں کو پہچان لو اس کے قریب آ جاؤ گے۔ محبوب کا ساتھ وہ خواب لمحہ ہوتا ہے جو حقیقت کی دُنیا میں ہرموڑ پرہمیں ذات کا اعتماد بخشتا ہے جبکہ ہمسفر ہمارا اپنا پن بھی لے کر اپنی ذات کے حصار میں قید کر لیتا ہے پریہ قید ِبامُشقت دنیا کے بےرحم بندی خانے سے نجات دلا دیتی ہے۔
ہمسفر چھتنار درخت ہے جو دھوپ کی تپش سے دور رکھتا ہےاورمحبوب اُس درخت سےجھلکنے والا آسمان ہے جوپہنچ سے دُورتو ہے پر اپنے ہونے کی گواہی بھی ہے۔آسمان کے بدلتے رنگ ،برستی بارش ،مہربان ہوا ،حبس بھری خاموشی ،طوفانی پکار تو کبھی بے موسم ژالہ باری سب ہمارے لیے ہی تو ہیں۔
ہمسفر جسم کی تشنگی مٹاکر اُس کو بارآور کرتا ہے تو محبوب خیال کا ہمسفر بن کر رفعت عطا کرتا ہے۔ ہمسفر کا لمس ہمارے وجود کا یقین بن کر گھر آنگن مہکاتا ہے تو محبوب کا احساس دل کی نگری میں ان چھوئی خواہشوں کے پھول کھلاتا دُنیا میں ہماری موجودگی کا جواز بنتا ہے- ہمسفر انسانوں کے ہجوم سے بچاتا یوں اپنی آغوش میں لیتا ہےکہ زندگی ٹھہر جاتی ہے،سفر تمام سا ہوجاتا ہے اورمحبوب ایک ہجوم میں اپنی نظر سے بھی بچاتا عرفانِ ذات کی اُن منزلوں سے روشناس کراتا ہے کہ زندگی جاوداں، راستے روشن اور وسیع ہوجاتے ہیں ۔
اپنے اپنے مقام پر اپنے ہمسفر کا خیال رکھیں کہ زندگی محض ایک سفر ہی تو ہے۔ خود کو پہچان جائیں تو پھر ہی  کسی کی پہچان  اپنے اندر اترتی ہے۔محبوب اور ہم سفر  احساس کے  سکے کے دو رُخ  ہیں اور زندگی کے بازار میں  کھنکتے چمک دار سکوں  سے جیبیں کتنی ہی بھری ہوں لیکن  محبت  کی ادائیگی صرف کھرے سکوں سے ہی ممکن ہے۔
آخری بات !
" ہمسفر جسم کا محبوب ہے اور محبوب روح کا ہمسفر "

اتوار, اپریل 28, 2013

" ووٹ کس کو دیں "

پانچ سال ایک شاندارجمہوریت کے مزے لُوٹنے کے بعد بالاآخر وہ دن آ ہی گیا جب ہمارے سر پر سہرا سجنے والا ہے وہ کمی کمین جونام نہاد جمہوریت کے دور میں فُٹبال کی طرح ادھر اُدھر لُڑھکتا رہا اب محفل کا دُلہا بننے جا رہا ہے خواہ ایک روز کا کیوں نہ ہو سب بڑے اس کوشش میں ہیں کہ کسی طرح اُس کوسنواردیں کوئی ایسا جادوئی سنگھارمل جائے جو وقتی طوراُس کے جسم پر لگے انمنٹ داغ چُھپا ڈالے اوروہ
کچھـ پل کے لیے سب بُھلا
کراُن کی من پسند دُلہن بیاہ لے جائے اب یہ تو بعد کی بات ہے کہ اس کمی کمین کو دُلہن کا دیدار نصیب ہوتا ہے یا ہمیشہ کی طرح اُسے منہ دکھائی میں آئینہ ملتا ہے اور راہزن خوابوں کی شہزادی لے کر چمپت ہوتے ہیں  وقت بہت کم ہے اور جو ہونا ہے وہ تو ہونا ہی ہے اُس سے فرار ممکن نہیں -اب فیصلہ ہمارا ہے کہ کبوتر کی طرح بلی کو دیکھـ کر
 آنکھیں موند لیں یا اپنے آپ کو مومن جان کر بےتیغ میدان میں کود پڑیں کہ مرنا مقدر ہے تو کیوں نا کسی کو مار کر مرا جائے،شہادت تو مل ہی جائے گی - دونوں باتیں غور طلب ہیں  کہ ہم نہ کبوتر ہیں اورنہ مومن ایک عام انسان عام عوام ہیں معمولی پڑھے لکھے یا پھر اُن اسباق کے پڑھے ہوئے جو زندگی نے روح وجسم پر ثبت کیے،بڑے لوگوں کی نظر میں جاہل کہ ہمارے پاس تعلیم نہیں جو شعور عطا کرے ،دُنیا کی عظیم قوموں کے سامنے تہذیب واخلاق کی اعلٰی قدروں سے ماورا بے ترتیب لوگوں کا ہجوم  -ان باتوں کو دل پر لے لیا تو واقعی ہم خس وخاشاک ہیں -لیکن ہم زندہ ہیں سانس لے رہے ہیں ،سوچتے ہیں یہی ہماری بقا کا راز ہے  بات صرف اپنے آپ کو پہچاننے کی ہے سب سے پہلے عقیدت کی عینک اُتار کر کھلی آنکھوں سے حالات کا جائزہ لیا جائے ،تاریخ پر نظر دوڑائی جائے کیونکہ حال میں رہنمائی ماضی سے ہی مل سکتی ہے اور ماضی یہ بتاتا ہے کہ قیامِ پاکستان سے دو طبقات چلے آرہے ہیں حاکم اور محکوم -حاکم اپنی بات منواتا آیا ہے اور محکوم کبھی اتنی جرات نہیں کر سکا کہ انکار کرے،حاکم نے ہمیشہ دھوکا ہی دیا ہے اس لیے اگر آئندہ بھی ایسا ہی ہونا ہے تو کم از کم ایک فیصلہ ہم کر سکتے ہیں کہ اگر جال پرانا ہے تو نئے شکاری کو آزمایا جائے شاید اُس کے پاس مارنے کے نئے سامان ہوں یا اُمید کی موہوم سی کرن کہ وہ شکاری نہ ہو- تاریخ میں ہمارے قائد  'قائدِ اعظم محمد علی جناح کی ذات تقویت دیتی ہےکہ قائد وہ ہے جو اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرے-

جمعہ, اپریل 26, 2013

" موت اور گھر "

" گھر کہانی ''
مُجھے مرنے سے ڈرنہیں لگتا مُجھے زندہ رہنے سے ڈر لگتا ہے۔ بظاہریہ ایک عام سا جُملہ ہے جو کسی نے دُنیا کےمصائب وآلام سے تنگ آکر کہا ہے۔۔۔ لیکن اگردھیان لگا کرغورکیا جائے توانسان اندر سے ہل کررہ جاتا ہے۔
موت زندگی کا اختتام نہیں ہے- یہ تو محض اپنا پورا وجود لے کرایک کمرے سے دوسرے کمرے میں جانے کا نام ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک عظیم گھر عطا فرمایا ہے۔ سانس لینےوالا ہر شخص ایک ذاتی گھر کا مالک ہے۔
گھرسے مراد ہماری زندگی ہےاور'سہولیات'زندگی کی نعمتیں ہیں۔ ہرامیر،ہرغریب، ہر نارمل،ہرابنارمل اللہ کی مخلُوق ہے اوراس کے پاس زندگی کی نعمت کسی نہ کسی انداز میں موجود ہے-اگر یہ سوچا جائےکہ محروم ترین اشخاص اورکسی نہ کسی معذوری میں مُبتلا افراد کے پاس کیا ہے؟ تو شاید ہم اپنی عقل کے سہارے اُس کا جواب تلاش نہ کر سکیں۔۔۔ لیکن اگر اللہ کی حکمت جان کر سوچیں تو خیال آتا ہے کہ نہ جانے اللہ کے ہاں اُن کے کیسے کیسےانعامات ودرجات ہوں گے- دُنیا میں پیدا ہونے والے ہر ذی روح کے پاس اُس کا اپنا ایک خاص گھر ہے۔۔۔اُس جیسا کسی دوسرے کے پاس نہیں ہو سکتا۔ہرگھر میں کوئی نہ کوئی الگ خاصیت ہے۔ہم نے صرف اِس گھرکی نگرانی ایک امانت جان کرکرتے ہیں۔۔۔اس کو سنوارنا ہوتا ہے۔۔۔گھر کے ہرحصے کا خیال رکھنا ہمارا فرض ہے۔
جیسا بتایا گیا ہے کہ آخرت میں ہماری دُنیاوی زندگی بہت ہی کم معلوم ہو گی۔مثال کے طور پرصبح سےشام تک کا عرصہ ہماری زندگی کی مُدت ہے۔۔۔ صبح سویرے جاگ کر ہم اپنے گھر کو دیکھتے ہیں۔۔۔ پودوں کو پانی دیتے ہیں۔۔۔ کمروں کی صفائی کرتے ہیں۔۔۔ گھر سے متعلقہ افراد کی ضروریات۔۔۔اُن کے مسائل حل کرتےہیں- یہاں تک کہ دن ڈھلنا شُروع ہو جاتا ہے۔۔۔ ہم کھانے پینے اورسستانے کے کمروں میں بلاوجہ زیادہ وقت صرف کر دیتے ہیں۔اِسی بھاگ دَوڑ میں ہماری نیند کا وقت آجاتا ہے۔۔۔عین اُسی وقت ہماری بےمصرف بھاگ دوڑکا نتیجہ یوں سامنےآتا ہے کہ وہ کمرہ جس میں ہم نے سکون کا سانس لینا تھا۔۔۔ ایک مُکمل اور پُرسکون نیند سے لطف اندوز ہونا تھا۔۔۔ اُس کو ہم نے سارا دن یکسر نظرانداز کیے رکھا۔۔۔وہاں روشنی اورہوا کا بھی انتظام نہ کر سکے۔۔۔ایک آرام دہ بستر بھی موجود نہ تھا۔۔۔ حشرات الارض سے بچنے کا بھی کوئی بندوبست نہ تھا۔۔۔ رات کو پیاس کی شِدّت میں پانی بھی پاس نہ تھا۔
ہم سارا دن ایک بےفِکری کے عالم میں۔۔۔ اپنے ہم نوالہ و ہم پیالہ دوستوں کے ہمراہ خوش گپیوں میں مصروف رہے تھے

اور دن بھرغفلت کی نیند سوتے ہوئے یہ احساس بالکُل نہ جاگا کہ وہ کمرہ جس میں ہم نے اکیلے سونا تھا۔۔۔ اُس میں کسی ہمدم کی شفقت کے سائے کی بھی خاص کوشش نہیں کی۔۔۔ رات کوپہنے جانے والے لباس کو بھی فراموش کر دیا۔۔۔وہ لباس جس نے ہر ہرکروٹ ہمارے جسم کو آرام دینا تھا۔۔۔ اُس سادہ لباس کی خریداری کو بھول کر دن بھر ایک سے ایک مہنگے اور قیمتی لباس کی خریداری۔۔۔اُس کو پہن کر فخر کرنے۔۔۔ اور اپنے آپ کو دوسروں سے برترنظرآنے کی دَوڑ میں شامِل رہے۔
اللہ ہمیں اس عبرت ناک انجام سے محفوظ فرمائے۔ ہمیں سیدھے اور سچّے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ وہ راستہ جس پر صرف قدم رکھنے کی دیر ہے آگے بڑھیں تو اللہ کی ذات رہنمائی کے لیے ہمارے سنگ ہو گی-
مئی 5 ، 2011

جمعرات, اپریل 25, 2013

کبھی ہم نہیں کبھی تم نہیں

کبھی ہم نہیں کبھی تم نہیں
 یہ فاصلے پھر بھی کم نہیں
ذرا پلٹ کے دیکھ تو
دل پہ کیا کیا رقم نہیں
 اُسے پا لیا اُسے کھو دیا
وہ قریب تھا محرم نہیں
سماعتوں پہ برس گیا
لمس پہ جو کرم نہیں
 اُسے بھولنا محال ہے 
وہ دیار ہے حرم نہیں

منگل, اپریل 23, 2013

" آہ ہم عوام ، واہ ہم عوام "

میلہ مویشیاں سجا ہوا۔۔۔ قصاب چاقو چھریاں تیز کرکے سرگرم۔۔۔ معاشرتی جانور ذوق وشوق سے کھنکھناتی بیڑیاں پہنے۔۔۔ ریشمی پٹے حمائل کیے جوق درجوق ایک بار پھرقربانی کے لیے تیار۔ روزِروشن کا یہ کڑوا سچ دکھائی دیتے ہوئے بھی دکھائی کیوں نہیں دے رہا۔ سب دروازے،کھڑکیاں بےخبری کی میخیں گاڑ کر بند بھی کردئیے پھر بھی کسی نہ کسی درز سے حالات کی سنگینی کی لُو کیوں جُھلسائے دے رہی ہے۔
 اپنی زندگی کے گودام میں ذخیرہ کی ہوئی آرام وآسائش،عقل وشعور اورآسودگی کی بوریوں کے ڈھیر کیوں طمانیت سے محروم رکھے ہوئے ہیں۔۔۔ وہ نیرو کی روح کیوں نہیں جاگتی جو  روم جلنے پرچین کی بانسری بجاتی تھی کہ یہی آج کے دور کا چلن ہے۔ ہم خود ساختہ پڑھے لکھے لوگ کیوں تماش بین نہیں بن جاتے۔۔۔ ہم تو اپنی ٹھنڈی چھت تلے بھرے پیٹ سونے والے لوگ ہیں۔۔۔ ہمیں کیا غرض کون آئے کون جائے۔
 قصور ہمارا نہیں صرف آنکھ کُھلنے کا ہے کہ آنکھـ کُھل جائےتو نیند غائب ہو جاتی ہے۔۔۔ اورنیند نہ آئے توغفلت کے خواب بھی نہیں آتے۔یہی وجہ ہے کہ ہم خاص ہوتے ہوئے بھی خود کو خاص نہیں جان رہے۔۔۔ گردش کا پہیہ جب چلتا ہے تواُس کی زد میں خاص وعام سب برابرآتے ہیں- ہم صرف عوام ہیں۔۔۔ چھوٹے چھوٹے لوگ۔۔۔ ایک دوسرے سے وابستہ جن کی چھوٹی چھوٹی ضرورتیں اورخواہشیں ہیں۔۔۔ جو پوری ہونے لگیں تو اپنے جیسوں کے ساتھ بانٹ لیتے ہیں۔ بڑے لوگ ہمیں کٹھ پُتلیاں جان کر اپنے اشاروں پر نچاتے ہیں۔۔۔ تماشا دکھا کرمال بٹورتے ہیں۔یہ تماش بین ہمیں ایک عام طوائف جتنی اہمیت بھی نہیں دیتے۔۔۔ اُس پرنوٹ نچھاور کرکے اپنےبھرم کا فاصلہ رکھ کرگھرتو چلے جاتے ہیں۔ لیکن ہم عام عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ کھسوٹ کر۔۔۔ عزتِ نفس اورفہم کے چیتھڑے اُڑا کر۔۔۔ سرِ بازار رُسوا کر کے۔۔۔ پھردانت تیز کر کے وہیں بیٹھ رہتے ہیں۔ اورہم ہمیشہ ایک ہدایت یافتہ طوائف کی طرح سنورتے ہیں۔۔۔ شاید آنے والا تماش بین نہیں کوئی مسیحا ہو۔۔۔ جس کی جھولی میں سفلی خواہشوں کے کیکر نہیں بلکہ ماں کی گود کا سا خمارمل جائے جو کچھ پل کو گردش ِآلام بھلا دے۔
یہ گینگ ریپ کب تک جاری رہے گا ؟کوئی نہیں کوئی بھی تو نہیں- نہیں نااُمیدی کفر ہے۔۔۔ مایوسی موت ہے اور مرنے سے پہلے مرجانا صریح خودکشی ہے۔حالات کی سنگینی اگر جھانک رہی ہے تو کہیں سے خفیف سی روشنی کی جھلک بھی نظر آرہی ہے۔اللہ نااُمیدی کی عینک سے بچائے جو اگر لگ جائے تو ہر منظر دُھندلا دیتی ہے۔آخری وقت تک اپنے آپ پر یقین رکھیں۔۔۔ دروازے اگر بند ہوتے جا رہے ہیں تو یہیں کہیں اُن کے کھلنے کی نوید بھی مل رہی ہے۔لوٹنے والے کہاں تک لوٹیں گے۔۔۔ ایمان باقی رہے۔۔۔ ہمت ہو تو سفر کٹ ہی جاتا ہے- نیت کا پھل ملتا ہے۔۔۔اعمال کا پھل کیا ملے یہ رب جانے۔
( عام انتخابات 2013  کے پس منظر میں لکھی تحریر )

جمعہ, اپریل 12, 2013

" تھکن کہانی "

 وہ ایک سانس لیتی لاش تھی۔۔۔بظاہر ایک سرسبزوشاداب اورپھلدارپودا!!! جس کی رگوں میں سرسراتی نادیدہ دیمک۔۔۔ قطرہ قطرہ زندگی کا رس نچوڑتی جا رہی تھی ۔ برسوں پہلے جیسے ہی زندگی کے رنگ اُس کے وجود میں جھلکنے لگے۔۔۔ پیشہ ور شکاریوں اورگدھوں جھپٹنا شروع کردیا۔ اپنا آپ بچاتی۔۔۔ جان کربھی ان جان بنتی وہ اپنی راہ چلتی رہی پر اُس کے اندر کی عورت مرتی گئی۔دیکھنے والے اُسے جس رنگ میں دیکھتے وہ اُسی میں نظر آتی۔۔۔کبھی موم کبھی پتھر،کبھی گل کبھی خار،کبھی خواب کبھی حقیقت۔ اپنا آپ بچانے کی جُستجومیں وہ لبادے اوڑھتی گئی اوربکھر بکھرکرسنورتی رہی۔ بےخبرتھی کہ بےنیازی سب سے بڑی خوشبو ہے جو پاس آنے بھی نہیں دیتی اوردُورجانے بھی نہیں دیتی۔ خوشبو بھی کبھی قید ہو سکی ہے!!! وہ یہ نہیں جانتی تھی۔اسی لیے اپنے حصار کی کشش سے خوفزدہ ہی رہتی ۔ ساری دُنیا سے چُھپ کراپنا وجود اُس کی جائے پناہ تھا۔۔۔ اپنےآپ سے باتیں کرتی،دُکھ سُکھ پرولتی اورسمجھوتے کی چادر تان کرسو جاتی ۔
 اُس نے ہر رشتے کو برتا۔۔۔ہرتعلق میں جھانکا۔۔۔ سب جگہ جسم ہی نظر آیا۔یہ جسم ہی تھاجس نےاُسے دُنیا کی رنگینی اور اُس کی سفاکی سے روشناس کرایا۔۔۔کبھی جسم نے اُسے دیوی بنایا تو کبھی سنگِ راہ ۔ یہ جسم ہی تھا جس نے اُسے دیارِحرم کی زیارت کی سعادت بخشی تو کبھی آنکھوں میں جلتی سلائیاں پھیر کر بینا نابینا کا فرق مٹا دیا۔
 جسم زندگی کے ہر موڑ پر سائے کی طرح تعاقب میں تھا۔۔۔ اوروہ روح کو خدا مان کر اُس کی تلاش میں دربدر تھی ۔ اسی کشمکش میں وہ اپنے جسم سے ناراض رہتی۔ اُسے وہ ایک کریہہ صورت بدبوداربھکاری کی مانند دکھائی دیتا۔۔۔ جو دُنیا کے بازارمیں اُس کا دامن تھامے اکنی دونی کا سوال کرتا اور وہ شرمندگی اورخوف کے مارے قدم نہ بڑھا پاتی۔زندگی اسی رفتار سے چلتی رہی۔۔۔ کوئی حل نہ پاکر اُس نے خیرات دینا شروع کر دی۔ پھراُسے پتہ چلا کہ وہ جواپنے آپ کولٹاپُٹا اورتہی داماں جان رہی تھی ابھی تو وقت کی ردا میں اُس کے لیے بہت سے جواہرات پوشیدہ ہیں۔
 وہ سخی تو ہمیشہ سے تھی اس جانکاری کے بعد اُس نے دونوں ہاتھوں سے لُٹانا شروع کر دیا۔ پھر معجزے ہونے لگے اُس مری ہوئی عورت میں زندگی کی رمق دھیرے دھیرے انگڑائی لینے لگی۔ سوئے ہوئے رنگ سورج کی روشنی میں جگمگا اُٹھے۔ اُس نے اپنے جسم سے دوستی کر لی۔جان گئی کہ یہ جسم ہی ہے جو اُس کی روح کا بوجھ سہار سکتا ہے۔روح جسم کے بغیر فقط سفرہے پرواز ہے جس کی اپنی کوئی شناخت نہیں۔جسم کے پاس بہت سی ان کہی،ان چھوئی کہانیاں اُس کے لمس کی مُنتظر تھیں۔اِن کہانیوں کی خوشبو نے اُس کی روح میں ایک نئی تازگی بھر دی۔وہ کہانی کار بن گئی۔۔۔لفظ باتیں کرتے اور وہ ان لفظوں کو حرفوں کی مالا میں پرو کردُنیا کے بتی والے چوراہے پرکھڑی ہو جاتی۔۔۔قدر دان مل جاتا تو خیر ورنہ ان پھولوں کی خوشبواُس کا دل آنگن تو مہکا ہی دیتی۔وہ مانتی تھی موت ایک بھکاری کی طرح اس کے تعاقب میں ہےاور کسی بھی وقت ساری خیرات جھپٹ سکتی ہے۔۔۔پر دینے کی لذت اتنی وسیع اور نشہ آور تھی کہ سمیٹنے یا بچانے کاخیال ہی نہ آتا تھا۔ وہ صرف ایک بات جان گئی تھی کہ یہ دُنیا بانٹنے کا کاروبار ہے کہیں ایک اور دُنیا ہماری منتظر ہے جو پانے کی جاہ ہے۔

" دیوی "

  • ایک دفعہ کا ذکرہے۔ ایک دیہاتی لڑکا تھا۔ شہرمیں پلا بڑھا۔ کچی مٹی کی مہک اس کے اندراُترتی تھی جسے وہ خود سے بھی چھپاتا۔ پھراُسے ایک شہری لڑکی سے محبت ہو گئی ۔ وہ لڑکی انجان تھی اپنی دُنیا میں گم۔ وہ کبھی اُس سے  بھاگتا کبھی خود سے۔اس نے فرار کے لیے لفظوں میں پناہ لی اور لفظ دوست بن گئے۔ بڑا آدمی بن گیا۔ ساری دنیا  توگھوم آیا پراپنے دل کی نگری سے بےخبرہی رہا۔ نہ جانے کب اور کس طرح ریاضی اورسائنس نصاب میں پڑھتے پڑھتے اُس شہری لڑکی میں کُنڈلی مارکربیٹھ گئے۔محبت اس کے لیے ریاضی کا کُلیہ ہوتی تو کبھی کیمیا  کا فارمولا۔۔۔ کبھی وہ طبعیات کے کسی قانون کےتحت اُسے سمجھنے کی کوشش کرتی ۔ وہ محبت کو زندگی جانتی تھی ۔اسی لیے زندگی کے ہررنگ میں محبت  تلاشتی ۔ سائنس تو اُس نے بھی پڑھی تھی پروہ فارمولوں اور کُلیوں  سے آگے بڑھ کر جسم کا مسیحا بن گیا۔۔۔ ایک مہربان لمس جو نبض دیکھ کربدن کی زبان جانچ لیتا۔ اپنے پاؤں کے چھالوں کو بُھلانے کی سعی میں اپنے بدن کی پُکارسے غافل ہوتا گیا۔ محبت اس کے لیے جسم تھی جسے وہ ایک خواب ِپریشاں  کی طرح جتنا جھٹکتا اُتنا وہ اُسے اپنی طرف کھینچتی۔اُسے معلوم نہ تھا کہ وہ سفرکی کس منزل پرہے۔ محبت کی اس خوشبو کو کبھی دیوی کا نام دیتا۔۔۔کبھی جان کہتا۔۔۔ اورشہری لڑکی اِن لفظوں کی مٹھاس میں اپنا سب کچھ وار دیتی۔ پراُس کے اندرکا نصاب لڑتا کہ دیوی تو پتھر کا نام ہے جو ہر احساس سے عاری ہے۔۔۔ جان کیوں کہ جان تو ایک بےوفا محبوب ہے۔۔۔ جو جانے لگتی ہے تو پلٹ کر دیکھتی بھی نہیں۔۔۔جس طرح بن بلائے آتی ہے اُسی طرح بغیر کوئی وعدہ کیے لوٹ جاتی ہے۔وہ اپنی بڑی بڑی آنکھیں کھولے اُس کا فلسفہ سُنے جاتا۔وہ کمال شخص تھا جو اپنی روح سے ڈر کراپنے جسم میں چُھپتا دوسرے جسموں کا رازداں بن گیا تھا۔ وہ واقعی دیوتا سمان تھا۔۔۔ پریہ بات اُس سے کیسے کہہ دیتی کہ وہ خود بھی ایک دیوی تھی۔ جس کے بُچاری اندھی عقیدت میں ڈوب کر اُس کے چرنوں میں اپنی جان مال نچھاور کرتے اورمراد پاتے۔ دیوی جانتی تھی کہ وہ محض پتھر ہے۔۔۔ جو ایک جگہ ایستادہ ہے۔۔۔ اس کی تو اپنی زندگی وقت کے کلہاڑے کی زد میں ہے۔۔۔ اس کی دینے کی اوقات کہاں۔۔۔ یہ مالک کا کرم ہے کہ ذرّے کو آفتاب بنا دےاور پتھرمیں رزق عطا کرے۔وہ اسے کیسے بتاتی کہ دیوی بنایا تو دیوی پتھر ہے اور کچھ بھی نہیں۔خاص کہا تو خاص اس وقت تک خاص ہے جب تک  اس کو ماننے والوں کی دستِ طلب کا کاسہ سلامت ہے۔ لیکن پتھر بھی لمس کا یقین چاہتا ہےاوراپنے خاص ہونے کا یقین بھی۔ لمس صرف جسم نہیں روح بھی ہے۔جسم حقیقت ہے اس سے فرار نہیں لیکن روح کی سچائی اور اس کی طلب سے بھی آنکھ بند نہیں کی جا سکتی۔





جمعرات, اپریل 11, 2013

" بُری باتیں "

وہ  ایک اچھا انسان تھا لیکن یہی کہتا کہ بُری باتیں کرتا ہوں۔ وہ ایسی  باتیں صرف  اُسے ڈرانے کے لیے یا آزمانے کے لیے کرتا تھا۔ جب ملتا تھا تو کچھ بھی نہ کہتا ۔۔۔اچھی بات نہ بُری بات۔
اوروہ حیران پریشان اچھی اوربری باتوں کے بیچ اُسے ڈھونڈتی تھک جاتی۔۔۔ وہ کہیں نہ ملتا۔ ادھوری باتیں کرتا۔۔۔ کبھی لکھ لکھ کرمٹاتا جاتا۔۔۔ نہ جانے اچھی بات تھی یا بری بات؟۔ جو لکھتا وہ کبھی نہ کہتا اورجو سوچتا وہ کبھی نہیں بتاتا تھا۔اسی لیے اس پر یقین نہ آتا۔ بس یہی کہتا میں بُرا آدمی ہوں اورتم مجھے بری باتیں کرنے کہاں دیتی ہو۔ حالانکہ  سارے اختیارات اس کے پاس تھے پھر بھی  ناراض ہی رہتا یا شاید خفا ہونے کی اداکاری کرتا۔ لیکن وہ ایک اچھا اداکار نہیں تھا۔ وہ بہت کنجوس بھی تھا کہ  نہ درد بانٹتا اور نہ خواب۔ بےخبر نہیں جانتا تھا کہ محبت تو بانٹنے کا نام ہے۔۔۔ محبت خوشبو ہےجس پر ہرایک کا حق ہے اور وہ اس خوشبو کو اپنی نظروں سے بھی چھپانا چاہتا اِسی لیے تو بوجھ سے نڈھال تھا۔ نہیں جانتا تھا کہ خوشبو کا موسم بیت گیا تو یہ خواب لمحے لوٹ کرنہ آئیں گے۔۔۔ وقت اِسی طرح گزرجائے گا اچھی اوربُری باتوں کے بیچ۔ اورکون کس کے پاس ٹھہرا  ہے نہ رات بھر نہ عمر بھر۔
وہ اُن لوگوں میں سے نہ تھا جو اچھی باتیں کرتے ہیں۔۔۔ اپنے لفظوں سے مُسخر کرتے ہیں اور پھر اپنے عمل سے سب چھین لیتے ہیں۔۔۔ مال متاع عزت دولت۔ وہ ایک عام انسان تھا جوبہت خاص تھا۔وہ کوئی شاطر سیاست دان بھی نہ تھا جو خاص نظر آتے ہیں قریب سے دیکھا جائے تو انسانیت کے نچلے درجے سے بھی گرے  ہوتے ہیں۔۔۔جس تھالی میں کھاتے ہیں اُسی میں چھید کرتے ہیں۔۔۔اپنی بقا کی خاطر اپنے بچوں کو حرام کا لقمہ کھلاتے ہیں۔۔۔اُن کے فہم پر ترس ہی کھایا جاسکتا ہے۔۔۔ جھگڑا نہیں جاسکتا۔
 بُری بات کبھی اپنے اندر نہ پنپنے دو۔ بُری باتیں اگر اپنے اندر چُھپا کر رکھی جائیں تو ناسور بن کر ایک لاعلاج مرض کی طرح ہمارے وجود میں پھیل جاتی ہیں،بُری باتیں اگر کسی اچھے کےساتھ بانٹ لی جائیں تو وہ ان میں سے اچھائی نکال کر اُن کو مہکا دیتا ہے جبکہ بُری باتیں بُرے کےساتھ کی جائیں تو وہ اُن کا میل زمانے میں پھیلا کردنیا وآخرت کی رسوائی کا سبب بنا دیتا ہے۔
 بات صرف بات ہوتی ہے ایک بےضرر قول ہم اپنے انداز ِتخیّل سے اُس کو اچھا یا بُرا بنا دیتے ہیں۔
اپنے مالک سے ہر بات کہو وہ خود تمہیں اچھے برے کا فرق بتا دے گا۔
راز کی بات!
وہ برا نہیں تھا۔۔۔ وہ خود ہی کچھ عجیب تھی۔۔۔ اُس کے اندرایسی کشش تھی کہ اُس کے قریب آنے والا اپنا مدار چھوڑ کر اُس کے مدار میں محوِرقص ہونے پر مجبور ہو جاتا۔ نہ جانے اُس کے لمس میں کیا ایسا تھا کہ نہ چاہتے ہوئے اورنہ مانتے ہوئے کوئی اپنا آپ بھول جاتا۔۔۔ رُتبہ ،منصب،نام،مقام سب کچھ۔۔۔ اور اُس کی سادگی یہ راز کبھی نہ کھولتی ۔۔۔ڈوبنے والا اپنے آپ کو ہی قصوروار گردانتا۔
انسانی فطرت کے یہ  مانوس چہرے اسے ہرموڑ پرملتے۔۔۔ اخلاقی  قدروں کی بے قدری  دیکھ کراُسے دکھ بھی ہوتا۔وہ سمجھتی سب تھی۔۔۔ ہر رشتے ہراحساس کو جھٹلاتی نہ تھی۔ وہ ہرگام پر عقل کو اولیت دیتی۔۔۔ دوسروں سے بھی توقع رکھتی کہ اپنے شرف کو پہچانیں۔۔۔ اپنے ظرف کا احساس کریں اور وقتی تسکین کی خاطر ہمیشہ کی ذلت کا سودا نہ کریں۔
ڈوبنے والوں کو بچانا چاہتی ۔ کنارے پر پہنچانا اس کا مقصدِحیات تھا۔وہ تیرنے والوں کو اپنا آپ سنبھالنے کا ایک موقع ضرور دیتی تھی۔پرجو خود ڈوبنا چاہے یہ اس کا نصیب۔۔۔

" قربت ایک افسانہ ایک حقیقت "

 اُس کی قربت بھی عجیب تھی۔۔۔جب لمس کا رشتہ قربت کی گواہی دیتا تو نظریں چُرائے دھیرے دھیرے اس کے لب ستارے یوں ثبت کرتے گویا ایک مُرید کسی گدّی نشیں کے سامنے دست بستہ حاضری دے رہا ہو۔ وہ اِن ریشمی لمحوں کو اپنے لمس کے کُھردرے پن سے بچاتا ہاں اورناں کے بیچ یہ پل گُزار دیتا۔ اس کی بولتی آنکھیں جُگنوؤں کی طرح چمکتیں۔ اُن نظروں کی ٹھنڈک وجود کی حدّت کم کر دیتی۔ اور وہ خوشبو کی طرح بدن کو چھو کریوں گزرجاتا کہ کبھی شناسا ہی نہ تھا۔جب اُس کی آواز سوچ کی لہروں کو چھوتی تو ایک اجنبی لہجہ اپنانے کی ناکام کوشش کرتا۔۔۔ کسی انجان مہربان کا جو زندگی کے پلیٹ فارم پر پل دوپل ملے۔گاڑی آتی دیکھ کرلپک کر ہاتھ ہلاتا سوار ہو جائے اوربہت کچھ  کہی ان کہی رہ جائے۔
اُس کی آواز میں کچی مٹی کی مہک اُترتی تھی۔ وہ مسیحا  کا روپ دھارے حال احوال پوچھتا۔۔۔ موسم پر باتیں کرتا اوراندر کے موسم کو جان بوجھ کر نظر انداز کرتا یکدم  کسی فرضی ایمرجنسی کال کا بہانہ کر کے ایسے بچھڑ جاتا کہ جیسے کبھی ملا ہی نہ ہو۔ پرجب حرف کا حرف سے ملاپ ہوتا تو وہ اپنے پورے جوبن پرہوتا۔۔۔ بہت کچھ کہنااوربہت کچھ سننا چاہتا۔۔۔اپنے حرف حرف کی چاشنی اُنڈیلتا۔۔۔جذبوں کی شدّت لفظوں میں یوں پروتا کہ بدن کی پورپورگلاب بن جاتی۔ وہ سب بُھلا کراس طور ملتا کہ سب گِلے شِکوے ہوا ہو جاتے۔اس کی قربت کی سرشاری وقت کو لگام ڈال دیتی کہ جیسے کائنات میں صرف دو وجود ہوں جو ایک دوسرے کے لیے بنے ہوں۔ پھر وقت کی تلوار آڑے آجاتی ادھوری باتیں ادھورے لمس کا جواز بن جاتیں۔ یہ بھی بہت تھا کہ بیج کی بارآوری یا سیپ میں بند قطرے کے گُہر بننے کے لیے برستی بارش نہیں بلکہ ایک قطرہ ہی کافی ہوتا ہے اور تشنگی تو قسمت ہے بچھڑنا تو حق ہے اس سے کیا جھگڑنا۔

منگل, اپریل 09, 2013

" گورکھـ دھندا "

مُحاورات اور ضرب المثال ہماری زندگی کے ہر دورمیں ہونے والے تجربات کی بھرپورعکاسی کرتے ہیں لیکن جب یہ ہمارے نصاب میں شامل ہوتے ہیں تو الفاظ کا اُلٹ پھیراوراُن کے ناقابل ِفہم معنی ہمیں اُلجھا دیتے ہیں۔۔۔اُن کو یاد کرنا اور  صحیح جگہ استعمال کرنا دردِ سر بن جاتا ہے۔یہ ماضی کی وہ تاریخ ہے جو ہمیں اُس وقت زمانۂ قدیم کی داستان محسوس ہوتی ہے جس کا ہماری روزمّرہ زندگی سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا - صرف اور صرف پرچوں میں اچھے نمبر لینے کے لیے ان کے رٹے لگائے جاتے ہیں-بمشکل تمام ان کے مطالب ذہن نشیں ہوتے ہیں،درست جگہ پر استعمال کرلیا تو حساب کے سوالوں کی طرح پورے نمبر ملتے ہیں،اگر غلط مطلب نکالا یا وہی سمجھا جو لکھا ہوا ہے تو سنجیدہ بات بھی ایک لطیفہ بن جاتی ہے۔
ان محاورات اور ضرب المثال کی اصل عملی زندگی میں یوں سامنے آتی ہے کہ یہ نصاب کا وہ سبق نہیں کہ جو پڑھا،رٹا لگایا،امتحان دیا اور بھول گئے۔ زندگی کے تلخ حقائق کو سمجھانے میں یہی محاورات جوکبھی ذہن پرایک بوجھ کی طرح مُسلّط تھے ہمارے رفیق ِکار بن جاتے ہیں۔ ہر نیا سمجھوتہ ،ایک نیا جھٹکا ہمیں جب ڈگمگا دیتا ہے تو یہی ایک سچے دوست ،بےغرض رفیق کی طرح سہارا دیتے ہیں۔بس یہی خیال ثابت قدم رکھتا ہے کہ یہ تو ازل سے چلی وہ گھسی پٹی کہانی ہے جس کے کردار بدلتے جا رہے ہیں لیکن مکالمے اور انداز وہی پرانے ہیں-اب ان پر کیسا گھمنڈ ،کیسی بے بسی اور کیا جی کو روگ لگانا -

سوموار, اپریل 08, 2013

" کیا کہنے "

 جو  صبح کو شام کہتی ہے 
جو راستوں کو مقام کہتی ہے
جو ہجر کو وصال کہتی ہے
جو فکر کو ملال کہتی ہے
جو وقت کو نصیب لکھتی ہے
جو چاہت کو رقیب لکھتی ہے
 وہ محبتوں کو نکال رکھتی ہے
وہ نفرتوں کو سنبھال رکھتی ہے
وہ سامنے ہو تو بے کلی نہیں جاتی
 وہ دُور ہو تو آنکھ سے نمی نہیں جاتی  
 وہ چاہتوں کی امین لڑکی ہے
 وہ خلوتوں کی جبین لڑکی ہے
وہ جو پاس آکر بھی دُور لگتی ہے
 وہ جو دُور ہو کر بھی پاس لگتی ہے
 وہ ساتھ ہو تو پھر کیا ہو
وہ دُور ہو تو پھر کیا ہو
 ہم نہیں جانتے
 ہم نہیں مانتے  

" بمباری "

 میں
 صبح سے شام کرنے والی
 ایک عام سی عورت ہوں
 لیکن
 جب میں پڑھتی ہوں
'سُپر پاور ' اپنے دوستوں پر
 'غلطی" سے
  بم برسا دیتا ہے 
ایسے بم
کہ ادھوری نسلیں
 بانجھ زمینیں
 اُن کا ثمر ہیں
 میں سوچتی ہوں
سپر پاور کیا ہے  
فقط ایک چین ری ایکشن
 نسل ِآدم کے ہر مرد میں
 اس کے ذرات ہیں
 اور 
حوا کی بیٹی 
باغی نسلیں جنم دے رہی ہے
 
 " جنوری 2002 ! جب سپر پاور نے افغانستان پر پہلی بار "غلطی " سے ( carpet bombing) کی "