صفحہِ اول

بدھ, فروری 27, 2013

" لاوارث "

موت اللہ کے اختیارمیں ہے اور قتل کرنا انسان کے بس میں۔ جسمانی طور پر جب کسی انسان کا قتل کیا جاتا ہے تو وہی وقت رب نے اُس کی موت کا مقرر کیا ہوتا ہے۔لیکن جب ذہنی طور پر کسی انسان کا قتل ہوتا ہے تو اُس کی موت کا وقت وہ نہیں ہوتا۔ وہ عام انداز میں اپنی زندگی گزارتا جاتا ہے۔ قاتل بھی اس بات سے بے خبر رہتا ہے۔ مقتول خود ہی لاش کے ٹکڑے سمیٹ کر بوری میں بند کر کے زندگی کے سرد خانے میں جمع کرا دیتا ہے۔ وقت آنے پر پہچان کی فائل کُھلتی ہے اور رب کا کارندہ اُسے مالکِ حقیقی  کے پاس پہنچا دیتا ہے۔
رشتے اور تعلق جہاں ہمارا مان۔۔۔ ہمارا سرمایہ ہوتے ہیں وہیں ایک ذمہ داری بھی ہوتے ہیں ۔ ایک انسان سے ہمارے کئی رشتے کئی تعلق ہوتے ہیں ۔ہر رشتے کوسمجھنے کے لیے وقت چاہیے۔اور ہر تعلق کو وقت پر سمجھنا ہی اصل کامیابی اور راہ َسکون ہے۔
 دنیا میں رہنے،رشتوں اور تعلقات کو سمجھنے اور اُنہیں برتنے کا قاعدہ سیکھنا ہو تو صرف اور صرف زمین پر غور کرو۔ روح کے راز اگر کائنات کےعلم میں ہیں تو جسم کے راز زمین بہتر جانتی ہے۔ زمین کی سب سے خاص،اہم اور بنیادی چیز اس کی کششِ ثقل ہےجو ایک متوازن نظامِ حیات کی بقا کی خاطرخود سے وابستہ ہر شے اور اپنی حد کے اندر آنے والے ہر ذرے کو یکساں طور پر گرفت میں رکھتی ہے۔اس میں بال برابر فرق آ جانے کا نام قیامت ہے۔
اپنی زندگی میں وہ رشتے یا تعلق جن سے کسی بھی طرح فرار ممکن ہو سکے یا بدلے جا سکیں اور کچھ نہیں تو خواہش یا تخیل کے زور پر ہی اُن کو نیا تخلیق کیا جاسکے،اُن پر قانع رہا جائے، اپنے پیدائشی رشتوں اور مقدر سے بنے تعلقات کو سمجھ کر اُن سے سمجھوتہ کیا جائے دوسرے لفظوں میں جو جیسا جہاں مل گیا اُسے قبول کر لیا جائے تو اپنے آپ سے جھگڑا ختم ہو جاتا ہے۔جبکہ ہم رشتوں کو لباس کی طرح بدلنے کی چاہ کرتے ہیں اور اپنے آپ اپنے ماحول سے آخری حد تک غیریت برتتے ہیں۔رشتوں کے قتل سے جہاں شدید اذیّت ہوتی ہے وہیں بوجھ بھی ہلکا ہوتا ہے جیسے موسمِ سرما کے بعد نئے موسم کے آغاز سے کپڑوں کا وزن کم ہو جاتا ہے۔انسان ہے۔۔۔اپنے وجود کے بچھڑےحصے کو کھوجتا تو ہے۔سنبھل جائے تو باقی رہ جانے والے کے لیے خود کو تیار کر لیتا ہے۔اللہ کا کرم ہر حال میں تلاش کرتا ہے کہ بنیادی رشتہ تو قائم ہے ہمیں ملنے والا سکون کا رشتہ ختم ہو گیا تو کیا۔۔۔ ہمارے پاس دینے والا سکون کا رشتہ تو موجود ہے۔اللہ نے اتنی طاقت اتنی صلاحیت دی ہے کہ اپنی انا سے آنکھیں بند کر کے رب کی توفیق سے منزل کی جانب گامزن تو ہے۔ بڑی بات جو جاننے کی ہے کہ بنیادی رشتوں کو بچانا اوّلین ترجیح ہونا چاہیے۔اگر بنیاد پر ہی ضرب لگ گئی تو عمارت کیسے بچے گی۔رشتوں کو لباس کی مثال سے بیان کریں کہ ہم لباس کے لوازمات کو تو سنبھال کر رکھیں اور بنیادی لباس کے چیتھڑے اُڑائیں تو پھر ہمیں کیسے موسم کی دست بُرد سے پناہ ملے گی۔یہی ہمارا المیہ بھی ہے ہم دکھاوا۔۔۔بناوٹ ۔۔۔ عارضی خوشی کے حصول میں اس حد تک آگے نکل جاتے ہیں کہ ہمارے ضروری رشتے پیچھے کھڑے رہ جاتے ہیں غریب رشتہ دار کی طرح۔۔۔ جو وقت پڑنے پر کام آتے ہیں کسی ستائش کسی صلے کی تمنّا کیے بغیر۔
حرفِ آخر
زندہ رہنا یا زندہ ہونا آج کل کے دور میں بڑی بات نہیں ۔۔۔ دفنائے جانے کا اعزاز ملنااصل بات ہے۔ بہت سی زندہ لاشیں بےگور وکفن جابجا بکھری پڑی ہیں۔ اُن کے مردہ جسموں کی بو ہمیں اکثر وبیشتر اپنی اوقات یاد دلاتی رہتی ہے۔
ہماری ضرورت ہماری تلاش صرف ایک کاندھا ہے چاہے زندگی میں ملے یا مرنے کے بعد۔اُس کاندھے پر ہمارے آنسوؤں کا بوجھ ہوتا ہے تو کبھی اس کے آنسو ہمارا بوجھ اُٹھاتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ ہمیں اپنا بوجھ خود اُٹھانا ہے آگے بڑھ کر اپنے جنازے کو خود کاندھا دینا ہےورنہ سفراتنا لمبا اوربوجھ اتنا بھاری ہے کہ کاندھے بدلتے جاتے ہیں اور راستہ نہیں کٹتا۔
بات جتنی جلد سمجھ آ جائے اُتنا اچھا ہے کیونکہ جنازے انتظار نہیں کرتے جنازے رُخصت چاہتے ہیں نہ صرف اپنی سلامتی کے لیے بلکہ دوسروں کے آرام وسکون کے لیے بھی ۔

اتوار, فروری 24, 2013

"محبت سوچ سمندر "

محبت ایسا صحرا ہے
 بارش برس بھی جائے
تشنگی کم نہیں ہوتی
 کہانی ختم نہیں ہوتی 
 زندگی ساتھ چلتی ہے
 روانی ساتھ بہتی ہے 
لامکانی روگ بن جائے
چاہت سوگ بن جائے
 ایسا ہو نہیں سکتا  
کہ محبت ایسا نغمہ ہے
فضاؤں میں جس کی گونج
 سدا کچھ یوں رہتی ہے
 سننا چاہو تو ہر منظر میں سُن لو 
بُھولنا چاہو تو ذات کے مندر میں بُن لو
   محبت ایک  سمندر ہے
کبھی خوشبو کبھی آنسو
 چاہ ہر رنگ میں
آنکھوں کے جزیروں پر اُترتی ہے  
اُسے پانے کے لیے
 خواہشوں کی کشتیاں جلانا پڑتی ہیں
 کہ اس سفر میں
واپسی کا کوئی کنارہ نہیں ہوتا
 پر کنارہ مل بھی جائے  
پلٹنے کا کبھی یارا نہیں ہوتا
 "وہ" ہمارا ہوتا  ہے 
کافی یہ سہارا ہوتا ہے

ہفتہ, فروری 23, 2013

" پائل "

" کہا سنا "

ہوا کے دوش پر اِک اجنبی  سندیسہ

" نازک مزاج ہے وہ پری
کچھ اس قدر
 پائل جو پہنی پاؤں میں
  چھم چھم سے ڈر گئی "
----------------------
سوچ کی لہروں میں سمٹے میرے  لفظ

 پریاں کہانیوں میں
 تتلیاں فضاؤں میں
 اچھی لگتی ہیں
 چھونے کی کوشش کرو
ہاتھ نہیں آتیں
 ہاتھ آ جائیں تو
 پریاں نہیں رہتیں
 تتلیاں نہیں رہتیں
 اِک ادھورا لمس رہ جاتا ہے
 خالی رقص رہ جاتا ہے

جمعہ, فروری 22, 2013

" خواب اور زندگی "

"زندگی خواب کہانی ہے اور خواب زندگی کہانی "
ہم زندگی بھر خواب دیکھتے رہتے ہیں یہ تو کہیں بعد میں پتہ چلتا ہے کہ زندگی خود ایک خواب تھی اور یوں گزر گئی جیسے ایک خواب۔
 خواب وہی دیکھنے چاہیں جن کی تعبیر پر اختیار ہوکہ خوابوں پر ہی تو اختیار ہے،زندگی پر کہاں۔
خواب دیکھنے کی عمر نہیں ہوتی لیکن ہر خواب کا ایک وقت ضرور ہوتا ہے۔آگہی کے سورج کی نرم روپہلی کرنیں حقیقت
 اور  خواب کا فرق پل میں واضح کر دیتی ہیں۔ لیکن کچھ ذہنوں کے خواب وقت کی جھلساتی دھوپ میں پگھلتے ہیں تو پھر ہی ان  پر حقیقت آشکار ہوتی ہے۔ زندگی خواب کی آغوش میں منہ چھپا کر نہیں بلکہ حقیقت کے سامنے سجدہ ریز ہو کر گزرتی ہے چاہے ان سجدوں میں ہمارے خوابوں کی کرچیاں روح زخمی کردیں۔لیکن پھر بھی ہم خواب دیکھتے ہیں کبھی کھلی آنکھ سے تو کبھی بنا کسی خلش یا کوشش کے بند آنکھ میں روشن خواب اترتے ہیں۔اللہ ہمیں ہمارے خوابوں کی حقیقت بتاتا رہتا ہے ہم اگر سنی ان سنی کر دیں تو اور بات ہے۔
خواب وہی قابلِ ِاعتبار ہوتے ہیں جو اپنی آنکھوں سے دیکھے جائیں۔ سنےسنائے خواب اور اُن کی تعبیریں اکثراوقات چودہ طبق روشن بھی کر دیتی ہیں ۔
خواب کی حد کہاں ختم ہوتی ہے اور حقیقت کب شروع ہوتی ہے یہ بھی ایک خواب ہی ہے۔
 وہ بےخوابی کی کیفیت بھی عجیب ہے جس میں لفظ سچے خواب کی تعبیر کی صورت سامنے آتے جا ئیں۔
جو آنکھیں خواب کی عادی ہو جائیں انہیں حقیقت بھی خواب لگتی ہے۔
خواب ہمیشہ خواب ہی رہتا ہے فرق یہ ہے کہ کچے ذہنوں پر یہ لوح ِمحفوظ کی صورت رقم ہو جاتا ہے اور بیدار اذہان پر زندگی کا ایک قیمتی سبق، ہمیشہ کا سرمایہ بن کر رُخصت ہوتا ہے۔
خواب بند آنکھوں میں اُترتے ہیں اور کھلی آنکھوں میں ٹوٹ جایا کرتے ہیں۔
بند آنکھوں سے صرف خواب ہی دیکھے جا سکتے ہیں آنکھ کُھل جائے تو حقیقت پر یقین رکھنا فرض ہے۔
 جیت ہمیشہ اُن خوابوں کی ہوتی ہے جو ایک الارم کی صورت بند آنکھوں پر اُترتے ہیں۔
کھلی آنکھوں سےدیکھے جانے والے خواب نشے کی مانند ہوتے ہیں جو وقتی طور پر سب بھلا کر ایک خیالی دُنیا کی لذت کے
 حصار میں قید کر دیتے ہیں۔
جو خواب کھلی آنکھوں سے دیکھے جائیں آنکھیں ان کی لذت محسوس کر لیتی ہیں۔لیکن رہتے وہ خواب ہی ہیں حقیقت کچھ اور ہوتی ہے جو کبھی نہیں بدلتی۔
خواب نابینا کی سفید چھڑی کی طرح ہوتے ہیں جو زندگی کے اُلجھے راستوں پر چند قدم ہی سہی کسی سمت کی نشاندہی تو کر 
دیتے ہیں۔
 ہم سوتے میں خواب دیکھتے ہیں۔ کبھی خواب یاد رہ جاتے ہیں اور کبھی صرف یاد ہی رہ جاتا ہے کہ ہم نے کوئی خواب بھی دیکھا تھا۔
سچے خوابوں کی تعبیریں بھی سچی ہوتی ہیں۔
خواب سچے ہوتے ہیں تو کبھی اُن کی تعبیر وہی ہوتی ہے جیساکہ نظر آتے ہیں کبھی بالکل اُلٹ ظاہرہوجاتی ہے۔
کبھی ہم خود تجزیہ کرتے ہیں توکبھی اُنہیں سمجھنے کے لیے کسی کی مدد درکار ہوتی ہے۔
تعبیر دنوں میں سامنے آتی ہے یاکبھی مہینوں اورسالوں میں۔
کبھی ہم دوسروں کے حوالے سےبھی خواب دیکھتے ہیں۔
ہمیں خواب میں اشارے ملتے ہیں تومحتاط بھی ہوجاتے ہیں اور کبھی جان کر بھی انجان بنے رہتے ہیں۔
کبھی خواب میں اتنی خوشی ملتی ہے کہ آنکھ کھلنے پرعجیب سی فرحت محسوس ہوتی ہے اورکبھی خواب میں اتنی مشقت اتنی بھاگ دوڑ کرتے ہیں کہ آنکھ کھل جائے تو تھکن سے جسم ٹوٹ رہا ہوتا ہے۔
کبھی خواب میں پیٹ بھر کر اتنا من پسند کھا لیا ہوتا ہے کہ اُٹھنے پر بھوک پیاس کا شائبہ نہیں ہوتا۔
الغرض خوابوں کی جتنی بھی توجیہات ہیں وہی ہماری"زندگی کہانی"  بھی ہے۔

خواب بند آنکھ کے کینوس پر  ماضی کی یادوں،حال کی سوچوں اور مستقبل کے اندیشوں سے اُبھرتی ہوئی ایک تجریدی تصویرکی مانند ہوتے ہیں۔ کوئی ماہرِفن ہی انہیں بہتر جان سکتاہے۔لیکن اپنےخواب کی پہچان ہی اصل فنکاری ہےجو حقیقت سے آگہی کے سفر میں معاون ثابت ہوتی ہے۔کُچھ سفر خواب سے شروع ہو کر ایک خواب کی صورت طے ہو تے ہیںاور کچھ سفر یقین کی پہلی منزل سے شُروع ہوکر ایک خواب کی تعبیر بن کر زندگی کو ایک نیا رنگ ،ایک نیا رُخ عطا کرتے ہیں۔اپنے خوابوں سے دوستی کر لیں ،اُن کو پہچان لیں توحقیقت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سفر کرنا آسان ہو جاتا ہے۔
"خواب زندگی کے ساتھ ہوتے ہیں اور زندگی سرکتی جاتی ہےحقیقت صرف اور صرف موت ہے۔۔۔اور یہی راز زندگی ہے"۔



"چھتری "

چھتری ایک عورت کی ذات کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔اس کا بنیادی جزو اس کا دستہ ہوتا ہے اور اس کی تمام تر صلاحیت کا دار ومدار اُس کے دستے پر ہے - دستے سے چھتری کو کھولا جا سکتا ہے اور اُس کو گرفت میں لینے سے ہی چھتری کی افادیت سامنے آتی ہے۔اگر دستے کو عورت کے حقوق اُس کی خواہشات کے مماثل قرار دیا جائے تو چھتری کے شیڈ کا تعلق عورت کے فرائض اور اُس کی ذمہ داریوں سےہے۔ہر شے کو اس کے مقام پر عزت دی جائے تو پھر ہی اُس سے بھرپور اُٹھایا جاسکتا ہے۔

جمعرات, فروری 21, 2013

" راز ِ زندگی "

" زندگی کچھ دو کچھ لو کا نام ہے "
خوشی چاہتے ہو،خوشی دے دو خوشی مل جائے گی ۔ 
سکون چاہتے ہو سکون دے دو سکون مل جائے گا۔
عزت چاہتے ہوعزت دے دوعزت مل جائے گی۔
سوال یہ ہے کہ اگر یہ سب اِسی طرح سے ہے اور بہترین زندگی گُزارنے کا فلسفہ اتنا ہی سیدھا اور آسان ہے تو پھر انسان فلاح کے راستے پر کیوں نہیں چل پا رہا ؟ انسانی عقل اس پرعمل کرکے کیوں نہیں ابدی اطمینان حاصل کر سکی؟ ہماری توساری عمر دوسروں کو آسانیاں بہم پہنچاتے گزرجاتی ہے اور ہمیں ایک پل کی خوشی نصیب نہیں ہوتی۔زندگی کی شاہراہ پر بوجھ سے لدے گھوڑے کو سرپٹ دوڑتے کہیں دم لینےکی مہلت نہیں ملتی۔چابک پر چابک پڑتے ہیں اپنے سامان کو دیانت داری سے منزل تک پہنچا دے پھر بھی کوئی صلہ نہیں۔کیا کیا جائے؟ انسان نیکی کرنا چھوڑ دے؟اپنے حصے کا کام دوسروں پر ڈال دے؟خود غرض اور بےحس بن جائے کہ یہی اس دور کا چلن ہے۔کیا یہ ہماری زندگی کا اختتام ہے ؟ یہی وہ سبق ہے جو دنیا داری سکھاتا ہے؟
نہیں!ہمیں ہر چیز کی تہہ تک جانا ہو گا۔۔۔ہر شے سے بالا تر ہو کر جائزہ لینا ہے۔جیسے کہا گیا خوشی چاہتے ہوخوشی دے دو۔۔۔ تو کیا ہے خوشی ؟ ہمیں تو اس کا مفہوم ہی معلوم نہیں ایک گھڑی کی تسکین پانی کے گھونٹ کی طرح ہے کہ جس کے بعد طلب مزید بڑھ جاتی ہے۔ اگر سَیر ہو کر پانی پیا جائے توکچھ دیر بعد پیاس پھر اسی صُورت لگتی ہے۔
سکون چاہتے ہو سکون دے دو۔۔۔ ہم کیا جانیں سکون کس شے میں ہے۔۔۔پیاس میں ہے یا سیراب ہونے میں؟ کیا خبر جسے ہم سکون سمجھ رہے ہوں وہ ہمارا تکبّر ہماری انا ہو؟ہمیں ہمارے اعمال آراستہ کر کے دکھائے جارہے ہوں اور اس دینے دلانے کے چکر میں بجائے پانے کے اپنے پاس جو بچا ہے اُسے بھی ضائع کر بیٹھیں ۔
سکون چاہتے ہو تو اس سے پہلے خود پرسکون ہوجاؤ۔جو انسان اپنے آپ کو سکون نہیں دے سکتا وہ کسی دوسرے سے سکون پانے کی توقع کیسے رکھ سکتا ہے۔
"ہمیں سکون کیوں نہیں ملتا "؟؟؟۔ ہمیں سکون اس لیے نہیں ملتا کہ ہم اپنی زندگی اپنے آپ سے کبھی مطمئن نہیں ہوتے ۔ہم ہر وقت ایک جدوجہد ایک جنگ میں مصروف رہتے ہیں۔ ہمارے نزدیک زندگی سعیءمسلسل کا نام ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ زندگی ہمیں خام حالت میں ملتی ہے بالکل بنجر زمین کی طرح ۔۔۔ہمیں اپنی صلاحیتوں ،اپنے دستیاب وسائل سے ہی اِسے سنوارنا ہوتا ہے۔ہم اس بات پر کڑھتے ہیں کہ صرف ہمارے ساتھ ہی بُرا کیوں ہوتا ہے؟یا بُرا کیوں ہو رہا ہے؟ باقی سب تو ہم سے بہت بہتر ہیں؟ اُن پر اللہ کیوں مہربان ہے؟ہماری مزدوری کے بدلے دوگھڑی کا آرام بھی نہیں ؟۔ ہم خود ہی ٹھوکریں کھاتے ہیں پھر خود ہی سنبھلنا پڑتا ہے۔ زیادہ سمجھ دار ہوں تو اللہ سے شکوہ نہیں کرتے کہ ہماری قسمت ہے۔۔۔جانتے ہیں کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔ پھر اللہ سے ڈرتے بھی رہتے ہیں کہ کہیں کوئی بےادبی۔۔۔ ناشکری نہ ہو جائے۔۔کفریہ کلمات نہ نکل جائیں۔۔۔دُنیا میں تو سلگ رہے ہیں اور آخرت میں بھی خالی ہاتھ نہ رہ جائیں۔غرض اسی گرنے پڑنے میں راہیءملکِ عدم ہوتے ہیں۔ یہ ہمارا اجتماعی المیہ ہے کہ ہم گر خوش ہیں،خوشحال ہیں،اللہ والے بھی ہیں کہ اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں لیکن ساتھ ساتھ کہیں لاشعور میں اپنی عقل،اپنی صلاحیت اور اپنی قسمت کو بھی اس کا کریڈٹ دیتے نظر آتے ہیں۔ دوسری طرف اگر زمانے کی ٹھوکروں پر ہوں۔۔۔دُنیا نے بجائے دینے کے ہمارا کچھ چھینا ہی ہو تو ہم سب کچھ اللہ پر چھوڑ کر بظاہر مطمئن اور قناعت پسند بھی ہو جائیں لیکن ایک پھانس ہے جو آخر تک چُبھی رہتی ہے۔ ذرا تصور کریں کہ پھانس کوئی بندوق کی گولی نہیں ہوتی کہ اندر تک سب چھیڑ پھاڑ کر رکھ دے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ پھانس انسان کو چین سے رہنے بھی تو نہیں دیتی۔
سکون حاصل کرنے کی کوشش میں رُخ صرف اپنی سوچ کا بدلنا ہے۔اپنی ذات کو زندگی کی پزل کے ہر مشکل یا آسان دور میں اس طرح ایڈجسٹ کرنا ہے کہ وہ اُسی کا حصہ دکھائی دے۔ ہمارے مسائل وہاں سے شروع ہوتے ہیں بلکہ شروع ہو کر بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں جب ہم اپنی ذات کو ساکت وجامد رکھ کر اپنے اطراف کو بدلنے کے خواہش مند ہوتے ہیں۔

عزت چاہتے ہوعزت دے دو۔۔۔عزت خواہش کرنی والی شے ہی نہں ۔ یہ تو ہمارا بنیادی حق ہے۔۔۔زندگی گزارنے کا پہلا 
عمل ہے۔عزت ہوتی ہے یا نہیں ہوتی۔خوف ،ڈر یا حالات کے دباؤ سے کسی کے آگے جُھکا تو جا سکتا ہے پراگرکسی کی عزت دل سے نکل جائے تو دوبارہ کسی قیمت پرواپس نہیں آ سکتی۔ عزت کسی شخص کسی رشتے کے ساتھ مشروط نہیں۔عزت ہر شے کی مقدم ہے چاہے جان دار ہو یا بےجان،انمول ہویا حقیر، آقا ہو یا غلام،باافراط ہو یا بمُشکل میسّر ہو۔ 
اپنی راہ میں آنے والی ہر چیزکی عزت اگر دل سے کریں گے تو ہماری اپنی زندگی ہی پُرسکون رہے گی۔
عزت دینے یا لینے کا نام نہیں بلکہ عزت محسوس کرنے کا نام ہے۔ یہ ہوا میں رچی خوشبو، روح میں اُترنے والی خوشی کا نام ہے۔عزت کسی کو بتائے بغیر،جِتائے بغیراُس کی قدر کرنے کا نام ہے۔عزت وہ نیکی ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہےکہ دوسرے ہاتھ کو خبرنہ ہو۔
راہِ عمل یہ ہے کہ ہمیں کسی قسم کی تمنا کیے بغیرصرف اپنے حصے کا کام کرنا ہے اور وہ بھی جتنا ہماری استطاعت ہے۔اور رب کا شُکر ہر حال میں ادا کرنا ہے کہ اس نے ہمت طاقت دی ہے اور دینے والا ہاتھ عطا کیا ہےوگر نہ ہم سے بڑھ کر بےوقوف کون ہو گا جو دینے والے ہاتھ کو بھلا کر لینے والے ہاتھ کی تمنا رکھے۔ ہمیں کیا حق ہے کہ رب سے اپنی مرضی کا رزق طلب کریں۔وہ خالق ومالک،رحمٰن ورحیم کیسے اس ناقدرشناس دنیا میں بےآسرا چھوڑ سکتا ہے۔ہمیں اللہ سے اُس کا ساتھ مانگنا ہے،اُس کا رحم مانگنا ہے،اس کا کرم مانگنا ہے۔اپنی چاہت کو رب کی رضا کے سامنے جھکاناہے۔
"یہ دنیا پانے کی نہیں سہنے کی جاہ ہے،اگر دُنیا میں من چاہی عارضی خوشیاں حاصل کر لیں تو آخرت کےعذاب کو سہنا پڑے گا

بدھ, فروری 20, 2013

" قربت "

 " قربت "
 تم
میرے قریب آ کر
 اتنا دُور ہو
 جیسے
 چاند روشنی سے

" کتاب "

" اسم ِ اعظم "
 وہ
 ایک کتابِ محبت 
 بُک ریک میں سجی 
کتنی آنکھیں اُسے کھوجتی ہیں
اسے ڈھونڈتی ہیں
اور وہ بےخبر 
 جس کی رسائی ہے
 آنکھیں بند کئے
 زندگی پڑھ رہا ہے
  نہیں جانتا 
کہ اسم ِاعظم کے بغیر
 ہر سفر فقط سفر ہے

منگل, فروری 19, 2013

"ملن کے لمس کی خُوشبُو "

 ہاتھوں سے سرکتا ہوا خواب
 پلکوں میں لوٹ آیا پھر 
خزآں میں کِھلتا ہوا پھول
 صبح ِ بہار کی نوید لے کر
 شامِ زندگی میں سمٹ آیا پھر 

سوموار, فروری 18, 2013

"محبت کہانی "


کہانی تم نے پوچھی ہے
 کہانی کیا سناؤں میں
 وہ جو خواب سی صورت
حقیقت بن کر نظروں میں جب اُتری
 پلٹنا بھول گیا میں
  دیکھنا بھول گیا میں
 اور
 چُھونا بھول گیا میں
 آنکھیں مِری خواب کی عادی تھیں
 خواب صرف پلکوں میں اُترتے ہیں
لبوں سے دُور ہی رہتے ہیں
 تم کو کیا بتاؤں میں
 تمہیں یاد تو ہو گا  
 تمہارا ہاتھ تھا ہاتھوں میں
 تمہارا ساتھ تھا باتوں میں
تمہیں کیسے  میں سمجھاؤں
 مِرے پاؤں کہاں پر تھے
  میں خود تو آسماں پر تھا
 کاش وقت تھم جاتا
 کاش وقت تھم جائے
 اچھا ہوا جو ہوا
 حقیقت کب خواب بن جائے
 خواب کب سراب بن جائے
  ہم نہیں جانتے
  پر نہیں مانتے
کہ آج اِک خواب سی صورت
حقیقت بن کر نظروں میں جو اُتری 



ہفتہ, فروری 16, 2013

"معرکہ "

"معرکہ "
تمہارا وہ خوش رنگ
روپہلا دوپٹہ
جس پر نایاب آبدار
نگینے جڑے ہیں
جسے تم نے بڑی حفاظت سے
سب سےنیچے رکھا تھا
اوپر قیمتی میچنگ اوڑھنیاں تھیں
ایک سے بڑھ کر ایک
جو دیکھتا اُن کے طلسّم میں کھو جاتا
دیدۂ بینا کے لیے اِک نگاہ کافی تھی
لیکن میں وہ ضدّی لڑکی
جو ہر بار اُس رنگ کو کھوجتی
پھر سوچتی شاید میں کلر بلائنڈ ہوں
دل ملامت کرتا
کہ یہ کچّا رنگ
صرف ناآسودگی کا نشان ہے
کمزوری کی علامت ہے
 مجھے یہاں کبھی  نہیں ملے گا
میں چُپکے سے اپنا مسلا دوپٹہ
آخری تہّوں میں رکھنے کی کوشش کرتی
سب بےسود ہوتا
نہ جانے کب اور کس طرح
میں نے تمہارا وہ دوپٹہ کھوج لیا
اب چاہے تُم اُسے کہیں بھی رکھ دو
میں اور تُم ہمیشہ
ایک ساتھ
اپنے اپنے مدار میں
محو ِرقص رہیں گے

جمعہ, فروری 15, 2013

"ماضی حال "

کھونے سے کل بھی ڈر لگتا تھا
بچھڑنے سے آج بھی ڈر لگتا ہے
گرنے سے کل بھی ڈر لگتا تھا
 ٹوٹنے سے آج بھی ڈر لگتا ہے
  اندر کا بچہ کبھی بڑا نہیں ہوتا
سر اُٹھانے سے سایہ جدا نہیں ہوتا

جمعرات, فروری 14, 2013

" محبوب اور خواب "

 محبوب کی حقیقت جاننا چاہتے ہوتوسنو۔ وہ ایک خواب ہے۔۔۔ سچّا خواب۔۔۔ جو لمس سے پرے اور سوچ کے قریب ہوتا ہے۔ جسم پر اُترتا ہےاور روح کو سرشار کردیتا ہے۔ جسم وجاں کی تِشنگی خُمارمیں بدل دیتا ہے۔ایک میٹھی سی کسک بن کررگ وپےمیں سما جاتا ہے۔آنکھ کُھل بھی جائے تو اُس کی لذت آنکھوں میں بسی ملتی ہے۔پرلاکھ اُس کو اپنے آس پاس ٹٹولو وہ کبھی نہیں ملتا۔اُس کا احساس ذہن میں لگی کئی گرہیں کھولتا جاتا ہے۔۔۔اُس کی خوشبو کا لمس بکھری زُلفوں کو دھیرے دھیرے یوں سنوارتا ہے کہ زندگی کا قرینہ بدل جاتا ہے۔
 دیکھنا چاہو تو آئینے میں اپنی صورت دیکھ لو جس پر تبسّم کی مہک تصویر کے رنگوں کی طرح سجی ملتی ہے۔۔۔ دیکھنے والے لاکھ کھوجیں پر کبھی نہیں جان پاتے کہ یہ نقش کس کا تخلیق کردہ ہے۔
 یہ صرف 'میں اور تو' کی کہانی ہے۔۔۔پھول اور خوشبو کا سفر ہے۔پھول نہ ہو تو خوشبو کہاں بسیرا کرے اور خوشبو نہ ہو تو پھول فقط رنگ اور وہ بھی بےجان بےقیمت۔
محبوب خواب کہانی ہے وہ خواب جو حقیقت سے دُور تو کرتا ہے پر حقیقت کے آئینے میں اصل چہرہ دِکھا دیتا ہے۔ہمارے وجود کی پرتوں میں سے ہمارا اپنا پن نکال کر سامنے رکھ دیتا ہے۔محبوب سچا ہو تو خواب بھی سچا۔۔۔عاشق سچا ہو تو خواب بھی انمول۔
 سچے خواب کبھی اپنا ساتھ نہیں چھوڑتے اُن کی تعبیریں سچی ہوتی ہیں۔بس یہ ہےکہ کبھی اُس انگ میں سامنے نہیں آتے جس میں ہماری آنکھوں میں اُترتے ہیں۔ اُن کو اپنا لو تو ہمیشہ ساتھ رہتے ہیں۔ گرنے کے بعد سنبھلنے کا حوصلہ دیتے ہیں۔زخم کا وہ مرہم بن جاتے ہیں جو درد کی شدّت میں مسکُرانے کا ہنر دیتا ہے۔نابینا کی بینائی تو نہیں بن سکتے پر اُس کی لاٹھی ضرور بن جاتے ہیں جو سدا ساتھ رہتی ہے۔
آخری بات !
"سچے خوابوں کو جتنا جلد پہچان لو اتنا جلد حقیقت کا سامنا کرنے کی اہلیت پیدا ہوجاتی ہے"

ہفتہ, فروری 09, 2013

" دولت "


 پیسہ انسان کی زندگی کے پہیے کے لیے گریس کا کام کرتا ہے۔یہ انسانی معاشرت،انسانی اخلا قیات کے درست سمت میں بہاؤ کے لیے انسان کا سب سے طاقتور اور مئوثر ہتھیار ہے۔اس ہتھیار کو بروقت اور برمحل استعمال کرنے والے ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیۂ وسلم کی اس دعا کی عملی تفسیر بن جاتے ہیں " اے اللہ ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما "۔لیکن اگر پیسے سے محبت ہو جائے تو دنیا میں اس سے زیادہ بے وفا محبوب اور کوئی نہیں۔اس کی چاہت انسان کو امربیل کی طرح چاٹ کر اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ایسا انسان بظاہر اپنی دُنیا سنوارتا بھی نظر آئے لیکن کب تک!ایک وقت آتا ہے کہ جب اس دُنیا میں ہی اس "عشق " کے ثمرات ملنا شروع ہو جاتے ہیں ۔آخرت میں تو اس کے نامۂ اعمال پر پکی مُہرلگ جاتی ہے۔

جمعہ, فروری 08, 2013

"شہد "

"  عدن " 

 زندگی ایک باغ ہے۔۔۔رنگا رنگ پھولوں سے سجا۔ ہماری اوقات پھولوں کی جانب منڈلانے والے بھونروں اورتتلیوں سے زیادہ نہیں ۔ تتلیاں بھی عجیب  ہیں دلرُبا۔۔۔حسین۔۔۔ پرپُہنچ سے دُور۔۔۔ چُھونے کی کوشش کرو تو دُور بھاگتی ہیں۔۔۔ گرفت میں آجائیں تو جان سے جاتی ہیں۔ اُن کی زندگی اُن کی  پرواز میں پنہاں ہے۔ پھول کی مہک  اُن کی روح کی غذا ہے۔ پھول کئی قسم کے ہوتے ہیں۔۔۔ دلپذیر رنگوں سے مہکے اور بےثمر رنگوں سے سجے بے جان۔ اُن کی اصل اُس وقت تک نہیں کُھلتی جب تک اُن سے کشید نہ کیا جائے۔ اور اصل جاننے کے لیے پہلے اپنے رنگوں کو پہچانا جائے۔
محبت کے لمس سے شیرینی کشید کرنے  اور گھر بنانے۔۔۔ سنوارنے کا فن صرف  ایک  حقیر سی مکھی ہی جانتی ہے جس کی اپنی  کوئی ظاہری خوبصورتی نہیں۔۔۔ ہے تو فقط  اپنے بچاؤ کی  طاقت  جو اُسے نامہربان لمس کی رسائی سے بچاتی ہے۔
   "زندگی گُزارنے کا فن یوں سیکھ لیا جائے تو نہ صرف اپنی پیاس بجھتی ہے بلکہ زرخیزی کا احساس زمانوں کی  تابندگی بخشتا ہے۔۔ چاہت کی چاشنی ہر جذبے میں مٹھاس سمو دیتی ہے"۔

" محبت اور بارش "

" محبت اور بارش "
محبت زندگی کی ابتدا ہے۔۔۔اور زندگی کی ابتدا 'پانی'سے ہے۔محبت کوجاننا چاہوتو پانی پرغورکرو۔۔۔پانی کا لمس زندگی کی نوید دیتا ہے۔ پیاس موت ہےہررشتے کی ۔۔۔ ہرتعلق کی۔ محبت کا آبِ حیات وہ بےمثال تحفہ ہےجو رگِ جاں میں بسی تشنگی دور کر دیتا ہے۔
زندگی کھلے آسمان تلے سفر ہے۔ آسمان مہربان نہ ہوتو راستہ طویل تر اور سفرعذاب ہے۔ محبت آسمان سے برسنے والی بارش کی طرح ہے جو ہرکسی پر اپنے اندازمیں برستی ہے۔اندر باہر کی پیاس بُجھا دیتی ہے۔۔۔
بارش رم جھم بھی ہے۔۔۔طوفانی بھی۔ کبھی ایسی رم جھم جو بھیگنے بھی نہیں دیتی اورتشنہ بھی نہیں چھوڑتی۔۔۔
وہ نرم پھوار جودِکھتی تونہیں محسوس ہوتی ہے۔کبھی برسات کی راتوں میں برسنے والی ایسی طوفانی بارش جو صبح کی پہلی کرن کے سامنے اپنا نام ونشان مٹا دیتی ہے۔ صرف بکھرے پتے، ٹوٹے شجر اور کچے مکان ہی اس کی کہانی کہتے ہیں۔
ہرموسم بارش کا ہے بارش کو اگرموسم کے ساتھ لازمی کردیا تو خسارے میں پڑجاؤ گے۔ہم نہیں جان سکتے کس موسم میں کون سی بارش ہمارے لیے بارآور ہے۔بس سرجھکا کربھیگتےجاؤ اور پاتے جاؤ۔
بارش اورچھتری لازم وملزوم ہیں۔ ہم نہیں جانتے کہ کبھی اس کی ضرورت پڑتی بھی ہے یا نہیں۔۔۔ بس اس کی موجودگی کا احساس انسان کو ہر بارش سے بے خوف کردیتا ہے۔
"محبت کی بارش میں عقل کی چھتری ساتھ ہو تو انسان ہر طوفانی بارش کا سامنا اعتماد سے کرسکتا ہے"

محبت کی بارش تو ہے ہی عقل والوں کے لیے ورنہ ناسمجھ تو بقول شاعر۔۔۔۔ ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے۔ اور بقول علامہ اقبال
اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبان عقل
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے
یاد رہے کچھ "چھتریوں" کے بارے میں کہا گیا کہ تاعمر ساتھ نباہ سکتی ہیں صرف ایک بات کا خیال رکھا جائے کہ دھوپ اور بارش میں کبھی ساتھ لے کر نہ نکلا جائے ۔ ہماری "طوفانی محبتیں " بھی اسی زمرے میں آتی ہیں ۔ اچانک بن بادل برسات ہو جائے تواکثر ایسا ہو جاتا ہے۔۔۔ جب عقل کی چھتری لے جانا بھی بھول جائیں ۔ لیکن اس سرشاری کا اپنا ہی لطف ہے۔

" محبت اور ایمان "

" کتاب ِزیست "
 محبت ہماری زندگی کہانی کا صرف ایک باب ہے۔ پرایسا باب کہ ہر باب میں اس کی جھلک اور ہر کردار میں اس کی روح ہے۔ 
 اس میں کوئی شک نہیں کہ محبت کا سفر انسان سے شروع ہوتا ہے۔اور یہ عین حق ہے کہ ہم انسان ہیں اور ہمارا پہلا حوالہ بھی انسان ہی ہے۔ یہ سفر رشتوں کی منازل طے کرتا تعلق کے پڑاؤ پر پہنچتا ہے تو ہمارا اصل اُس وقت سامنے آتا ہے۔
محبوب وہی ہے جو ہمیشہ ہماری پہنچ سے دُور اور ہمارے خیال کے قریب ہوتا ہے۔
جیسے جیسے اُسے قریب لانے کی سعی کرتے ہیں اسے پانے کی خواہش شدّت اختیار کرتی جاتی ہے اوراُسی طور وہ دامِ خیال سے نکلتا جاتا ہے بظاہر ہم اپنی محبت کو  عشق،جنوں،دیوانگی کے خوبصورت پیرہن میں ملبوس ہی کیوں نہ کر رہے ہوں۔ایک وقت آتا ہے کہ محبوب پیچھے رہ جاتاہے اور اُس کی طلب زیادہ اہم ہو جاتی ہے۔محبت کی معراج یہ نہیں کہ کتابِ زندگی کے ہر باب میں محبوب کے نام کی تختی لگا دی جائے۔ انسان کو اگر اوّل و آخر مان لیا جائے تو محبت سے بڑا خسارہ کوئی نہیں۔کوئی بھی انسان مکمل نہیں۔۔۔ہم خود بھی نہیں۔ تو کس طرح دو نامکمل وجود ایک مکمل تخلیق کا جواز بن سکتے ہیں۔
انسان سے محبت ہماری فطرت ہے، اس سے فرار نہیں۔ہماری جِبلّت ہے، اس سے انکار نہیں ۔اس کو سمجھو۔
انسان سے صرف اس لیے محبت کرو کہ اللہ نے اُس کی محبت تمہارے دل میں اُتاری ہے لیکن اپنی محبت زبردستی اُس کے دل میں ڈالنے کی کوشش نہ کرو۔ تم آزاد ہو اُسے بھی آزاد رہنے دو۔ جب تمہاری محبت اس کے دل میں اُتر جائے تو اُس کو حرفِ آخر نہ جان لینا پھر سفر کے قابل نہ رہو گے۔تمہاری روحیں ایک دوسرے کو پہچان لیں تو پھر بھی اس کو اپنی کامیابی نہ جانو۔۔۔اسے اپنی طاقت بنا لو۔۔۔ جو تمہیں حقیقی محبت کو اپنانے کے قابل بنا دے۔
یاد رکھو جو محبت انسان سے شروع ہو کر انسان پر ہی ختم ہو جائے اُس سے بڑا دھوکا اور کوئی نہیں۔ یہ ایسا عذاب ہے جو نہ یہ زندگی جینے دیتا ہے اور نہ ابدی زندگی میں اس سے نجات ملتی ہے۔
" محبت کی کوئی انتہا نہیں کوئی حد نہیں،سوائے اس کے یہ خالقِ کائنات کے کُن فیکون سے شروع ہو کرمخلوق کے سجدۂ شُکر پر ختم ہوتی ہے"۔

بدھ, فروری 06, 2013

" قدم بہ قدم "


اُس کی یاد میرے ساتھ رہی دم بہ دم
 اُس کا سایہ میرے ساتھ چلا جنم بہ جنم
 تاعمر جس کی حمایت حاصل رہی 
میں اُس کے مخالف تھا قدم بہ قدم
 کچھ تو شاید اُسکی محبت میں کمی تھی
 کچھ میری نفرت بڑھتی رہی ستم بہ ستم
وہ شخص جو مرکزِ محبت تھا نور
 وہ باوفا بدلتا رہا محبت صنم بہ صنم

" گیاری کہانی ، ہماری کہانی "

 "  گیاری کہانی ہماری کہانی "  
ہم دیکھتے ہیں کہ قبر صرف ایک انسان کے لیے ہوتی ہے پر ہم جان کر بھی نہیں جان پاتے کہ اجتماعی قبریں کبھی برف کے قبرستانوں میں بنتی ہیں اور کبھی گمنام گڑھوں میں اور کبھی کوئی ہنستا کھیلتا روشن ہوادار گھر بھی ایک زندہ قبرستان میں بدل جاتا ہے-اللہ ہم سب کو قبر کے عذاب سے محفوظ رکھے- موت کے بعد قبر کا حال تو مردہ جانتا ہے لیکن زندہ قبرستان میں رہنا وہ عذاب ہے جو صرف ایک زندہ شخص ہی جان سکتا ہے - وہ اپنے قبرستان میں نہ صرف دوسروں سے بلکہ اپنے آپ سے بھی اس تلخ حقیقت سے نظریں چُرانے کی کوشش کرتا ہے- مرنے کے بعد اعمال کا سلسلہ موقوف ہو جاتا ہے- جبکہ انسان اس قبرستان میں حتٰی الامکان عمل کرنے کی صلاحیت تو رکھتا ہے اور اپنی قوت ِ ارادی اور قوتِ عمل سے یہاں زندگی کے آثار تلاش کرتا رہتا ہے- وہ ایک کے بعد ایک پودا اس اُمید پر لگاتا ہے شاید کوئی ایک ہی کونپل اس بنجر زمین میں نکل آئے -
" ایک پل کی خوشی،روشنی کی کرن،جُگنو کی چمک کی طرح ہوتی ہے جو راستہ تو نہیں دکھاتی لیکن زندگی کی نوید ضرور دیتی ہے "

سوموار, فروری 04, 2013

"نفس کہانی "


"نفس کہانی "
ہمارے راستے میں آنے والی ہر اِک چیز،ہر ایک تجربے میں ہماری اپنی ہی ذات کا ادراک پوشیدہ ہے۔
انسان ساری عمر نفس سے حالتِ جنگ میں رہتا ہے- نفس کو جھٹلانا ،اُس کے مخالف چلنا ،اُس کو مارنا ،یہ وہ اسباق ہیں جن کو سمجھنا اور عمل کرنا اُس کا مقصدِ حیات بن جاتا ہے۔رٹّا لگا کر یہ اسباق حفظ ہو جائیں تو اپنے تئیں اتھارٹی بن کر دوسروں کو ازبر کرانا اگلا قدم ہوتا ہے۔ایسے لوگ ہیں  زندگی کے امتحان کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں۔پرچہ حل کرتے وقت نہ صرف نفسِ مضمون بلکہ اُس کی خوبصورتی کا بھی دھیان رکھتے ہیں۔ پوری توجہ کے ساتھ اہم سوالات پڑھتے ہیں۔۔۔مقرّرہ وقت میں پرچہ حل کرنے کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔۔۔ایک ایک پل کا حساب رکھتے ہیں۔اللہ کے ہاں یقیناً اُن کا بڑا اجر ہو گا۔
اللہ سے ہمیشہ اچھا گمان رکھنا چاہیے۔
لیکن کیا کیا جائے کہ ایک اور قسم کے لوگ بھی ہیں جو پرچے میں آنے والے ہر سوال پر نظر ڈالنا چاہتے ہیں چاہے وہ اہم ہو یا غیر اہم - اُن کی نظر میں پرچہ بنانے والا اہم ہوتا ہے پرچہ نہیں - وہ سوچتے ہیں کہ پرچہ بنانے کا مقصد حل کرنے والے کا امتحان لینا ہے کہ اُس نے کتنی گہرائی میں جا کر مطالعہ کیا ہے۔
ہم لوگ بعض اوقات وہ بچے بن جاتے ہیں جو پرچہ آؤٹ آف کورس آنے کا شور مچاتے ہیں یہ نہیں دیکھتے کہ جو سوال بھی ہے وہ ہمارے نصاب میں کسی نہ کسی حد تک تو شامل ہے۔ یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ انگریزی کے پرچے میں اُردو کا سوال آجائے یا حساب کے پرچے میں سائنس کا سوال۔ شور مچانے والے پرچہ  منسوخ کرانا چاہتے ہیں۔یہ جلدباز کند ذہن نہیں جانتے کہ ایک تو دوبارہ تیاری کرناپڑے گی دوسرا وقت اور پیسہ الگ ضائع ہو گا۔یہاں  وہ طالبِ علم بھی ہوتے ہیں جو چاہتے ہیں کہ اسی وقت پرچہ حل کر لیں جیسا بھی ہے جتنا بھی آتا ہے پاسنگ نمبر آجائیں کافی ہے کہ باقی پرچوں کی تیاری اچھے طریقے سے ہو سکے۔ ایسے لوگ قلیل تعداد میں ہوتے ہیں اور اکثریت کے سامنے اُن کی ایک نہیں چلتی ۔وہ اپنے حق کے لیے آواز بھی نہیں اُٹھا سکتے کہ پھرعالم فاضل اور نرالے ہونے کے طعنے سننا پڑتے ہیں ۔
یہ تمہید اس سوال کے بارے میں تھی جو کہ ایک ناپسندیدہ اور غیر اہم سوال ہے ،اس کا جواب صرف اور صرف اس کو کاٹ دینے میں ہی ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ اس کو مسترد کرنے سے پورے نمبر مل جائیں گے تو بلا وجہ باریکیوں میں جا کر وقت ضائع کیا جائے۔ہم جان کر بھی نہیں جان پاتے کہ یہ تو ہمارے پرچے کا سب سے اہم سوال تھا،اس کو حل کرنا شروع کرتے تو خود بخود ہی دوسرے سوالوں کے جواب مل جاتے۔ پرچے میں یوں روانی آتی کہ سیاہی ختم ہو جاتی پر الفاظ ختم نہ ہوتے۔ اس سوال کے جواب کا سب سے بڑا'اشارہ' جب مل چکا ہے تو کسوٹی کھیلنے کے لیے ہمیں اور کیا درکار ہے سوائے اپنی عقل پر ماتم کرنے کے۔ 
" جس نے اپنے نفس کو پہچانا اُس نے اللہ کو پہچانا "
ہم ساری زندگی اپنے نفس سے خوف زدہ رہتے ہیں ۔ اپنے اندر اس خوف سے نہیں جھانکتے کہ نفس دِکھتا ہے جو ایسا بد بو دار جوہڑ نظر آتا ہے جس میں ہماری ذات ڈبکیاں کھا رہی ہوتی ہے۔ اُس کو ڈوبنے کے لیے تنہا بھی نہیں چھوڑنا چاہتے اور نکالنے کی سعی بھی نہیں کرتے کہ کسی کو پتہ نہ چل جائے۔ ہاتھ بڑھا کر اُس کی مدد کی کوشش بھی کریں تو بیش قیمت خوشبواور بناؤ سنگھار سے اپنی بدبو اور بد نمائی چھپاتے ہیں۔
"نفس سے فرار اس کی طلب میں مزید اضافہ کر دیتا ہے ۔ یقین نہ ہو تو کبھی ایک عورت کی آنکھ سے ان جبہ ودستار پہنے "اللہ والوں " کو دیکھیں ان کی نظر میں وہ کچھ ہوتا ہے جو کسی دنیا دار اور نفس سے جھگڑتے عام انسان میں بھی نہیں ملتا"۔
" نفس کیا ہے "
ہماری کہانی کا ایک کردار۔۔۔ ہماری کتاب ِزیست کا فقط ایک باب۔۔۔ جس کو پڑھنا،سمجھنا اوراُس پرعمل درآمد کرنا ہماری زندگی کا ایک حصہ (پوری زندگی نہیں) ہونا چاہیے۔
نفس بھی اللہ کی عطا ہے دوسری نعمتوں کی طرح۔اہم یہ ہے کہ ہم اپنی عقل کس طرح استعمال کرتے ہیں اس کو سمجھنے کے لیے۔یہ کوئی عُذر نہیں کہ اللہ کے ہاں جا کر کہہ دیں " باری تعالٰی یہ سبق وہاں ناپسندیدہ تھا اس لیے اس پر کراس لگا دیا یا اس وقت اس کو جاننا وقت ضائع کرنا تھا ، اب سمجھایا جائے "۔ 
جب ہر چیزکھول کھول کر بیان کر دی گئی ہےکہ عمل کا وقت صرف اسی دنیا میں ہے، جس طرح چاہو کرو،جو چاہو آگے بھیجو۔ تو پھر صرف ہمارے غوروفکرکا فقدان ہے اور کچھ بھی نہیں ۔" ہمیں جو سبق جس وقت مل جائے اُسی وقت اُس کو سمجھا جائے، اور پرکھا جائے۔مہلتِ زندگی ختم ہونے سے پہلے ادھوری کہانیاں پڑھ لی جائیں تو اُن میں پوشیدہ جوابات خود ہی سامنے آجاتے ہیں۔"

"خواہش کا کاسہ"

انسان اپنی خواہشات کو حاصل کرسکتا ہے۔ وہ چھوٹی چھوٹی خواہشیں جو بعض اوقات حسرت بن جاتی ہیں۔۔۔ جن پر کبھی صبر کا لبادہ چڑھا دیا جاتا ہے۔۔۔ کبھی اللہ کی رضا،رب کی حکمت کہہ کر اپنے آپ کو تسلّی دے دی جاتی ہے۔۔۔ یہ سوچا جاتا ہے ہماری تو اتنی اوقات ہی نہیں کہ من چاہا مل سکتا۔۔۔ کبھی یہ خیال آتا ہے شاید یہ چیز ہمارے حق میں بہتر نہیں تھی۔
انسان اپنےآپ کو لعن طعن کر کے بہلا لیتا ہےکہ یہ شیطانی خیال اوروسوسےہیں۔۔۔اللہ کی ناشکری ہے۔۔۔ہمیں اُس نےبےپناہ نعمتوں سے نوازا ہے۔۔۔ساری عمرشُکر گُزاری کے سجدے کرتےرہیں پھربھی اپنے رب کا حق ادا نہیں کرسکتے۔غرض کہ مایوسی کےاحساس کےساتھ ساری زندگی اپنی عقل کے سہارے اپنےآپ کو قائل کرتےگزر جاتی ہے۔ہمیں یہ تسلی بھی ہوتی ہے کہ اللہ سب جانتا ہے۔۔۔ وہ آخرت میں اس کا اجر عطا کرے گا۔۔۔جس چیز سےمحروم رہے۔۔۔ جس کواللہ کی رضا کے لیے ترک کیا وہ ہمیں ابدی زندگی میں ضرور ملے گی۔ اس گورکھ دھندے کو ایک نئے زاویے سے دیکھا کہ ساری عمر ہم اس اہم سوال کا غلط جواب تحریر کرتے رہتے ہیں۔
اللہ کے بارے میں ہم جو جانتے ہیں اس کو اپنی ذات پر اپلائی نہیں کرتے۔اللہ سے مدد مانگو تو وہ ہمیں بتاتا ہے کہ دنیا میں جس چیز کی بھی خواہش کرو۔۔۔جو بھی خیال ذہن میں آئے۔۔۔اُس کو آنے دو، اپنی علمیّت یا قابلیّت سے تجزیہ نہ کرو۔
یہ جیسے سمندر کی لہریں ہیں۔۔۔ان کو ہم روک نہیں سکتے،بند نہیں بنا سکتے۔یہ آنے جانے کے لیے ہوتی ہیں۔اپنے آپ کو ان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائےتو ان میں جو نایاب موتی ہیں وہ ضرور ملیں گے۔ اگر ان سے ڈر کر دور بھاگیں تو یہ ہمارا پیچھا کرتی رہیں گی۔
اللہ تو وہ ہے جو انسان کی  ادنیٰ سے ادنیٰ خواہش بھی پوری کرتا ہے۔ ہم نادان ہیں کہ ہمیں اپنے ادنیٰ اور اعلیٰ کا فرق ہی معلوم نہیں-اللہ نے کائنات انسان کے لیے پیدا کی ہے تو اس کی خواہشات بھی اس کی غلام ہیں لیکن ہم اپنی خواہشوں کے غلام بن گئے ہیں۔ ہماری آنکھ آگہی کے اس لمحے کُھلتی ہے جب خواہش ہماری دسترس میں ہوتی ہے۔ ہماری وہ آرزوئیں جو ہم بہت سوچ سمجھ کریا بےسوچے سمجھے بڑے ارمانوں سے پروان چڑھاتے ہیں، جب ان کا پھل چکھتےہیں تو بہت ہی کڑوا ہوتا ہے پھر ہمارے پاس ندامت اورتاسّف کےسوا کچھ باقی نہیں بچتا-
"خواہشوں کو بکھرے ہوئے کاغذ پر ہی رہنا چاہیے تا کہ جب دل چاہے اُن میں ردّوبدل کر سکیں۔اُن کو سمیٹ کر کبھی بھی ایک کتاب کی شکل نہیں دینا چاہیے۔۔۔مبادا ایک بوجھ کی طرح ساری زندگی ساتھ رکھنا پڑتا ہے۔اور کسی بھی قسم کی کانٹ چھانٹ اُسےکمزور اور بدہئیت بنا دیتی ہے"۔

خوش قسمتی طلب کے واسطے سے پیدا ہوتی ہے۔طلب نہ ہو تو خوش قسمتی خود گھر نہیں آتی (اشفاق احمد)۔
اس بات کو آگے بڑھایا جائے تو خوش قسمتی بد قسمتی میں اس وقت بدلتی ہےجب ہم اپنی طلب کوسمجھنے سے قاصر رہتے ہیں اور اس سے بھی بڑی محرومی یا مایوسی وہ ہے جب ہم منگتے کے آگےدست طلب دراز کر دیتے ہیں ۔ہم بارہا پڑھتے،سمجھتے اوراکثر لکھتے بھی ہیں کہ ہم بھکاری ہیں ،رب کی چوکھٹ پر دُعائیں مانگتے ہوئے منگتے ہیں۔ذرا غور کریں کہ جو منگتا ہو  اُس کی خواہشات کا کاسہ کسی دوسرے منگتے کے دستِ قدرت سے  کیسے بھر سکتا ہے۔ جب سب ایک ہی قطار میں کھڑے ہیں  تو پھر کسی سے کیا طلب کرنا۔ ہم قطار سے نکلنا بھی نہیں چاہتے اور نہ ہی نکل سکتے ہیں لیکن پھر بھی کاسہ بھر جانے کی طلب رکھتے ہیں۔ یہ راز و نیاز کی باتیں ہیں جو داتا اور گدا ہی جانتا ہے اورکون داتا ہے کون گدا، یہ مالک کا کرم ہے جس پر آشکار کر دے۔ بس یہ یاد رہے ہم سب گدا ہیں اپنے رب کے حضورسب منگتے ہیں ۔ مانگتے جاؤ اور بانٹتے جاؤ کہ جھولی خالی ہوگی تو پھیلائی جا سکے گی۔ اپنے مالک کی عطا کو کسی ناعاقبت اندیش کی طرح گھٹڑی میں چُھپا کر نہ رکھو۔دے دو، پہنچا دو۔ پھر دیکھوکہ دینے والا کہاں کہاں کس انداز سے کیا کیا دیتا ہے۔
" ہمیں اپنی چاہت کو اللہ کی چاہت کے سامنے جھکانا ہے۔اس کے بعد ہمیں جو بھی  ملے گا وہ ہماری چاہت سے بڑھ کر  ہمارے حق میں  بہتر ہو گا"