صفحہِ اول

منگل, دسمبر 17, 2013

"دسمبر کی دھوپ"

 "خواہشوں کی ڈور سے اُلجھی کہانی ایک ادھوری سی  "
 دسمبر روگ دیتا ہے
 دسمبر روک لیتا ہے 
روٹھا یار منانے سے 
کبھی پیچھے جانے سے 
ان جان رستوں پر
 قدم آگے بڑھانے سے
 لمس تشنہ رکھتا ہے 
لب کی پیاس بجھانے سے 
کسی گمنام رستے پر
کوئی آہٹ کوئی سایہ 
پلٹ کے واپس آئے گا
اگر اظہار کرے تو
دسمبر ٹوک دیتا ہے
 دسمبر سوگ دیتا ہے
دسمبر روک لیتا ہے

1 تبصرہ :

  1. بہت اچھی نظم ہے۔ دسمبر کے حوالے سے ایک کوشش میں نے بھی کی ہے۔

    http://seems77.blogspot.com/2013/12/blog-post_22.html

    جواب دیںحذف کریں