سوموار, نومبر 18, 2013

"سوال"

"دھوپ چھاؤں "
وہ سردیوں کی دھوپ تھی اور وہ برف کا آدمی ۔ عجیب تضاد تھا یہ بھی کہ دھوپ کے اندر گلیشئیر کی سی ٹھنڈک منجمد رہتی اور اُس برف چہرے کے اندر آتش فشاں دہکتا تھا ۔ قربت کے لمحوں میں کبھی دھوپ برف کو پگھلانے لگتی تو کبھی بھٹی کی تپش صدیوں کی جمی برف پر اپنے نقش چھوڑ دیتی۔ نہ چاہتے ہوئے نہ مانتے ہوئے بھی وہ ایک ڈور میں بندھ گئےوہ جس کے سرے ازل تا ابد پھیلے تھے پر نظر نہ آتے تھے۔جتنی شدّت سے آگے بڑھتے اُتنی ہی تیزی سے دُور ہونے لگتے ۔بےخبر! نہیں جانتے تھےکہ دھوپ ڈھل گئی تو اندر کی آگ برف پگھلا ڈالے گی اورپھرکچھ باقی نہ بچے گا نہ برف نہ تپش اور نہ وجود۔ اور گلیشئیر پر جب تک قدم نہ اُتریں اُس کو سہج سہج فتح نہ کیا جائے تو اُس کی دھوپ چاندنی سب رائیگاں ہے۔
وہ بہت سوال کرتا تھا اورباربار دہراتا تھا۔ جب جواب نہ ملتا تو خفا ہو جاتا۔ کبھی کہتا ٹال دیتی ہوں،کبھی کہتا کہ سمجھتی نہیں،کبھی کہتا تمہیں کب پروا ہے کسی کی.کبھی کہتا کہ خودغرض ہو بس اپنی کہتی رہتی ہو۔ جب بہت تھک جاتا تو خاموش ہو جاتا کچھ نہ کہتا نہ سوال نہ جواب بس ایک سرد گلیشئیر جس کے اندرآتش فشاں دہکتا تھا۔
اُسے کیسے بتاتی کہ یہ حاضر جوابی کا کھیل نہیں کہ دوسرے کو نیچا دکھانا مقصود ہو۔ یہ مقابلے کا امتحان بھی نہیں تھا کہ پاس ہو کر کسی بڑے عہدے کی طلب ہو اورپھر حسب ِخواہش تعیناتی کا ارمان بھی۔یہ انا کی جنگ بھی نہ تھی کہ کسی فریق کے ہارنے کا خوف ہو۔ وہ سارے جواب جانتی تھی جواب دیتی بھی تھی لیکن اُس کے سامنے نہیں اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نہیں بلکہ اُس کے ساتھ ،اُس کے پاس،اُسے محسوس کر کے آنکھیں بند کر کے سب کہہ دیتی اور وہ سُنے جاتا یوں جیسے کوئی رم جھم قطرہ قطرہ اُس کے تپتے صحرا میں جذب ہو رہی ہو۔ ساری تشنگی اپنے اندر سمیٹ رہی ہو۔ وہ پانے کی لذت میں سب بھلا دیتا۔ سوال جواب گلے شکوے۔ یکدم وقت گھڑی اُس کے اندرشورمچاتی سارے وجود کا احاطہ کر لیتی تو وہ فوم کا گڈا پھر پتھر بن جاتا۔ سوال جواب کے اس کھیل میں جانے کیوں وہ تھکنے لگی تھی۔وہ اسے سمجھا کر بھی نہ سمجھا پا رہی تھی کہ جب دوست کہہ دیا تو پھر کیسے سوال کہاں کے جواب۔۔۔دوست کو کسی امتحان میں نہ ڈالو،فیل ہو گیا تو وہ ہار جائے گا اور پاس ہو گیا تو تم ہار جاؤ گے۔

3 تبصرے:

  1. " ۔۔" سوال"۔۔ کا جواب میرے خیال میں میری پوسٹ میں موجود ہے ۔ گو کہ لوگ میرے اس خیال کو نہیں مانتے ۔ ہوسکے تو پڑھ کر دیکھیں عنوان ہے" ۔94 سالہ ادیبہ" ڈورس لیسنگ" کا انقال ہوگیا"۔۔۔
    اب اجازت دیں ۔۔۔آپکا بُہت شُکریہ ۔۔۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. یاد آیا " اردو کے سب رنگ " پر چند جملے جوکہ بعد میں اضافہ کئے گئے ہیں( یقیناً اہم ہیں) شامل نہیں ہیں ۔اس لیے" سیارہ "پر جائیں۔۔
    ۔اب اجازت دیں ۔۔۔ آپکا بُہت شُکریہ۔۔۔

    جواب دیںحذف کریں

" اعجازِآیاتِ قرانی"

٭قرآن مجید کی  سورہ الحجر(15) کی آیت (9)  میں اللہ نے حفاظت قرآن کا وعدہ لیا ہے۔ آیت ترجمہ۔"ہم نے یہ نصیحت اُتاری ہے اور ہم ہی اس کے...