صفحہِ اول

منگل, اگست 13, 2013

" اب یا کبھی نہیں "

قدرت کا شاہکار ہو یا تخلیق ِانسانی جب تک اُسے کوئی نام نہ دیا جائے اس کی اہمیت صفر ہی رہتی ہے۔ شناخت کام سے پہلے نام سے ہوتی ہے۔۔۔ نام ہی جو شخصیت یا ادارے کی بھرپور ترجمانی کرتا ہے۔وہ بعد کی بات ہے کہ کام کی جگمگاہٹ نام روشن کر دیتی ہے۔ اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو معاشرے میں بہت کم ایسا دیکھا یا سنا گیا ہے کہ کسی معیوب نظر آنے والے نام نے دنیا میں قابل فخر کارنامہ سر انجام دیا ہو یا کسی ادارے کا نام اس کی پہچان نہ بنا ہو۔
ہمارا اپنا وطن پاکستان دنیا کے نقشے پر اُبھرنے والا واحد ملک ہے جو ایک نظریے کی بنیاد پر قائم ہوا۔اسلام ہماری پہچان ہے۔۔۔ ہماری بقا ہے۔۔۔ ہمارا نام ہے۔ اپنے نام سے ہٹ کر دیکھیں تو پھر پنجابی ، پختون، سندھی ، بلوچ اور مہاجر ہمارے بکھرے ٹکڑے ہیں۔ ایک بچہ بھی یہ بات جانتا ہے کہ عام سی پزل کا ایک ٹکڑا نہ ملے تو تصویر ادھوری رہتی ہے۔۔۔اور پزل کا محض ایک ٹکڑا کہیں بھی اپنے طور پر جگہ نہیں بنا سکتا۔
ہمارے پیارے وطن کا پیارا اور بامعنی نام ہمارے عظیم رہنماؤں  کی نکھری سوچ کا ترجمان ہے۔ 28 جنوری 1933 میں جناب چوہدری رحمت علی نے دُنیا کے سامنے لفظ " پاکستان" اپنے کتابچے ( ناؤ اور نیور) میں سب سے پہلے استعمال کیا۔ تاریخ کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ لفظ پاکستان اگرچہ چوہدری رحمت علی نے ہی پہلی بار تقسیم ہندوستان کے تناضر میں استعمال کیا لیکن اسے پانچ برس پہلے "غلام حسن شاہ کاظمی " اپنے اخبار ' پاکستان" کے اجراء کے لیے دی گئی درخواست میں استعمال کر چکے تھے۔اس وقت وہ درخواست منظور نہ ہوئی ۔تاریخ میں ایک نام " خواجہ عبدالرحیم " کا بھی سامنے آتا ہے کیمریج میں چوہدری رحمت علی کے ساتھ برِصغیر کے مسلمانوں کےمستقبل پر تبادلہ خیال کرتے رہے اور"پاکستان" نام بھی دوران ِگفتگو انہوں نے ہی تجویز کیا۔
اپنے نام کے ساتھ "پاکستانی" لکھنے کا پہلا نام جناب عبدالعزیز کا ملتا ہے۔ جناب عبدالعزیز کی زندگی کہانی کالم نگار اصغرعبداللہ  کے  12 اگست 2013 کے کالم "تحریکِ پاکستان کا خاموش مجاہد"سے پڑھی جا سکتی ہے۔
 جالندھر سے تعلق رکھنے والے عبدالعزیز محکمہ ریلوے کلکتہ میں ملازم تھے۔وہ"آزاد ہند" کے نام سےایک پرچہ بھی نکالتے رہے۔اُنہوں نے36۔1935 سے ہی اپنے مضامین میں اپنا نام"عبدالعزیزپاکستانی" لکھنا شروع کیا۔پاکستان کے حق میں لکھنے کا جرم قبول کر کےانگریز سرکار کی نوکری ٹھکرانے والا یہ پہلا اسم بامسمٰی پاکستانی قیام پاکستان کے بعد سخت نامساعد حالات کا شکار رہا۔ٹی بی جیسے مہلک مرض میں مبتلا ہونے کے بعد 1961 میں ایبٹ آباد کے سینی ٹوریم میں وفات پائی اور ایبٹ آباد کی مسجد صدیقیہ کے قبرستان میں فوراً دفنا دیے گئے۔اُن کے بیٹے کو باپ کا آخری دیداربھی نہ مل سکا۔
اصغرعبداللہ  یکم اپریل 2015 کے کالم " میں ایسا کہاں تھا پہلے" میں  ُان کے بیٹے معروف  براڈکاسٹر"جناب طارق عزیز" کی کیفیت اُن کی زبانی کچھ یوں  لکھتے ہیں۔۔۔
پھر یکبارگی ا ن کے چہرے پر گہری افسردگی چھا گئی۔ان کی آواز بھرا گئی۔’’ میرا باپ میاں عبدالعزیز اگست 1947 میں جالندھر سے اپنا بھرا پُرا گھر چھوڑ کر نکلا تھا ۔ ماں اور بہن بھائیوں کے ساتھ ، میں بھی اس کے ہمراہ تھا ۔ پاکستان آکے اس نے بڑی ہی کسمپرسی کی زندگی گزاری، اور پھر ایک روز ایبٹ آباد کے سینیٹوریم میں بیماری اور غربت سے لڑتے لڑتے مرگیا ۔ ان دنوں میری بڑی عجیب حالت تھی ۔ اس شعر میں انھی دنوں کی کیفیت ہے ؎
شب دیر تک وہ روتا رہا ، صبح مر گیا
 مجھ کو تو یہ عجیب لگا ، جو وہ کر گیا۔
وہ بیٹا جو باپ کی ہدایت پرایک رات قبل لاہور پہنچا تھا۔عبدالعزیز پاکستانی کا  بیٹا "طارق عزیز" چند برس بعد پاکستان ٹیلی وژن کا پہلا نیوز کاسڑبنا اور اب پاکستان کا ایک قابل فخراثاثہ ہے۔ 
یہ تو تھے تاریخی حوالے۔۔۔ذکر ضروری تھا لیکن یہ نفسِ مضمون قطعی نہیں۔ یہ قرض تھا ان ہستوں کا جو ایک دیا جلا کرخود گمنامی کے اندھیروں میں چلی گئیں۔ پہلا جئرات مندانہ قدم تنہا "چوہدری رحمت علی " نے اُٹھایا اور جس کی سزا بھی ان کے حصے میں آئی۔ ایسی سزا جس کی گرفت سے موت نے تو انہیں آزاد کر دیا لیکن ہم پاکستانیوں پرایک نہ ختم ہونے والا قرض چھوڑ گئے۔۔۔ جو شاید رہتی دنیا تک سود سمیت بڑھتا ہی رہے گا۔
درج ذیل گوگل سےکاپی پیسٹ "چوہدری رحمت علی" کا احوال ۔۔۔۔
 ۔ "قیام ِ پاکستان کے بعد آپ دو بار پاکستان تشریف لائے مگر نامناسب حالات اور رویوں کے باعث دل برداشتہ ہو کر دوبارہ برطانیہ چلے گئے اسی دوران آپ کا 20 مئی 1948 کو پاکستان ٹائمز میں انٹرویو بھی شائع ہوا ۔آپ کا آخری پتہ 114 ہیری ہیٹن روڈ تھا اور آپ مسٹر ایم سی کرین کے کرایہ دار تھے، مسٹر کرین کی بیوہ کے مطابق چوہدری رحمت علی اپنا خیال ٹھیک سے نہیں رکھتے تھے ، جنوری کے مہینے میں سخت سردی کے دوران ایک رات آپ ضرورت کے کپڑے پہنے بغیر باہر چلے 
گئے اور واپسی پر بیمار ہوگئے ، آپ کو ایولائن کے نرسنگ ہوم میں داخل کرایا گیا جہاں ہفتے کی صبح انتقال ہوا "۔
ایمنوئیل کالج ،کیمریج شہر کے قبرستان اور کیمریج کے پیدائش واموات کے ریکارڈ کے مطابق3 فروری 1951 بروز ہفتےکی صبح آپ کا انتقال ہوا،17روز تک کولڈ سٹوریج میں ہم وطنوں، ہم عقیدوں اور ہم مذہبوں کا انتظار کرتے کرتے بالاآخر دو مصری طلبہ کے ہاتھوں اس غریب الوطن کو قبرنمبر بی۔۔8330 میں دفن کر دیا گیا ( کیمریج سمیٹری۔مارکیٹ روڈ،برطانیہ)۔
وزارتوں،الاٹمنٹوں،کلیموں اورہوس ِاقتدار کے ماروں کو خبربھی نہ ہوئی کہ صف ِاول کا مجاہد 200 پونڈ کا قرض اپنی تجہیز وتکفین کی مد میں کندھوں پر لے کر چلا ہے مگر چھ دہائیوں بعد بھی امانتاً دفن کیا گیا۔ اس مجاہد کا جسد ِخاکی جس نے مسلمانانِ برِصغیر کے لیے نہ صرف خواب دیکھے بلکہ ان کی تعبیر کے لیے اپنا تن من دھن سب کچھ لٹا دیا۔ یوں ہی دیارِغیر میں چند گمنام قبروں کے بیچ سال بہ سال جمنے والی دھول میں غائب ہو جائے گا کہ ہماری آنے والی نسلیں اس کے نام تک سے ناآشنا ہوں گی ؟ کیا زندہ قوموں کا یہی طریقہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے محسنوں سے اس قدر بےرحمی سے پیش آیا کرتی ہیں۔

۔۔۔۔۔۔
تئیس مارچ 2015۔۔۔جناب خرم بقا کا اظہارِخیال۔۔۔۔
 بہت متنازع موضوع چنا آپ نے۔ شاید آپ کو معلوم نہ ہو کہ چوہدری رحمت علی کا تجویز کردہ نام پاکستان، متحدہ ہندوستان میں کسی چوٹی کے لیڈر کی تائید نہیں حاصل کر سکا۔ قائد اعظم نے اسے دیوانے کا خواب کہا اور علامہ اقبال نے بھی اپنے ایک خط میں اس نام سے لاتعلقی کا اعلان کیا۔ ستم بالائے ستم، جن اشخاص نے اس پمفلٹ پر سائن کیے تھے انہوں نے بھی بعدازاں اس سے لاتعلقی کا اعلان کیا۔ چوہدری رحمت علی اور مسلم لیگ کی ہائی کمان کے درمیان اختلافات آخری دم تک قائم رہے۔1948 میں جب چوہدری رحمت علی پاکستان آئے تو انہں پاسپورٹ جاری نہیں کیا بلکہ پنجاب حکومت کے ایک دبنگ افسر سے انہیں دھمکی دلوائی گئی کہ انہیں سیکورٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کر لیا جائے گا۔ اس سے بیشتر انہیں قائد اعظم کی عیادت سے بھی منع کر دیا گیا تھا جبکہ قائد تیار تھے اس کے لیے۔ 1940 میں بھی جب چوہدری صاحب کراچی اترے تو انہیں پنجاب میں یونینسٹ حکومت کی طرف سے احکامات وصول ہوئے کہ وہ صوبہ پنجاب میں داخل نہیں ہو سکتے۔
 اب رہ گئی یہ بحث،لاحاصل بحث، کہ لفظ پاکستان کے اصلی خالق کون تھے۔چوہدری رحمت علی، خواجہ عبدالرحیم یا علامہ سید غلام حسین شاہ۔ تاریخی ثبوت بہرحال سید صاحب کے حق میں جاتے ہیں کہ انہوں نے 1928 میں ہفت روزہ اخبار پاکستان کے ڈیکلریشن کے لیے درخواست دائر کی تھی جو رد ہو گئی تھی۔ ریفرنس، برج آف ورڈز از خالد احمد
 قطع نظر اس کے کہ انہوں نے نام تجویز کیا تھا یا نہیں، ہندوستانی مسلمانوں کے لیے ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ انہوں‌ نے 1948 میں ہندوستان میں رہ جانے والے مسلمانوں کے حقوق کے لیے اقوام متحدہ کو خط لکھا۔ وہ واحد لیڈر تھے جو بحری جہازوں پرکبھی امریکہ،کبھی جاپان،کبھی ہانگ کانگ جا کر ہندوستانی مسلمانوں کے لیے لابی بناتے کہ انہیں ادراک تھا کہ غلام ہندو اور حاکم ہندو میں بہت فرق ہےل ان کے خیال میں جہاں جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں وہاں الگ ریاست بنا کر اسے ایک فیڈریشن کے تحت رکھا جائے۔آج کے ہندوستان کےحالات دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں مستقبل کا  
ادراک کہیں زیادہ تھا"۔بشکریہ۔۔۔۔جناب عقیل عباس جعفری ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
چوہدری رحمت علی۔۔۔ نقاش پاکستان
۔۔۔۔۔۔
جناب اصغر عبداللہ ۔۔۔۔
٭تحریک پاکستان کا خاموش مجاہد۔۔۔12 اگست 2013۔۔۔ روزنامہ ایکسپریس اسلام آباد

٭میں ایسا کہاں تھا پہلے۔۔۔۔۔یکم اپریل 2015۔۔۔۔۔روزنامہ ایکسپریس اسلام آباد

1 تبصرہ :