جمعہ, جون 07, 2013

" لباس ِیار "

جس طرح کہا جاتا ہے کہ سب مرد ایک سے ہوتے ہیں ۔ اسی طرح سب عورتیں بھی ایک جیسی ہوتی ہیں ۔ یہ اُن کا لباس ہے جو اُنہیں دوسروں سے الگ کرتا ہے۔ فہم کا لباس بے وقوفی کا لباس ،انا کا لباس عاجزی کا لباس،امارت کا لباس غربت کا لباس،تفاخر کا لباس تذلیل کا لباس ،ڈگری کا لباس نالائقی کا لباس ،علم کا لباس جہالت کالباس،برتری کالباس کمتری کالباس،خوبصورتی کا لباس بدصورتی کالباس ،چاہ کالباس محبوب کا لباس، بےقدری کا لباس نارسائی کا لباس-کبھی یہ لباس بنے بنائے مل جاتے ہیں ریڈی میڈ قسمت کی دُکان سے۔ کبھی زندگی عورت کے سائز کے مطابق اِن کی کتربیونت کر کے وقتاًفوقتاً پہناتی رہتی ہے۔ کبھی زمانے کا جبر کانٹوں کی صورت انہیں عورت کے وجود کاحصہ بنا دیتا ہے تو کبھی پھولوں کی سیج پر بچھا لباس اُس کی روم روم مہکا دیتا ہے۔ شاید بہت کم ایسا ہوتا ہے بلکہ نہ ہونے کے برابر کہ عورت اپنی مرضی کا کوئی لباس زیب ِتن کر سکے۔اکثر اسے اس بات پر کوئی گلہ شکوہ بھی نہیں ہوتا۔ وہ چُپ چاپ دُنیا کی الماری کے کواڑ کھولے جو لباس سامنے نظر آئے پہن لیتی ہے۔ لڑتی جھگڑتی بھی ہے اپنےآپ سے اپنے مالک سےاپنے خدا سے لیکن دل کا بھید کبھی نہیں کھولتی نہ اپنے آپ پر اور نہ کسی پہ۔ضدیں کرتی ہے کسی اور چیز کے لیے اور تمنا کسی اور شے کی کرتی ہے۔ راز کی بات یہ ہے کہ اگر پسند کا لباس مل بھی جائے پھر بھی اُس کی تلاش کبھی ختم نہیں ہوتی اور یہ بےقراری ہی عورت کو اپنی ذات 
 پریقین کا ابدی لباس عطا کرتی ہے۔
حرفِ آخر
حُسن عورت کا وہ لباس ہے جو جتنا نظر آتا ہے اُس سے کہیں زیادہ اُس کے وجود کا حصہ ہوتا ہے جو کسی کونظر نہیں آتا اور کبھی تو دیکھنے والوں کو اس کا پرتو بھی نہیں ملتا لیکن حُسن اور خوبصورتی اس کے جوڑ جوڑ میں سلی ہوتی ہے۔لباس کی مہک جس کو چھو جائے وہی اس کی اصل جاننے کا حقدرار ٹھہرتا ہے۔ اہم یہ ہے کہ یہ مہک عورت کے وجود کاحق ہی ادا نہیں کرتی بلکہ پانے والے کو بھی اپنی اصلیت کی پہچان عطا کرتی ہے ۔

2 تبصرے:

  1. ہمیشہ کی طرح بہت عمدہ اور گہری بات۔ مگر اس مرتبہ مجھے پوری پوری سمجھ آ گئی ہے۔(:۔

    جواب دیںحذف کریں

"ہم سے پہلے"

۔"ہم سے پہلے"۔۔۔کالم جاویدچودھری۔۔۔جمعرات‬‮ 72 جولائی‬‮  بھارت کے کسی صحافی نے اٹل بہاری واجپائی سے جنرل پرویز مشرف کے بارے میں ...