بدھ, جون 05, 2013

"میکن ایک تاثر " (3) آخری حصہ

!نو بجے رات  
رات ہولے ہولے اپنے پر پھیلانے لگی تھی۔۔۔ابھی ہوا میں وقت کا مقابلہ کرنے کی سکت باقی تھی لیکن پھر بھی ذرا دیر کو ہوا کی کٹی پتنگ کہیں سانس لینے رُکی تھی۔دن کی تپش نڈھال کرتی تھی اور میں اپنے آپ کو ہوا کے رحم وکرم پر چھوڑ کر کھلی چھت پر بےدم اُس کے لمس کی منتظر تھی جو مجھے دھیرے دھیرے تھپکتی تو تھی پر سیراب نہ کرتی تھی۔ چہارجانب پھیلا اندھیرا اور کتوں کے بھونکنے کی آوازیں رات کی آمد کا اشارہ دیتی تھیں ۔
 !دو بجے رات 
 گرمی اور مچھروں پر پہلی بار پیار آیا کہ اُنہوں نے میری آنکھیں کھول دیں اور تاروں بھرا آسمان نگاہوں کو سلامی دینے لگا۔ رات کا مکمل سناٹا اور میں،آسمان پر چمکتے تارے میرا انتظار کر رہے تھے۔ آخری تاریخوں کا چاند رات کے اس پہر اپنی ساری چاندنی میرے وجود پر نچھاور کرنے کے لیے بےچین تھا-اُس کے لمس کو میرے وجود کی چاہ تھی۔کتنی دیر تک اُسے دیکھ کر میں اپنی نظروں سے آرتی اُتارتی رہی یہاں تک کہ قریبی مسجد سے  درود تاج  پڑھنے کی پُراثر آوازآئی جس کا ایک اِک لفظ واضح اور مکمل سنائی دیتا تھا۔میں اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کر رہی تھی کہ میری آنکھ کھل گئی جو مجھے یہ دولت سمیٹنے کا موقع ملا۔ پھر فجر کی پہلی اذان بھی میرے کانوں میں اُتری۔ 
 !پانچ بجے صبح
  صبح اتنی خوبصورت بھی ہو سکتی ہے یہ میں نے کبھی خواب میں بھی نہ سوچا تھا۔میں جو اپنے خوابوں پر ایمان کی حد تک یقین رکھتی تھی ایسا حسین خواب میرے وہم وگمان میں بھی نہ آیا تھا۔ میں گھر کی پچھلی طرف بنے ٹیرس پر بیٹھی حدِنظر تک پھیلے کھیت ہی کھیت دیکھتی تھی  یوں جیسے سمندر کنارے دُور تک دیکھتے رہیں پانی ہی پانی لیکن شاید سمندر کنارہ بھی اتنا مکمل اور پُرسکون نہ ہوتا ہو کہ اُس کے پاس سوائے آسمان اور نیلگوں پانی کی وُسعت ،ہوا کے رقص لہروں کے تلاطم اور خاموش پرندوں کی ڈاروں کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔لیکن یہاں اس لمحے اس صبح تو میری اس کائنات میں موجود ہر ذرّہ رنگوں اور خوشبوؤں سے مہکتا مجھے اپنے اندر سمونا چاہتا تھا اور میں خاموشی سے اپنے آپ سے نکل کر اس کے مدار میں محو ِرقص تھی۔صبح کی پاک اور تازہ ہوا کے جھونکے مشام ِجاں کو معطر کرتے تھے،چڑیوں کی چہچہاہٹ کوئل کی کوک میرے دل کو اپنی طرف پکارتی تھی۔نئے سفر کی تیاری پر کمربستہ پرندے ابھی اپنے آپ کو تازہ دم کرتے تھے۔زمین کے وسیع وعریض کینوس پر بکھرے لکیروں اور رنگوں سے سجے مستطیل رنگ نظر کو تسکین پہنچاتے تھے۔ گندم کی فصل کٹ چکی تھی اس لیے خاکی اور سُنہرا رنگ نمایاں تھا کہیں کہیں چارے کے لیے تیارکیے گئے کھیت بھرپور تاثر دیتے تھے۔
!چھـ بجے صبح
خالص دودھ کا ایک لبالب گلاس پینے کے بعد میں اب پھر اپنی اُسی جگہ پر تھی ۔ سورج آہستہ آہستہ بلند ہو رہا تھا ۔ ہوا بدستور اُسی طرح شوخ تھی بلکہ اب کچھ زیادہ گستاخ ہو گئی تھی شاید اُسے میرا انداز پسند آیا تھا ۔ اس سے ذرا دیر پہلے میں نیچے بھینسوں کے باڑے میں تھی گھر کی مالکن خود سارا کام کر رہی تھیں، تازہ چارہ کھیت سے توڑ کر مشین کی مدد سے کاٹ کر بھینس کو کھلایا کہ دودھ دوہنے سے پہلے اُس کی خاطر کرنا فرض ہوتا ہے  میرے سامنے دودھ دوہنا شروع کیا  پھر میں نے جھاگ والے کچے دودھ کا ذائقہ چکھا لیکن کیا کیا جائے اپنا شہری پن کہ مجھے اُبلا ہوا دودھ ہی پینا تھا -اس ٹیرس پر ایک خاص اور عجیب چیز مجھے مسحور کرتی تھی وہ تھی میرے ساتھ مکمل تنہائی۔۔۔ دُور بہت دور کہیں کہیں کوئی انسان یا جانورچلتے پھرتے نظر آتے تھے۔

گھر والے بھی مجھے پہچان کر اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے۔یہ کیسا اتفاق اورعجیب حقیقت ہے کہ جو ہمارے قریب ہوتے ہیں وہ ہمیں جانتے نہیں اور اجنبی چہرے جو زندگی میں پہلی بار ملیں وہ ہمارے اندر باہر سب دیکھ لیتے ہیں ایک ہی نظر میں اور ہمیں جس وقت جس چیز کی ضرورت ہو ہم اِسی آسانی سے اُن سے کہہ بھی دیتے ہیں بلا جھجکے اپنا حق جانتے ہوئےاور وہ دھیمی مسکراہٹ  سے ہمیں خرید بھی لیتے ہیں۔میری فرمائشیں ختم ہونے میں نہ آرہی تھیں اب مجھے ٹیوب ویل کے پانی کے مزے چاہیں تھے صرف بجلی کی عدم دستیابی راہ کی رکاوٹ تھی  شاید یہ میری آخری خواہش تھی اور اب واپس جا کر احساس  ہونا تھا کہ کیا رہ گیاجو دسترس میں آسکتا تھا لیکن شاید میری اتنی ہی صلاحیت تھی جذب کرنے کی۔محبتوں کا یہ سفر فقط چند گھنٹوں کا مہمان تھا۔اب اپنے دیس واپس جانا تھا۔میں وہ شہزادی تھی جو راستہ بھٹک کر اس نگر آپہنچی تھی اور حیرانی سے ایک اور جہاں آراستہ دیکھتی تھی جو صرف میرے لیے تھا اورمیں اُس کے لیے۔
مجھے بھوک بھی لگ رہی تھی خالص آٹے کا پراٹھا مکھن اور لسی کے ساتھ میرا منتظر تھا ۔
اللہ ان مخلص میزبانوں کو صحت سلامتی والی لمبی زندگی عطا فرمائے جنہوں نے میری زندگی کے رنگوں میں ایک بیش قیمت انمول رنگ کا اضافہ کیا اور اپنے محبتوں بھرے تحائف سے مالامال کر کے رُخصت کیا۔
 یہ خواب لمحوں کا سفر تھاجو میں نے حقیقت کی دُنیا میں طے کیا اوریہ صرف نگاہ کا کمال ہے جو کسی منظرکسی کیفیت کو کس طور محسوس کرے۔ اور حق یہ ہے کہ یہ صرف پہلی نگاہ کا کمال ہے شاید میں بھی یہ منظر دوبارہ اس طور نہ محسوس کر سکوں ۔ جو لمحہ گزر گیا وہ دوبارہ لوٹ کر کبھی نہیں آتا۔ جو لمس چھو جائے وہ دوبارہ نہیں ملتا بس اُس کو پاس رکھنے اس کو پانے کی ہوس ہمیں اُس سے بچھڑنے نہیں دیتی لیکن جو چلا گیا سو چلا گیا اب نئی منزلیں نئے راستے  یہی زندگی کہانی ہے۔ اگر بیتے پل ،پیچھے چھوڑ آنے والے چہروں سے دل لگا لیں تو آگے کے لیے کچھ باقی نہیں بچتا۔اپنے آپ کو حالات کے دھارے پر چھوڑ دیں تو شاید آگے اس سے بھی بڑھ کر نئے منظر خوش آمدید کہہ رہے ہوں۔
!حرف ِآخر 
یہ کسی بڑے زمین دار کا ڈیرہ نہیں بلکہ ایک پڑھے لکھے خاندان کا گوشۂ عافیت ضرور تھا جو زندگی بھر کی جدوجہد کے بعد برگد کے درخت کی سی چھاؤں رکھتا تھا۔یہ خواب لمحوں کا وہ سفر تھا جو حقیقت کی دُنیا میں میری آنکھ  پر اُترا۔ایک اعتراف اپنے سامنے کہ اگر یہاں جدید دور کی سہولیات نہ ہوتیں تو مجھے یہ سفر پریوں کی داستان نہ لگتا ۔ ایک  اعتراف پڑھنے والوں کے سامنے کہ میں مانتی ہوں دیہاتی زندگی کا یہ رُخ اُس کی اصل نہیں۔ اصل حقیقت تو بہت کڑوی اورکربناک ہے۔کچے گھروں میں رہنے والے تلخ مسائل سے نبردآزما لوگوں کے لیے زندگی خود ایک بہت بڑا روگ ہے۔ہردیہاتی علاقے کی زندگی اتنی حسین نہیں ہوتی بلکہ زندگی کی تلخیوں کو سمیٹنے میں زیادہ ہی بےصبری ہوتی ہے۔ یہ صرف شہری لوگوں کا رومانس ہے جو وہاں کچھ وقت گُزار کر محسوس کرتے ہیں۔ لیکن میں سمجھتی ہوں کہ خواب دیکھنے پر ہر کسی کا حق ہے۔ خواب کی کوئی قیمت نہیں اور نہ ہی حدود ہوتی ہیں اور جب خواب پورا ہو جائےتو اس پر بھی کوئی  وضاحت نہیں دینی چاہیے۔
جو ملے رب کی رضا سے جھولی میں بھر لو۔ خوشی مل رہی ہے اُسے سمیٹو گے تو آگے جا کر خوشی ہی بانٹو گے اگر پھول کے ساتھ لگے کانٹوں پر ہی دل جلاتے رہے تو خار بن کر کسی کا دل ہی  زخمی کرو گے۔
جھولی بھرتے جاؤ اور جھولی خالی بھی کرتے جاؤ تاکہ سفر جاری رہے۔
 سفربخیر
"رہے نام اللہ کا "
 یکم جون 2013
اس سے منسلک بلاگ۔۔۔
 ۔٭میکن ایک تاثر (1) پہلا حصہ 
۔۔۔۔۔
٭میکن ایک تاثر (2) دوسرا حصہ۔
۔۔۔۔۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

"دلیل" اور"کارواں بنتا گیا"

تئیس جون 2017 بمطابق   ستائیس رمضان المبارک1438 ھ کو دلیل ویب سائیٹ کے قیام کو ایک برس مکمل ہوا۔ اس ایک   برس کے دوران "دلیل ویب س...