بدھ, جون 05, 2013

":میکن " ایک تاثر (2)


":میکن " ایک تاثر (2)
!گیارہ بجے د ن
صبح کے گیارہ بجے تھےاور ابھی ایک رات بھی میرے قبضۂ قدرت میں آنے کے لیے بےچین تھی۔جس کا تصور مجھے فرحت انگیز خوشی دیتا تھا۔کُھلےصحن میں پانی کے چھڑکاؤ کے بعد بچھی چارہائیوں پرمٹی کی سوندھی مہک کے حصار میں سونا میرے بچپن کی وہ یاد تھی جو خواب کی صورت اب بھی دل پر دستک دیتی تھی اور آج اُس یاد نے حقیقت بن کر پھر ایک خوبصورت یاد میں تبدیل ہونا تھا۔آج چاندنی رات تو یقیناً نہیں تھی لیکن مبارک ماہ ِرجب کی 22ویں رات ضرور تھی شاید اللہ کو یہی منظور تھا کہ ایک خاص رات کا عکس ہمیشہ میرے سوچ کے آئینے پر نقش رہے۔
زندگی کے سفر میں تازہ دم ہونے کے لیے پڑاؤ بہت ضروری ہےاور پڑاؤ کبھی ہماری مرضی اور منصوبہ بندی سے نہیں ملتا۔آج صبح بھی آتے ہوئے راستے میں بھائی نے کہا کہ گاؤں کی سیر کے لیے یہ موسم قطعاً مناسب نہیں۔ سرسوں پھول کر ختم ہو چکی اورگندم کی بالیاں خشک ہو کرکٹائی بھی ہو گئی ہے اب گاؤں میں مٹی اور گرمی کےسوا کچھ نہ ہو گا لیکن!!! میں خوابوں میں رہنے والی سب جانتے ہوئے اُسی گرمی اور بےفیض فضا پر ہرحال میں اپنی آنکھوں کا اعتبار چاہتی تھی۔۔۔کہتی تھی کہ وقت کبھی ہمارے ساتھ نہیں چلتا،ہمیں کبھی اپنی مرضی اور پسند کا ماحول نہیں ملتا اس لیے جو مل رہا ہے جیسے مل رہا ہے اُسے اپنا لیں اور اس میں اپنے خیال کے رنگ بھر لیں۔اور یہی آج ہوا،جب یہاں پہنچ کر خواب وخیال حقیقت بن کر نظروں کے سامنے تھا اور رنگوں کی برسات وجود کو شرابور کرتی تھی۔
آنے والی رات کی طرح کل صبح کا پیام بھی میرے دل کو گدگدا رہا تھا۔سورج کی اولین کرنوں سے بھی پہلے کی خنک ہوا میں صبح کا تصور ایک حسین خواب سے کم نہ تھا۔ برسوں پہلے کالام کی وادی میں اُترنے والی صبح کی یاد میرے دل پر دستک دیتی تھی۔جب صبح کی سیر کے دوران کالام کی بلندی پر پوش آرام گاہوں کے سنگ حدِنظر تک پھیلے سبزیوں کے کھیتوں میں سے جھانکتے شلغم اور گاجر اپنی طرف توجہ مبذول کراتے تھے اور تھکے ماندے سیاح اپنی نیند کو ہی حاصل ِسفر جان کر محو ِخرام تھے۔
! چھـ بجے شام
سورج ڈھلنے میں ابھی وقت تھا،شام کی سُہنری دھوپ میں سرسراتی نرم ہوا میرے لبوں کو چومتی میرے بالوں سے اٹکھلیاں کرتی تھی اور میں دوپہر میں گاؤں کی گلیوں میں اپنے سفر اور اُن چہروں پر لکھتی تھی جو آج پڑھے۔
ہر گھر ایک کہانی تھا اور ہر چہرہ ایک مکمل تصویر۔چھوٹی مگر پکی گلیوں میں ایستادہ شاندار گھر جہاں اپنے مکینوں کے ذوق اور خوشحالی کے امین تھے وہیں ان سجے سجائے کمروں میں سناٹے کی گونج بھی سنائی دیتی تھی۔وضع دار میزبان گرم جوشی سے ملتے لیکن اُن کے اندر پھیلی تنہائی کی پکارنہ جانے کیوں مجھے اُداس کرتی تھی ،روزگار کی مشقت نے ان گھروں کو مادی طور پر تو مالامال کر دیا تھا لیکن ساتھی کی دُوری ایک ان کہے چُُپ میں بدل گئی تھی۔
اس میں کوئی شک نہیں سب بہت مطمئن و مسرور دکھتے تھے شاید مجھے اپنی ذات کی تنہائی کا عکس ان میں نظر آیا ہو؟ انہی روشن کمروں کی بھول بھلیوں میں گھومتے پھرتے ایک ایسے گھر میں بھی میرے قدم پڑے جو برسوں سے بند تھا۔۔۔ دُھول مٹی اور ناقدری کی بو اُس کے گوشے گوشے میں سانس لیتی تھی اور وہ قبرستان کی سی چُپ لیے وقت کے رحم وکرم پر تھا-ایک پل کو زندگی کا یہ روپ دیکھ کرمیں ٹھٹک گئی کہ یہ بھی حقیقت ہے مکین چلے جاتے ہیں مکان رہ جاتے ہیں۔
کبھی گھر بسا کر بسنا بہت مشکل لگتا ہے تو کبھی نئی منزلوں کی چاہ میں گھر بسا کر خالی بھی کرنا پڑ جاتا ہے۔نئے سنگ ِمیل کی تلاش میں یہ پڑاؤ ہمیشہ ساتھ تو رہتا ہے لیکن صرف یاد کے جھروکے میں بیتے کل کی کہانی کی صورت۔
ان پُرآسائش خوبصورت سجے سجائے گھروں کے چہرے بھی حیرت انگیز طور پر دل ودماغ پر خوشگوار تاثر چھوڑتے تھے بناوٹ سے پاک عام بول چال میں دیسی بدیسی زبان میں قرینے سے گفنگو کرتے،مُسکراتی آنکھوں سے خاطر مدارات کرتے میری بےتکلفانہ باتوں کو توجہ سے سنتے میرے قریب آتے تھے۔
ایک 2 سالہ بچے سے "لب پہ آتی ہے دعا" سُن کر عجیب سی راحت ملی تو ایک بچی نے مجھے اپنا لکھا مضمون "انسان اور آدمی "سنایا یہاں صرف میں تھی اور میرا نام۔۔۔کوئی اور تمغہ کوئی نام یا کوئی رشتہ میرے ساتھ نہ تھا یہ اجنبی چہرے عجب اپنائیت سے میرا نام پکارتے اور میرا وجود انہیں ان جانی بےغرض خوشی دیتا تھا-وہ میرا جسم کھوجتے اور میں اُن کی روح تک جھانکتی تھی میری عمر کے بیتے ماہ وسال وہ حقیقت تھے جو انہیں میرے لبوں سے سن کر بھی اپنی آنکھوں پر یقین نہ آتا تھا ۔ میری مٹی میں گندھی بےنیازی اور اپنائیت کا امتزاج انہیں مجھ سے دور بھی رکھتا اور قریب آنے پر مجبور بھی کرتا۔ میں سب جانتی تھی سب دیکھتی تھی مگر اپنے ازلی ہرجائی پن کے طفیل اس وقت صرف محبوب کی قربت چاہتی تھی -وہ محبوب جو ہمیشہ میرے خوابوں کا ہمسفررہا تھا آج یہاں اسوقت میرے سنگ تھا مکمل تنہائی کی یہ لذت جو ہمیشہ میرا خواب رہی تھی اب یہاں مجھے اپنی نظروں سے اوجھل نہ ہونے دیتی تھی سب سے بڑی بات آج میرے پاس ڈھیروں ڈھیر وقت تھا۔۔۔ میرا اپنا۔ اپنےساتھ گزارنے کے لیے۔۔۔۔ شاید میری زندگی سے بھی زیادہ ۔
نفاست سے لگے کنوؤں ،مالٹے اور انار کے باغ کے قریب بیٹھی میں اس سرمئی شام کے اُجالے کو اپنے اندر جذب کرتی تھی اوراس گھڑی کو لفظوں میں سمیٹنے کی ناکام کوشش کرتی تھی جو ڈھلتی جا رہی تھی۔ پرندوں کے الوداعی نغمے ،کوئل کی مانوس کوک اور مغرب کی اذان کی آواز زندگی کا ایک خوبصورت اور نہ بھولنے والا دن ختم ہونے کی نوید سناتی تھی ۔ اللہ اکبر۔
! آخری بات
یہ دن میری زندگی کے کینوس پر پھیلے دنوں میں سے ایک تھا جو زندگی کی خوشگوار حقیقتوں کے ساتھ بہت سے تلخ حقائق پر سے بھی پردہ اُٹھا گیا۔ اس خوش حال دیہات میں زندگی کے ایسے چُبھتے رنگ اور اُلجھے دھاگے بھی ملے جن ۔کا حل سوائے سمجھوتے کے اور کچھ نہ تھا۔
یکم جون2013
(جاری ہے )
اس سے منسلک بلاگ ۔۔
٭میکن ایک تاثر (1) پہلا حصہ
٭ میکن ایک تاثر(3) تیسرا اور آخری حصہ ۔۔۔۔۔

1 تبصرہ:

  1. بہت خوبصورت عکاسی کی ہے آپ نے انمول جزبوں اور کھرے لوگوں کی

    جواب دیںحذف کریں

گوگل اورگاڈ - مجیب الحق حقی

گوگل اورگاڈ - مجیب الحق حقی بشکریہ۔۔دلیل ویب سائیٹ۔۔اشاعت۔۔11نومبر 2017۔ خدا کی قدرت اتنی ہمہ گیر کس طرح کی ہوسکتی ہے کہ کائنات کے ہر ...