منگل, جون 04, 2013

" میکن ایک تاثر " (1)

یکم جون 2013 کوضلع گجرات کے ایک گاؤں کی سفرداستان"۔ "
چلے جاؤ ۔۔۔۔۔۔  اس سے پہلے کہ جانا پڑجائے
دے دو    ۔۔۔۔۔۔  اس سے پہلے کہ لے لیا جائے
 لے لو     ۔۔۔۔۔۔  اس سے پہلے کہ زبردستی لینا پڑجائے
جذب کر لو۔۔۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ پتھر بن جاؤ
 بہت بار پڑھا کئی بار سُنا کہ
 "جنےلہور نئیں ویکھیا او جمیا ای نئیں "
 لیکن آج اپنے پنجاب کے ضلع گجرات  کے ایک گاؤں میں اُس کی تازہ ہوا اور قدرتی ماحول میں سانس لیتے بےساختہ نکلا
 "جنے میکن نئیں ویکھیا او کُج نئیں ویکھیا "
جانتی تو تھی پر آج یقین ِکامل ہو گیا کہ
جنت واقعی دوقدم کے فاصلے پرہوتی ہے اور ہم پہلا قدم ہی نہیں اُٹھا پاتے اور اُس کو ایک داستان ِالف لٰیلی کی طرح سنتے اور اُس کی چاہ میں مر مر کر جیتے جاتے ہیں ۔
خوبصورتی واقعی ہمارے اندر کے حُسن کا نام ہے اور ہم اَسے دور دراز آئینوں میں کھوجتے اور پانے کی حسرت لیے دُنیا سے رُخصت ہو جاتے ہیں ۔
 لفظ واقعی قوت ِاظہار کا طاقتور ذریعہ ہیں لیکن احساس کی گہرائی اورطمانیت کی لہر کو قلمبند شاید ہی کوئی مکمل طورپر کر سکے۔
ایک مکمل اورآرام دہ گھرجس کا ایک اِک گوشہ اپنے مکینوں کے ذوق ِنظراوردُوراندیشی  کی خوشبو سے مہکتا دیدہ دل فرش ِراہ کیے ہوئے ہے۔ سادگی سے چیزوں کی اصل کے بھید کھولتے مکین ہمیں ہماری خود ساختہ معاملہ فہمی اور عقل مندی کی داد دیتے نظرآئے۔ ہم شہروں میں رہنے والے خیالوں ہی خیالوں میں نہ جانے کس گوشۂ عافیت کے خواب دیکھتے ہیں اپنی پہنچ سے دُور۔ نہیں جانتے کہ آنکھ کھول لیں تو خواب کی تعبیر بھی مل سکتی ہے۔
 کل ایسا ہی ہوا باتوں باتوں میں دوست نے اُداسی سےکہا"مجھے گاؤں جانا ہے تم سے مل نہ پاؤں گی" تو نہ جانے کیوں میں نے فوراً کہا مجھے بھی جانا ہے،میں نے کبھی کوئی پنجاب کا گاؤں قریب سے نہیں دیکھا،اُسے محسوس تو کیا ہے مگر اس کی خوشبو جذب نہیں کی۔ قبولیت کا کون سا لمحہ تھا کہ اگلے روزاُس کے ہمراہ اُس کے گاؤں کے گھر میں تھی ۔ وہاں سب ویسا ہی تھا جیسا میرے خواب میں تھا ۔ جدید طرز ِزندگی کے لوازمات سے آراستہ خالص اور قدرتی رنگوں کی تاثیر سے بھرپور۔
میں گھر سے صبح سویرے چائے کا کپ پی کرنکلی اور وہاں جا کر پہلی فرمائش صرف خالص دودھ کی تھی وہ بھی بغیر چینی کے۔۔۔ میں اُس میں سے اُس کی اصل کشید کرنا چاہتی تھی ۔
گھرکے کُھلے کُھلے دالانوں میں جون کی گرم دوپہر منہ چھپائے پھرتی تھی اور پاپلرکے سایوں میں  فراٹے بھرتی ہوا میرے گال چومتی خوش آمدید کی صدائیں دیتی تھی ۔ آزادی ،تنہائی اور ملکیت کا امتزاج میری آنکھوں کو نم ہونے سے روکتا تھا - دُنیا میں خوشی اور سکون اتنی آسانی سے اور بےمول بھی مل جاتا ہے مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہ آتا تھا۔یہ کیسی قید تھی جس سے فرار کی خواہش دل بےچین کر دیتی تھی -ابھی میں پیچھے رہ جانے والے رشتوں اور تعلقات اورواپسی کے سفر کو سوچنا بھی نہیں چاہتی تھی۔ یہ وقت یہ لمحہ میرا تھا میرے لیے تھا۔ میں وہ شہزادی تھی جس نے جو چاہا پا لیا ،بھوک پیاس سے بے نیاز صرف اس منظر کو زیادہ سے زیادہ سمیٹنے کی ہوس تھی اور لفظ میرے ہمسفر تھے۔ مجھے اکثر اپنا آپ اُس سیاست دان کی طرح لگتا تھا جو رہتے تو ائیرکنڈیشنڈ محلوں میں ہیں اور غریبوں کی ہمدردی میں تقریریں کرکے میلہ لُوٹ لیتے ہیں۔

پرآج بخت بھی میرے لیے اس دیہاتی ماحول میں ہرطرف آسائشوں کی مہمان داری کرتا تھا۔ چھوٹی الائچی کے پودے کے پتےمیرے ہاتھوں کو چھوتے تھے۔۔۔تو کہیں کالی مرچ کے درخت کی پتیاں مجھے اُس کی کہانی سناتی تھیں اورمیں 'سکھ چین' کے سایوں میں قدرت کی کاری گری پر سجدۂ شکر ادا کرتی تھی ۔ پودوں سے باتیں کرتے ہوئے مجھے بتایا گیا کہ چند برس قبل یہاں ایک کیکر کا درخت ہوا کرتا تھا جس پرانگور کی بیل چڑھتی گئی قسمت سے بےپروا یہاں تک کہ جب بارآور ہوئی تو پتہ چلا کہ کیکر پر انگور کبھی نہیں پنپ سکتا ۔ اس لمحے دیکھنے والوں نے دیکھا کہ کس طرح کیکر کے کانٹے انگور کے خوشوں کوزخمی کرتے تھے مجھے بے اختیار 'میاں محمد بخش 'کے لازوال اشعار یاد آگئے۔
نیچاں دی اشنائی کولوں تے فیض کسے نئیں پایا
ککر تے انگور چڑھایا ہر گُچھا زخمایا
 سچ ہے کہ محبت پانا بھی ہر کسی کا نصیب نہیں اور ہر ایک اس کا اہل بھی نہیں ہوتا بلکہ نااہل محبت کی نرمی اور نازکی کو اپنے کُھردرے پن سے زخمی ہی کر دیتا ہے- محبت کی بیل بھی صرف اُن کاندھوں پر چڑھتی ہے جو اسے سنبھالنے کا قرینہ جانتے ہوں۔ جو محبت کا بوجھ سہار سکے محبت کی خوشبو اوراُس کا رس اُسی کا مقدر ہے۔
یکم جون ،2013
(جاری ہے )
(میکن--- جی ٹی روڈ سے متصل لالہ موسیٰ اور گجرات کے سنگم پر واقع ایک گاؤں)
اہم بات
 یہ تقریباً چوبیس گھنٹوں پر محیط میرے شب وروز کی کہانی ہے جو انجان زمینوں پرانجان چہروں کے درمیان میری زندگی کی کتاب میں شامل ہوئی۔اس اجنبی ماحول میں بھرپور اپنائیت ملی اوراُس سے بڑھ کر قلم نے جس رفتار سے میری سوچ کا ساتھ دیا وہ میرے لیے زندگی کا یادگار تجربہ تھا ۔ میں وہ ناتجربہ کار فوٹوگرافر تھی جو صحیح طور پر فوکس کرنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتا لیکن پھر بھی سوچوں کی یلغارکے ہر ہر لمحے کو یوں چابکدستی سے کاغذ پر اتارتی کہ لکھنے کی لذت میں اپنا آپ بھول جاتی۔
۔۔۔۔۔
 ٭میکن ایک تاثر (2) ۔۔دوسرا حصہ

٭ میکن ایک تاثر(3) تیسرا اور آخری حصہ




1 تبصرہ:

  1. آپ کی تحریر بہت پر اثر اور جاندار ہے _ کیا آپ کسی اخبار یا میگزین کیلیے بھی لکھتی ہیں ؟؟

    جواب دیںحذف کریں

"دلیل" اور"کارواں بنتا گیا"

تئیس جون 2017 بمطابق   ستائیس رمضان المبارک1438 ھ کو دلیل ویب سائیٹ کے قیام کو ایک برس مکمل ہوا۔ اس ایک   برس کے دوران "دلیل ویب س...