صفحہِ اول

اتوار, مئی 19, 2013

" اجنبی "

وہ ایک دوسرے کی محبت نہیں تھے دُور بہت دور لمس سے پرے الگ الگ دُنیاؤں کے باسی ۔
وقت کی سوئیاں بھی گھڑی کی ٹک ٹک کی طرح مطابقت نہ رکھتی تھیں،زمانے کی گردش بھی یکساں نہ تھی ۔ کچھ بھی تو مشترک نہ تھا پھر کیا ہوا کہ وہ قریب آگئے بہت قریب آئے تو پتہ چلا محبت نہیں ،محبت کی پیاس تھی جو محبتوں کے اندر ڈھونڈتے تھک چُکے تھے پانی کے اندر رہ کر بھی پانی کے لمس کو ترسے ہوئے تھے۔ چاہتوں کی بارشیں ،رفاقتوں کی نرم پھوار بھی اُن میں بسی تشنگی مٹانے سے قاصر تھی ۔ ایک سفر تھا جو طے نہیں ہو رہا تھا ۔ زندگی کی بھول بھلیوں میں بند گلی کے کنارے یوں ملے کہ روزن میں در تو نظر نہیں آیا لیکن تازہ ہوا کی خوشبو ضرور محسوس ہوئی  ۔ اب جانا کہ محبت راہ میں نظر آنے والا بےپروا پھول نہیں کہ جب گُزرے کالر پرسجا لیا بنا کسی سے اجازت لیے -محبت وقت کی وہ رنگین تتلی بھی نہیں جسے ایک پل کو مُٹھی میں لے کر خوش ہو جائیں اور جب مٹھی کھلے تو نہ تتلی باقی رہے نہ رنگ ۔
"محبت تو راستے میں ملنے والا وہ خوشنما پھول ہے جو ذرا دیر کو قدم روک تو لیتا ہے لیکن اپنی ساری خوشبو رگوں میں اُتار کر نئی منزلوں کی جانب رواں دواں کر دیتا ہے ۔
 محبت وہ دلپذیر تتلی ہے جس کے پیچھے کچھ دیر بھاگنا اچھا لگتا ہے
 سب بھلا کر اُُس کو چھونے کی خواہش کرنا اچھا لگتا ہے
اور جب وہ اُڑ جائے تو ذرا دیر کو اُسے کھوجنا بھی اچھا لگتا ہے
لیکن پھر حقیقت کی دُنیا میں آکر اپنے آپ پر مُسکرانا بھی اچھا لگتا ہے۔
 "محبت خوشی ہے اورکچھ بھی نہیں جو دینے سے بڑھتی ہے اورچھپانے سے چھپتی نہیں لیکن اداس ضرور کر دیتی ہے "

کوئی تبصرے نہیں :

ایک تبصرہ شائع کریں