صفحہِ اول

منگل, مئی 28, 2013

" برف لہجے "

"کسی کے لفظ "
اُسے میں نے ہی لکھا تھا کہ 
لہجے برف ہو جائیں 
تو پھر پگھلا نہیں کرتے
پرندے ڈر کےاُڑ جائیں
تو پھر لوٹا نہیں کرتے
اُسے میں نے کہا تھا
یقیں اُٹھ جائے تو شاید
کبھی واپس نہیں آتا
ہواؤں کا کوئی طوفان
کبھی بارش نہیں لاتا
اسے میں نے ہی کہا تھا
کہ شیشہ ٹوٹ جائے تو
کبھی پھر جُڑ نہیں پاتا
جو راستے سے بھٹک جائے
وہ واپس مڑ نہیں پاتا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"میرا کہنا "
تم نے کہا تھا خوب کہا تھا
لہجے برف ہو جائیں تو برف
سدا پاس کیسے رہ سکتی ہے
پرندے اُڑ جائیں تو
آسماں خالی کبھی نہیں رہتا
یقیں اُٹھ جائے
تو پھر راستہ بدلنا پڑتا ہے
ہواؤں کا طوفان یقیناً بارش نہیں لاتا
لیکن
اپنے ساتھ برسوں کی جمی تشنگی
بھی لے ہی جاتا ہے
تم نے کہا تھا خوب کہا تھا
لیکن تم نہیں جانتے
شیشہ ٹوٹ جائے
تو اُس کی کرچیاں زخمی ہی کرتی ہیں
درد ہی دیتی ہیں
محبت اتنی نازک تو نہیں کہ نارسائی کے کرب سے ٹوٹ جائے
محبت آئینہ ہے جو اگر ٹوٹ بھی جائے
تو اُس کے ہر ٹکڑے پر اپنا عکس مل ہی جاتا ہے
سنو ٹھہرو
ذرا اِک آخری بات بھی سن لو
وہ رستہ تمہارا تھا ہی نہیں
وہ نگرتمہارا تھا ہی نہیں
جس رستے پر چلتے چلتے
 تم دل اپنا گنوا بیٹھے

1 تبصرہ :

  1. so nic sharing...incredible...just awesomwe piece of poetry...maza aa gia ...superb..Wah Noureen Aapa..

    جواب دیںحذف کریں