صفحہِ اول

جمعہ, مئی 24, 2013

"قربت،خوف اور اُمید"

  اکثر ہم کسی سے بہت دُور ہوتے ہیں لیکن بہت قریب دکھتے ہیں اورجب قریب آ جاتے ہیں اتنا قریب کہ لمس کی حدّت سے پگھلنے لگتے ہیں تو درحقیقت  زمانوں کی دوری پرہوتے ہیں۔وہ لوگ جو ہمارے دل  کے قریب ہوتے ہیں جب ہمارے قریب آتے ہیں تو یا تو دل میں اُتر جاتے ہیں اور یا دل سے اُتر جاتے ہیں۔ اس لیے کسی کے ہمیشہ ساتھ رہنے کی آرزو ہے تو اُس کے قریب مت جاؤ۔۔۔ اُس کوتلاش نہ کرو۔۔۔اُس کو سمجھو نہیں۔۔۔ بلکہ محسوس کرو ایک مقدس کتاب کی طرح دل کے معبد میں اونچے مقام پرسجا دو- انسان سے مل کر اُس کو سمجھنے لگ گئے تو راستہ دُشواراورسفرطویل ہو جائے گا-
 لیکن کیا دشوار گُزار راستوں کے ڈرسے اورسفر کی طوالت کے خوف سے قربت کی خواہش کو ترک کر دیا جائے؟- جو پیارے دھڑکن دھڑکن ہمارے وجود میں گونج رہے ہوتے ہیں اُن کے قریب جانے یا اُن کو قریب کرنے کی فطری خواہش کو اندیشوں کی نظر کر دیا جائے ؟ نہیں بلکہ کبھی کسی بھی طلب سے بے نیاز ہو کر اُن کو قریب کر کے یا اُن کے قریب ہو کر دیکھو۔۔۔تو اندازہ ہوتا ہے کہ اُجلی اور کھری محبتوں کا کوئی مول نہیں-کبھی قربت دُکھ بھی دے دیتی ہے اَن جانے میں ہی سہی۔ یہ خوف ہماری زندگی کہانی ہے- یہی خوف ہمارا محافظ بھی ہے اوررہنما بھی۔ ستم یہ کہ ہمارا دُشمن بھی یہی خوف ہے جو ہمیں اپنی مرضی سے زندگی کے رنگ  چُرانے نہیں دینا۔اصل ہنراِسی خوف کے ساتھ جینا ہے جو آجائے تو سب خوف دُور بھاگ جاتے ہیں-
حرفِ آخر
 " قربت اور خوف لازم و ملزوم ہیں کسی بھی تعلق کی مضبوطی اوربناوٹ میں خواہ وہ انسانوں سے ہو یا اللہ سے"
اہم بات
جو گمان اللہ سے ہو وہ بندوں سے ہو ہی نہیں سکتا ، خوف اور اُمید ہر حال میں صرف اللہ کی سزا وجزا سے مشروط ہونا چاہیے۔ جب کہ ہم دنیاوی معاملات میں بندوں سے خوف کھاتے ہیں اور اُن سے ہی اُمیدیں وابستہ کیے رہتے ہیں پھر کیونکر مطمئن ہو سکتے ہیں جب ہماری سمت ہی درست نہیں تو منزل تک کیسے پہنچ سکتے ہیں۔


1 تبصرہ :