بدھ, مئی 15, 2013

" ایک سندیسہ "

  نامہ مِرےنام۔۔۔
"وہ اچانک میری شاخ پرآ بیٹھی ۔۔۔ چہچہاتی ہوئی ۔۔ پیاس تھی شاید اُسے۔۔۔ جو اُسے چاہیے تھا وہ تو شاید میں اسے دے نہیں پایا۔۔۔ لیکن اُس نے اپنی جگہ خود ڈھونڈ لی ۔۔۔ اس کو یہ مقام پسند آگیا ۔۔۔ اب وہ روز اپنی پسندیدہ جگہ پر آبیٹھتی ہے۔۔۔ اور مجھـ بےجان سے باتیں کرتی ہے ۔۔۔ میں اس کی باتیں سُنتا رہتا ہوں ۔۔بہت کچھـ سُنانا بھی چاہتا ہوں لیکن میری زبان کُنگ ہو جاتی ہے۔۔۔عادت جو نہیں کچھـ کہنے کی ۔۔۔ مجھے اس کی باتیں سننا اچھا لگتا ہے۔۔۔اس کو سایہ دینا اچھا لگتا ہے ۔۔۔ اس کی مدھراہٹ  کوبہ کو پھیلی اچھی لگتی  ہے ۔۔۔ اور جب وہ اپنے گھونسلے کی جانب اُڑ جاتی ہے۔۔۔اور میرے سائے ہمیشہ کی طرح پھیلنے لگتے ہیں تو مُجھے اس کی غیر مو جودگی میں اس کی آواز سنائی دیتی ہے ۔۔۔ میں ڈھونڈتا ہوں اسے ۔۔۔ چیختا  ہوں،چلاتا ہوں کہ واپس آؤ میری بات تو سُن لو۔۔۔ لیکن جواب نہیں ملتا ۔۔۔ میں دو آنسو بہاتا ہوں اورسوچتا ہوں کہ اب کہ میری شاخ پر جب چراغاں ہو گا تو بہت سی باتیں کروں گا ۔۔۔اپنا ہر غم دکھا دوں گا ۔۔۔اپنا سارابوجھـ اتار دوں گا ۔۔۔ اپنی ساری تاریکی مٹا دوں گا ۔۔۔ 
پھر جب وہ واپس آتی ہے۔۔۔اور حال احوال پوچھتی ہے۔۔۔ تو میں روز کی طرح اپنا خود سے کیا ہوا وعدہ بھول جاتا ہوں ۔۔۔ اور اس کی سننے میں مگن ہو جاتا ہوں ۔۔۔اس کا انداز ِتخاطب مجھے اپنے سارے دُکھـ ،سارے غم بھلا دیتا ہے۔۔۔ میرا دل چاہتا ہے کہ وہ کہتی جائے اور میں سنتا رہوں خاموشی سے کہ اس کا ایک حرف بھی ضائع نہ ہو۔۔۔ 
میرے لیے کچھـ دیر کا یہ ساتھـ میری سانس ہے۔۔۔ جو چلتی ہے جب وہ چہچہاتی ہے ۔۔۔ اور رُک سی جاتی ہے جب وہ لوٹ جاتی ہے۔۔۔
میں سوچتا ہوں اگر کبھی وہ مل نہ پائے ہمیشہ کے لیے کھو جائے تو کیا ہو۔۔۔ میں اپنا ایک ایسا ساتھـ کھو چکا ہوں۔۔۔ جس کے جانے کے بعد میرے جتنے آنسو تھے وہ ختم ہو گئے ۔۔۔ لیکن اُس کی یاد اب بھی ہر لمحہ ہر سانس میرے ساتھـ ہے ۔۔۔اور ہمیشہ ہمیشہ رہے گی۔۔۔ عادی ہو گیا ہوں ایک کبھی نہ ختم ہونے والی تکلیف کے ساتھـ زندہ  رہنے کا ۔۔۔عادی ہو گیا ہوں اپنے پیار کے کھونے کا ۔۔۔ وہ شعر ہے نا۔۔۔جگ نے چھینا مجھـ سے ۔۔۔ مجھے جو بھی لگا پیارا ۔۔۔ مجھـ پر ٹھیک بیٹھتا ہے۔۔۔ مجھے جو بھی پیارا لگا ۔۔۔ وہ کسی نہ کسی طرح مجھـ سے دور ہو گیا ۔۔اس لیے میں خود کسی کے بھی قریب جانے سے ڈرتا ہوں کہ میری نحوست اس کی زندگی بھی خراب نہ کر دے ۔۔۔ وہ بھی میری زندگی کا اہم حصہ بن گئی ہے۔۔۔اور اب میں ڈرتا ہوں کہ وہ بھی مجھے چھوڑ کر چلی جائے گی۔۔۔اس لیے اس کے قریب جانے سے ۔۔۔ بہت ڈرتا ہوں کہ کہیں مجھـ سے تھک کر مجھـ سےتنگ آکر وہ بھی دور چلی جائے تو ۔۔۔۔ میں اپنی نحوست کو نہیں۔۔۔ خود کو الزام دیتا رہوں گا ۔۔۔ ساری عمر۔۔۔۔۔۔۔"
 

2 تبصرے:

  1. "موسم "
    چڑیا پوری بھیگ چکی ہے
    اور درخت بھی پتہ پتہ ٹپک رہا ہے
    گھونسلا کب کا بکھر چکا ہے
    چڑیا پھر بھی چہک رہی ہے
    انگ انگ سے بول رہی ہے
    اس موسم میں بھیگتے رہنا کتنا اچھا لگتا ہے
    ( پروین شاکر ۔۔۔۔ خوشبو ۔۔۔ صفحہ 251)

    جواب دیںحذف کریں

  2. Farooq Hayat
    Oct 30, 2013
    "Happiness of Soul", by Parveen Shakir. Its one of my favs from Kushboo.
    Thanks for refreshing the melodious enchanting verses of her after so many years

    جواب دیںحذف کریں

" اعجازِآیاتِ قرانی"

٭قرآن مجید کی  سورہ الحجر(15) کی آیت (9)  میں اللہ نے حفاظت قرآن کا وعدہ لیا ہے۔ آیت ترجمہ۔"ہم نے یہ نصیحت اُتاری ہے اور ہم ہی اس کے...