بدھ, مئی 15, 2013

" درد ِزہ (1) "

سورۂ المومنون ۔23 (آیت ۔۔14)
 "پھر نطفے کا لوتھڑا بنایا ،پھر لوتھڑے کی بوٹی بنائی،پھر بوٹی کی ہڈیاں بنائیں پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھایا پھر اس کو نئی صورت میں تخلیق کیا۔اللہ سب سے بہتر بنانے والا بڑا بابرکت ہے"۔
 شکم ِمادر میں بچے کا وجود بلاشبہ اس دنیا میں اللہ کا وہ معجزہ ہے جس کے اسرار ورموز کو آج تک عقل ِانسانی چھو بھی نہیں سکی۔ اِسے ہم محض زندگی کے پردے پر چلنے والی ایک گھسی پٹی فلم کی طرح دیکھتے ہیں اور گزر جاتے ہیں۔ تحقیق کرنے والے اس کے ایک ایک منظر کی نقش بندی بڑی عمدگی سے کرتے ہیں۔انتہائی اعلیٰ درجے کے حسّاس آلات کی مدد سے مرحلہ وار واقف ہوتے ہیں یہاں تک کہ ترقی کے اس مقام پر پہنچ گئے ہیں کہ اُس بچے کی سوچ کی لہروں کو بھی محسوس کر سکتے ہیں،سوچا جائے تو ابھی تک ہم پہلے قدم سے بھی دورہیں۔ہم نہیں جان سکے کہ ایسا خودبخود کس طرح ممکن ہو جاتا ہے۔ یہ وہ راز ہے جو روزِروشن کی مانندعیاں تو ہے لیکن اندھیری رات کی طرح ہماری نظروں پر پردہ ڈالے ہوئے ہے۔ 
شاید ہم کبھی نہ جان سکیں کہ یہ اللہ کی وہ صفت ہے جس کا  اُس کی وحدت ، بے نیازی کے بعد ذکر کیا گیا ہے(سورۂ اخلاص آیت (3)"نہ اس نےکسی کو جنا اور نہ اس سے کوئی جنا گیا") اور اس کے بعد کہا گیا ہے'اس کا کوئی ہم سر نہیں(آیت 4)۔ اس لیے ہمیں وہی دیکھنا چاہیے جتنی استطاعت ہےاور وہی سوچنا ہے جہاں تک سوچنے کی صلاحیت عطا ہوئی ہے۔ ایک عظیم تخلیق کی تکمیل کے بعد اُس کو اُسی شان سے پیش کرنا اس کی عظمت پر مہر ثبت کرتا ہے۔ اس کا بھی ہماری عقل آج تک فیصلہ نہیں کر سکی کہ وہ کیا حکمت ہے کہ ایک شدید کرب اور تکلیف کے بعد بچہ اس دُنیا میں آتا ہے۔ اپنے علم کے زور پر ہم صرف یہ جان پائے ہیں کہ وہ نومولود بھی اس کرب کو محسوس کرتا ہے جس سے اُسے جنم دینے والی ماں گزرتی ہے ایک ماں سے بڑھ کر اس کرب کو کوئی نہیں جان سکتا لیکن ماں اس کرب کی حقیقت سے آگاہ ہو جائے تو ساری عمر شکر گزاری کے سجدوں سے سر نہ اُٹھائے یہ وہ سبق ہے جو دُنیا کے کسی ادارے تو کیا گیان کے کسی موتی میں بھی نہیں سما سکتا ۔
درد ِزہ اصل میں عالم ِنزاع کے مثل ہے۔ اس پرغور کریں تو حد درجہ مماثلت عقل کُنگ کر دیتی ہے۔"درد ِزہ" کیا ہے؟ ایک روح کا جسم کی قید سے نکل کر آزاد ہونا۔۔۔ایک روح کا ہمیشہ کے لیے اپنا مسکن چھوڑ دینا اور ایک نئے وجود کی صورت میں نئی زندگی کا آغاز کرنا۔ وہ گھر جہاں جنم لیا،زندگی کا پہلا سانس لیا،اپنی کُل کائنات۔۔۔ جو صرف اُس روح اُس جسم کے لیے تخلیق کی گئی تھی اُس کو یک لخت یوں چھوڑ جانا جیسے کوئی واسطہ ہی نہ تھا،کبھی ملے ہی نہ تھے۔اُن ریشمی لمحوں کو بُھلا دینا جب قدرت دھیرے دھیرے زندگی کے رنگ لگا رہی تھی۔آنے والی زندگی کی بےقراری میں جلدازجلد اس قید سے نکل جانے کی سعی کرنا۔ محبتیں چھوڑنا آسان نہیں ہوتا وہ وجود میں سرایت کر کے اُس کا حصہ بن جاتی ہیں اس لیے جب روح تن سے جُدا ہوتی ہے تو بہت شور کرتی ہے،چیختی چلاتی ہے نہیں جانتی کہ آگے وہ زندگی منتظر ہے جس کا تصور اُس کے خواب میں بھی نہیں آسکتا۔
 یہ تو اُس روح کی کہانی تھی جو ان جان ہوتی ہے،جسے طلب ہوتی ہے تو بس یہ کہ اپنے اصل سے مل کر مکمل ہو جائے، ہمیشہ کے ابدی گھر میں قرار پا جائے۔ لیکن وہ جسم جس سے یہ روح باہر نکلتی ہے وہ اپنی متاع چھن جانے کا سوگ مناتا ہے،اُس کی دُنیا اندھیر ہو جاتی ہے اُس وقت کسی پل چین نہیں آتا،نہ روکنے کا اختیار اور نہ خاموش رہ کر اُس کے جانے کا انتظار۔لگتا ہے قیامت کا یہ لمحہ بہت طویل اور کبھی نہ ختم ہونے والے قیامت کے دن میں تبدیل ہو گیا ہو۔ہم نہیں جانتے کہ وقت سب بہا لے جاتا ہے جو باقی بچتا ہے وہ ہماری سوچ ہوتی ہے جس پر حیرانی بھی ہوتی ہے کہ بعد میں ہم اپنی ڈگر پر واپس آجاتے ہیں سب بھول جاتے ہیں۔
 دردِزہ اور حالت ِنزاع میں فرق ہے تو صرف اتنا کہ اُس وقت ہمارا جسم اس تکلیف کو برداشت کر کے ایک نئی روح نئے جسم کو پانے کی سرشاری میں مبتلا ہو جاتا ہے جبکہ حالت ِنزاع میں ہم نہیں جان سکتےکہ ہمارے جسم پر کیا بیتتی ہے جب وہ اس کرب سے گزرتا ہے۔اللہ تعالٰی ہمیں موت کی سختی سے بچائے یہ ایک نئی منزل کی جانبپہلا دروازہ ہے، اس سے سر اُٹھا کر گزر گئے تو اللہ پاک کی ذات سے اُمید ہے کہ آگے بھی آسانی ہو گی۔آمین یا رب العالمین۔
منسلک پوسٹ۔۔۔دردِ زہ (2)

2 تبصرے:

گوگل اورگاڈ - مجیب الحق حقی

گوگل اورگاڈ - مجیب الحق حقی بشکریہ۔۔دلیل ویب سائیٹ۔۔اشاعت۔۔11نومبر 2017۔ خدا کی قدرت اتنی ہمہ گیر کس طرح کی ہوسکتی ہے کہ کائنات کے ہر ...