جمعرات, اپریل 25, 2013

کبھی ہم نہیں کبھی تم نہیں

کبھی ہم نہیں کبھی تم نہیں
 یہ فاصلے پھر بھی کم نہیں
ذرا پلٹ کے دیکھ تو
دل پہ کیا کیا رقم نہیں
 اُسے پا لیا اُسے کھو دیا
وہ قریب تھا محرم نہیں
سماعتوں پہ برس گیا
لمس پہ جو کرم نہیں
 اُسے بھولنا محال ہے 
وہ دیار ہے حرم نہیں

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

"دلیل" اور"کارواں بنتا گیا"

تئیس جون 2017 بمطابق   ستائیس رمضان المبارک1438 ھ کو دلیل ویب سائیٹ کے قیام کو ایک برس مکمل ہوا۔ اس ایک   برس کے دوران "دلیل ویب س...