جمعرات, اپریل 11, 2013

" قربت ایک افسانہ ایک حقیقت "

 اُس کی قربت بھی عجیب تھی۔۔۔جب لمس کا رشتہ قربت کی گواہی دیتا تو نظریں چُرائے دھیرے دھیرے اس کے لب ستارے یوں ثبت کرتے گویا ایک مُرید کسی گدّی نشیں کے سامنے دست بستہ حاضری دے رہا ہو۔ وہ اِن ریشمی لمحوں کو اپنے لمس کے کُھردرے پن سے بچاتا ہاں اورناں کے بیچ یہ پل گُزار دیتا۔ اس کی بولتی آنکھیں جُگنوؤں کی طرح چمکتیں۔ اُن نظروں کی ٹھنڈک وجود کی حدّت کم کر دیتی۔ اور وہ خوشبو کی طرح بدن کو چھو کریوں گزرجاتا کہ کبھی شناسا ہی نہ تھا۔جب اُس کی آواز سوچ کی لہروں کو چھوتی تو ایک اجنبی لہجہ اپنانے کی ناکام کوشش کرتا۔۔۔ کسی انجان مہربان کا جو زندگی کے پلیٹ فارم پر پل دوپل ملے۔گاڑی آتی دیکھ کرلپک کر ہاتھ ہلاتا سوار ہو جائے اوربہت کچھ  کہی ان کہی رہ جائے۔
اُس کی آواز میں کچی مٹی کی مہک اُترتی تھی۔ وہ مسیحا  کا روپ دھارے حال احوال پوچھتا۔۔۔ موسم پر باتیں کرتا اوراندر کے موسم کو جان بوجھ کر نظر انداز کرتا یکدم  کسی فرضی ایمرجنسی کال کا بہانہ کر کے ایسے بچھڑ جاتا کہ جیسے کبھی ملا ہی نہ ہو۔ پرجب حرف کا حرف سے ملاپ ہوتا تو وہ اپنے پورے جوبن پرہوتا۔۔۔ بہت کچھ کہنااوربہت کچھ سننا چاہتا۔۔۔اپنے حرف حرف کی چاشنی اُنڈیلتا۔۔۔جذبوں کی شدّت لفظوں میں یوں پروتا کہ بدن کی پورپورگلاب بن جاتی۔ وہ سب بُھلا کراس طور ملتا کہ سب گِلے شِکوے ہوا ہو جاتے۔اس کی قربت کی سرشاری وقت کو لگام ڈال دیتی کہ جیسے کائنات میں صرف دو وجود ہوں جو ایک دوسرے کے لیے بنے ہوں۔ پھر وقت کی تلوار آڑے آجاتی ادھوری باتیں ادھورے لمس کا جواز بن جاتیں۔ یہ بھی بہت تھا کہ بیج کی بارآوری یا سیپ میں بند قطرے کے گُہر بننے کے لیے برستی بارش نہیں بلکہ ایک قطرہ ہی کافی ہوتا ہے اور تشنگی تو قسمت ہے بچھڑنا تو حق ہے اس سے کیا جھگڑنا۔

1 تبصرہ:

  1. بعض وقت کوئی ملکر بھی نہ ملتا ہے اور بعض وقت کوئی جدا ہوکر بھی ساتھ ہی رہتا ہے۔۔۔۔
    بہت اچھے الفاظ کی مالا پرویا ہے آپ نے،واہ مزہ آگیا پڑھکر

    جواب دیںحذف کریں

"ہم سے پہلے"

۔"ہم سے پہلے"۔۔۔کالم جاویدچودھری۔۔۔جمعرات‬‮ 72 جولائی‬‮  بھارت کے کسی صحافی نے اٹل بہاری واجپائی سے جنرل پرویز مشرف کے بارے میں ...