جمعہ, اپریل 12, 2013

" دیوی "

  • ایک دفعہ کا ذکرہے۔ ایک دیہاتی لڑکا تھا۔ شہرمیں پلا بڑھا۔ کچی مٹی کی مہک اس کے اندراُترتی تھی جسے وہ خود سے بھی چھپاتا۔ پھراُسے ایک شہری لڑکی سے محبت ہو گئی ۔ وہ لڑکی انجان تھی اپنی دُنیا میں گم۔ وہ کبھی اُس سے  بھاگتا کبھی خود سے۔اس نے فرار کے لیے لفظوں میں پناہ لی اور لفظ دوست بن گئے۔ بڑا آدمی بن گیا۔ ساری دنیا  توگھوم آیا پراپنے دل کی نگری سے بےخبرہی رہا۔ نہ جانے کب اور کس طرح ریاضی اورسائنس نصاب میں پڑھتے پڑھتے اُس شہری لڑکی میں کُنڈلی مارکربیٹھ گئے۔محبت اس کے لیے ریاضی کا کُلیہ ہوتی تو کبھی کیمیا  کا فارمولا۔۔۔ کبھی وہ طبعیات کے کسی قانون کےتحت اُسے سمجھنے کی کوشش کرتی ۔ وہ محبت کو زندگی جانتی تھی ۔اسی لیے زندگی کے ہررنگ میں محبت  تلاشتی ۔ سائنس تو اُس نے بھی پڑھی تھی پروہ فارمولوں اور کُلیوں  سے آگے بڑھ کر جسم کا مسیحا بن گیا۔۔۔ ایک مہربان لمس جو نبض دیکھ کربدن کی زبان جانچ لیتا۔ اپنے پاؤں کے چھالوں کو بُھلانے کی سعی میں اپنے بدن کی پُکارسے غافل ہوتا گیا۔ محبت اس کے لیے جسم تھی جسے وہ ایک خواب ِپریشاں  کی طرح جتنا جھٹکتا اُتنا وہ اُسے اپنی طرف کھینچتی۔اُسے معلوم نہ تھا کہ وہ سفرکی کس منزل پرہے۔ محبت کی اس خوشبو کو کبھی دیوی کا نام دیتا۔۔۔کبھی جان کہتا۔۔۔ اورشہری لڑکی اِن لفظوں کی مٹھاس میں اپنا سب کچھ وار دیتی۔ پراُس کے اندرکا نصاب لڑتا کہ دیوی تو پتھر کا نام ہے جو ہر احساس سے عاری ہے۔۔۔ جان کیوں کہ جان تو ایک بےوفا محبوب ہے۔۔۔ جو جانے لگتی ہے تو پلٹ کر دیکھتی بھی نہیں۔۔۔جس طرح بن بلائے آتی ہے اُسی طرح بغیر کوئی وعدہ کیے لوٹ جاتی ہے۔وہ اپنی بڑی بڑی آنکھیں کھولے اُس کا فلسفہ سُنے جاتا۔وہ کمال شخص تھا جو اپنی روح سے ڈر کراپنے جسم میں چُھپتا دوسرے جسموں کا رازداں بن گیا تھا۔ وہ واقعی دیوتا سمان تھا۔۔۔ پریہ بات اُس سے کیسے کہہ دیتی کہ وہ خود بھی ایک دیوی تھی۔ جس کے بُچاری اندھی عقیدت میں ڈوب کر اُس کے چرنوں میں اپنی جان مال نچھاور کرتے اورمراد پاتے۔ دیوی جانتی تھی کہ وہ محض پتھر ہے۔۔۔ جو ایک جگہ ایستادہ ہے۔۔۔ اس کی تو اپنی زندگی وقت کے کلہاڑے کی زد میں ہے۔۔۔ اس کی دینے کی اوقات کہاں۔۔۔ یہ مالک کا کرم ہے کہ ذرّے کو آفتاب بنا دےاور پتھرمیں رزق عطا کرے۔وہ اسے کیسے بتاتی کہ دیوی بنایا تو دیوی پتھر ہے اور کچھ بھی نہیں۔خاص کہا تو خاص اس وقت تک خاص ہے جب تک  اس کو ماننے والوں کی دستِ طلب کا کاسہ سلامت ہے۔ لیکن پتھر بھی لمس کا یقین چاہتا ہےاوراپنے خاص ہونے کا یقین بھی۔ لمس صرف جسم نہیں روح بھی ہے۔جسم حقیقت ہے اس سے فرار نہیں لیکن روح کی سچائی اور اس کی طلب سے بھی آنکھ بند نہیں کی جا سکتی۔





کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

گوگل اورگاڈ - مجیب الحق حقی

گوگل اورگاڈ - مجیب الحق حقی بشکریہ۔۔دلیل ویب سائیٹ۔۔اشاعت۔۔11نومبر 2017۔ خدا کی قدرت اتنی ہمہ گیر کس طرح کی ہوسکتی ہے کہ کائنات کے ہر ...