صفحہِ اول

جمعرات, اپریل 11, 2013

" بُری باتیں "

وہ  ایک اچھا انسان تھا لیکن یہی کہتا کہ بُری باتیں کرتا ہوں۔ وہ ایسی  باتیں صرف  اُسے ڈرانے کے لیے یا آزمانے کے لیے کرتا تھا۔ جب ملتا تھا تو کچھ بھی نہ کہتا ۔۔۔اچھی بات نہ بُری بات۔
اوروہ حیران پریشان اچھی اوربری باتوں کے بیچ اُسے ڈھونڈتی تھک جاتی۔۔۔ وہ کہیں نہ ملتا۔ ادھوری باتیں کرتا۔۔۔ کبھی لکھ لکھ کرمٹاتا جاتا۔۔۔ نہ جانے اچھی بات تھی یا بری بات؟۔ جو لکھتا وہ کبھی نہ کہتا اورجو سوچتا وہ کبھی نہیں بتاتا تھا۔اسی لیے اس پر یقین نہ آتا۔ بس یہی کہتا میں بُرا آدمی ہوں اورتم مجھے بری باتیں کرنے کہاں دیتی ہو۔ حالانکہ  سارے اختیارات اس کے پاس تھے پھر بھی  ناراض ہی رہتا یا شاید خفا ہونے کی اداکاری کرتا۔ لیکن وہ ایک اچھا اداکار نہیں تھا۔ وہ بہت کنجوس بھی تھا کہ  نہ درد بانٹتا اور نہ خواب۔ بےخبر نہیں جانتا تھا کہ محبت تو بانٹنے کا نام ہے۔۔۔ محبت خوشبو ہےجس پر ہرایک کا حق ہے اور وہ اس خوشبو کو اپنی نظروں سے بھی چھپانا چاہتا اِسی لیے تو بوجھ سے نڈھال تھا۔ نہیں جانتا تھا کہ خوشبو کا موسم بیت گیا تو یہ خواب لمحے لوٹ کرنہ آئیں گے۔۔۔ وقت اِسی طرح گزرجائے گا اچھی اوربُری باتوں کے بیچ۔ اورکون کس کے پاس ٹھہرا  ہے نہ رات بھر نہ عمر بھر۔
وہ اُن لوگوں میں سے نہ تھا جو اچھی باتیں کرتے ہیں۔۔۔ اپنے لفظوں سے مُسخر کرتے ہیں اور پھر اپنے عمل سے سب چھین لیتے ہیں۔۔۔ مال متاع عزت دولت۔ وہ ایک عام انسان تھا جوبہت خاص تھا۔وہ کوئی شاطر سیاست دان بھی نہ تھا جو خاص نظر آتے ہیں قریب سے دیکھا جائے تو انسانیت کے نچلے درجے سے بھی گرے  ہوتے ہیں۔۔۔جس تھالی میں کھاتے ہیں اُسی میں چھید کرتے ہیں۔۔۔اپنی بقا کی خاطر اپنے بچوں کو حرام کا لقمہ کھلاتے ہیں۔۔۔اُن کے فہم پر ترس ہی کھایا جاسکتا ہے۔۔۔ جھگڑا نہیں جاسکتا۔
 بُری بات کبھی اپنے اندر نہ پنپنے دو۔ بُری باتیں اگر اپنے اندر چُھپا کر رکھی جائیں تو ناسور بن کر ایک لاعلاج مرض کی طرح ہمارے وجود میں پھیل جاتی ہیں،بُری باتیں اگر کسی اچھے کےساتھ بانٹ لی جائیں تو وہ ان میں سے اچھائی نکال کر اُن کو مہکا دیتا ہے جبکہ بُری باتیں بُرے کےساتھ کی جائیں تو وہ اُن کا میل زمانے میں پھیلا کردنیا وآخرت کی رسوائی کا سبب بنا دیتا ہے۔
 بات صرف بات ہوتی ہے ایک بےضرر قول ہم اپنے انداز ِتخیّل سے اُس کو اچھا یا بُرا بنا دیتے ہیں۔
اپنے مالک سے ہر بات کہو وہ خود تمہیں اچھے برے کا فرق بتا دے گا۔
راز کی بات!
وہ برا نہیں تھا۔۔۔ وہ خود ہی کچھ عجیب تھی۔۔۔ اُس کے اندرایسی کشش تھی کہ اُس کے قریب آنے والا اپنا مدار چھوڑ کر اُس کے مدار میں محوِرقص ہونے پر مجبور ہو جاتا۔ نہ جانے اُس کے لمس میں کیا ایسا تھا کہ نہ چاہتے ہوئے اورنہ مانتے ہوئے کوئی اپنا آپ بھول جاتا۔۔۔ رُتبہ ،منصب،نام،مقام سب کچھ۔۔۔ اور اُس کی سادگی یہ راز کبھی نہ کھولتی ۔۔۔ڈوبنے والا اپنے آپ کو ہی قصوروار گردانتا۔
انسانی فطرت کے یہ  مانوس چہرے اسے ہرموڑ پرملتے۔۔۔ اخلاقی  قدروں کی بے قدری  دیکھ کراُسے دکھ بھی ہوتا۔وہ سمجھتی سب تھی۔۔۔ ہر رشتے ہراحساس کو جھٹلاتی نہ تھی۔ وہ ہرگام پر عقل کو اولیت دیتی۔۔۔ دوسروں سے بھی توقع رکھتی کہ اپنے شرف کو پہچانیں۔۔۔ اپنے ظرف کا احساس کریں اور وقتی تسکین کی خاطر ہمیشہ کی ذلت کا سودا نہ کریں۔
ڈوبنے والوں کو بچانا چاہتی ۔ کنارے پر پہنچانا اس کا مقصدِحیات تھا۔وہ تیرنے والوں کو اپنا آپ سنبھالنے کا ایک موقع ضرور دیتی تھی۔پرجو خود ڈوبنا چاہے یہ اس کا نصیب۔۔۔

کوئی تبصرے نہیں :

ایک تبصرہ شائع کریں