اتوار, مارچ 03, 2013

" فاصلے کچھ اس طور مٹانے آئے"

 بے نور آنکھوں میں سپنے  سہانے آئے
 ڈھلتی شاموں کو نئے خواب جگانے آئے  
لمس کی چاہ میں وہ بھٹکتی رہی
چھونے کو جسے  کئی زمانے آئے
کہانی کہتے کہتے  پتھرا  گئی آنکھیں
 آج  نہ کوئی مجھ کو اُٹھانے آئے
 نیند میری ہو خواب اُس کے 
ہم سفر اس طرح سُلانے آئے 
 رقص کریں زلفوں میں اُنگلیاں اُس کی
 وعدۂ شب کبھی تو نبھانے آئے
ہجر کی آگ میں تنہا جلوں کب تک
اپنی بے قراری بھی تو سُنانے آئے
لب خاموش رہیں لمس باتیں کریں
 فاصلے کچھ اس طور مٹانے آئے
 خواب میں بھی بھولوں ممکن  نہیں
 وہ خواب میں بھی نہ منانے آئے
یہ بےرُخی عادت  نہیں اُس کی
 پاس آکر کیوں پھر رُلانے آئے

1 تبصرہ:

گوگل اورگاڈ - مجیب الحق حقی

گوگل اورگاڈ - مجیب الحق حقی بشکریہ۔۔دلیل ویب سائیٹ۔۔اشاعت۔۔11نومبر 2017۔ خدا کی قدرت اتنی ہمہ گیر کس طرح کی ہوسکتی ہے کہ کائنات کے ہر ...