صفحہِ اول

بدھ, فروری 06, 2013

" قدم بہ قدم "


اُس کی یاد میرے ساتھ رہی دم بہ دم
 اُس کا سایہ میرے ساتھ چلا جنم بہ جنم
 تاعمر جس کی حمایت حاصل رہی 
میں اُس کے مخالف تھا قدم بہ قدم
 کچھ تو شاید اُسکی محبت میں کمی تھی
 کچھ میری نفرت بڑھتی رہی ستم بہ ستم
وہ شخص جو مرکزِ محبت تھا نور
 وہ باوفا بدلتا رہا محبت صنم بہ صنم

کوئی تبصرے نہیں :

ایک تبصرہ شائع کریں