صفحہِ اول

ہفتہ, فروری 23, 2013

" پائل "

" کہا سنا "

ہوا کے دوش پر اِک اجنبی  سندیسہ

" نازک مزاج ہے وہ پری
کچھ اس قدر
 پائل جو پہنی پاؤں میں
  چھم چھم سے ڈر گئی "
----------------------
سوچ کی لہروں میں سمٹے میرے  لفظ

 پریاں کہانیوں میں
 تتلیاں فضاؤں میں
 اچھی لگتی ہیں
 چھونے کی کوشش کرو
ہاتھ نہیں آتیں
 ہاتھ آ جائیں تو
 پریاں نہیں رہتیں
 تتلیاں نہیں رہتیں
 اِک ادھورا لمس رہ جاتا ہے
 خالی رقص رہ جاتا ہے

1 تبصرہ :