ہفتہ, جنوری 05, 2013

"کبھی پاس آکر تو بتانے آئے "

  آرزوہے مجھ میں سمانے آئے
 ویراں یہ نگر پھر  بسانے آئے
 میں چاہوں مجھ کو منانے آئے
 ستم گر نہ جانے کس بہانے آئے
وہ مانگے مِری خوشبو مجھ سے
 کاش کہ ناداں اُسے چُرانے آئے
 کھو کر بےخواب ہو گئیں آنکھیں
  جو  پایا  تو  خواب سہانے آئے
 سمیٹ لو وقت کو اپنی باہوں میں
 پھر وقت ہی مجھ سے ہٹانے آئے 
چاہا مرجائیں  اس کی خاطر
 جب نکلی جان  ہوش ٹھکانے آئے
 میرے قاتل مِرے دلدار مِرے مسیحا 
 اب اور نہ کوئی میرے سرہانے آئے
 انتظار ِیار کی اذیّت عبادت ہے ورنہ
  پایا نہیں اور چُھونے کو زمانے آئے
وقتِ رُخصت یہی خواہش ہے مِری
 وہ جُدائی کے فسانے سنانے آئے
 رقیبِ شہر ہے یا حبیبِ ذات
 کبھی پاس آکر تو بتانے آئے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

"یہ جنگل ہمیشہ اداس رہے گا"

یہ جنگل ہمیشہ اداس رہے گا- جاوید چوہدری ۔23 جنوری 2018 میری منو بھائی کے ساتھ پہلی ملاقات 1996ء میں ہوئی‘ میں نے تازہ تازہ کالم لکھنا ...