صفحہِ اول

جمعرات, نومبر 01, 2012

" مسیحائی ہماری ہونے لگی ہے "

مسیحائی ہماری ہونے لگی ہے
زندگی   پیاری  ہونے لگی ہے
کسی سے کوئی گِلہ نہیں ہے
قسمت  واری ہونے لگی ہے
سفر   شاید ختم  ہونے کو   ہے
تھکن دُور ہماری ہونے لگی ہے
بِچھڑ  کے  ملنا  اچھا  لگا  ہے
بے خودی طاری ہونے لگی ہے
اپنی پلکوں سے چُن لیے کانٹے
مُحبت  اختیاری ہونے لگی   ہے
بے خواب آنکھوں میں دھنک رنگ سپنے
کہ   اب  صبحِ نو ہماری ہونے لگی  ہے
اپنا   سب  کُچھ سونپ دوں تُجھ کو
عجب سی بے قراری ہونے لگی ہے
روشنی  فاصلہ  نہیں مانتی مگر
واپسی کی تیاری ہونے لگی ہے
  2012 ،  15 اکتوبر

کوئی تبصرے نہیں :

ایک تبصرہ شائع کریں