صفحہِ اول

جمعرات, نومبر 01, 2012

" بُت کہانی "

تم نے کہہ دیا جو کہنا تھا 
دل تھام کے بیٹھو، آرام سے بیٹھو
کہ اب باری میری آئی ہے
جو بُت تراشا تھا تُم نے 
جو بُت سنوارا تھا تُم نے
 بڑی چاہت سے بڑی حسرت سے
اپنے ہاتھوں کی لکیروں سے 
اپنے خوابوں کی تعبیروں سے
 اُسے تُم نے یوں چھوڑ دیا
جیسے تتلی ہاتھوں سے 
جیسے خوشبُو باتوں سے
 وہ بُت جو تُمہارا اپنا تھا
 دُنیا کے بازار میں وہ
اَنجان رہا، بے مول رہا
قدر نہ اُس کی کوئی جان سکا
جب اپنا  اکاؤنٹ بنایا تھا
 تو پاس ورڈ تو تمہارا اپنا تھا
پھر کیسے اُسے کوئی کھول سکے
 یہ تُم بھی کبھی نہ جان سکے 
وہ لمحہ لمحہ مِٹتا رہا
 وہ قطرہ قطرہ پگھلتا رہا
وہ دُکھ تھا تمہارے اندر کا
وہ نمک تھا تمہارے آنسو کا
وہ بٹ گیا ،وہ رُل گیا
وہ گِر کےبھی سنبھل گیا
وہ بھول گیا اُسے یاد رہا
کہ وہ بُت تھا کسی اور کا
 وہ جو خواب تھا سراب تھا
 اُسے  بھول جانا  ثواب تھا
 رہگُزر ِحیات میں
وہ خوش تھا کہ سجا ہوا ہوں
 سِمٹا ہوا ہوں، چُھپا ہوا ہوں
کسی نظر کے حصآر سے 
 کسی لمس کے پھوار سے
پھر  آگہی کا در کُھلا کہ 
وہ بُت تو تُمہارا اپنا تھا
وہ بُت تھا تُمہاری چاہت  کا
 وہ بُت ہےتُمہاری مُسافت کا
 وہ بُت تھا تُمہاری تلاش کا
 وہ بُت ہے تمہاری  ذات کا
وہ بُت تھا تمہاری ذہانت کا
وہ بُت ہے تمہاری امانت کا
 وہ بُت تو تُمہارا سانجھا تھا 
وہ تُم سے جُدا کیسے ہو
وہ تُم سے خفا کیسے ہو
تُم دُور رہو   یا  پاس آؤ 
 وہ بُت توتُمہارا اپنا تھا 
 وہ بُت تو تُمہارا اپنا ہے
  اُس بُت کو زندہ کر دیکھو
اِک روشنی آنکھ میں بھر دیکھو
  پھر جہاں چاہے چلے جانا
2012 ،28ستمبر 

کوئی تبصرے نہیں :

ایک تبصرہ شائع کریں