جمعرات, نومبر 01, 2012

" زندگی کہانی "

  "انتسابِ ذات"

 کتاب کہانی سامنے آئی تو ایک پل کو یوں لگاکہ
جیسے روزِ محشر ہو!!!  
اب رتجگوں کا حساب ہے
رُسوائیوں کا جواب ہے
عمرِ رائیگاں کا نصاب ہے
شِکوؤں کا قرض ہے
 آنسوؤں کا خراج ہے
بےوفائیوں کا ذکر ہے اور لمس سراپا ہجر ہے
 کہیں بےبسی کا سکوت ہےتو کہیں بےکسی کا وجودہے
پیاس کی شدّت بھی ہے اور چاہ کی حدّت بھی ہے۔
پر جان لو اور مان لو کہ 
"یہ صبحِ نو کا پیغام بھی ہےاور راہِ شوق کا سلام بھی ہے۔
  "باوفا سی لڑکی تھی 
    باوفا سی لڑکی ہے"
  یہ عداوتوں کی بہار ہے
 مسافتوں کی پُکار ہے
رِفاقتوں کا خمار ہے
بدگمانیوں کا زہر بھی ہے
خاموشی کا جبربھی ہے
تو
 بےوفائیوں کا قہر بھی ہے
چاہتوں کا گِلہ بھی ہے 
نفرتوں کاصلہ بھی ہے 
 یہی عشق کا سرور ہے 
یہی حُسن کا غرور ہے
کہ یہی روح کا سفر بھی ہے
 اور جسم کا ہُنر بھی ہے 
جو چلے تو یوں لگا کہ سفر سفر ہے زندگی
 جو رُکے تو پھر یہ ہوا کہ دُھواں دُھواں تھے فاصلے 
جو سَمٹے تھے وقت کی چاپ میں
 وہ لمحے پھر مُٹھی میں آ گئے
وہ جو راستے تھے عذاب تھے
وہ جو چاہتیں تھیں سراب تھیں 
پھریہ ہوا
کہ وہ چاہتیں وہ راستے
کبھی ملے تو یوں 
کہ روش روش بہار تھے
پر گُلاب لمحے گُذر بھی جائیں 
کانٹے ہاتھوں میں کُھب  بھی جائیں
مگر ہمیشہ یہ یاد رکھنا 
کبھی  ہم  بھی  تم  بھی تھے آشنا
کبھی  ہم  بھی تم بھی ساتھ تھے
کبھی ہم بھی تم بھی تھے رگِ جاں
اب  ہم  بھی  تم  بھی  تہۂ خاک ہیں
 یہی زندگی ہے ،یہی آرزو ہے
یہی جُستجُو ہے، یہی آبرو ہے 
یہی ہمارا نصیب ہے
 یہی ہمارا رقیب ہے
   "جو گُذر گیا اُسے بھول جا 
   جو پاس ہے اُسے یاد رکھ"
ستمبر2012،28
















کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

"دلیل" اور"کارواں بنتا گیا"

تئیس جون 2017 بمطابق   ستائیس رمضان المبارک1438 ھ کو دلیل ویب سائیٹ کے قیام کو ایک برس مکمل ہوا۔ اس ایک   برس کے دوران "دلیل ویب س...