صفحہِ اول

جمعرات, نومبر 01, 2012

"روٹھـ جاتا تھا وہ مجھے منانے کے وقت "

 آج کیوں اتنے پریشاں ہوگئے سمجھانے کے وقت
 مانگا تو میں نے کُچھ بھی نہیں ہرجانے کے وقت
 تُجھ سے مِل  کر  اُداس اُداس  سی  رہتی  ہوں 
 وہ خفا خفا سا لوٹ  گیا مِرے بتانے کے وقت 
  ملتا رہا جو تمام عمر  بڑے خلوص سے 
وہی شخص دغا دے گیا مرنے کے وقت 
ناراضگی میں طرز ِتخاطب بھی خوب تھا
 روٹھ جاتا تھا وہ مُجھے منانے کے وقت
پریشاں زُلفیں سمندر آنکھیں کانپتے لب 
یوں ہوتی تھی  جُدائی  جانے کے  وقت 
محرومیء تمنّا  کا  قصہ  چھیڑ دیتا  وہ
جو ہنسانا چاہتا مجھے رونے کے وقت
 آج کیسی چہارجانب بکھری ہے چاندنی
جیسے ہوتا تھا سماں اُسکےآنے کے وقت 

     

1 تبصرہ :