صفحہِ اول

جمعہ, نومبر 09, 2012

" راہ ِعمل"

  "خبردار"
دُنیا میں خالی ہاتھ آئے توخالی ہاتھ ہی جانا۔ کبھی اپنی حسرت کوئی خواہش لے کرنہ جانا۔ یہاں سے جو حاصل کیا اُسے یہیں چھوڑجاؤ۔اللہ  کا  ساتھ ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا۔ یہ احساس گر بیدار ہوجائے تویہی کافی ہے۔ انسان کا دل بُہت وسیع ہے۔۔۔ اس میں پُوری دُنیا کی چاہت سمو دی جائے تو جگہ پھر بھی بچ جاتی ہے۔ لیکن اگراللہ کی چاہت ہے تو پھر کسی اور چیز کی جگہ کہاں۔ جو مانگنا ہے اللہ سے مانگو مگراپنی چاہت کو اللہ کے نام پر کبھی قربان نہ کرنا۔
اللہ سے یہ کہو!اے میرے رب  یہ میری چاہت ہے مجھے بتا دے۔۔۔مجھے عطا کر۔۔۔اس کی اصل حقیقت سے آگاہ کر۔۔۔وہ دے جو میرے حق میں بہتر ہو۔اللہ سے یہ کبھی نہ کہنا تِری چاہت کی خاطر اپنی چاہت مِٹا دی۔۔۔ اپنا آپ فنا کر دیا۔۔۔ اپنے نفس کی قُربانی دی ۔ یاد رکھو اللہ کو اس قُربانی کی ضرورت نہیں۔ اللہ کے ساتھ کاروبار نہ کرنا کہ دُنیا کے بازارمیں اپنی خواہشوں  اورآرزوؤں کو نیلام کردیا جائے اور بڑے فخر سے بہترقیمت ملنے کی خاطر آخرت کا انتظار کیا جائے۔ گھاٹے کے سودے سے لرزہ براندام رہو کہ جب اپنی ساری کمائی معبودِحقیقی کےحضور رکھی جائے گی تو اس کے بدلےمالک کیا عطا کرے۔اس مُشقت کا کیا صلہ ملے جب یہ چاہت بھی اللہ کی عطا ہے۔۔۔یہ دربدری بھی مالک کا فضل ہے۔۔۔ یہ بےقراری بھی اُسی کی دی ہوئی ہے تو پھر جھگڑا کس بات کا۔اُسی کی چیزہے اس سے سنبھالنےکا حوصلہ مانگو۔۔۔اُس کو برتنے کا قرینہ سیکھو۔
اللہ نے مُکمل پیدا کیا ہے تو مُکمل ہی جانا۔۔۔"کسی معذوری کے ساتھ نہ جانا"۔ 
 اللہ سے دوستی کر لو وہ تمہیں ہر دوست کی تڑپ سے بےنیاز کر دے گا۔ تمہاری چاہت کو تمہارے سامنے یوں لاکھڑا کرے گا کہ تم دیکھ کر بھی نہ دیکھو گے۔۔۔ اور اِس کے ہو کر بھی اپنے رب کی یاد سے غافل نہ ہو گے۔                  

کوئی تبصرے نہیں :

ایک تبصرہ شائع کریں