صفحہِ اول

بدھ, اکتوبر 31, 2012

"رہتی ہوں میں وہاں جہاں اپنی خبر کوئی نہیں "

زندگی تمام ہوئی جاتی ہے پر ہمسفر کوئی نہیں 
شاید اب ایسا شجر ملے جس کا ثمر کوئی نہیں
مُدّت ہوئی ہے کُوچۂ دل خالی کیے ہوئے
رہتی ہوں میں جہاں اپنی خبر کوئی نہیں
مِرے  بےرنگ سپنو مِرے ہمراز رتجگو
آنکھوں میں لوٹ  آؤ اب گھر کوئی نہیں
جی چاہتا ہے موت کی گود میں جا سوئیں
کہ اب پیش نظر ہمارے  سفر کوئی نہیں
مجنوں،فرہاد،رانجھا یہ سلسلہ جاری ہے
پر سب ہیں یکساں یہاں مُعتبر کوئی نہیں
 اِک نظر جس پہ عاشقی کے تمام در کُھلے 
اب  بزم میں ایسی پُرفسوں نظر کوئی نہیں

   

2 تبصرے :