اتوار, اکتوبر 28, 2012

" جانے کی اسے جلدی بڑی تھی "

  رُخصتِ یار کی وہ اِک گھڑی تھی
  جانے  کی اُسے جلدی بڑی تھی
 ڈھونڈا  جسے زمان ومکاں میں
 وہ ہواؤں  میں  کہیں کھڑی تھی
مشامِ جاں میں مہک تھی اُس کی
کتابِ زیست میں نگینہ جَڑی تھی
 میرے سنگ چلنے کا یارا نہ تھا
اپنے سائے سے کہیں بڑی تھی
 اپنی چاہت سے سمیٹا تھا مجھے
 پر اُس  رات  وہ  بُہت  لَڑی تھی
تازگی اُترتی رہی لفظوں سے اُس کے
مِرے حرف حرف میں وہ جَڑی تھی
 چُھونے سے بکھرنا اُسکا مقدر تھا
شاید   وہ پھولوں  کی  اِک  لڑی تھی
اکتوبر 28, 2012       

1 تبصرہ:


  1. رُخصتِ یار کی وہ اِک گھڑی تھی
    رخصتِ (فاعلن) يار كي (فاعلن) وه اك گھڑي(مفاعلن) تھي (فا)
    اس حساب كے مطابق باقي كوشش كريں
    يه وزن ميں هے باقي آپ خود كوشش كريں

    جواب دیںحذف کریں

"ہم سے پہلے"

۔"ہم سے پہلے"۔۔۔کالم جاویدچودھری۔۔۔جمعرات‬‮ 72 جولائی‬‮  بھارت کے کسی صحافی نے اٹل بہاری واجپائی سے جنرل پرویز مشرف کے بارے میں ...